456

ابدال کی حقیقت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ابدال کے بارے میںکچھ ثابت نہیں، جیسا کہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (٥٠٨۔ ٥٩٧ھ) فرماتے ہیں : ولیس فی ہذہ الأحادیث شیء صحیح ۔ ”ان احادیث میں سے کوئی بھی ثابت نہیں۔”
(الموضوعات لابن الجوزی : ٣/١٥٢)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦١١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
تکلّم بہ بعض السلف ، ویروی فیہ عن النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم حدیث ضعیف ۔ ”اس بارے میں بعض پرانے بزرگوں نے بات کی ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غیرثابت حدیث مروی ہے۔”(مجموع الفتاوی : ٤/٣٩٤)
نیز فرماتے ہیں : الأشبہ أنّہ لیس من کلام النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔ ”درست بات یہی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہے۔”
(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ١١/٤٤١)
شیخ الاسلام ثانی ، عالم ربانی ، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ (٦٩١۔٧٥١ھ) فرماتے ہیں:
أحادیث الأبدال والأقطاب والأغواث والنقباء والنجباء والأوتاد کلّہما باطلۃ علی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔ ”ابدال ، اقطاب ، اغواث، نقباء ، نجباء اور اوتاد کے بارے میں تمام کی تمام احادیث خود گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگائی گئی ہیں۔”(المنار المنیف لابن القیم : ص ١٣٦)
اتنی سی وضاحت کے بعد ابدال کے متعلق مروی احادیث پر مختصر تبصرہ پیشِ خدمت ہے:
حدیث نمبر 1 : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیار أمّتی فی کلّ قرن خمس مأۃ ، والأبدال أربعون ، فلا الخمسمأۃ ینقصون ، ولا الأربعون ، کلما مات رجل أبدل اللّٰہ عزّ وجلّ من الخمسمأۃ مکانہ ، وأدخل من الأربعین مکانہ ۔۔۔۔۔
”میری امت میں ہر زمانہ میں پانچ سو خیار(پسندیدہ لوگ) ہوں گے اور چالیس ابدال۔ ان دونوں میں کمی نہ ہو گی۔ ان میں سے جو فوت ہو گا ، ان پانچ سو میں سے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو ان چالیس میں داخل کر دے گا۔”
(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی : ١/٨، تاریخ ابن عساکر : ١/٣٠٢، ٣٠٣)
تبصرہ : یہ روایت کئی وجوہ سے باطل ہے جیسا کہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (٥٠٨۔٥٩٧ھ)اس کے بارے میں لکھتے ہیں : موضوع ، وفیہ مجاھیل ۔ ”یہ من گھڑت روایت ہے۔ اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔”
(الموضوعات لابن الجوزی : ٣/١٥١)
آئیے اس کے بطلان کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں :
1 اس کے راوی سعید بن ابی زیدون کے حالات نہیں ملے۔
2 عبد اللہ بن ہارون الصوری راوی کی توثیق نہیں مل سکی۔ اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٦٧٣۔٧٤٨ھ) لکھتے ہیں : عن الأوزاعیّ ، لا یعرف ، والخبر کذب فی أخلاق الأبدال ۔ ”یہ اوزاعی سے بیان کرتا ہے اور غیر معروف راوی ہے۔ اس کی طرف سے ابدال کے اوصاف میں بیان کی گئی روایت جھوٹ ہے۔”(میزان الاعتدال للذہبی : ٢/٥١٦)
3 اس میں امام زہری رحمہ اللہ کی تدلیس موجود ہے۔ سماع کی تصریح نہیں ملی۔
