1,069

صحیحین میں بدعتی راوی، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

ہم راوی کے صدق و عدالت اور حفظ و ضبط کو دیکھتے ہیں۔ اس کا بدعتی ، مثلاً مُرجی، ناصبی، قدری ، معتزلی ، شیعی وغیرہ ہونامُضر نہیں ہوتا۔ صحیح قول کے مطابق کسی عادل و ضابط بدعتی راوی کا داعی الی البدعۃ ہونا بھی مُضر نہیں ہوتا اور اس کی وہ روایت بھی قابل قبول ہوتی ہے جو ظاہراً اس کی بدعت کو تقویت دے رہی ہو۔
بدعت کی اقسام : حافظ ذہبیaنے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
1 بدعت ِ صغریٰ ، 2 بدعت ِ کبریٰ
بدعت ِ صغریٰ کی مثال انہوںنے تشیّع سے دی ہے جبکہ بدعت ِ کبریٰ کی مثال کامل رفض اور اس میں غلو سے دی ہے۔(میزان الاعتدال للذہبی : ١/٥، ٦)
انہوں نے ابان بن تغلب راوی کے بارے میں لکھا ہے :
شیعیّ جلد ، لکنّہ صدوق ، فلنا صدقہ ، وعلیہ بدعتہ ۔
”یہ کٹر شیعہ لیکن سچا تھا۔ ہمیں اس کی سچائی سے سرو کار ہے۔ اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہو گا۔”(میزان الاعتدال : ١/٥)
اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ بدعتی راوی ثقہ اور عادل کیسے ہو سکتا ہے تو اس کا جواب ہم حافظ ذہبیaہی کی زبانی ذکر کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں :
وجوابہ أنّ البدعۃ علی ضربین ، فبدعۃ صغری کغلوّ التشیّع أو کالتشیّع بلا غلوّ ولا تحرّف ، فہذا کثیر فی التابعین وتابعیہم مع الدین والورع والصدق ، فلو ردّ حدیث ہؤلاء لذہب جملۃ من الآثار النبویّۃ ، وہذہ مفسدۃ بیّنۃ ، ثمّ بدعۃ کبری کالرفض الکامل والغلوّ فیہ والحطّ علی أبی بکر وعمر – رضی اللّٰہ عنہما ، والدعاء إلی ذلک ، فہذا النوع لا یحتجّ بہم ولا کرامۃ ، وأیضا فما أستحضر الآن فی ہذا الضرب رجلا صادقا ولا مأمونا ، بل الکذب شعارہم والتقیّۃ والنفاق دثارہم ، فکیف یقبل نقل من ہذا حالہ ، حاشا وکلّا ، فالشیعیّ الغالیّ فی زمان السلف وعرفہم ہو من تکلّم فی عثمان والزبیر وطلحۃ ومعاویۃ وطائفۃ ممّن حارب علیّا رضی اللّٰہ عنہ ، وتعرّض لسبّہم ، والغالیّ فی زماننا وعرفنا ہو الذی یکفّر ہؤلاء السادۃ ویتبرّأ من الشیخین أیضا ، فہذا ضالّ معثر ، ولم یکن أبان بن تغلب یعرض للشیخین أصلا ، بل قد یعتقد علیّا أفضل منہما ۔
”بدعت کی دو قسمیں ہیں: 1بدعت ِ صغریٰ جیسے غلو یا بلا غلو شیعیت۔ اس قسم کی رائے تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔باوجودیکہ وہ دیندار ، پرہیزگار اور سچے تھے۔ اگر ان کی احادیث ردّ کر دی جائیں تو تمام احادیث سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور یہ واضح خرابی ہے۔ 2 بدعت ِ کبریٰ جیسے کامل رفض اور اس میں غلو، سیدنا ابوبکر و عمرw کے وقار کو مجروح کرنا اور لوگوں کو اس کی دعوت دینا۔ اس نوع کے راویوں سے حجت نہیں لی جائے گی، نہ ان کی عزت و تکریم کی جائے گی۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ میرے حافظے کے مطابق ایسے راویوں میں سے کوئی ایک بھی سچا اور قابل اعتبار آدمی موجود نہیں بلکہ جھوٹ ان کا شعار اور تقیہ و نفاق ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی روایت کیسے قبول کی جائے گی؟ ہر گز نہیں۔ سلف کے دور میںغالی شیعہ وہ شخص تھا جو سیدنا عثمان، سیدنا زبیر ، سیدنا طلحہ ، سیدنا معاویہ اوراس گروہ پر اعتراض کرتا تھا اور ان کو برا بھلا کہتا تھا جس نے سیدنا علیtسے جنگ کی جبکہ ہمارے زمانے میں غالی وہ شخص ہے جو ان محترم شخصیتوں کی تکفیر کرتا ہے اور سیدنا ابوبکر و عمرw سے براء ت کا اعلان کرتا ہے۔ ایسا شخص سراسر گمراہ ہے۔ جہاں تک ابان بن تغلب کا تعلق ہے تو اس نے سیدنا ابوبکر و عمرw پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ وہ صرف یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ سیدنا علیtان سے افضل ہیں۔”
(میزان الاعتدال : ١/٥، ٦)
بدعت ِ صغریٰ ، یعنی غیر مکفرہ کے مرتکب راوی کی روایت قبول کی جائے گی ، بشرطیکہ وہ ثقہ و صدوق ہو۔ بدعت ِ غیر مکفرہ کو شرک اور کفر سے جا ملانا درست نہیں۔ بدعت ِ کبریٰ، یعنی مکفرہ کے مرتکب راوی کی روایت مردود ہے کیونکہ وہ ساقط العدالت ہے۔ عدالت کے لیے پہلی شرط ہی اسلام ہے جو اس میں مفقود ہو چکی ہے۔
حافظ ابنِ کثیرa(م ٧٧٤ھ) لکھتے ہیں : لا إشکال فی ردّ روایتہ ۔
”بدعت ِ کبریٰ کے مرتکب راوی کی روایت کے مردود ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔”
(اختصار علوم الحدیث : ص ٨٣)
امام ابنِ عدیaفرماتے ہیں : ولا یبقی من الرواۃ الذین لم أذکرہم إلّا من ہو ثقۃ أو صدوق ، وإن کان ینسب إلی ہوی ، فہو فیہ متأوّل ۔
”میں نے جن راویوں کو (اپنی کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال میں) ذکر نہیں کیا، وہ سب کے سب ثقہ یا صدوق ہیں، اگرچہ ان (میں سے بعض)کو بدعتی کہا گیا ہے لیکن وہ ایک تاویل کی وجہ سے اس بدعت میں مبتلا تھے۔”(الکامل لابن عدی : ١/١٦)
ائمہ حدیث کا مجموعہئ تصرفات یہ آگاہی دیتا ہے کہ بدعتی راوی خواہ اپنی بدعت کی طرف دعوت دیتا ہو ، جب تک اس کی بدعت اس کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتی اور اس کے خون کو جائز قرار نہیں دیتی ، اس کی روایت قابل قبول ہو گی۔
فائدہ نمبر 1 : اگر راوی ثقہ و صدوق ہو ، بدعت ِ غیر مکفرہ کا مرتکب ہو تو اس کی روایت قبول ہو گی خواہ وہ روایت ظاہراً اس کی بدعت کو تقویت دے رہی ہو۔ یہی صحیح اور حق بات ہے۔ علامہ جوزجانی(م ٢٥٩ھ) کہتے ہیں کہ اگر بدعتی راوی کی روایت اپنی بدعت کی تقویت میں ہو تو قبول نہیں۔ (احوال الرجال للجوزجانی : ٣٢)
یاد رہے کہ جوزجانی صدوق ، حسن الحدیث ہیںلیکن خود غالی ناصبی ، بدعتی تھے۔ ان کی یہ بات درست نہیں۔(دیکھیے التنکیل بما فی تانیب الکوثری من الاباطیل : ١/٤٢۔٥٢)
فائدہ نمبر 2 : امام اہل سنت نعیم بن حماد الخزاعیaبیان کرتے ہیں کہ انہوں نے امام عبداللہ بن مبارکaسے پوچھا کہ محدثین کرام نے عمرو بن عبید کو کس وجہ سے متروک قرار دیا ہے تو امام صاحب نے فرمایا : عمرو بن عبید عقیدہئ قدر کا داعی تھا۔”(تقدمۃ الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٢٧٣، وسندہ، حسنٌ)
