515

ابو طالب کا اسلام، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


اہل سنت والجماعت کا اتفاقی عقیدہ ہے کہ نبیٔ اکرم  کے چچا ابو طالب مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔اس موقف پر قرآن وحدیث کے دلائل شاہد ہیں ۔ ائمہ دین کی تصریحات اس پر مستزاد ہیں ۔ اس کے باوجود رافضی فرقہ ابو طالب کے اسلام پر مُصر ہے ۔ بعض شیعوں نے “ایمانِ ابی طالب ”کے عنوان سے کتابیں لکھ دی ہیں ۔ اسی طرح بعض نام نہاد اہل سنت نے بھی ایمانِ ابی طالب کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ عطاء محمد بندیالوی نامی ایک بریلوی نے “تحقیقِ ایمانِ ابی طالب” نامی رسالہ لکھا ہے ۔ اس پر “مفتی” محمد خان قادری بریلوی کی تقریظ ہے ۔
ہماری گزارش ہے کہ جو لوگ اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے سے منحرف ہوں اور ابو طالب کے کفر پر موجود صریح احادیث ِ رسول کو رافضیوں کی تقلید میں “خبرواحد” کہہ کر ٹھکرا رہے ہوں ، نیز ان فرامینِ رسول کو قرآن کے مخالف بھی قرار دینے کی سعیِ مذموم کر رہے ہوں ، انہیں “سنّی ” کہلوانے کا کیا حق ہے ؟
ایسے لوگوں کے بارے میں شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ(661- 728ھ) فرماتے ہیں :
۔ ۔ ۔ ۔ يَقُولُهُ الْجُهَّالُ مِنَ الرَّافِضَةِ وَنَحْوِهِمْ مِنْ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ آمَنَ وَيَحْتَجُّونَ بِمَا فِي “السِّيرَةِ ” مِنَ الْحَدِيثِ الضَّعِيفِ، وَفِيهِ أَنَّهُ تَكَلَّمَ بِكَلَامِ خَفِيٍّ وَقْتَ الْمَوْتِ، وَلَوْ أَنَّ الْعَبَّاسَ ذَكَرَ أَنَّهُ آمَنَ لَمَا كَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَمُّك الشَّيْخُ الضَّالُّ كَانَ يَنْفَعُك فَهَلْ نَفَعْته بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ: ((وَجَدْتُهُ فِي غَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ، فَشَفَعْت فِيهِ حَتَّى صَارَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ))، هَذَا بَاطِلٌ مُخَالِفٌ لِمَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ آخِرَ شَيْءٍ قَالَهُ: هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ الْعَبَّاسَ لَمْ يَشْهَدْ مَوْتَهُ مَعَ أَنَّ ذَلِكَ لَوْ صَحَّ لَكَانَ أَبُو طَالِبٍ أَحَقَّ بِالشُّهْرَةِ مِنْ حَمْزَةَ وَالْعَبَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعِلْمِ الْمُتَوَاتِرِ الْمُسْتَفِيضِ بَيْنَ الْأُمَّةِ خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ أَنَّهُ لَمْ يُذْكَرْ أَبُو طَالِبٍ ۔۔۔ فِي جُمْلَةِ مَنْ يُذْكَرُ مِنْ أَهْلِهِ الْمُؤْمِنِينَ كَحَمْزَةَ وَالْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، كَانَ هَذَا مِنْ أَبْيَنِ الْأَدِلَّةِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَذِبٌ .
“رافضی اور دیگر جاہل لوگ کہتے ہیں کہ ابو طالب ایمان لے آئے تھے۔اس سلسلے میں وہ کتب ِ سیرت میں مذکور ایک ضعیف حدیث سےدلیل لیتے ہیں ۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ ابو طالب نے موت کے وقت (ایمان کے بارے میں)مخفی کلام کی تھی ، لیکن اگر سیّدنا عباس نے ابو طالب کے ایمان کا ذکر کیا ہوتا تو وہ خود نبیٔ اکرم کو یہ بات نہ کہتے کہ آپ کا گمراہ چچا (اپنی زندگی میں)آپ کو نفع پہنچایا کرتا تھا ۔ کیا آپ نے بھی اسے کوئی فائدہ پہنچایا ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا : ((وَجَدْتُهُ فِي غَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ، فَشَفَعْت فِيهِ حَتَّى صَارَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ)) (میں نے انہیں آگ میں غوطے لیتے دیکھا تو ان کی سفارش کی حتی کہ وہ جہنم کے بالائی طبقہ میں آ گئے۔ اب اُن کے پاؤں میں آگ کے دو جُوتے ہیں جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھَول رہا ہے ۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوتے )۔ (دیکھیں صحیح البخاري : 6564، صحیح مسلم : 360،362)یعنی یہ بات صحیح بخاری وغیرہ میں مذکورہ قصے کے خلاف ہے ۔ ابو طالب نے آخری کلام یہ کی تھی کہ وہ عبد المطلب کے دین پر قائم ہیں ۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ عباس تو ابو طالب کی موت کے وقت موجود نہ تھے ۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو ابو طالب کے ایمان کی شہرت سیّدنا حمزہ اور سیّدنا عباس سے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ سلف سے خلف تک متواتر اور مشہور و معلوم بات ہے کہ ابو طالب — کا رسول اللہ کے ایمان لانے والے رشتہ داروں ، مثلاً سیّدنا حمزہ ، سیّدنا عباس ، سیدنا علی ، سیّدہ فاطمہ ، سیّدنا حسن اور سیدنا حسین میں ذکر نہیں کیا گیا ۔یہ اس بات کے جھوٹ ہونے پر واضح ترین دلیل ہے ۔ ”(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ : 4/327)
اب ہم انتہائی اختصار کے ساتھ ابو طالب کے مسلمان نہ ہونے کے دلائل ذکر کرتےہیں:
دلیل نمبر 1 : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَالقصص: ٥٦ “اے نبی ! آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت عطا فرماتا ہے ۔”
یہ آیت ِ کریمہ بالاتفاق ابو طالب کے بارےمیں نازل ہوئی ہے ، جیسا کہ حافظ نووی(631- 676ھ) فرماتے ہیں : فَقَدْ أَجْمَعَ الْمُفَسِّرُونَ عَلىٰ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِى أَبِى طَالِبٍ، وَكَذَا نَقَلَ إِجْمَاعَهُمْ عَلىٰ هٰذَا الزَّجَّاجُ وَغَيْرُهُ، وَهِيَ عَامَّةٌ، فَإِنَّهُ لَا يَهْدِى وَلَا يُضِلُّ إِلَّا الله تَعَالىٰ. “مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت ِ کریمہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ زجّاج وغیرہ نے مفسرین کا اجماع اسی طرح نقل کیا ہے ۔ یہ آیت عام(بھی) ہے ۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔”(شرح صحیح مسلم للنووي : 1/41)
حافظ ابنِ حجر(773- 852ھ)لکھتے ہیں : “بیان کرنے والے اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔”(فتح الباري لابن حجر : 8/506)
دلیل نمبر 2 : سیّدنا مسیّب بن حزن بیان کرتے ہیں :
لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- « يَا عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ »، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ : هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- « أَمَا وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ »، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِالتوبة: ١١٣، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِى أَبِى طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ القصص: ٥٦. “جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہاُن کے پاس تشریف لے گئے ۔ آپ نے اُن کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو دیکھا تو فرمایا : اے چچا ! لا الہ الا اللّہ کہہ دیں کہ اس کلمے کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں ۔ اس پر ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے :اے ابو طالب ! کیا آپ عبد المطلب کے دین سے مُنحرف ہو جائیں گے ؟ رسولِ اکرممسلسل اپنی بات ابوطالب کو پیش کرتے رہے اور بار بار یہ کہتے رہے ، حتی کہ ابوطالب نے اپنی آخری بات یوں کی کہ وہ عبد المطلب کے دین پر ہیں ۔ انہوں نے لاالہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا ۔ رسول اللہ نے فرمایا :مجھے جب تک روکا نہ گیا ، اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِالتوبة: ١١٣،(نبی اور مؤمنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں ، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، اس کے بعد کہ انہیں اُن کے جہنمی ہونے کا واضح علم ہو جائے)۔ اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں قرآن نازل کرتے ہوئے اپنے رسول سے فرمایا إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَالقصص: ٥٦ (بے شک آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے)۔”(صحیح البخاري : 1/548، ح : 3884، صحیح مسلم : 1/40، ح : 24)
یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ابو طالب کافر تھے ۔ وہ ملّت ِ عبد المطلب پر فوت ہوئے۔انہوں نے مرتے وقت کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اُن کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اُن کے حق میں دُعا کرنے سے منع کر دیا تھا ۔
دلیل نمبر 3 : سیّدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے ، بیان کرتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِعَمِّهِ :« قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ »، قَالَ : لَوْلاَ أَنْ تُعَيِّرَنِى قُرَيْشٌ يَقُولُونَ : إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلىٰ ذَلِكَ الْجَزَعُ لأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّه إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَالقصص: ٥٦
“رسول اللہ  نے اپنے چچا (ابوطالب) سے کہا :آپ لا الٰہ الّا اللّہ کہہ دیں ۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا ۔ اُنہوں نے جواب دیا : اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے اس بات پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ِ مبارکہ نازل فرمائی إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَالقصص: ٥٦ (یقیناً جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ جسے اللہ چاہے ہدایت عطا فرما دیتا ہے)۔”(صحیح مسلم : 1/40، ح : 25)
دلیل نمبر 4 : سیّدنا عباس بن عبد المطلب  نے کہا تھا :
يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ؟ قَالَ : « نَعَمْ، هُوَ فِى ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِى الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ » “اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی فائدہ دیا ۔ وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے دوسروں سے غصے ہو جایا کرتے تھے۔ آپ  نے فرمایا :ہاں !(میں نے اُنہیں فائدہ پہنچایا ہے ) وہ اب بالائی طبقے میں ہیں ۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔”
(صحیح البخاري : 1/548، ح : 3883، صحیح مسلم : 1/115، ح : 209)
حافظ سہیلی(508- 581ھ)فرماتے ہیں : وَظَاهِرُ الْحَدِيثِ يَقْتَضِي أَنّ عَبْدَ الْمُطّلِبِ مَاتَ عَلَى الشّرْكِ . “اس حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات کے متقاضی ہیں کہ عبد المطلب شرک پر فوت ہوئے تھے۔”(الروض الانف : 4/19)
حافظ ابنِ حجر(773- 852ھ)اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : فَهٰذَا شَأْنُ مَنْ مَّاتَ عَلَى الْكُفْرِ، فَلَوْ كَانَ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ لَنَجَا مِنَ النَّارِ أَصْلًا، وَالْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ وَالْأَخْبَارُ الْمُتَكَاثِرَةُ طَافَحَةٌ بِذٰلِكَ . “یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہے جو کفر پر فوت ہوا ہو ۔ اگر ابو طالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے ۔ لیکن بہت سی صحیح احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں۔”(الاصابۃ في تمییز الصحابۃ لابن حجر : 7/241)
دلیل نمبر 5 : سیّدنا ابوسعید خدری  سےروایت ہے :
أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِىَّ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ، فَقَالَ :« لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِى ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِى مِنْهُ دِمَاغُهُ » “انہوں نے نبیٔ اکرم کو سنا ۔ آپ کے پاس آپ کے چچا (ابوطالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا :شاید کہ اُن کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور اُن کوجہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صرف ٹخنوں تک ہو اورجس سے (صرف )اُن کا دماغ کھَولے گا ۔”
