296

آثار نبویہ سے حصول تبرک، غلام مصطفی ظہیر امن پوری

آثار ِنبویہ سے حصولِ تبرک نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی مشروع تعظیم ہے اور آپ کے ساتھ اظہارِ محبت ہے۔صحابہ کرام] آپصلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اور بعد از وفات ان سے تبرک حاصل کرتے تھے۔صحابہ کرام کی اقتدا و پیروی میںتابعین عظام اور تبع تابعین اعلام بھی آثارِ نبویہ سے تبرک حاصل کیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ جن آثار سے اور جس طریقے سے حصولِ تبرک خیر القرون میں تھا،ویسے ہی تبرک کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔سلف صالحین کی پیروی در اصل حق کی پیروی ہے جو کہ نجات ِاخروی کی ضمانت ہے۔اسلاف کی مخالفت در حقیقت حق کی مخالفت ہے۔سلف صالحین بہترین امت تھے۔ان کے دور کو خیر القرون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔یہ سند انہیں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک فرمان:’خیر القرون قرنی‘ کے تحت عطا فرمائی تھی۔ان کے منہج کو سبیل المومنین اور سبیل حق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ان کا اتفاقی فہم اجماع کہلاتا ہے،جس پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور اس کا اتباع واجب اور مخالفت حرام ہے۔ان کے منہج و عقیدہ اور اجماع کے ماننے والوں کو اہل سنت والجماعت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
سلف صالحین ائمہ اہل سنت کا مذہب ہی اسلم،اعلم اور احکم ہے،کیونکہ وہ ورع و تقویٰ اور علم و فضل میں فائق تھے۔وہ تکلف کے نام سے بھی ناواقف تھے،اس لیے ان کے استنباط و اجتہاد سب پر مقدم ہیں۔وہ سب سے بڑھ کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنے والے تھے،وہ سب سے بڑھ کر محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب رکھتے تھے،وہ سب سے بڑھ کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور ادائوں کو اپنانے والے تھے،وہ اتباع سنت پر حریص تھے۔
سلف صالحین ہمارے اکابر ہیں اور امت میں خیر و برکت اور علم و فضل انہیں کے سبب ہے۔وہ دیانت اور روایت میں اس قدر موثوق بہم ہیں کہ معیار حق کا درجہ رکھتے ہیں۔ہر گمراہی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ ان کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں شدید تر تھے،اس لیے شریعت کے معانی و حقائق ان پر کھول دیئے گئے تھے۔ذیل کی سطور میں صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام کی طرف سے آثار ِنبویہ سے حصولِ تبرک کے چند نمونے پیشِ خدمت ہیں:
جسدِ اقدس سے تبرک :
سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہکا بیان ہے کہ ایک دیہاتی صحابی، سیدنا زاہررضی اللہ عنہنبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف لایا کرتے تھے۔جب وہ واپس جانے لگتے، تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں سامان عنایت فرما دیتے۔ایک دن آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہمزید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ان سے بڑی محبت کیا کرتے تھے،وہ اتنے خوش شکل نہیں تھے۔
فَأَتَاہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا، وَہُوَ یَبِیعُ مَتَاعَہٗ، فَاحْتَضَنَہٗ مِنْ خَلْفِہٖ وَہُوَ لَا یُبْصِرُہٗ، فَقَالَ : مَنْ ہٰذَا؟ أَرْسِلْنِي، فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ لَا یَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَہْرَہٗ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ عَرَفَہٗ ۔
’’ایک دن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔وہ اس وقت بازار میں سامان بیچ رہے تھے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے سے اس طرح بغل گیر ہوئے کہ وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔انہوں نے کہا:کون ہے؟مجھے چھوڑ دو۔پھرجب انہوں نے مڑکر دیکھا کہ آپ ہیں تو(عقیدت و محبت کے ساتھ)اپنی پیٹھ کو آپ کے سینۂ اقدس سے (تبرک کے لیے)مَلنا شروع کر دیا۔‘‘
(الشمائل المحمدیّۃ للترمذي :240، مسند الإمام أحمد : 161/3، مسند أبي یعلٰی : 3454، وسندہٗ صحیحٌ)
امام ابن حبانرحمہ اللہ(5790)نے اس حدیث کو ’’صحیح‘‘کہا ہے۔
حافظ ابن کثیررحمہ اللہفرماتے ہیں:
وَہٰذَا إِسْنَادٌ؛ رِجَالُہٗ کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ ۔
’’اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں۔‘‘(البدایۃ والنہایۃ : 53/6)
حافظ ابن حجررحمہ اللہنے اسے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
(الإصابۃ في تمییز الصحابۃ : 452/2)
وضو والے پانی سے تبرک :
1 سیدنا ابو جحیفہرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں:
خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْہَاجِرَۃِ، فَأُتِيَ بِوَضُوئٍ، فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِہٖ، فَیَتَمَسَّحُونَ بِہٖ، فَصَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ، وَبَیْنَ یَدَیْہِ عَنَزَۃٌ، وَقَالَ أَبُو مُوسٰی : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِیہِ مَائٌ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَوَجْہَہٗ فِیہِ، وَمَجَّ فِیہِ، ثُمَّ قَالَ لَہُمَا : ’اشْرَبَا مِنْہُ، وَأَفْرِغَا عَلٰی وُجُوہِکُمَا وَنُحُورِکُمَا‘ ۔
’’ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔آپ کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا،جس سے آپصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔لوگ آپ کے وضو کا بچا پانی لے کر اپنے بدنوں پر مَلنے لگے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر وعصر کی دو دو رکعتیں ادا فرمائیں۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ بھی تھا۔سیدنا ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا۔اس سے آپ نے اپنے مبارک ہاتھ دھوئے اوراسی پیالے میں منہ دھویا اور کلی فرمائی۔پھر فرمایا: تم لوگ اس پانی کو پی لو،نیز اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔‘‘
(صحیح البخاري : 187، 188، صحیح مسلم : 503)
2 سیدنا ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں:
کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ نَازِلٌ بِالْجِعِرَّانَۃِ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ، وَمَعَہٗ بِلاَلٌ، فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ : أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَّنِي ؟ فَقَالَ لَہٗ : ’أَبْشِرْ‘، فَقَالَ : قَدْ أَکْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ، فَأَقْبَلَ عَلٰی أَبِي مُوسٰی وَبِلاَلٍ کَہَیْئَۃِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ : رَدَّ الْبُشْرٰی، فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا، قَالاَ : قَبِلْنَا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِیہِ مَائٌ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَوَجْہَہٗ فِیہِ وَمَجَّ فِیہِ، ثُمَّ قَالَ : ’اشْرَبَا مِنْہُ، وَأَفْرِغَا عَلٰی وُجُوہِکُمَا وَنُحُورِکُمَا وَأَبْشِرَا‘، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ مِنْ وَّرَائِ السِّتْرِ : أَنْ أَفْضِلاَ لِأُمِّکُمَا، فَأَفْضَلاَ لَہَا مِنْہُ طَائِفَۃً ۔
’’میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔سیدنا بلالرضی اللہ عنہبھی آپ کے ہمراہ تھے۔نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی شخص آیا اور کہنے لگا : کیا آپ میرے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کریں گے؟آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش خبری لو۔اس نے کہا : آپ مجھے بہت زیادہ خوش خبریاں دے چکے ہیں۔نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا بلالرضی اللہ عنھما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اس نے خوش خبری واپس کر دی ہے،آپ دونوں اسے قبول کر لیں۔ہم نے عرض کیا : ہم نے قبول کر لی ہے۔پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پانی والا پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے ہاتھوں اور چہرۂ مبارک کو دھویا،نیز اس میں کُلی فرمائی۔پھر فرمایا : آپ دونوں اس پانی کو پییں،اپنے چہروں اور سینوں پر بہائیں اور خوش ہو جائیں۔دونوں نے پیالہ پکڑا اور ویسا ہی کیا۔اسی اثنا میں پردے کے پیچھے سے سیدہ امِ سلمہرضی اللہ عنہا نے پکار کر کہا : اپنی ماں کے لیے بھی یہ پانی بچانا،چنانچہ انہوں نے کچھ پانی بچا لیا۔‘‘
(صحیح البخاري : 4328، صحیح مسلم : 2497)
3 سیدنا ابو جحیفہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّۃٍ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَیْتُ بِلاَلًا أَخَذَ وَضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَأَیْتُ النَّاسَ یَبْتَدِرُونَ ذَاکَ الْوَضُوئَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْہُ شَیْئًا؛ تَمَسَّحَ بِہٖ، وَمَنْ لَّمْ یُصِبْ مِنْہُ شَیْئًا؛ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ یَدِ صَاحِبِہٖ ۔
’’میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ سیدنا بلالرضی اللہ عنہآپ کو وضو کروا رہے تھے۔وہاں موجود ہر صحابی،نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے وضو والا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مَل لیتااور اگر کوئی پانی نہ حاصل کر پاتاتو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کر لیتا۔‘‘
(صحیح البخاري : 376، صحیح مسلم : 503)
دستِ مبارک سے تبرک :
1 سیدنا ابو جحیفہرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں:
خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْہَاجِرَۃِ إِلَی الْبَطْحَائِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ، وَبَیْنَ یَدَیْہِ عَنَزَۃٌ، قَالَ شُعْبَۃُ : وَزَادَ فِیہِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِیہِ أَبِي جُحَیْفَۃَ، قَالَ : کَانَ یَمُرُّ مِنْ وَّرَائِہَا الْمَرْأَۃُ، وَقَامَ النَّاسُ، فَجَعَلُوا یَأْخُذُونَ یَدَیْہِ، فَیَمْسَحُونَ بِہَا وُجُوہَہُمْ، قَالَ : فَأَخَذْتُ بِیَدِہٖ، فَوَضَعْتُہَا عَلٰی وَجْہِي، فَإِذَا ہِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْیَبُ رَائِحَۃً مِّنَ الْمِسْکِ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادے سے نکلے۔بطحا نامی جگہ پر پہنچ کر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر و عصر کی نماز دو دو رکعت ادا کی۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ(بطورِ سترہ)گڑا ہوا تھا۔عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے اس روایت میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ سیدنا ابو جحیفہرضی اللہ عنہنے کہا : اس نیزہ کے آگے سے عورت گزر رہی تھی۔پھر صحابہ کرام آپصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے مبارک ہاتھ کو تھا م کر اپنے چہروں پر مَلنے لگے۔سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہکہتے ہیں:میں نے بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِمبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبو دار تھا۔‘‘
(صحیح البخاري : 3553)
2 سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں:
کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْغَدَاۃَ؛ جَائَ خَدَمُ الْمَدِینَۃِ بِآنِیَتِہِمْ فِیہَا الْمَائُ، فَمَا یُؤْتٰی بِإِنَائٍ إِلَّا غَمَسَ یَدَہٗ فِیہَا، فَرُبَّمَا جَاء ُوہُ فِي الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ، فَیَغْمِسُ یَدَہٗ فِیہَا ۔
’’رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ِفجر ادا فرما لیتے،تو مدینہ منورہ کے خادم برتن لے کر آتے،جن میں پانی ہوتا تھا۔وہ جو بھی برتن لاتے،آپصلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا دست ِ مبارک ڈبو دیتے تھے۔بسا اوقات تو وہ موسمِ سرما میں صبح کے وقت آپ کے پاس آ جاتے تھے توآپصلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیا کرتے تھے۔‘‘
(صحیح مسلم : 2324)
3 ذیال بن عبید بن حنظلہرحمہ اللہ،صحابی ٔ رسول،سیدنا حنظلہرضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے والد ِگرامی نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سے ان(سیدنا حنظلہرضی اللہ عنہ) کے لیے دُعا کی درخواست کی۔