اگر کوئی یہ اشکال پیش کرے کہ جب داعی الی البدعۃ کی روایت قبول ہے تو عمرو بن عبید کو داعی الی القدر ہونے کی بنا پر متروک کیوں قرار دیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عمرو بن عبید پر محدثین کرام کی جروح یہ بتاتی ہیں کہ یہ ”کذاب” اور ”وضّاع” بھی تھا۔ یقینا یہ اپنی بدعت کے لیے جھوٹ بولنا اور حدیثیں گھڑنا روا سمجھتا ہو گا۔ گویا اس کی اپنی بدعت کی طرف دعوت جھوٹ اور وضعِ حدیث سے مرکب تھی۔ ایسی مرکب دعوت راوی کو ناقابل اعتبار اور ساقط العدالت بنا دیتی ہے، لہٰذا محدثین کرام نے اسے متروک قرار دیا۔
یہاں بطور خاص یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ کسی شخص کے قدری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ منکر تقدیر ہے، بلکہ قدری لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ شر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے یا شر صرف بندے کا فعل ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ خیرو شر دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ شر اللہ تعالیٰ نے حکمت کے تحت پیدا کیا ہے، لہٰذا وہ شر بھی اپنی حقیقت میں اور اللہ تعالیٰ کی نسبت سے خیر ہے۔ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فعل میں شر نہیں بلکہ اس کی مخلوقات میں شر موجود ہے۔ اتنی سی بات منکرین حدیث سمجھ نہیں پائے اور انہوںنے محدثین کرام کو منکرین تقدیر کہہ کر اعتراضات شروع کر دیے ہیں۔ العیاذ باللّٰہ من الزیغ !
فائدہ نمبر 3 : امام ابن حبانaفرماتے ہیں :
محمّد بن الحسن الشیبانیّ ، صاحب الرأی ، وکان مرجأا ، داعیا لہ ، وہو أوّل من ردّ علی أہل المدینۃ ، ونصر صاحبہ یعنی النعمان ، وکان عاقلا ، لیس فی الحدیث شیء ، کان یروی عن الثقات ، ویہم فیہا ، فلمّا فحش ذلک منہ استحقّ ترکہ من أجل کثرۃ خطئہ ، لأنّہ کان داعیۃ إلی مذہبہم ۔
”محمد بن الحسن الشیبانی صاحب الرائے اور مرجی تھا، ارجاء کی طرف دعوت دیتا تھا ۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے اہل مدینہ کی مخالفت کی اور اپنے استاذ ، یعنی نعمان کی نصرت و تائید کی۔ وہ قیاس کرتا تھا، حدیث میں کسی کام کا نہ تھا۔ وہ ثقہ راویوں سے روایات بیان کرتا تھا اور ان میں وہم کھاتا تھا۔ جب یہ اوہام زیادہ ہو گئے تو کثرت ِ خطا کی وجہ سے وہ متروک قرار دیے جانے کا مستحق ہو گیا کیونکہ وہ اہل ارجاء کے مذہب کی طرف دعوت دیتا تھا۔”
(کتاب المجروحین لابن حبان : ٢/٢٧٥، ٢٧٦)
محمد بن حسن شیبانی بالاتفاق ”ضعیف” راوی ہے۔ اس کو امام یحییٰ بن معینaنے ”کذاب” قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ عمرو بن عبید والی کاروائی میں ملوث تھا۔ اس کی طرح اس کی بھی اپنی بدعت کی طرف دعوت جھوٹ کے ساتھ مرکب تھی۔