حدیث نمبر 2 : سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الأبدال فی ہذہ الأمّۃ ثلاثون رجلا ، قلوبہم علی قلب إبراہیم خلیل الرحمن ، کلّما مات منہم رجل أبدل اللّٰہ مکانہ رجلا ۔ ”اس امت میں تیس ابدال ہوں گے جن کے دل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دل پر ہوں گے۔ ان میں سے جو فوت ہو گا، اللہ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔”(مسند الامام احمد : ٥/٣٢٢، اخبار اصفہان لابی نعیم : ١/١٨٠)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یہ روایت بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : وہو منکر ۔ ”یہ روایت منکر ہے۔”
1 اس کا راوی عبدالواحد بن قیس شامی اگرچہ جمہور کے نزدیک ”موثق، حسن الحدیث” ہے لیکن اس سے بیان کرنے والے راوی الحسن بن ذکوان کے بارے میں امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان الحسن بن ذکوان یحدّث عنہ بعجائب ۔ ”حسن بن ذکوان اس سے عجیب و غریب (منکر) روایات بیان کرتا تھا۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٦/٢٣، وسندہ، صحیحٌ)
2 الحسن بن ذکوان ”مدلس” راوی ہے ، سماع کی تصریح نہیں ملی۔
3 عبدالواحد بن قیس شامی کا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔لہٰذا یہ روایت منکر ، مدلَّس ہونے کے ساتھ ساتھ ”منقطع”بھی ہے۔
حدیث نمبر 3 : سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الأبدال فی أمّتی ثلاثون ، بہم تقوم الأرض ، وبہم تمطرون وبہم تنصرون ۔ ”میری امت میں تیس ابدال ہوں گے ۔ ان کے سبب سے ہی زمین قائم رہے گی اور ان کی وجہ سے ہی تم پر بارش کی جائے گی اور تمہاری مدد کی جائے گی۔”(تفسیر ابن کثیر : ١/٣٠٤، مجمع الزوائد : ١٠/٦٣)
تبصرہ : اس روایت کی سند ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1، 2 اس کے دو راویوں عمرو البزار اور عنبسہ الخواص کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ (٧٣٥۔٨٠٧ھ) خود فرماتے ہیں : وکلاہما لم أعرفہ ۔
”ان دونوں کو میں نہیں جانتا۔ ”(مجمع الزوائد : ١٠/٦٣)
3 اس روایت میں امام قتادہ کی ”تدلیس” بھی موجود ہے۔
حدیث نمبر 4 : سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ الأبدال بالشام یکونون ، وہم أربعون رجلا ، بہم تسقون الغیث ، وبہم تنصرون علی أعدائکم ، ویصرف عن أہل الأرض البلاء والغرق ۔ ”ابدال شام میں ہوتے ہیں اور وہ چالیس مرد ہیں۔ ان کے سبب سے تمہیں بارش دی جاتی ہے اور ان کی وجہ سے تمہیں دشمنوں پر فتح دی جاتی ہے اور ان کے سبب سے اہل زمین سے تکالیف اور مصائب دور کیے جاتے ہیں۔”(تاریخ ابن عساکر : ١/٢٨٩)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے کیونکہ شریح بن عبید کا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ہذا منقطع بین شریح وعلی ، فإنّہ لم یلقہ ۔
”یہ روایت شریح اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے کیونکہ شریح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔ ”
حدیث نمبر 5 : سیدنا مالک بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل شام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فیہم الأبدال ، وبہم تنصرون ، وبہم ترزقون ۔ ”ان میں ابدال ہوں گے۔انہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جائے گا۔”(المعجم الکبیر للطبرانی : ١٨/٦٥، : ١٢٠، تاریخ ابن عساکر : ١/٢٩٠)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس کے راوی عمرو بن واقد کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