قَالَ حَنْظَلَۃُ : فَدَنَا بِي إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنَّ لِي بَنِینَ ذَوِي لِحًی، وَدُونَ ذٰلِکَ، وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُہُمْ، فَادْعُ اللّٰہَ لَہٗ، فَمَسَحَ رَأْسَہٗ، وَقَالَ : بَارَکَ اللّٰہُ فِیکَ، أَوْ بُورِکَ فِیہِ، قَالَ ذَیَّالٌ : فَلَقَدْ رَأَیْتُ حَنْظَلَۃَ یُؤْتٰی بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْہُہٗ، أَوِ بِالْبَہِیمَۃِ الْوَارِمَۃِ الضَّرْعُ، فَیَتْفُلُ عَلٰی یَدَیْہِ، وَیَقُولُ : بِسْمِ اللّٰہِ، وَیَضَعُ یَدَہٗ عَلٰی رَأْسِہٖ، وَیَقُولُ عَلٰی مَوْضِعِ کَفِّ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَیَمْسَحُہٗ عَلَیْہِ، وَقَالَ ذَیَّالٌ : فَیَذْہَبُ الْوَرَمُ ۔
’’سیدنا حنظلہرضی اللہ عنہکہتے ہیں :پھر وہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور عرض کیا:میرے کچھ بیٹے جوان اور کچھ کم عمر ہیں۔یہ ان میں سب سے چھوٹا ہے۔ آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کر دیجیے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ مبارک پھیر کر فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ذیال کہتے ہیں: میںنے دیکھا کہ سیدنا حنظلہ بن خزیمرضی اللہ عنہکے پاس کوئی ورم آلود چہرے والا آدمی لایا جاتا یا ورم آلود تھنوں والا کوئی جانور،تو وہ اپنے ہاتھوں پر اپنا لعاب لگاتے اور بسم اللہ کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی کی جگہ کو اس پر پھیرتے۔اس سے ورم ختم ہو جاتا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 68/5، دلائل النبوۃ للبیہقي : 214/6، وسندہٗ صحیحٌ)
4 سیدنا ابو زید انصاریرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے قریب کر کے اپنا مبارک ہاتھ ان کے سر اور ڈاڑھی پر پھیرا،پھر یہ دُعا کی:
’اَللّٰہُمَّ جَمِّلْہُ، وَأَدِمْ جَمَالَہٗ‘ ۔
’’الٰہی! انہیں خوبصورتی عطا فرما اور ان کے حسن و جمال کو دوام بخش دے۔‘‘
راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے 100سال سے زائد عمر پائی،مگر اس وقت بھی ان کے سر اور ڈاڑھی کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔ان کا چہرہ صاف اور روشن رہا اور تادمِ آخر ایک ذرہ برابر شکن بھی چہرے پر نمودار نہیں ہوئی تھی۔
(مسند الإمام أحمد : 77/5، دلائل النبوّۃ للبیہقيّ : 211/6، وقال : ہٰذا إسناد صحیحٌ موصولٌ، وسندہٗ صحیحٌ لہٗ طرقٌ حسنۃٌ)
5 سیدنا سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ذَہَبَتْ بِي خَالَتِي إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَکَۃِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَّضُوئِہٖ، وَقُمْتُ خَلْفَ ظَہْرِہٖ، فَنَظَرْتُ إِلٰی خَاتَمِ النُّبُوَّۃِ بَیْنَ کَتِفَیْہِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَۃِ ۔
’’میری خالہ مجھے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور گزارش کی:اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ مبارک پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی۔پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا،تو میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا۔ بعد ازاں میں آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہر نبوت دیکھی۔‘‘
(صحیح البخاري : 5670، صحیح مسلم : 2345)
6 ام المومنین،سیدہ عائشہرضی اللہ عنہاسے روایت ہے:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکٰی؛ یَقْرَأُ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَیَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُہٗ؛ کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ وَأَمْسَحُ بِیَدِہٖ رَجَائَ بَرَکَتِہَا ۔
’’رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔جب (مرض الموت میں)آپصلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی، تومیں معوذات پڑھ کر آپصلی اللہ علیہ وسلم پر پھونکتی اوربرکت کی خاطر آپصلی اللہ علیہ وسلم ہی کا دست مبارک آپ کے جسم اطہر پر پھیرتی۔‘‘(صحیح البخاري : 5016، صحیح مسلم : 2192)
توشہ دان میں کھجوروں کا ذخیرہ اور تبرک :
سیدنا ابو ہریرہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَتَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ادْعُ اللّٰہَ فِیہِنَّ بِالْبَرَکَۃِ، فَضَمَّہُنَّ، ثُمَّ دَعَا لِي فِیہِنَّ بِالْبَرَکَۃِ، فَقَالَ لِي : ’خُذْہُنَّ وَاجْعَلْہُنَّ فِي مِزْوَدِکَ ہٰذَا، أَوْ فِي ہٰذَا الْمِزْوَدِ، کُلَّمَا أَرَدْتَّ أَنْ تَأْخُذَ مِنْہُ شَیْئًا؛ فَأَدْخِلْ یَدَکَ فِیہِ، فَخُذْہُ وَلَا تَنْثُرْہُ نَثْرًا‘، فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذٰلِکَ التَّمْرِ کَذَا وَکَذَا مِنْ وَّسْقٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ، فَکُنَّا نَأْکُلُ مِنْہُ وَنُطْعِمُ، وَکَانَ لَا یُفَارِقُ حِقْوِي، حَتّٰی کَانَ یَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ؛ فَإِنَّہُ انْقَطَعَ ۔
’’میں کچھ کھجوریں لے کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کے لیے دعا کیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اکٹھا کر کے میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی اور فرمایا:انہیں لے لیجیے اور اپنے اس توشہ دان میں رکھ لیجیے۔جب بھی ان میں سے کچھ لینا چاہیں،تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لیجیے گا،انہیں مکمل طور پر باہر نہ نکالیے گا۔سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں نے ان میں سے کتنے ہی وسق(ایک وسق تقریباً 126کلوگرام کا ہوتا ہے) کھجور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیں۔ہم خود اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے اور یہ توشہ دان میری کمر سے الگ نہیں ہوتا تھا، حتی کہ سیدنا عثمانرضی اللہ عنہکی شہادت کے دن وہ ٹوٹ کر گر گیا۔‘‘
(سنن الترمذي : 3839، وقال : ہٰذا حدیثٌ حسنٌ غریبٌ، مسند الإمام أحمد : 352/2، دلائل النبوّۃ للبیہقي : 110/6، وصحّحہ ابن حبّان : 6532، وسندہٗ حسنٌ)
تنبیہ :
اس سلسلے میں ایک روایت ان الفاظ سے بھی مروی ہے :