فائدہ نمبر 4 : اگر کوئی کہے کہ صحیح بخاری میں عباد بن یعقوب الرواجنی ابوسعید الکوفی راوی موجود ہے جو مشہور رافضی ہے اور بدعت کا داعی ہے تو واضح رہے کہ یہ راوی حسن الحدیث ہے اور جمہور محدثین کرام نے اس کی توثیق کی ہے۔ کسی بھی ثقہ و صدوق راوی کی روایت قابل قبول ہوتی ہے جب تک وہ ساقط العدالت نہ ہو جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اصولِ بخاری میں اس کی کوئی روایت موجود نہیں۔ حافظ ذہبیaاس سلسلے میں لکھتے ہیں : وعنہ البخاریّ حدیثا فی الصحیح مقرونا بآخر ۔
”امام بخاریaنے بھی اس سے اپنی صحیح میں ایک حدیث روایت کی ہے لیکن وہ حدیث اس کے ساتھ دوسرے ثقہ راوی کو ساتھ ملا کر بیان کی ہے۔ ”(میزان الاعتدال : ٢/٣٧٩)
گویا امام بخاریaنے صحیح بخاری میں اس سے حجت نہیں لی۔ حافظ ابن حجرa لکھتے ہیں : ”اس کی روایت کے علاوہ اس حدیث کے اور طرق بھی بخاری میں موجود ہیں۔”(ہدی الساری لابن حجر)
لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوا۔ وللّٰہ الحمد !
اگر کوئی کہے کہ صحیح بخاری میں عمران بن حطان نامی راوی کی روایت موجود ہے جو کہ خارجیوں کا رئیس تھاتو جواب یہ ہے کہ خروج کا الزام ثابت ہو جانے کی صورت میں بھی اس راوی کی حدیث کے لیے مُضر نہیں کیونکہ یہ صدوق ، حسن الحدیث تھا۔ جمہور محدثین کرام نے اس کی توثیق کی ہے۔ پھر صحیح بخاری کے اندر اصول میں اس کی کوئی روایت موجود نہیں جیسا کہ حافظ ابن حجرaلکھتے ہیں کہ متابعت میں صرف ایک حدیث ہے اور اس کے بھی کئی اور طرق موجود ہیں۔(ہدی الساری لابن حجر : ٤٣٣)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں جو راوی اصول کے نہیں ، یعنی ان کی روایات متابعات و شواہد میں ذکر کی گئی ہیں ، وہ ہماری بحث سے خارج ہیں۔ عمومی طور پر منکرین حدیث اور عقل پرستوںکا حملہ انہی راویوں پر ہوتا ہے جو اصول کے راوی نہیں ہیں ، یعنی امام بخاری و مسلم نے اپنی سند کے ساتھ ان سے مرفوع ، مسند اور متصل روایت بیان نہیں کی ہوتی۔ ان کی روایات متابعات و شواہد میں ہوتی ہیں یا دوسرے راویوں کو ملا کر ذکر کی گئی ہوتی ہیں۔ ایسے راویوں پر جرح کر کے یا ان کو بدعتی قرار دے کر یہ باور کرانا کہ بخاری و مسلم میں ضعیف راوی موجود ہیں ، محض مغالطہ ہے۔
یہی صحیح روایات بخاری و مسلم سے پہلے دوسرے محدثین کرام نے اپنی کتابوں میں بھی درج کی ہوتی ہیں ، اس کے باوجود حملہ بخاری و مسلم پر ہوتا ہے۔ کیوں ؟
جناب سرفراز خان صفدر دیوبندی صاحب منکرین حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :
”یہ بے چارے اصولِ حدیث میں بالکل کورے ہیں۔ محمد بن خازم بخاری اور مسلم کے مرکزی راوی ہیں۔ اصولِ حدیث کی رُو سے ثقہ راوی کا خارجی یا جہمی ، معتزلی یا مرجی ، وغیرہ ہونا اس کی ثقاہت پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا اور صحیحین میں ایسے راوی بکثرت ہیں۔”
(احسن الکلام از صفدر ، حصہ اول : ص ٣١)
