364

جانور خصی کرنے کی شرعی حیثیت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


للہ تعالیٰ نے شیطان لعین کا قول نقل فرمایا ہے :
(وَلَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ) (النساء : ١١٩)
”میں ان کو ضرور حکم دوں گا اور وہ ضرور اللہ کی تخلیق کو بدل ڈالیں گے۔”
اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس(تفسیر طبری: ١٠٤٧٠، وسندہ صحیح) اور سیدنا انس بن مالک (تفسیر طبری : ١٠٤٧٠، وسندہ حسن) رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے جانور کے خصّی کرنے کی کراہت ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ فعل اللہ کی تخلیق میں بگاڑ کا باعث ہے۔
یہی بات ربیع بن انس رحمہ اللہ نے کہی ہے۔(تفسیر الطبری : ١٠٤٧٤، وسندہ، حسنٌ)
اسی طرح شہر بن حوشب(تفسیر طبری : ١٠٤٧٥، وسندہ صحیح) اور امام سفیان (تفسیر طبری : ١٠٤٧٥، وسندہ صحیح)H فرماتے ہیں کہ اس آیت ِ کریمہ سے جانور کو خصّی کرنا مراد ہے۔
عکرمہ تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں ہے : أنّہ کرہ خصاء الداواب ۔
”وہ جانوروں کو خصّی کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔”(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٢/٢٢٦، وسندہ، صحیحٌ)
یزید بن ابی حبیب بیان کرتے ہیں : کتب عمر بن عبد العزیز إلی أہل مصر ینہاہم عن خصاء الخیل ، وأن یجریئ الصبیان الخیل ۔
”امام عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اہل مصر کی طرف خط لکھا جس میں گھوڑوں کو خصّی کرنے اوربچوں کے گھوڑوں کو دوڑانے سے ان کو منع فرمایا۔”
(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٢/٢٢٥، وسندہ، صحیحٌ)
امام عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے جانور کو خصّی کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کانوا یکرہون خصاء کلّ شیء لہ نسل ۔ ”اسلاف ان تمام چیزوں کو خصّی کرنا مکروہ سمجھتے تھے جن کی نسل چل سکتی ہے۔”(مصنف عبد الرزاق : ٤/٤٥٨، ح : ٨٤٤٧)
امام نافع رحمہ اللہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں :
إنّہ کان یکرہ الإخصاء ، ویقول : فیہ تمام الخلق ۔ ”آپ خصّی کرنے کو مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس میں تخلیق کی تکمیل ہے۔”
(الموطا للامام مالک : ٢٧٢٩، وسندہ، صحیحٌ)
امام اسحاق بن منصور مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں : قلت : یکرہ إخصاء الدوابّ ، قال : إی لعمری ، ہی نماء الخلق ، قال إسحاق : کما قال ۔
میں نے کہا : کیا جانوروں کو خصّی کرنا مکروہ ہے؟ آپ(امام احمد رحمہ اللہ )نے فرمایا : ہاں، اللہ کی قسم! یہ (اعضائے تناسل) تخلیقِ الٰہی کی تکمیل ہے۔ امام اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حق یہی ہے۔”(مسائل الامام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ : ٢٧٨٦)
یہ تو کراہت کے بارے میں اقوال تھے۔ بعض اہل علم نے جانوروں کو خصّی کرنے کی رخصت بھی دی ہے ، جیسا کہ :
1 امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکرے اور دنبے کو خصّی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔(تفسیر الطبری : ١٠٤٧٥، وسندہ، صحیحٌ)
2 امام ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : إنّ أباہ (عروۃ بن الزبیر) خصٰی بغلا لہ ۔ ”ان کے والد عروہ بن زبیر تابعی رحمہ اللہ نے اپنا ایک خچر خصّی کیا تھا۔”(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٢/٢٢٦، وسندہ، صحیحٌ)
3 امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ گھوڑے کو خصّی کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٢/٢٢٧، وسندہ، صحیحٌ)
دونوں طرف کے اجتہادات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ضرورت کے پیش نظر جانور کو خصّی کیا جا سکتا ہے ، لیکن بغیر ضرورت کے ایسا کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ فعل ہے جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ (٣٨٤۔٤٥٨ھ) فرماتے ہیں :
ویحتمل جواز ذلک إذا اتّصل بہ غرض صحیح کما روینا عن التابعین۔
”جب کوئی واقعی ضرورت درپیش ہو تو خصّی کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے تابعین کرام سے یہ بات روایت کی ہے۔”(السنن الکبری للبیہقی : ١٠/٢٤)