’’سیدنا ابو ہریرہرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں سینکڑوں کی تعداد میں صحابہ کرام موجود تھے،جن کے کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔اس وقت میرے ہاتھ میں ایک توشہ دان تھا،جس میں چند کھجوریں تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر میں نے عرض کیا: میرے پاس کچھ کھجوریں ہیں۔ فرمایا: لے آئو۔میں وہ توشہ دان لے کر حاضر خدمت ہو گیا اور کھجوریں گنتی کیں تو وہ کل اکیس(تاریخ دمشق کی روایت کے مطابق سات)کھجوریں تھیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس توشہ دان پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا:
دس آدمیوں کو بلائو،میں دس کو بلا لایا۔انہوں نے کھائیں اور خوب سیر ہو کر چلے گئے۔
اسی طرح اگلے دس آدمیوں نے بھی خوب سیر ہو کر کھجوریں کھائیں۔یہاں تک کہ سارے لشکر نے کھجوریں کھا لیں۔پھر بھی کچھ کھجوریں میرے پاس توشہ دان میں باقی بچ گئیں۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابو ہریرہ!جب تم اس توشہ دان سے کھجوریں نکالنا چاہو،توہاتھ ڈال کر اس سے نکال لینا،لیکن توشہ دان مت انڈیلنا۔
سیدنا ابو ہریرہرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے کھجوریں کھاتا رہا۔پھر سیدنا ابوبکر صدیقرضی اللہ عنہکے دور اور بعد میں سیدنا عمر فاروقرضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی کھجوریں کھاتارہا،حتی کہ سیدنا عثمانرضی اللہ عنہکے پورے عہد خلافت تک وہ کھجوریں میرے استعمال میں رہیں۔جب سیدنا عثمانرضی اللہ عنہشہید ہو گئے تو میرا سارا مال و متاع گھر سے چوری ہو گیا،جس میں توشہ دان بھی شامل تھا۔میں تمہیں کیا بتائوں کہ میں نے اس سے کتنی کھجوریں کھائی ہوں گی،کم و بیش دو وسق(252کلوگرام)سے زیادہ۔‘‘
(دلائل النبوّۃ للبیہقي : 110/6، 111، تاریخ دمشق لابن عساکر : 189/40)
لیکن اس روایت کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ ابو سفور ازدی نامی راوی کے حالات ِزندگی نہیں مل سکے۔اس کی دوسری سند بھی ’’ضعیف‘‘ ہے،کیونکہ اس میں سہل بن زیاد نامی راوی کی توثیق نہیں مل سکی۔یوں یہ دونوں طریق سنداً ’’ضعیف‘‘ہیں۔
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک سے تبرک :
1 سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اونٹنی کی سست رفتاری کی شکایت کی۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک پائوں سے اس اونٹنی کو ٹھوکر لگائی۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہکا بیان ہے:
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ، لَقَدْ رَأَیْتُہَا تَسْبِقُ الْقَائِدَ ۔
’’اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،میں نے دیکھا کہ اس کے بعد ایسی تیز ہو گئی کہ کسی کو آگے نہیں نکلنے دیتی تھی۔‘‘
(صحیح مسلم : 1424، مختصراً، السنن الکبرٰی للبیہقي : 235/7، وصحّحہ أبوعوانۃ (4145)، و أخرجہ الحاکم (173/2)، وقال : ہٰذا حدیثٌ صحیحٌ علی شرط الشیخین، ووافقہ الذہبيّ)
2 نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم کی برکت سے سیدنا جابررضی اللہ عنہکا اونٹ بھی تیز ہو گیاتھا،چنانچہ حدیث میں ہے:
فَضَرَبَہٗ بِرِجْلِہٖ، وَدَعَا لَہٗ، فَسَارَ سَیْرًا لَّمْ یَسِرْ مِثْلَہٗ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پائوں مبارک سے ٹھوکر مار کر اس کے لیے دُعا فرمائی: وہ یکدم ایسا تیز ہو گیا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 299/3، صحیح مسلم : 715)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابررضی اللہ عنہسے فرمایا:آپ کے اونٹ کا کیا حال ہے؟ عرض کیا:
بِخَیْرٍ، قَدْ أَصَابَتْہٗ بَرَکَتُکَ ۔
’’بہتر ہے۔اسے آپ کی برکت حاصل ہوئی ہے۔‘‘
(صحیح البخاري : 2967، صحیح مسلم : 715)
تنبیہ بلیغ :
سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا مَشٰی عَلَی الصَّخْرِ غَاصَتْ قَدَمَاہٗ فِیْہِ وَ أَثَّرَتْ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم جب پتھریلی زمین پر چلتے، توآپصلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں مبارک اس میں دھنس جاتے اور وہاں نشان پڑ جاتے۔‘‘
(تبرک کی شرعی حیثیت از ڈاکٹر طاہر القادری،ص : 76)
یہ جھوٹی اور خودساختہ روایت ہے، علامہ محمد عبدالرئوف مناویرحمہ اللہ(952۔1030ھ) لکھتے ہیں:
وَلَمْ أَقِفْ لَہٗ عَلٰی أَصْلٍ ۔
’’مجھے اس کی کوئی اصل (سند)نہیں مل سکی۔‘‘
(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر من أحادیث البشیر النذیر : 91/5)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بالوں سے تبرک :
1 سیدناانس بن مالکرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ رَأْسَہٗ؛ کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعْرِہٖ ۔
’’جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک منڈواتے، تو سیدنا ابوطلحہرضی اللہ عنہوہ پہلے شخص ہوتے،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال حاصل کرتے۔‘‘(صحیح البخاري : 171)
2 سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتٰی مِنًی، فَأَتَی الْجَمْرَۃَ فَرَمَاہَا، ثُمَّ أَتٰی مَنْزِلَہٗ بِمِنًی وَّنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ : ’خُذْ‘، وَأَشَارَ إِلٰی جَانِبِہِ الْـأَیْمَنِ، ثُمَّ الْـأَیْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ یُعْطِیہِ النَّاسَ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم جب منیٰ میں تشریف لائے، تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور وہاں کنکریاں ماریں۔پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے،وہاں قربانی کی۔ حجام سے سر مونڈھنے کو کہا اور اس کو دائیں جانب سے شروع کرنے کا اشارہ فرمایا،پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا،بعد میں بال مبارک لوگوں کو عطا فرما دئیے۔‘‘
(صحیح مسلم : 1305)
صحیح مسلم(1305) ہی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہرضی اللہ عنہکو بال مبارک عطا فرمائے اور حکم فرمایا:
’اقْسِمْہُ بَیْنَ النَّاسِ‘ ۔
’’یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیجیے۔‘‘
3 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں:
رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ یَحْلِقُہٗ، وَأَطَافَ بِہٖ أَصْحَابُہٗ، فَمَا یُرِیدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَۃٌ إِلَّا فِي یَدِ رَجُلٍ ۔