متروک ۔ ”یہ پرلے درجے کا جھوٹا شخص تھا۔”(تقریب التہذیب : ٥١٣٢)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وقد ضعّفہ جمہور الأئمّۃ ۔
”اسے جمہور ائمہ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔”(مجمع الزوائد : ١٠/٦٣)
2 اس میں انقطاع بھی ہے کیونکہ محمد بن المبارک الصوری اور اس کے متابع ہشام بن عمار دونوں کی عمرو بن واقد سے ملاقات نہیںہوئی۔ عمرو بن واقد کی وفات ١٣٠ ہجری میں ہوئی جبکہ ان دونوں کی ولادت ١٥٣ ہجری میں ہوئی تھی۔
حدیث نمبر 6 : سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الأبدال بالشام ، وہم أربعون رجلا ، کلّما مات رجل أبدل اللّٰہ مکانہ رجلا ، یسقی بہم الغیث ، وینصر بھم علی الأعداء ، ویصرف عن أہل الشام بہم العذاب ۔ ”ابدال شام میں ہیں۔ وہ چالیس مرد ہیں۔ جو ان میں سے فوت ہو جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے۔ ان کے سبب سے تمہیں بارش دی جاتی ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں امداد دی جاتی ہے، نیز اہل شام سے ان کے سبب سے عذاب دور کیا جاتا ہے۔”
(مسند الامام احمد : ١/١١٢)
تبصرہ : اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ”ضعیف” ہے۔ شریح بن عبید کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع و لقاء نہیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وہو حدیث منقطع ، لیس بثابت ۔ ”یہ حدیث منقطع ہے، صحیح و ثابت نہیں ہے۔”(الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان لابن تیمیۃ : ص ١٠١)
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ولا یصحّ أیضا ، فإنّہ منقطع ۔
”یہ روایت بھی ثابت نہیں کیونکہ یہ منقطع ہے۔” (المنار المنیف لابن القیم : ص ١٣٦)
خوب یاد رہے کہ منقطع حدیث ”ضعیف” ہوتی ہے۔ سند کا متصل ہونا صحت ِ حدیث کے لیے ضروری اور بنیادی شرط ہے۔
حدیث نمبر 7 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الأبدال أربعون رجلا وأربعون امرأۃ ، کلّما مات رجل أبدل اللّٰہ مکانہ رجلا ، وکلّما ماتت امرأۃ أبدل اللّٰہ مکانہا امرأۃ ۔
”ابدال چالیس مرد اور چالیس عورتیں ہیں۔ جب ان میں سے کوئی مرد مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے اور جب کوئی عورت مرجاتی ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسری عورت بدل دیتا ہے۔”(مسند الدیلمی : ١/١١٩، ح : ٤٠٥، القول المسدد لابن حجر : ٨٣، من طریق الخلال)
تبصرہ : اس روایت کی سند ”ضعیف”ہے۔ اس کو حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے الموضوعات (٣/١٢٥) میں ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے : ففیہ مجاہیل ۔
”اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔”
نیز عطاء الخراسانی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ، لہٰذا یہ سند منقطع بھی ہے۔
حدیث نمبر 8 : امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الأبدال من الموالی ۔ ”ابدال موالی میں سے ہوں گے۔”(میزان الاعتدال للذہبی : ٢/٤٧)
تبصرہ : یہ باطل روایت ہے کیونکہ :
1 عطاء تابعی ڈائریکٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کررہے ہیں، لہٰذا مرسل ہونے کی بنا پر یہ روایت ”ضعیف” ہوئی۔
2 اس کا راوی ابوعبید الآجری نامعلوم شخص ہے۔
3 اس کا راوی الرجال بن سالم مجہول ہے۔ اس کے اور اس کی روایت کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : لا یدری من ہو ، والخبر منکر ۔