(صحیح البخاري : 1/548، ح : 3885، صحیح مسلم :1/ 115، ح : 210)
دلیل نمبر 6 : سیّدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : « أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِى مِنْهُمَا دِمَاغُهُ » “جہنمیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے ۔ وہ آگ کے دو جُوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھَول رہا ہو گا ۔”(صحیح مسلم : 1/115، ح : 212)
دلیل نمبر 7 : خلیفہ راشد سیّدنا علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں :
لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : « اذْهَبْ فَوَارِهِ »، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ : « اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلاَ تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي »، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ . ؎
“جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ  نےفرمایا :جا کر انہیں دفنا دیں ۔ میں نے عرض کی :یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ  نے فرمایا: جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا کیا ، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔”
(مسند الطیالسي : ص 19، ح : 120، وسندہٗ حسن متصل)
ایک روایت کے الفاظ ہیں : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ ؟ قَالَ : « اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ۔ ۔ ۔ » “(سیّدنا علی  نے عرض کی :آپ کے گمراہ چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ ان کو کون دفنائے گا؟ آپ نے فرمایا : جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں)۔”(مسند الامام احمد : 1/97، سنن ابي داوٗد : 3214، سنن النسائي : 190، 2008، واللفظ لہٗ ، وسندہٗ حسن)
اس حدیث کو امام ابنِ خزیمہ(کما في الاصابۃ لابن حجر : 7/114)اور امام ابنِ جارود  (550)نے “صحیح” قرار دیا ہے ۔
یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں تھے ۔ اس پر نبیٔ اکرم اور سیدنا علی نےنماز ِ جنازہ تک نہیں پڑھی۔
دلیل نمبر 8 : سیّدنااُسامہ بن زَید کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو:
وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِيٌّ-رَضِيَ الله عَنْهُمَا- شَيْئًا، لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ.
“عَقِیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے تھے ، لیکن (ابوطالب کے بیٹے)سیّدنا جعفر اور سیّدنا علی نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہیں لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عَقِیل اور طالب دونوں کافر تھے۔”
(صحیح البخاري : 1/216، 1588، صحیح مسلم : 2/33، ح : 1614مختصرًا)
یہ روایت بھی بیّن دلیل ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہو گئے تھے ۔ اسی لیے عَقِیل اور طالب کے برعکس سیّدنا جعفر اور سیّدنا علی  اُن کے وارث نہیں بنے کیونکہ نبیٔ اکرم کا فرمانِ عالیشان ہے : « لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلاَ يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ » “نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا۔”
(صحیح البخاري :2/551، ح : 6764، صحیح مسلم : 2/33، ح : 1614)
امام ابنِ عساکر(499۔ 571ھ)فرماتے ہیں : وَقِيلَ: إِنَّهُ أَسْلَمَ، وَلَا يَصِحُّ إِسْلَامُهُ . “ایک قول یہ بھی ہے کہ ابوطالب مسلمان ہو گئے تھے ، لیکن ان کا مسلمان ہونا ثابت نہیں ہے۔”(تاریخ ابن عساکر : 66/307)
ابوطالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر رسول اللہ کو بہت صدمہ ہوا تھا ۔ وہ یقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے ۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو پائے۔اس لیے ہم اُن کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود دُعا گو نہیں ہو سکتے۔
حافظ ابنِ کثیر(700- 774ھ) ابوطالب کے کفر پر فوت ہونے کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : وَلَوْلَا مَا نَهَانَا الله عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ لَاسْتَغْفَرْنَا لِأَبِي طَالِبٍ وَتَرَحَّمْنَا عَلَيْهِ ! “اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے لیے استغفار کرتے اور اُن کے لیے رحم کی دُعا بھی کرتے!”(سیرۃ الرسول لابن کثیر : 2/132)
ایمانِ ابوطالب پر دلائل کا تحقیقی جائزہ !