صحیح بخاری و مسلم میں بدعتی راویوں کے بارے میں چند اصولی باتیں یاد رکھنی چاہئیں:
1 صحیحین میں بدعت ِ کبریٰ ، یعنی بدعت ِ مکفرہ کے مرتکب راوی کی کوئی روایت موجود نہیں۔
2 صحیحین میں ثقہ و صدوق بدعتی راویوں کی روایات موجود ہیں۔ ایسے راویوں کی روایات میں کوئی مضرت نہیں۔
3 صحیحین میں ایسے ثقہ و صدوق بدعتی راویوں کی روایات موجود ہیں جو بدعت کے داعی تھے۔ یہ چیز بھی چنداں مُضر نہیں۔
4 صحیحین میں ایسے ثقہ و صدوق راوی بھی ہیں جن پر بدعتی ہونے کا محض الزام ہے۔
5 صحیحین میں ایسے ثقہ و صدوق راوی بھی موجود ہیں جن پر کسی بدعتی کی تعریف کی بنا پر وہی الزام تھوپ دیا گیا۔
6 صحیحین میں ایسے ثقہ و صدوق راوی بھی ہیں جو پہلے بدعتی تھے لیکن بعد میں انہوںنے اپنی بدعت سے رجوع کر لیا تھا۔
7 یہ بھی ممکن ہے کہ صحیح بخاری میں موجود روایت بدعتی راوی نے اپنی بدعت کو اختیار کرنے سے پہلے بیان کر دی ہو۔
8 صحیح بخاری و مسلم میں ایسے ثقہ و صدوق راوی بھی موجود ہیں جن کی روایات بظاہر ان کی بدعت کو تقویت دیتی ہیں۔ یہ چیز بھی مُضر نہیںکیونکہ صدق و عدالت سے موصوف ثقہ و صدوق راوی کسی صحیح حدیث میں غلط تاویل کر سکتا ہے۔ جب وہ خود سچا اور عادل ہے تو اس کی غلط تاویل سے صحیح حدیث میں کوئی خرابی نہیں آئے گی۔ اس کی روایت قبول کرنے میں کوئی مانع اور حرج نہیں۔
nnnnnnn
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا !
1 سیدنا عبد اللہ بن عمروw بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمeجب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : أَعُوذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیمِ ، وَبِوَجْہِہِ الْکَرِیمِ ، وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیمِ ، مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔ ”میں شیطان مردود کے شر سے بہت عظیم اللہ ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں۔”
نیز آپeفرماتے تھے کہ جب کوئی یہ دُعا پڑھ لے تو شیطان کہتا ہے :
حُفِظَ منّی سائر الیوم ۔ ”یہ سارا دن مجھ سے محفوظ کر لیا گیا ہے۔”
(سنن ابی داو،د : ٤٦٦، وسندہ، صحیحٌ)
2 سیدنا ابوہریرہtسے روایت ہے کہ رسول اللہeنے فرمایا : ”جو کوئی مسجد میں داخل ہو ، وہ نبی(e) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے : اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِی أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ۔ ”اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔”
اور جو کوئی مسجد سے نکلے ، وہ نبی(e) پر سلام بھیجے اور یہ دُعا پڑھے :
اَللّٰہُمَّ اعْصِمْنِی مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔ ”اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھنا۔”(سنن ابن ماجہ : ٧٧٣، وسندہ، صحیحٌ)
نوٹ : یہ دعائیں پڑھنے سے پہلے رسول اللہeپر سلام ان الفاظ سے پڑھنا چاہیے :

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.