تنبیہ بلیغ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جانور کو خصّی کرنے کی ممانعت یا جواز ثابت نہیں۔ اس بارے میں وارد شدہ تمام کی تمام روایات ”ضعیف” اور ناقابل استدلال ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں :
1 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نہی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن إخصاء الخیل والبہائم ۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں اور مویشیوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا۔”(مسند الامام احمد : ٢/٢٤)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے کیونکہ عبد اللہ بن نافع المدنی راوی ”ضعیف” ہے۔ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعّفہ الجمہور ۔
”اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔”(مجمع الزوائد : ٤/١٢)
2 سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا إخصاء فی الإسلام ۔ ”اسلام میں خصّی کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔”
(السنن الکبری للبیہقی : ١٠/٢٤)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس میں عبد اللہ بن لہیعہ راوی ”ضعیف، مدلس اور مختلط” ہے۔
2 اس کا راوی مقدام بن داؤد الرعینی بھی سخت ”ضعیف” ہے۔
(تقریب التہذیب : ٣٦٦١)
امام بیہقی رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں : فیہ ضعف ۔ ”اس میں کمزوری ہے۔”
3 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نہی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن إخصاء الإبل والبقر والغنم والخیل ، وقال : إنّما النماء فی الحبل ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ،بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : افزائش نسل تو گابھن کرنے سے ہی ہوتیہے۔”
(السنن الکبری للبیہقی : ١٠/٢٤، الکامل لابن عدی : ٢/١٨٠)
تبصرہ : اس کی سند میں جبارہ بن مغلس راوی ”ضعیف” ہے۔
(الکاشف للذہبی : ١/١٢٣، تقریب التہذیب لابن حجر : ٨٩٠)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وضعّفہ الجمہور ۔ ”اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔”(مجمع الزوائد : ٩/٢٠)
4 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: إنّ النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نہی عن الإخصاء ، وقال : فیہ نماء الخلق ۔ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : اس(عضو تناسل) میں تخلیق کی افزائش ہے۔”
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٢/١٨١، ترجمۃ جُبَارَۃ بن مُغَلَّس)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے ۔ اس میں بھی وہی جبارہ بن مغلس راوی ”ضعیف” ہے۔
5 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : نہی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن إخصاء البہائم ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مویشیوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا۔”(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٢/١٨١، ترجمۃ جبارۃ بن مغلس)
تبصرہ : اس کی سند بھی جبارہ بن مغلس کی وجہ سے ”ضعیف” ہے۔
6 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے : إنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نہی عن إخصاء الفحولۃ ، لأن لا ینقطع النسل ۔
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نَر کو خصّی کرنے سے منع فرمایا ہے تاکہ نسل ختم نہ ہو جائے۔”
(الکامل لابن عدی : ٣/٢٨٧، ترجمۃ سلیمان بن مسلم الخشاب)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف”ہے۔ اس کے راوی سلیمان بن مسلم الخشاب کو حافظ ابن الجوزی اور حافظ ذہبیHنے متہم قرار دیا ہے۔نیز حافظ ذہبی نے اس کی بیان کردہ دو حدیثوں کو من گھڑت کہا ہے۔حافظ ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ہذا قلیل الحدیث ، وہو شبہ المجہول ۔ ”اس کی بیان کردہ احادیث بہت کم ہیں اور یہ مجہول راویوں جیسا ہے۔”(الکامل لابن عدی : ٣/٢٨٧)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : شیخ یروی عن سلیمان التیمی ما لیس من حدیثہ ، لا تحلّ الروایۃ عنہ إلّا علی سبیل الاعتبار للخواصّ ۔