’’میں نے دیکھا کہ حجام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک مونڈ رہا تھا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ارد گرد موجود تھے اور ان کی خواہش تھی کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کا ہر بال(زمین پر گرنے کی بجائے)ان میں سے کسی کے ہاتھ پر گرے۔‘‘(صحیح مسلم : 2325)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناخنوں سے تبرک :
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہٖ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
فَحَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہٗ فِي ثَوْبِہٖ، فَأَعْطَاہُ، فَقَسَمَ مِنْہُ عَلٰی رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَہٗ، فَأَعْطَاہُ صَاحِبَہٗ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال مبارک منڈوا کر ایک کپڑے میں رکھ لیے اور وہ ایک قرشی آدمی کو عنایت کر دئیے۔اس میں سے چند بال کچھ لوگوں کو عطا فرمائے،پھر اپنے مبارک ناخن تراش کر اس کے ساتھی کو عنایت کر دئیے۔‘‘
(مسندالإمام أحمد : 42/4، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہرحمہ اللہ(2932)امام ابو عوانہرحمہ اللہ(3248)نے ’’صحیح‘‘، جبکہ امام حاکمرحمہ اللہ(648/1)نے امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ’’صحیح‘‘ قرار دیاہے۔حافظ ذہبیرحمہ اللہنے ان کی موافقت کی ہے۔
b حافظ ہیثمیرحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَ رِجَالُہٗ رِجَالُ الصَّحِیْحِ ۔
’’اسے امام احمدرحمہ اللہنے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح بخاری کے ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد : 19/4)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لعابِِ دہن سے تبرک :
1 سیدہ اسما بنت ِابو بکررضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں:
إِنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ، فَنَزَلْتُ قُبَائً، فَوَلَدْتُّ بِقُبَائٍ، ثُمَّ أَتَیْتُ بِہٖ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُہُ فِي حَجْرِہٖ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ، فَمَضَغَہَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِیہِ، فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ دَخَلَ جَوْفَہٗ؛ رِیقُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَنَّکَہٗ بِالتَّمْرَۃِ، ثُمَّ دَعَا لَہٗ، فَبَرَّکَ عَلَیْہِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلاَمِ ۔
’’عبداللہ بن زبیرمکہ مکرمہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ہجرت کے موقع پر وقت ِ ولادت قریب تھا۔مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے سب سے پہلا پڑائو قبا میں ڈالا۔ یہیں عبداللہ بن زبیر کی ولادت ہوئی۔میں بچے کو لے کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئی اور اسے آپصلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور بچے کے منہ میں اپنا لعاب ِدہن ڈال دیا۔چنانچہ اس بچے کے پیٹ میں جانے والی سب سے پہلی چیز نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ’گڑھتی‘ دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔یہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔‘‘
(صحیح البخاري : 5469، صحیح مسلم : 2146)
2 سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ذَہَبْتُ بِعْبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِي طَلْحَۃَ الْـأَنْصَارِيِّ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي عَبَائَۃٍ یَّہْنَأُ بَعِیرًا لَّہٗ، فَقَالَ : ’ہَلْ مَعَکَ تَمْرٌ؟‘، فَقُلْتُ : نَعَمْ، فَنَاوَلْتُہُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاہُنَّ فِي فِیہِ، فَلَاکَہُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّہٗ فِي فِیہِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ یَتَلَمَّظُہٗ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’حُبُّ الْْأَنْصَارِ التَّمْرُ‘، وَسَمَّاہُ عَبْدَ اللّٰہِ ۔
’’جب عبداللہ بن ابو طلحہ انصاریرضی اللہ عنہپیدا ہوئے، تو میں انہیں لے کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر مبارک اوڑھے ہوئے اپنے اونٹ کی مالش کر رہے تھے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں! پھر میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ میں ڈال کر چبایا اور اس بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیا۔ بچہ انہیں چوسنے لگا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کھجور انصار کو مرغوب ہے۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔‘‘(صحیح مسلم : 2144)
صحابہ کی محبت ِرسول کا اندازہ لگائیں کہ جب انہیں اولاد کی نعمت نصیب ہوتی،تووہ اپنے بچوں کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سیگھٹی دلواتے۔یہ معاملہ آپ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ خاص ہے،کیونکہ تبرک آپصلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ سے تبرک :
1 سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
دَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَائَتْ أُمِّي بِقَارُورَۃٍ، فَجَعَلَتْ تَّسْلِتُ الْعَرَقَ فِیہَا، فَاسْتَیْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، مَا ہٰذَا الَّذِي تَصْنَعِینَ؟ قَالَتْ : ہٰذَا عَرَقُکَ، نَجْعَلُہٗ فِي طِیبِنَا، وَہُوَ مِنْ أَطْیَبِ الطِّیبِ ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ فرمایا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا،تومیری والدہ ایک شیشی لا کر پسینہ اس میں ڈالنے لگیں۔اتنے میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ام سلیم!یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟انہوں نے عرض کیا:یہ آپ کا پسینہ ہے،اسے ہم خوشبو میں ملائیں گے،کیونکہ یہ عمدہ ترین خوشبو ہے۔‘‘(صحیح مسلم : 2331/83)
2 سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں:
