551

آلہ تسبیح کا استعمال، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کے لیے تسبیح کا استعمال جائز ہے جیسا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : إنّہ دخل علی مع رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم علی امرأۃ وبین یدیہا نوی أو حصی ، تسبّح بہ ۔
”وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک خاتون کے پاس گئے۔ اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں جن کے ذریعے وہ تسبیح کر رہی تھی۔”
(سنن ابی داو،د : ١٥٠٠، سنن الترمذی : ٣٥٦٨، مسند سعد : ٨٨، وسندہ، حسنٌ)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن غریب” اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (٨٣٧)نے ”صحیح” کہا ہے۔اس کا راوی خزیمہ ”حسن الحدیث” ہے۔
یہ حدیث آلہ تسبیح کے استعمال کے جواز پر دلیل ہے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (١٥٨۔٢٣٣ھ)بیان فرماتے ہیں: وکان یحییٰ معہ مسباح ، فیدخل یدہ فی ثیابہ ، فیسبّح ۔ ”ان(امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ ) کے پاس ایک آلہ تسبیح تھا۔ وہ اپنے کپڑے میں ہاتھ داخل کر کے تسبیح کرتے رہتے۔”(تاریخ یحیی بن معین : ٤/٣١٤)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
وأمّا التسبیح بما یجعل فی نظام من الخرز ونحوہ ، فمن الناس من کرہہ ومنہم من لم یکرہہ ، وإذا أحسنت فیہ النیّۃ فہو حسن غیر مکروہ ، وأمّا اتّخاذہ من غیر حاجۃ أو إظہارہ للناس مثل تعلیقہ فی العنق أو جعلہ کالسوار فی الید أو نحو ذلک ، فہذا إمّا ریاء للناس أو مظنّۃ المراء اۃ ومشابہۃ المرائین من غیر حاجۃ ، الأول محرّم ، والثانی أقلّ أحوالہ الکراہۃ ۔
”موتیوں وغیرہ کی لڑی کے ساتھ تسبیح کرنے کو بعض لوگوں نے مکروہ جانا ہے اور بعض نے اسے مکروہ نہیں سمجھا۔ جب اس فعل میں نیت اچھی ہو تو یہ اچھا ہی ہو گا، مکروہ نہیں ہو گا۔ ہاں اسے بغیر ضرورت کے یا لوگوں کو دکھانے کے لیے اختیار کرنا ، مثلاً اسے گردن میں لٹکا لینا یا ہاتھ میں کنگن کی طرح پہن لینا وغیرہ ۔۔۔ تو یہ یا تو ریا کاری کے لیے ہو گا یا اس میں ریاکاری کا خدشہ ہو گا اور ریاکاروں سے مشابہت لازم آئے گی۔ پہلی صورت حرام ہے اور دوسری کم از کم مکروہ ضرور ہے۔”(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ٢٢/٥٠٦)
ابن عابدین شامی حنفی (١١٩٨۔١٢٥٢ھ) لکھتے ہیں : لا بأس باتّخاذ السبحۃ لغیر ریاء کما بسط فی البحر ۔ ”اگر ریاکاری کی نیت نہ ہو تو آلہ تسبیح کے استعمال میں کوئی حرج نہیںجیسا کہ البحرالرائق میں تفصیلی طور پر موجود ہے۔”
(فتاوی شامی : ١/٦٥٠)
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ (٩٥٢۔١٠٣١ھ) لکھتے ہیں :
ولم ینقل عن أحد من السلف ولا الخلف کراہتہا ، نعم محلّ ندب اتّخاذہا فیمن یعدّہا للذکر بالجمعیّۃ والحضور ومشارکۃ القلب للسان فی الذکر والمبالغۃ فی إخفاء ذلک ، أمّا ما ألفہ الغفلۃ البطلۃ من إمساک سبحۃ یغلب علی حباتہا الزینۃ وغلوّ الثمن ، ویمسکہا من غیر حضور فی ذلک ولا فکر ویتحدث ویسمع الأخبار ویحکیہا وہو یحرّک حباتہا بیدہ مع اشتغال قلبہ ولسانہ بالأمور الدنیویۃ ، فہو مذموم مکروہ من أقبح القبائح ۔