”یہ نامعلوم شخص ہے اور اس کی بیان کردہ روایت منکر ہے۔”(میزان الاعتدال : ٢/٤٧)
حدیث نمبر 9 : بکر بن خنیس مرفوعاً بیان کرتے ہیں :
علامۃ أبدال أمّتی أنّہم لا یلعنون شیأا أبدا ۔ ”میری امت کے ابدال کی نشانی یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر لعن طعن نہیں کرتے۔”(کتاب الاولیاء لابن ابی الدنیا : ٥٩)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے۔ بکر بن خنیس کوفی راوی جمہور محدثین کرام کے نزدیک ”ضعیف و متروک” ہے ۔ نیز اس کا تعلق طبقہ سابعہ ہے۔ کبار تابعین میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت بیان کر سکتا ہے؟ یہ سند معضل(پے در پے منقطع) بھی ہے۔
2 اس میں عبدالرحمن بن محمد المحاربی راوی ”مدلس” بھی ہے۔
حدیث نمبر 0 : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لن تخلو الأرض مثل إبراہیم خلیل الرحمن ، بہم تغاثون ، وبہم ترزقون ، وبہم تمطرون ۔ ”زمین خالی نہ رہے گی ایسے لوگوں سے جو مثل ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے ہوں گے۔ ان کے سبب سے تمہیں رزق دیا جائے گا اور بارش برسائی جائے گی۔”(کتاب المجروحین لابن حبان : ٢/٦١، ت : ٦٠٥)
تبصرہ : یہ گھڑنتل ہے ۔ اس کو ایجاد کرنے والا راوی عبد الرحمن بن مرزوق بن عوف ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
یضع الحدیث ، لا یحلّ ذکرہ إلّا علی سبیل القدح فیہ ۔
”یہ حدیث گھڑنے کا کام کرتا تھا۔ جرح کے بغیر اس کا ذکر جائز نہیں۔”
حدیث نمبر ! : سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنّ أبدال أمّتی لم یدخلوا الجنّۃ بالأعمال ، ولکن إنّما دخلوا برحمۃ اللّٰہ وسخاوۃ النفس وسلامۃ الصدر ۔۔۔
”میری امت کے ابدال اپنے اعمال کے سبب سے جنت میں داخل نہ ہوں گے بلکہ اللہ کی رحمت سے ، نفسوں کی سخاوت سے اور سینوں کی سلامتی سے داخل ہوں گے۔۔۔”
(شعب الایمان للبیہقی : ١٠٨٩٣)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس کے راوی صالح بن بشیر المری ابوبشر البصری کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ”ضعیف” راوی ہے۔(تقریب التھذیب لابن حجر : ٢٨٤٤)
2 اس میں حسن بصری رحمہ اللہ کی ”تدلیس” بھی موجود ہے۔
حدیث نمبر @ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البدلاء أربعون ، اثنان وعشرون بالشام وثمانیۃ عشر بالعراق ، کلّما مات منہم واحد بدّل اللّٰہ مکانہ آخر ، فإذا جاء الأمر قبضوا کلّہم ، فعند ذلک تقوم الساعۃ ۔ ”ابدال چالیس ہیں،بائیس شام میں ہوتے ہیں اور اٹھارہ عراق میں۔ ان میں سے جو فوت ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے اور جب اللہ کا حکم آئے گا تو سب فوت ہو جائیں گے۔ اسی وقت قیامت آئے گی۔”(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٥/٢٢٠،٢٢١)
تبصرہ : یہ خود ساختہ روایت ہے۔ اس کا راوی العلاء بن زید ثقفی وضّاع(اپنی طرف سے حدیثیں گھڑنے والا)ہے۔ خود امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اسے ”منکر الحدیث” قرار دیا ہے۔ کبار ائمہ محدثین نے اسے ”متروک” کہا ہے۔