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ بَیْتَ أُمِّ سُلَیْمٍ، فَیَنَامُ عَلٰی فِرَاشِہَا، وَلَیْسَتْ فِیہِ، قَالَ : فَجَائَ ذَاتَ یَوْمٍ، فَنَامَ عَلٰی فِرَاشِہَا، فَأُتِیَتْ، فَقِیلَ لَہَا : ہٰذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَیْتِکِ، عَلٰی فِرَاشِکِ، قَالَ فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُہٗ عَلٰی قِطْعَۃِ أَدِیمٍ عَلَی الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِیدَتَہَا، فَجَعَلَتْ تُّنَشِّفُ ذٰلِکَ الْعَرَقَ، فَتَعْصِرُہٗ فِي قَوَارِیرِہَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعِینَ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ؟ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، نَرْجُو بَرَکَتَہٗ لِصِبْیَانِنَا، قَالَ : ’أَصَبْتِ‘ ۔
’’نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم سیدہ امِ سلیمرضی اللہ عنہاکے گھر میں تشریف لایا کرتے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے بستر پر سو جایا کرتے تھے۔ایک دن آپصلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور وہیں سو گئے۔سیدہ کو بتایا گیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر استراحت فرما ہیں،تو وہ آئیں اور دیکھا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ مبارک آیا ہوا ہے اور کچھ پسینہ چمڑے کے بستر پر ایک جگہ اکٹھا ہوا پڑا ہے۔ سیدہ ام سلیمرضی اللہ عنہاایک شیشی کھول کر وہ پسینہ اس میں بھرنے لگیں۔اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور دریافت فرمایا:ام سلیم!کیا کر رہی ہیں؟عرض کیا:اللہ کے رسول!ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے حق میں برکت کے خواہش مند ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے ٹھیک(سوچا) ہے۔‘‘
(صحیح مسلم : 2331/84)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے ملبوسات سے تبرک :
1 سیدہ ام عطیہرضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس وقت نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینبرضی اللہ عنہاکی وفات ہوئی، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ، إِنْ رَأَیْتُنَّ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي‘ ۔
’’انہیں تین یا پانچ یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زائد بار غسل دینا۔جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے مطلع کر دینا۔‘‘
ہم نے فارغ ہو کر آپصلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، توآپصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار ہمیں دیا اور فرمایا:
’أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ‘ ۔
’’اسے ان (زینبرضی اللہ عنہا)کے جسم کے ساتھ لگا دو۔‘‘
(صحیح البخاري : 1257، صحیح مسلم : 939)
2 سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ ایک خاتون نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہو کر چادر پیش کی۔ایک صحابی نے عرض کیا:اللہ کے رسول!یہ کتنی حسین چادر ہے؟مجھے عنایت فرمادیجیے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تو اس صحابی کے ساتھیوں نے انہیں ملامت کیا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔آپ کو معلوم تھا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، توآپ نے یہ چادر کیوں مانگی؟جواب میں صحابی رسول نے جواب دیا:
رَجَوْتُ بَرَکَتَہَا حِینَ لَبِسَہَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَعَلِّي أُکَفَّنُ فِیہَا ۔
’’جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیبِ تن فر ما لیا تھا، تو میں نے حصولِ برکت کی امید سے یہ حاصل کی تاکہ میں اسے اپنا کفن بنا سکوں۔‘‘(صحیح البخاري : 6036)
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
إِنِّي وَاللّٰہِ، مَا سَأَلْتُہٗ لِأَلْبَسَہٗ، إِنَّمَا سَأَلْتُہٗ لِتَکُونَ کَفَنِي، قَالَ سَہْلٌ : فَکَانَتْ کَفَنَہٗ ۔
اللہ کی قسم!میں نے یہ چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی۔میں نے تو(حصولِ تبرک کی غرض سے)اس لیے مانگی ہے تاکہ یہ مبارک چادر میرا کفن بنے۔سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ عنہکہتے ہیں: چنانچہ وہ مبارک چادر ان کا کفن ہی بنی۔‘‘
(صحیح البخاري : 1277)
قصیدہ بردہ کے بارے میں تنبیہ بلیغ :
محمد بن سعیدبوصیری(م : 696ھ)نے اپنے ایک خواب کی بنیاد پر قصیدہ بردہ (آپصلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک کی تعریف)لکھا تھا۔یہ بوصیری جھوٹا،بد عقیدہ اور بدمذہب تھا۔ اس کے بیان کردہ خواب کا کوئی اعتبار نہیں۔اس قصیدہ میں بعض اشعار شرکیہ اور کفریہ ہیں۔جو لوگ عقیدئہ محدثین سے بیزار ہیں،وہ بڑی چاہت و اہتمام کے ساتھ اسے پڑھتے اور سنتے ہیں۔
دیوبندیوں کے شیخ الاسلام،حسین احمد مدنی(م : 1377ھ)لکھتے ہیں:
’’انہی افعالِ خبیثہ واقوالِ واہیہ کی وجہ سے اہل عرب کو ان(محمد بن عبدالوہاب اور ان کے ساتھیوں)سے نفرت بے شمار ہے۔محمد بریلوی اور ان کے اتباع نے جب ان بزرگوارانِ دین کو وہابیت کی طرف منسوب کیا،توان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ حضرات(دیوبندی) بھی وہابیہ کے پورے موافق ہیں،مگر حقیقت الحال سے ان کو اطلاع ہی نہیں،ورنہ یہ لوگ بھی پوری طرح عقائد میں ان بزرگواروں کے موافق۔وہابیہ کثرت ِصلاۃ و سلام، درود ِخیر الانامرحمہ اللہاور قراء تِ دلائل الخیرات،قصیدہ بردہ و قصیدہ سمزہ(یہ دونوں بوصیری کے ہیں)وغیرہ اور اس کے پڑھنے اور اس کے استعمال کرنے و درود بنانے کو سخت قبیح و مکدر جانتے ہیں اور بعض اشعار کو قصیدہ بردہ میں شرک وغیرہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، مثلاً:
یَا أَشْرَفَ الْخَلْقِ مَا لِي مَنْ أَلُوْذُ بِہٖ سِوَاکَ عِنْدَ حَلُوْلِ حَوَادِثِ الْعَمَمٖ
اے افضل مخلوقات، میرا کوئی نہیں جس کی پناہ پکڑوں،بجز تیرے بروقت نزولِ حوادث۔۔۔
حالانکہ ہمارے مقدس بزرگان دین اپنے متعلقین کو دلائل الخیرات وغیرہ کی سند دیتے ہیں اور ان کو کثرت ِدرود و سلام و تحزیب و قراء ت ِدلائل وغیرہ کا امر فرماتے رہے ہیں۔ہزاروں کو مولانا گنگوہی، مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہما نے اجازت فرمائی اور مدتوں خود بھی پڑھتے رہے ہیں اور مولانا نانوتوی مثل شعر بردہ پڑھتے تھے:
مدد کر اے کرمِ احمدی کہ تیرے سوا نہیں ہے قاسم بے کس کا کوئی حامی کار
جو تُو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا بنے گا کون ہمارا تیرے سوا غم خوار
حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحب مرحوم و مغفور دیوبندی نے فہم عوام کے واسطے قصیدہ بردہ کی اردو شرح فرمائی اور اس کو باعث ِسعادت خیال فرمایا۔غرض ہمیشہ بہ جملہ اکابرین(آل دیوبند)سب کی قرا ء ت وغیرہ کی اجازت دیتے رہے۔‘‘
(الشہاب الثاقب، ص : 245)
قارئین کرام!آپ اس دیوبندی عبارت کو بار بار پڑھیں اور ان کے عقیدئہ توحید کی اصلیت کو پہچانیں کہ اکابر دیوبند کے عقائد اور بریلوی عقائد دونوں سابقہ مشرکین سے ماخوذ ہیں۔ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
دیوبندی اکابر بھی مخلوق سے مدد مانگنا،مشکل میں غیراللہ کو پکارنا،نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کو فریاد رس سمجھنا جائز کہہ رہے ہیں۔ان کے عقیدہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد از وفات بھی بے کسوں اور بے بسوں کا حال جانتے ہیں۔نیز یہ لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ پکڑنے کو بھی سندِ جواز پیش کر رہے ہیں۔ساتھ ساتھ اہل بدعت کی شرک و کفر اور بدعات و خرافات پر مبنی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ایسے لوگوں کا محدثین عظام سے کیا واسطہ؟
یہ لوگ صفات ِباری تعالیٰ میں گمراہی کا شکار ہیں،ان کا کیا بنے گا؟
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصا سے تبرک :
سیدنا عبداللہ بن انیسرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
دَعَانِي رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنَّہٗ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ الْہُذَلِيَّ یَجْمَعُ لِيَ النَّاسَ لِیَغْزُوَنِي، وَہُوَ بِعُرَنَۃَ، فَأْتِہٖ، فَاقْتُلْہُ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، انْعَتْہُ لِي حَتّٰی أَعْرِفَہٗ، قَالَ : إِذَا رَأَیْتَہٗ وَجَدْتَّ لَہٗ اقْشَعْرِیَرَۃً، قَالَ : فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَیْفِي حَتّٰی وَقَعْتُ عَلَیْہِ، وَہُوَ بِعُرَنَۃَ مَعَ ظُعُنٍ یَّرْتَادُ لَہُنَّ مَنْزِلًا، وَحِینَ کَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَیْتُہٗ؛ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الِاقْشَعْرِیرَۃِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَہٗ، وَخَشِیتُ أَنْ یَّکُونَ بَیْنِي وَبَیْنَہٗ مُحَاوَلَۃٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاۃِ، فَصَلَّیْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَہٗ أُومِیُٔ بِرَأْسِي الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ، فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ؛ قَالَ : مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِّنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِکَ، وَبِجَمْعِکَ لِہٰذَا الرَّجُلِ، فَجَائَکَ لِہٰذَا، قَالَ : أَجَلْ، أَنَا فِي ذٰلِکَ، قَالَ : فَمَشَیْتُ مَعَہٗ شَیْئًا، حَتّٰی إِذَا أَمْکَنَنِي حَمَلْتُ عَلَیْہِ السَّیْفَ حَتّٰی قَتَلْتُہٗ، ثُمَّ خَرَجْتُ، وَتَرَکْتُ ظَعَائِنَہٗ مُکِبَّاتٍ عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَرَآنِي، فَقَالَ : ’أَفْلَحَ الْوَجْہُ‘، قَالَ : قُلْتُ : قَتَلْتُہٗ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ : ’صَدَقْتَ‘، قَالَ : ثُمَّ قَامَ مَعِيَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِي بَیْتَہٗ، فَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ : ’أَمْسِکْ ہٰذِہٖ عِنْدَکَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُنَیْسٍ‘، قَالَ : فَخَرَجْتُ بِہَا عَلَی النَّاسِ، فَقَالُوا : مَا ہٰذِہِ الْعَصَا؟ قَالَ : قُلْتُ : أَعْطَانِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَنِی أَنْ أُمْسِکَہَا، قَالُوا : أَوَلَا تَرْجِعُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَتَسْأَلَہٗ عَنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لِمَ أَعْطَیْتَنِي ہٰذِہِ الْعَصَا؟ قَالَ : ’آیَۃٌ بَیْنِي وَبَیْنَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ یَوْمَئِذٍ‘، قَالَ : فَقَرَنَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بِسَیْفِہٖ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَہٗ، حَتّٰی إِذَا مَاتَ؛ أَمَرَ بِہَا، فَصُبَّتْ مَعَہٗ فِي کَفَنِہٖ، ثُمَّ دُفِنَا جَمِیعًا ۔
’’ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا:مجھے معلوم ہوا ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہُذَلی میرے ساتھ جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے۔اس وقت وہ عرنہ میں ہے۔اس کے پاس جا کر اسے قتل کر آئیے۔میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!مجھے اس کی کوئی علامت بتا دیجیے تا کہ میں اسے پہچان سکوں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ اسے دیکھیں گے، تو اس کے جسم کے بال کھڑے ہوئے محسوس ہوں گے۔ میں اپنی تلوار لے کر نکل کھڑا ہوا۔عصر کے وقت جب کہ وہ بھی بطن عرنہ میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا،جو ان کے لیے سفر کو آسان بناتی تھیں،میں اس کے پاس پہنچ گیا۔جب میں نے اسے دیکھا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کردہ وصف اس میں پا لیا۔میں اس کی طرف چل پڑا ۔پھر میں نے سوچا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی، تو نمازِ عصر فوت نہ ہو جائے۔چنانچہ میں نے چلتے چلتے اشارہ سے رکوع اور سجدہ کر کے نماز ادا کرلی۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا: آپ کون ہو؟ میں نے کہا:میں عربی شخص ہوں،جس نے آپ کے بارے اور اس شخص(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )کے لیے لشکر جمع کرنے کے بارے میں سنا، تو آپ کے پاس آ گیا۔ اس نے کہا: بہت اچھا،میں اسی مقصد میں لگا ہوا ہوں۔میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر تک چلا اور جب اس پر قابو پا لیا، تو اس پر تلوار اٹھا لی،یہاں تک کہ اسے قتل کر ڈالا۔پھر میں وہاں سے نکلا اور اس کی عورتوں کو اس پر جھکا ہوا چھوڑ دیا۔جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے سچ کہا ہے۔پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ وہاں سے ایک عصا لاکر مجھے دیا اور فرمایا: عبداللہ بن انیس! اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھیے گا۔میں وہ لاٹھی لے کر نکلا، تو صحابہ کرام مجھے روک کر پوچھنے لگے:اس لاٹھی کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا کہ اسے سنبھال کر رکھوں۔وہ کہنے لگے : تم جا کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھو تو سہی۔چنانچہ میں نے واپس آکر آپصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ لاٹھی کس لیے عنایت فرمائی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان ایک علامت ہو گی اور اس دن بہت کم لوگوں کے پاس لاٹھی ہو گی۔