بعض لوگ ابوطالب کے ایمان پر دلائل پیش کرتے ہیں ۔ ان کا مختصر اور تحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے :
1 مشہور شیعہ طبرسی (م : 548ھ)لکھتے ہیں : وَقَدْ ثَبَتَ إِجْمَاعُ أَهْلِ الْبَيْتِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ عَلَی إِيْمَانِ أَبِي طَالِبٍ، وَإِجْمَاعُهُمْ حُجَّةٌ .
“اہل بیت  کا ابوطالب کے مؤمن ہونے پر اجماع ثابت ہے اور ان کا اجماع حجت ہے۔”(تفسیر مجمع البیان للطبرسي : 4/31)
یہ دعویٔ اجماع نری دروغ گوئی ہے ۔ یہ اجماع کہیں زیرِ زمین ہوا ہو گا ۔ اس زمین کے سینے پر اس طرح کا کوئی اجماع نہیں ہوا ۔ اجماع تو کُجا ، اہلِ بیت میں سے کسی ایک فرد سے باسند ِ صحیح ایمانِ ابو طالب کو ثابت کر دیا جائے ۔ اگر ثابت نہ ہو سکے تو ابوطالب کے کفر کی حالت میں فوت ہونے پر دلائل مان لیے جانے چاہئیں ۔
2 سیّدنا ابنِ عبّاس بیان کرتے ہیں : فَلَمّا رَأَى حِرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ عَلَيْهِ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ! وَاللَّهِ، لَوْلَا مَخَافَةُ السَّبَّةِ عَلَيْكَ وَعَلَى بَنِي أَبِيك مِنْ بَعْدِي، وَأَنْ تَظُنَّ قُرَيْشٌ أَنّي إنّمَا قُلْتهَا جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ لَقُلْتهَا، لَا أَقُولُهَا إِلَّا لِأَسُرَّكَ بِهَا، قَالَ : فَلَمَّا تَقَارَبَ مِنْ أَبِي طَالِبٍ الْمَوْتُ قَالَ : نَظَرَ الْعَبّاسُ إلَيْهِ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، قَالَ : فَأَصْغَى إلَيْهِ بِأُذُنِهِ، قَالَ: فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ! وَاَللَّهِ، لَقَدْ قَالَ أَخِي الْكَلِمَةَ الَّتِي أَمَرْتَهُ أَنْ يَقُولَهَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ : لَمْ أَسْمَع . “جب ابوطالب نے اپنے (ایمان کے)بارے میں رسول اللہ کی حرص دیکھی تو کہا :اے بھتیجے !اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ اور آپ کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کاخطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کےڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کے لیے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو عبّاس نے اُن کو ہونٹ ہلاتے دیکھا ۔ اُنہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ سے )کہا :اے بھتیجے !یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنےکا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ آپنے فرمایا :میں نے نہیں سنا۔”(السیرۃ لابن ہشام : 1/417، 418، المغازي لیونس بن بکیر : ص 238، دلائل النبوۃ للبیہقي : 2/346)
تبصرہ : یہ روایت سخت “ضعیف” ہے ، کیونکہ :
(ا) حافظ ابنِ عساکر(499- 571ھ)لکھتے ہیں : هٰذَا الْحَدِيثُ فِي بَعْضِ إِسْنَادِهِ مَنْ يُّجْهَلُ، وَالْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ تَدُلُّ عَلىٰ مَوْتِهِ كَافِرًا .