”یہ ایسا شیخ ہے جو سلیمان تیمی سے وہ روایات بیان کرتا ہے جو اس کی بیان کردہ احادیث میں سے نہیں ہوتیں۔ اس کی روایت کو بیان کرنا جائز نہیں۔ صرف ماہر لوگ متابعات و شواہد کے ضمن میں ایسا کر سکتے ہیں۔”(المجروحین لابن حبان : ١/٣٣٢)
حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ”لیس بالقوی” کہا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی : ٥/٤٤٤)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہو ضعیف جدّا ۔ ”یہ سخت ضعیف راوی ہے۔”(مجمع الزوائد : ٧/٢٦٩، ١٠/٣٩٥)
7 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : إنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نہی عن الإخصاء ، وقال : إنّما النماء فی الذکور ۔
” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : افزائش نسل تو نَر ہی میں ہوتی ہے۔”(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٤/٣٢١، ٢/١٨١مختصراً)
تبصرہ : یہ سند من گھڑت ہے۔اس کے راوی عبدالرحمن بن الحارث الکفرتوئی الملقب بہ جحدر کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں :
یسرق الحدیث ۔ ”یہ احادیث کا چور تھا۔”
اس میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ”تدلیس” بھی ہے، سماع کی تصریح نہیں ملی ، نیز اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
8 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : نہانا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن الإخصاء ، وقال : إنّما النماء فی الذکور ۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : افزائش نسل تو نَر ہی میں ہوتی ہے۔”(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٢/١٨١، ٤/٣٢١)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف”ہے کیونکہ اس کے راوی یوسف بن محمد بن سابق قرشی کی سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ کے کسی نے توثیق نہیں کی، لہٰذا یہ مجہول الحال ہے۔نیز یحییٰ بن یمان کا عبیداللہ سے سماع بھی معلوم نہیں ہو سکا۔
9 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نہی النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن إخصاء الإبل والبقر والغنم والخیل ، وقال : إنّما النماء فی الحبل ۔ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ، بیل ، بکرے ، دنبے اور گھوڑے کو خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : افزائش نسل تو نَر ہی میں ہوتی ہے۔”(الکامل لابن عدی : ٢/١٨١)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس میں امام ابن عدی کے شیخ محمد بن الحسن بن حرب کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
2 سلیمان بن عمر الاقطع راوی مجہول الحال ہے۔ سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
3 عبد اللہ بن نافع المدنی راوی ”ضعیف”ہے۔(تقریب التہذیب : ٣٦٦١)
0 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نہی رسول اللّٰہ عن إخصاء البہائم ، لا تقطعوا نماء اللّٰہ ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مویشیوں کو خصّی کرنے سے یہ فرماتے ہوئے منع کیا کہ اللہ کی تخلیق کو منقطع نہ کرو۔”
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٢/١٨١، ترجمۃ جبارۃ بن مغلس)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس میں موجود راوی حبی بن حاتم الجرجرائی کے حالات نہیں مل سکے۔
2 ابومعاویہ الضریر ”مدلس” راوی ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں۔
! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے : إنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نہی عن الإخصاء ، وقال : فیہ نماء الخلق ۔
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا : اس (عضو تناسل) میں تخلیق کی افزائش ہوتی ہے۔”(الکامل لابن عدی : ٧/١٧١، تاریخ ابن عساکر : ١/٣٧٨)
تبصرہ : اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے کیونکہ اس کے راوی یونس بن یونس ابویعقوب الافطس کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وکلّ ما روی عمّن روی من الثقات منکر ۔ ”اس نے ثقہ راویوں سے جتنی بھی روایات بیان کی ہیں ، وہ سب منکر ہیں۔”