”سلف و خلف میں سے کسی سے بھی اس کا مکروہ ہونا منقول نہیں بلکہ جو شخص آلہ تسبیح کو دلجمعی ، حضور قلبی ، دل کی زبان کے ساتھ ذکر میں شمولیت اور ذکر کو بہت زیادہ مخفی رکھنے کے ساتھ استعمال کرتا ہے ، اس کے لیے یہ مستحب بھی ہے۔ رہے وہ لوگ جو آلہ تسبیح کو استعمال کرنے میں سخت غفلت کا شکار ہیں ، ان کے آلہ تسبیح کے دانوں پر زیب و زینت اور مہنگی قیمت کا رنگ غالب ہے اور وہ اسے بغیر حضور قلبی و ذہنی کے اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ باتیں کرتے ، خبریں سنتے اور آگے بیان کرتے وقت بھی اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے دانوں کو حرکت دیتے رہتے ہیں ، ان کے دل اور زبانیں دنیاوی امور میں مشغول ہوتی ہیں، تو ان لوگوں کا یہ فعل قابل مذمت ، اور قبیح ترین مکروہات میں سے ہے۔”
(فیض القدیر للمناوی : ٤/٣٥٥)
عالَمِ عرب کے مشہور عالِمِ دین ، علامہ ، فقیہ ، فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ آلہ تسبیح کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
السبحۃ یرید بہا السائل الخرز التی تنظّم فی سلک بعدد معیّن یحسب بہ الإنسان ما یقولہ من ذکر وتسبیح واستغفار وغیر ذلک ، وہذہ جائزۃ لا بأس بہا لکن بشروط : أوّلاً : ألّا تحمل الفاعل علی الریاء أی علی مراء اۃ الناس کما یفعلہ بعض الناس الذین یجعلون لہم مسابح تبلغ ألف خرزۃ ، ثمّ یضعونہا قلادۃ فی أعناقہم کأنّما یقولوا للناس : انظروا إلینا نسبّح بمقدار ہذۃ السبحۃ ، أو ما أشبہ ذلک ، الشرط الثانی : ألّا یتّخذہا علی وجہ مماثل لأہل البدع الذین ابتدعوا فی دین اللّٰہ مالم یشرعہ من الأذکار القولیّۃ ، أو الاہتزازات الفعلیّۃ لأنّ (( من تشبّہ بقوم فہو منہم )) ، ومع ذلک فإنّنا نقول : إنّ التسبیح بالأصابع أفضل لأنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أرشد إلی ذلک ، فقال : ((اعقدنّ بالأنامل ، فإنّہن مستنطقات )) ، أی سوف یشہدن یوم القیامۃ بما حصل ، فالأفضل للإنسان أن یسبّح بالأصابع لوجوہ ثلاث : الأوّل أنّ ہذا ہو الذی أرشد إلیہ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، الثانی أنّہ أقرب إلی حضور القلب لأنّ الإنسان لابدّ أن یستحضر العدد الذی یعقدہ بأصابعہ بخلاف من کان یسبّح بالسبحۃ ، فإنّہ قد یمرّر یدہ علی ہذہ الخرزات وقلبہ ساہ غافل ، الثالث أنّہ أبعد عن الریاء کما أشرنا إلیہ آنفا ۔
”سائل کی مراد اگر وہ موتی ہیں جو ایک لڑی میں معین مقدار میں پروئے جاتے ہیں اور اس لڑی کے ذریعے انسان اپنے ذکر ، تسبیح ، استغفار وغیرہ کو شمار کرتا رہتا ہے تو یہ جائز ہے لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ : پہلی شرط تو یہ ہے کہ آلہ تسبیح اپنے استعمال کرنے والے کو ریاکاری پر آمادہ نہ کرے جیسا کہ بعض ان لوگوں کا طریقہ ہے جو ہزار ہزار موتیوں والی لڑیاں لے کر ان کو اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں ، گویا کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری طرف دیکھو ، ہم اتنی مقدار میں تسبیح کرتے ہیں۔۔۔دوسری شرط یہ ہے کہ آلہ تسبیح استعمال کرنے والا اسے ان اہل بدعت کی مشابہت میں استعمال نہ کرے جنہوں نے اللہ کے دین میں وہ قولی اذکار یا جھومنے والے افعال ایجاد کر لیے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( من تشبّہ بقوم فہو منہم )) کہ جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی ، وہ انہی میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤدا: ٤٠٣١،و سندہ، حسنٌ)
اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ انگلیوں کے ساتھ تسبیح کرنا افضل ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اعقدنّ بالأنامل ، فإنّہنّ مستنطقات )) کہ تم اپنی انگلیوں کے ساتھ تسبیح شمار کیا کرو کیونکہ یہ انگلیاں بلوائی جائیں گی (سنن ابی داؤد : ١٥٠١، وسندہ، حسنٌ)، یعنی روز ِ قیامت یہ ان اذکار کی گواہی دیں گی جو ان کے ذریعے شمار کیے گئے ہوں گے۔چنانچہ انگلیوں کے ساتھ تسبیح کرنا تین وجوہ سے افضل ہوا : ایک تو اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف رہنمائی فرمائی ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ حضور ِ قلب کے لیے زیادہ موزوں ہے کیونکہ جس چیز کو انسان اپنی انگلیوں کے ساتھ شمار کرتا ہے ، اس پر اس کا استحضار رہتا ہے جبکہ آلہ تسبیح کے ساتھ اذکار کرنے والا بسا اوقات موتیوں پر اپنے ہاتھ پھیرتا رہتا ہے لیکن اس کا دل غافل ہوتا ہے۔ تیسرے اس لیے کہ اس میں ریاکاری کا خدشہ نہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا ہے۔”
(فتاوی نور علی الدرب لابن العثیمین ، الاذکار، نقلا عن المکتبۃ الشاملۃ)
الحاصل : آلہ تسبیح پر ذکر کرنا جائز ہے۔ اس کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین سے کچھ بھی ثابت نہیں۔ہاں اس سلسلے میں علمائے کرام کی قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کی گئی شرائط کی پابندی لازم ہے۔
mmmmmmm
اللہ تیرا شکر ہے !
شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی ، علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (٦٩١۔٧٥١ھ)فرماتے ہیں :
”اصل شکر عاجزی ، انکساری اور محبت کے ساتھ منعم کی نعمت کے اعتراف کانام ہے۔ جس نے نعمت کو پہچانا ہی نہیں اور اس سے ناواقف ہی رہا ، اس نے اس کا شکر ادا نہیں کیا۔ اور جس نے نعمت دینے والے کو نہیں پہچانا، اس نے بھی شکر ادا نہیں کیا۔ جس نے نعمت اور نعمت دینے والے دونوں کو پہچان لیا ، لیکن نعمت کے انکاری کی طرح انکار کر دیا، اس نے نعمت کی ناشکری کی اور جس نے نعمت اور نعمت دینے والے دونوں کو پہچانا ، نعمت کا اقرار کیا، انکار نہیں کیا ، لیکن نہ عاجز بنا نہ اس سے راضی نہیں ہوا ، اس نے بھی شکر ادا نہیں کیا۔ اور جس نے نعمت و منعم دونوں کو پہچانا ، اقرار کیا ، منعم کے لیے عاجزی اختیار کی ، نعمت کو پسند کیا، اس پر راضی ہو گیا اور نعمت کو منعم کی رضا و اطاعت میں استعمال کیا ، وہ اس کا شکر ادا کر پایا ہے۔ شکر کے لیے دل کو علم ہونا ضروری ہے۔ علم کے پیچھے عمل آتا ہے اور عمل منعم کی طرف جھکنے ، اسی سے محبت کرنے اور اسی کے سامنے عاجزی کرنے کا نام ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.