حدیث نمبر # : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لن تخلو الأرض من أربعین رجلا مثل خلیل الرحمن ، فبہم یسقون ، وبہم ینصرون ، ما مات منہم أحد إلّا أبدل اللّٰہ مکانہ آخر ۔ ”چالیس مرد جو مثل خلیل اللہ کے ہیں ، ان سے زمین کبھی خالی نہ ہو گی۔ ان کی وجہ سے تمہیں بارش اور تمہیں مدد دی جائے گی۔ جب ان سے کوئی فوت ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔”(المعجم الاوسط للطبرانی : ٤/٢٤٧، ح : ٤١٠١)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1۔3 اس میں عبد الوہاب بن عطاء الخفاف ، اس کا استاذ سعید بن ابی عروبہ اور اس کا استاذ قتادہ تینوں ہی ”مدلس” ہیں اور وہ ”عن” سے روایت کر رہے ہیں۔ سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہٰذا روایت سخت”ضعیف” ہے۔
4 اسحاق بن زریق کی توثیق بھی معلوم نہیں ہو سکی۔
حدیث نمبر $ : سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا یزال أربعون رجلا من أمّتی ، قلوبہم علی قلب إبراہیم علیہ السلام ، یدفع اللّٰہ بہم عن أھل الأرض ، یقال لہم : الأبدال۔۔۔
”میری امت میں چالیس مرد ہمیشہ ایسے رہیں گے جن کے قلوب (دل) قلب ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اہل زمین سے تکالیف دور کی جائیں گی۔ ان کو ابدال کہا جاتا ہے۔”(المعجم الکبیر للطبرانی : ١٠/١٨١، ح : ١٠٣٩٠، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی : ٤/١٧٢،١٧٣)
تبصرہ : اس کی سند کئی وجوہ سے ”ضعیف” ہے :
1 اس میں اعمش راوی کی ”تدلیس”ہے۔
2 ثابت بن عیاش الاحدب راوی غیر معروف ہے۔ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اسے نہیں جانتا۔(مجمع الزوائد : ١٠/٦٣)
حدیث نمبر % : سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنّ للّٰہ عزّ وجلّ فی الخلق ثلاثمائۃ قلوبہم علی قلب آدم علیہ السلام ، وللّٰہ تعالیٰ فی الخلق أربعون قلوبہم علی قلب موسیٰ ، وللّٰہ فی الخلق سبعۃ قلوبہم علی قلب إبراہیم ، وللّٰہ تعالیٰ فی الخلق خمسۃ قلوبہم علی قلب جبرائیل ، وللّٰہ فی الخلق ثلاثۃ قلوبہم علی قلب میکائیل ، وللّٰہ فی الخلق واحد قلبہ علی قلب إسرافیل ۔ ”اللہ تعالیٰ کے تین سو بندے مخلوق میں جن کے دل سیدنا آدم علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، چالیس ایسے ہیں جن کے دل موسیٰ علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، سات ایسے ہیں جن کے دل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، پانچ ایسے ہیں جن کے دل جبرائیل علیہ السلام کے دل پر ہیں، تین ایسے ہیں جن کے دل میکائیل کے قلب پر ہیں اور ایک ایسا بندہ ہے جس کا دل اسرافیل علیہ السلام کے دل پر ہے۔”
(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی : ١/٨،٩)
تبصرہ : یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ہو کذب ، فقاتل اللّٰہ من وضع ہذا الإفک ۔ ”یہ جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ جھوٹ اختراع کرنے والے کو تباہ و برباد کرے۔”(میزان الاعتدال للذہبی : ٣/٥٠)
نیز فرماتے ہیں : أتّہمہ بہ أو عثمان ۔ ”میں اس جھوٹ کا خالق اس (عبد الرحیم بن یحییٰ الآدمی) کو یا عثمان (بن عمارہ) کو سمجھتا ہوں۔”
(میزان الاعتدال للذہبی : ٢/٦٠٨)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ متردّد ہیں کہ اس حدیث کو عبدا لرحیم بن یحییٰ الآدمی نے گھڑا ہے یا عثمان بن عمارہ نے۔ یہ دونوں حضرات نامعلوم و مجہول ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کارستانی ان دونوں میں سے ایک کی ہے۔
اس روایت میں ابراہیم نخعی کی ”تدلیس” بھی موجود ہے۔
حدیث نمبر ^ : محمد بن علی بن جعفر ابوبکر الکتانی الصوفی کہتے ہیں:
النقباء ثلاث مأۃ ، والنجباء سبعون ، والبدلاء أربعون ، والأخیار سبعۃ ، والعمد أربعۃ ، والغوث واحد ۔ ”نقباء تین سو ہیں، نجباء ستر ہیں ، ابدال چالیس ہیں ، اخیار سات ، قطب چار اور غوث ایک ہے۔ــ”(تاریخ بغداد للخطیب : ٣/٧٥)
تبصرہ : یہ جھوٹی کہانی ہے ، اس کو گھڑنے والا شخص علی بن عبداللہ بن الحسن بن جہضم الہمدانی ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
متّہم بوضع الحدیث ۔ ”یہ حدیث گھڑنے کے ساتھ متہم ہے۔”
(میزان الاعتدال للذہبی : ٣/١٤٢)
نیز فرماتے ہیں : لیس بثقۃ ، بل متّہم ، یأتی بمصائب ۔
”یہ ثقہ نہیں بلکہ متہم راوی ہے جو کہ جھوٹ طوفان بیان کرتا ہے۔”
(سیر اعلام النبلاء للذہبی : ١٧/٢٧٦)
نیز یہ نہ قرآن ہے نہ حدیث ، نہ قول صحابی ہے نہ قول تابعی ۔
یہ باطل و ضعیف قول آگے یوں ہے : فمسکن النقباء المغرب ، ومسکن النجباء مصر ، ومسکن الأبدال الشام ، والأخیار سیّاحون فی الأرض، والعمد فی زوایا الأرض ، ومسکن الغوث مکّۃ ، فإذا عرضت الحاجۃ من أمر العامّۃ ابتہل فیہا النقباء ، ثمّ النجباء ، ثمّ الأبدال ، ثمّ الأخیار ، ثمّ العمد ، ثمّ أجیبوا ، وإلّا ابتہل الغوث ، فلا یتمّ مسألتہ حتّی تجاب دعوتہ ۔
”نقباء کا مسکن مغرب ، نجباء کا مصر ، ابدال کا شام ہے۔ اخیار سیّاح (گھومنے پھرنے والے)ہوتے ہیں۔ قطب زمین کے گوشوں میں ہوتے ہیں۔ جب مخلوق کو عمومی مصیبت آ جائے تو دعا کے لیے نقباء ہاتھ پھیلاتے ہیں ، اگر قبول نہ ہو تو نجباء ، پھر اخیار ، پھر قطب ، اگر پھر بھی قبول نہ ہو تو غوث دُعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے حتی کہ اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔”(تاریخ بغداد للخطیب : ٣/٧٥)
یہ کتانی کے قول کا بقیہ حصہ ہے جس کے راوی کے متعلق آپ جان چکے ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
وکذا کلّ حدیث یروی عن النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی عدّۃ الأولیاء والأبدال والنقباء والنجباء والأوتاد والأقطاب ، مثل أربعۃ أو سبعۃ أو اثنی عشر أو أربعین أو سبعین أو ثلاثمائۃ وثلاثۃ عشر أو القطب الواحد ، فلیس فی ذلک شیء صحیح عن النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، ولم ینطق السلف بشیء من ہذہ الألفاظ إلا بلفظ الأبدال ۔۔۔ ”اسی طرح ہر وہ روایت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اولیاء ، ابدال ، نقباء ، نجباء ، اوتاد اور اقطاب کی تعداد مثلا چار ، سات ، بارہ، چالیس ، ستر ، تین سو ، تیرہ یا ایک قطب کے بارے میں بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں نہ ان الفاظ میں سے سلف نے کوئی لفظ بولا ہے ، سوائے ابدال کے لفظ کے۔۔۔”(الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان لابن تیمیۃ : ١٠١)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ستکون فتنۃ یحصل الناس منہا کما یحصل الذہب فی المعدن ، فلا تسبّوا أہل الشام ، وسبّوا ظلمتہم ، فإنّ فیہم الأبدال، وسیرسل اللّٰہ إلیہم سیبا من السماء فیغرقہم ، حتّی لو قاتلتہم الثعالب غلبتہم، ثمّ یبعث اللّٰہ عند ذلک رجلا من عترۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی اثنی عشر ألفا إن قلّوا وخمسۃ عشر ألفا إن کثروا ، إمارتہم أو علامتہم أمت أمت علی ثلاث رایات ، یقاتلہم أہل سبع رایات ، لیس من صاحب رایۃ إلّا و ہو یطمع بالملک ، فیقتتلون و یہزمون ، ثمّ یظہر الہاشمیّ ، فیردّ اللّٰہ إلی الناس إلفتہم ونعمتہم ، فیکونون علی ذلک حتّی یخرج الدجّال۔