امام ابن حبان رحمہ اللہ ان کی ایک روایت کو بے اصل قرار دے کر لکھتے ہیں :
والأفطس لا یجوز الاحتجاج بما انفرد بہ ۔ ”افطس جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو ، اس سے دلیل لینا جائز نہیں۔”(المجروحین لابن حبان : ٣/١٣٧)
البتہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ”ثقہ” قرار دیا ہے۔
(تاریخ بغداد للخطیب : ١٤/٢٩٨، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس کی دو روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ان کو بیان کرنے والا ”ثقہ” نہیں ہو سکتا۔(میزان الاعتدال للذہبی : ٤/٤٧٦)
اس روایت کو حافظ ابن عدی (الکامل : ٧/١٧١)اور امام نسائی (لسان المیزان لابن حجر : ٣/٣٣١)نے ”منکر” کہا ہے۔
@ سیدنا حارث بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فنہی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن إخصاء الخیل ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا ہے۔”(تاریخ ابن عساکر : ٣٤/١٣)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے۔ اس میں موجود بہت سارے راویوں کے حالات نہیں مل سکے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (٧٧٣۔٨٥٢ھ) حافظ علائی رحمہ اللہ (٦٩٤۔٧٦١ھ) سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
رجال ہذا السند لا یعرفون ۔ ”اس سند کے کئی راوی غیر معروف ہیں۔”(لسان المیزان لابن حجر : ١/٨٩، ترجمۃ ابراہیم بن غطریف)
# سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
ذبح النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کبشین أقرنین أملحین مُوجَأَیْنِ ۔
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے ، چتکبرے اور خصّی مینڈھے ذبح کیے۔”
(مسند الامام احمد : ٣/٣٧٥، سنن ابی داو،د : ٢٧٩٥، سنن ابن ماجہ : ٣١٢١)
تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف” ہے۔ اس میں محمد بن اسحاق راوی ”مدلس” ہیں اور ”عن” کے لفظ سے یہ روایت بیان کر رہے ہیں ، خصّی کے الفاظ کے ساتھ کہیں بھی سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔
تنبیہ 1 : ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
نہی عمر عن إخصاء الخیل ۔ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گھوڑوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا۔”(مسند علی بن الجعد : ٢١٢٩)
اس روایت کی سند بھی ”ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس میں شریک بن عبداللہ القاضی راوی ”مدلس” ہیں۔
2 ابراہیم نخعی کا سیدنا عمر سے سماع و لقاء نہیں، لہٰذا یہ قول منقطع بھی ہے۔
سنن کبری بیہقی (١٠/٢٤)کی سند بھی ”ضعیف” ہے۔ اس میں عاصم بن عبیداللہ راوی جمہور کے نزدیک ”ضعیف” ہے۔(مجمع الزوائد للہیثمی : ٨/١٥٠، النکت علی کتاب ابن الصلاح لابن حجر : ١/٧٥، عمدۃ القاری للعینی : ١١/١٣)
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وروایات عاصم فیہا ضعف ۔
”عاصم کی روایات میں کمزوری ہے۔”(السنن الکبری للبیہقی : ١٠/٢٤)
تنبیہ 2 : خصّی جانور کی قربانی بالکل درست اور جائز ہے کیونکہ خصّی ہونا ان عیوب میں سے نہیں جو قربانی کے لیے مانع ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :
أرجو ألّا یکون بہ بأس ۔ ”امید ہے کہ اس میں کچھ حرج نہیں ہوگا۔”
(مسائل الامام احمد واسحاق : ٢٨٦٣)
تنبیہ 3 : مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ (٦٠٠۔٦٧١ھ) لکھتے ہیں :
ولم یختلفوا أنّ خصاء بنی آدم لا یحلّ ولا یجوز ، لأنّہ مثلۃ وتغییر لخلق اللّٰہ تعالٰی ، وکذلک قطع سائر أعضائہم فی غیر حدّ ولا قود ۔
”مسلمانوں کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ انسانوں کو خصّی کرنا حلال اور جائز نہیںکیونکہ یہ مثلہ اور تخلیق الٰہی میں تبدیلی ہے۔ اسی طرح حدود و قصاص کے علاوہ انسانوں کے باقی اعضاء کو کاٹنا بھی حرام ہے۔”(احکام القرآن للقرطبی : ٥/٣٩١)

جانور خصی کرنے کی شرعی حیثیت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ” ایک تبصرہ

  1. HAR FARZ NAMAZ KE BAAD AAYETAL KURSI
    PADHNE KI FAZILAT KI HADEES KI TAHQEEQ AUR TAKHREEJ SAHI YA ZAEEFE HAI SANAD
    CHAHIYE JAZAK ALLAH KHAIR

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.