سیدنا عبداللہ بن انیس نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ لگالیا۔ پھر وہ ہمیشہ ان کے پاس رہی اور جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی وصیت کے مطابق وہ ان کے کفن میں رکھ دی گئی ۔ ہم نے ان کے ساتھ اس چھڑی کو بھی دفن کر دیا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 486/3، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہرحمہ اللہ (982)اور امام ابن حبانرحمہ اللہ(7160) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
(فتح الباري شرح صحیح البخاري : 437/2)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک مشکیزہ سے تبرک :
سیدنا انس بن مالکرضی اللہ عنہ اپنی والدہ ماجدہ، سیدہ امِ سلیم رضی اللہ عنہاکے بارے میں بیان کرتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰی أُمِّ سُلَیْمٍ، وَفِي الْبَیْتِ قِرْبَۃٌ مُّعَلَّقَۃٌ، فَشَرِبَ مِنْ فِیہَا وَہُوَ قَائِمٌ، قَالَ : فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ فَمَ الْقِرْبَۃِ، فَہُوَ عِنْدَنَا ۔
’’نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ،سیدہ امِ سلیمرضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے۔ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا ۔ سیدہ امِ سلیمرضی اللہ عنہانے(تبرکاً) مشکیزے کا منہ کاٹ لیا،جو کہ اب بھی ہمارے پاس موجود ہے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 431/6، شمائل الترمذي : 215، وصحّحہ ابن الجارود : 868، وسندہٗ حسنٌ)
فائدہ :
سنن ابن ماجہ(3423)میں یہ الفاظ ہیں:
تَبْتَغِي بَرَکَۃَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’سیدہ امِ سلیمرضی اللہ عنہا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے منہ لگانے والی جگہ سے برکت حاصل کرنا چاہتی تھیں۔‘‘
معجم کبیر طبرانی(15/25) میں یہ الفاظ ہیں:
أَلْتَمِسُ الْبَرَکَۃَ بِذٰلِکَ ۔
’’مجھے اس کے ذریعے برکت حاصل کرنے کی خواہش تھی۔‘‘
یہ دونوں الفاظ سفیان بن عیینہ کی ’’تدلیس‘‘کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہیں۔
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے عطا شدہ سونے سے تبرک :
سیدنا جابر بن عبداللہرضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ایک سست اونٹ پر سوار ہونے کی وجہ سے مَیں سب سے پیچھے رہتا تھا۔جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، تودریافت فرمایا: کون؟میں نے عرض کیا:جابر بن عبداللہ۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا بات ہے؟میں نے عرض کیا:میں ایک سست اونٹ پر سوار ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چھڑی طلب فرمائی۔میں نے چھڑی آپصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں پیش کی۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو مارا اور ڈانٹا۔نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے وہ اونٹ سب سے آگے بڑھ گیا۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اونٹ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی، تو میں عرض گزار ہوا:اللہ کے رسول!یہ آپ ہی کا ہے؟بلا معاوضہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے،مگر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے خریدنے پر اصرار کیا اور فرمایا:میں نے چار دینار کے عوض اسے خرید لیا ہے اور مجھے مدینہ منورہ تک اس پر سواری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔جب ہم مدینہ منورہ پہنچے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’یَا بِلاَلُ، اقْضِہٖ وَزِدْہُ‘ ۔
’’بلال!جابر کو اس کی قیمت ادا کرو اور کچھ اضافی بھی دے دو۔‘‘
سیدنا بلالرضی اللہ عنہنے سیدنا جابر بن عبداللہرضی اللہ عنھماکو چار دینار اور ایک قیراط سونا اضافی دے دیا۔
سیدنا جابر بن عبداللہرضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں:
’لاَ تُفَارِقُنِي زِیَادَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یَکُنِ الْقِیرَاطُ یُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ ۔
’’اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کا اضافی دیا ہوا ایک قیراط سونا مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوا۔
راوی کہتے ہیں:سیدنا جابر بن عبداللہرضی اللہ عنھماکو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کیا ہوا اضافی ایک قیراط سونا ہمیشہ ان کی تھیلی میں رہا،کبھی جدا نہیں ہوا۔‘‘
(صحیح البخاري : 2309، صحیح مسلم : 715)
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے بلغم سے تبرک :
سیدنا مِسْوَر بن مخرمہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
فَوَاللّٰہِ، مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُخَامَۃً؛ إِلَّا وَقَعَتْ فِي کَفِّ رَجُلٍ مِّنْہُمْ، فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہٗ وَجِلْدَہٗ ۔
’’اللہ کی قسم!رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی بلغم تھوکا،(زمین پر گرنے کے بجائے) صحابہ کرام میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر گرا۔انہوں نے اسے لے کر اپنے چہرے اور بدن پر مَل لیا۔‘‘(صحیح البخاري : 2731)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.