“اس حدیث کی سند کا ایک راوی نامعلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے۔”(تاریخ ابن عساکر : 66/333)
(ب) حافظ بیہقی(384- 458ھ)فرماتے ہیں : هٰذَا إِسْنَادٌ مُّنْقَطِعٌ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ الْعَبَّاسُ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ، وَحِينَ أَسْلَمَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ مَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ ۔ ۔ ۔ : يَا رَسُولَ اللَّهِ!هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ؟ قَالَ : « نَعَمْ، هُوَ فِى ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِى الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ » رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ . “یہ سند منقطع ہے۔ نیز ابوطالب کی وفات کے وقت تک تو سیّدنا عباس مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے نبیٔ اکرم سے ابوطالب کی حالت کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے وہ بات کی جو صحیح حدیث میں موجود ہے کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی فائدہ دیا ہے ، وہ تو آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے دوسروں سے غصے ہو جایا کرتے تھے ؟ اس پرآپ نے فرمایا :ہاں ، وہ اب جہنم کے بالائی طبقے میں ہیں ۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوتے ۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔”
(دلائل النبوۃ للبیہقي : 2/346)
(ج) حافظ ذہبی(673- 748ھ)فرماتے ہیں : هذا لا يصحّ، ولو كان سمعه العبّاس يقولها لما سأل النبيّ صلّى الله عليه وسلّم، وقال: هل نفعت عمّك بشيء، ولما قال عليّ بعد موته : يا رسول الله ! إنّ عمّك الشيخ الضالّ قد مات . “یہ روایت صحیح نہیں ۔ اگر سیّدنا عبّاس نےاس بات کو سنا ہوتا تو وہ کبھی بھی رسول اللہ سے سوال کرتے ہوئے نہ کہتے کہ کیا آپ نے اپنے چچا کو کوئی فائدہ دیا ہے ؟ نیز سیّدنا علی اُن کی وفات کے بعد یہ نہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول! آپ کا گمراہ چچا فوت ہو گیا ہے۔”(تاریخ الاسلام للذھبي : 2/149)
نیز لکھتے ہیں : إسناده ضعيف، لأنّ فيه مجهولا، وأيضا فكان العبّاس ذلك الوقت على جاهليّته، ولهذا إن صحّ الحديث لم يقبل النبيّ صلّى الله عليه وسلّم روايته، وقال له : لم أسمع، وقد تقدّم أنّه بعد إسلامه قال : يا رسول الله ! هل نفعت أبا طالب بشيء فإنّه كان يحوطك ويغضب لك ؟ فلو كان العبّاس عنده علم من إسلام أخيه أبي طالب لما قال هذا، ولما سكت عند قول النبيّ صلّى الله عليه وسلّم :« هو في ضحضاح من النار »، ولقال: إنّي سمعته يقول : لا إله إلْا الله، ولكنّ الرافضة قوم بهت . “اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک مجہول راوی موجود ہے ۔ نیز اس وقت سیّدنا عبّاس جاہلیت میں تھے، لہٰذا اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو جائے تو نبی ٔ اکرم  نے اُن کی یہ روایت قبول ہی نہیں کی اورفرمایا :میں نے تو نہیں سنا ۔ پھر یہ بات بھی بیان ہو چکی ہے کہ سیّدنا عباسنے مسلمان ہونے کے بعد کہا تھا :اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے اپنے چچا کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے ؟ وہ تو آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کی خاطر دوسروں سے غصے ہو جایا کرتے تھے۔اگر سیّدنا عباس کے پاس اپنے بھائی (ابوطالب)کے مسلمان ہونے کا علم ہوتا تو وہ یہ بات نہ کہتے ، نہ وہ نبی ٔ اکرم کے اس فرمان کو سننے کے بعد خاموش رہتے کہ ابوطالب جہنم کے بالائی طبقے میں ہیں ۔ وہ ضرور پُکار اُٹھتے کہ میں نے تو اُنہیں لا الٰہ الّا اللّہ کہتے سنا ہے۔لیکن (کیا کریں کہ)رافضی مبہوت لوگ ہیں۔”(تاریخ الاسلام : 2/151)
(د) حافظ ابنِ کثیر(700- 774ھ)فرماتے ہیں: إنّ في السند مبهما لا يعرف حاله، وهو قول عن بعض أهله، وهذا إبهام في الاسم والحال، ومثله يتوقّف فيه لو انفرد ….. والخبر عندي ما صحّ لضعف في سنده .
“اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے — میرے نزدیک یہ روایت سندکے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں۔”(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر : 3/123- 125)
حافظ ابنِ حجر(773- 852ھ)لکھتے ہیں : بسند فيه من لم يسمّ ۔۔۔۔۔ وهذا الحديث لو كان طريقه صحيحا لعارضه هذا الحديث الّذي هو أصحّ منه فضلا عن أنّه لا يصحّ . “یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا — اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔”
(فتح الباري لابن حجر : 7/184)
علامہ عینی حنفی(762- 855ھ)لکھتے ہیں : في سند هذا الحديث مبهم لا يعرف حاله، وهذا إبهام في الاسم والحال، ومثله يتوقف فيه لو انفرد .
“اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہو سکے ۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے۔”(شرح ابي داوٗد للعیني الحنفي : 6/172)
دوسری بات یہ ہے کہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق بن یسار مدنی راوی ہیں جو ہمارے نزدیک تو “موثق ، حسن الحدیث” ہیں لیکن بعض نفس پرست حضرات اس بے چارے کی اس روایت پرتو،جو ان کے مذہب کے خلاف ہو ، جرحی نشتر چلاتے ہیں ، جبکہ اپنے موافق روایات کو سینے سے لگا لیتے ہیں ۔ یہ کیسا تضاد ہے ؟
ابوطالب کے کفر پر فوت ہونے پر قرآنی صراحت اور بہت سی صحیح احادیث کو ترک کر کے ایک “ضعیف” روایت کی بنیاد پر اس کے اسلام و ایمان کو ثابت کرنا انصاف نہیں !
3 اسحاق بن عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں : قال العبّاس : يا رسول الله ! أترجوا لأبي طالب ؟ قال : کلّ الخير أرجوا من ربّي، يعني لأبي طالب. “عبّاس نے کہا :اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ابوطالب کے لیے کوئی اُمید رکھتے ہیں ؟ آپنے فرمایا :میں اپنے ربّ سے ابوطالب کے لیے ہر خیر کی اُمید رکھتا ہوں۔”
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 1/124، تاریخ ابن عساکر : 66/336)
تبصرہ : یہ روایت “ضعیف” ہے ۔ اسحاق بن عبداللہ بن الحارث تابعی ہیں اور ڈائریکٹ نبیٔ اکرم سے روایت بیان کر رہے ہیں لہٰذا یہ مرسل ہونے کی وجہ سے “منقطع ” اور “ضعیف” ہے ۔
حافظ ابنِ حجر تو اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں : وذکر ابن حبّان في ثقات أتباع التابعين، ومقتضاه عنده أنّ روايته عن الصحابة مرسلة. “امام ابنِ حبان نے اسے ثقہ تبع تابعین میں ذکر کیا ہے ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ امام ابنِ حبان کے نزدیک اس کی صحابہ کرام سے روایت مرسل ہوتی ہے۔”
(تہذیب التہذیب لابن حجر : 1/210)
اس بنیاد پر یہ روایت “معضل ” یعنی دوہری منقطع ہو جائے گی ۔
حافظ ابنِ حجر(773- 852ھ) کا یہ فیصلہ بھی سنتے جائیں : ووقفت علی جزء جمعه بعض أهل الرفض، أکثر فيه من الأحاديث الواهية الدالّة علی إسلام أبي طالب، ولا يثبت من ذلک شيء . “مجھے ایک ایسے جزء پر واقفیت ہوئی ہے جسے کسی رافضی نے جمع کیا ہے ۔ اس میں بہت سی ایسی کمزور روایات ہیں جو ابوطالب کے مسلمان ہونے پر دلالت کرتی ہیں ، لیکن ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ۔”
(فتح الباري لابن حجر : 7/148)
ایک قرآنی “دلیل ”!