”عنقریب فتنہ نمودار ہو گا۔ لوگ اس سے ایسے کندن بن کر نکلیں گے جیسے سونا بھٹی میںکندن بنتا ہے۔ تم اہل شام کو بُرا بھلا نہ کہو بلکہ ان پر ظلم کرنے والوں کو بُرا بھلا کہو کیونکہ اہل شام میں ابدال ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش نازل کرے گا اور ان کو غرق کر دے گا۔اگر لومڑیوں جیسے مکار لوگ بھی ان سے لڑیں گے تو وہ ان پر غالب آ جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ایک شخص کو کم از کم بارہ ہزار اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار لوگوں میں بھیجے گا۔ ان کی علامت أمت أمت ہو گی ۔ وہ تین جھنڈوں پر ہوں گے۔ ان سے سات جھنڈوں والے لڑائی کریں گے۔ہر جھنڈے والا بادشاہت کا طمع کرتا ہو گا۔ وہ لڑیں گے اور شکست کھائیں گے، پھر ہاشمی غالب آ جائے گا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف ان کی الفت اور محبت و مودّت لوٹا دے گا۔ وہ دجّال کے نکلنے تک یونہی رہیں گے۔”(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ٤/٥٩٦، ح : ٨٦٥٨، وسندہ، صحیحٌ)
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد” اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح” قرار دیاہے۔
ابدال کی تعریف و تفسیر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ)فرماتے ہیں :
فسّروہ بمعان ، منہا : أنّہم أبدال الأنبیاء ، ومنہا : أنّہ کلّما مات منہم رجل أبدل اللّٰہ مکانہ رجلا ، ومنہا : أنّہم أبدلوا السیّأات من أخلاقہم وأعمالہم وعقائدہم بحسنات ، وہذہ الصفات لا تختصّ بأربعین ، ولا بأقلّ ، ولا بأکثر ، ولا تحصر بأہل بقیّۃ من الأرض ۔ ”علمائے کرام نے اس کی کئی تفسیریں کی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ انبیاء کے بدل ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سے جب کوئی فوت ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنے اخلاق ، اعمال اور عقائد سے برائیوں کو نکال کر ان کی جگہ نیکیوں کو دے دی ہے۔ یہ صفات چالیس یا کم و بیش کے ساتھ خاص نہیں نہ باقی زمین والوں سے ان کو بند کیا گیا ہے۔”(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ١١/٤٤٢)
لمحہ فکریہ : ”حاجی کفایت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں : اعلیٰ حضرت (احمد رضا خان بریلوی) بنارس تشریف لے گئے۔ایک دن دوپہر کو ایک جگہ دعوت تھی۔ میں ہمراہ تھا، واپسی میں تانگے والے سے فرمایا: اس طرف فلاں مندر کے سامنے سے ہوتے ہوئے چل۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اعلیٰ حضرت بنارس کب تشریف لائے اور کیسے یہاں کی گلیوں سے واقف ہوئے اور اس مندر کا نام کب سنا؟ اسی حیرت میں تھا کہ تانگہ مندر کے سامنے پہنچا، دیکھا کہ ایک سادھو مندر سے نکلا اور تانگہ کی طرف دوڑا۔ آپ نے تانگہ رُکوا دیا۔ اس نے اعلیٰ حضرت کو ادب سے سلام کیا اور کان میں کچھ باتیں ہوئیں جو میری سمجھ سے باہر تھیں، پھر وہ سادھو مندر میں چلا گیا، ادھر تانگہ بھی چل پڑا، تب میں نے عرض کی : حضور ! یہ کون تھا؟ فرمایا : ابدالِ وقت۔ عرض کی : مندر میں ؟ فرمایا : آم کھائیے ، پتے نہ گنیے۔”(اعلی حضرت ، اعلی سیرت از محمد رضا الحسن قادری بریلوی : ص ١٣٤)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.