شیعہ لوگ ابوطالب کی نجات کے بارے میں ایک دلیل قرآنِ کریم کی اس آیت کو بناتے ہیں : الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَالأعراف : ١٥٧۔
“پس جو لوگ آپ()کے ساتھ ایمان لائے اور آپ کی نصرت و تائید کی اور اُس نور کی پیروی کی جو آپ پرنازل کیا گیا ، وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔”
شیعہ کا ابوطالب کے بارے میں کہنا ہے کہ : “اس نے نبیٔ اکرم کی حمایت و نصرت کی ، آپ کے لیے آپ کے دشمنوں سے دشمنی مُول لے رکھی تھی ، لہٰذا وہ فلاح پا گیا۔”
اس کے ردّ و جواب میں حافظ ابنِ حجر(773- 852ھ) لکھتے ہیں : وهذا مبلغهم من العلم ! وإنّا نسلم أنّه نصره وبالغ في ذلك، لكنّه لم يتّبع النور الّذي أنزل معه، وهو الكتاب العزيز الداعي إلى التوحيد، ولا يحصل الفلاح إلّا بحصول ما رتّب عليه من الصفات كلّها . “یہ ان کا مبلغِ علم ہے ! ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابوطالب نے رسول اللہ کی نصرت و تائید کی تھی اور بہت زیادہ کی تھی لیکن انہوں نے اس نُور کی پیروی تو نہیں کی جو آپپر نازل کیا گیا تھا ۔ یہ نُور وہ کتابِ عزیز (قرآنِ کریم)ہے جو توحید کی طرف دعوت دیتا ہے۔کامیابی تو تب ہی حاصل ہو گی جب اس کے لیے بیان کی گئی تمام صفات حاصل ہوں گی ۔”
(الاصابۃ في تمییز الصحابۃ لابن حجر : 7/241)
تنبیہ نمبر 1 : جناب عطاء محمد بندیالوی بریلوی لکھتے ہیں :
“محققین اہل سنت کے نزدیک حضرت عبد المطلب مؤحّد تھے تو عبدالمطلب کے ملت پر ہونا تو توحید کا اقرار ہے۔”(تحقیق ایمان ابو طالب : ص 42)
اگر اہل سنت سے مراد اس دَور کے شرک و بدعت میں ڈوبے ہوئے نام نہاد اہل سنت مُراد ہیں تو عجب نہیں ، لیکن اگر سلف صالحین کے منہج پر چلنے والے اصلی اہل سنت والجماعت مراد ہیں تو یہ انتہائی جہالت اور دروغ گوئی ہے ، کیونکہ عبد المطلب کا دین ، محمدکے دین کے سراسر خلاف تھا ۔ عبدالمطلب مسلمان نہیں تھے ، جیسا کہ درجِ ذیل حدیث سے عیاں ہے ۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذْ بَصَرَ بِامْرَأَةٍ، لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ : « مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟ »، قَالَتْ : أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، فَقَالَ : « لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى »، قَالَتْ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، قَالَ : « لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ » . “ایک دن ہم رسول اللہ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ آپ نےایک عورت کو دیکھا۔ ہمارا خیال نہیں تھا کہ آپ اسے پہچان گئے ہوں گے ۔ جب ہم راستے کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ رُک گئے حتی کہ وہ عورت آپ کے پاس آ گئی۔ وہ رسولِ اکرم کی صاحبزادی سیّدہ فاطمہتھیں ۔ آپ نے پوچھا :اے فاطمہ! آپ گھر سے کیوں نکلیں ؟ اُنہوں نے عرض کیا :میں اِن گھر والوں کے پاس آئی تھی اور ان کے مرنے والے کے لیے رحم کی دُعا کی اور انہیں تسلی دی ہے۔آپ نے فرمایا :شاید کہ آپ اُن کے ساتھ قبرستان بھی پہنچی ہیں ؟ انہوں نے کہا :اللہ کی پناہ اس بات سے کہ میں اُن کے ساتھ قبرستان جاتی ، جبکہ میں نے آپ سے اس بارے میں وہ باتیں سُن رکھی ہیں جو آپ فرمایا کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :اگر آپ اُن کے ساتھ قبرستان پہنچ جاتیں تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ پاتیں جب تک آپ کے والد کے دادا اُسے نہ دیکھ لیتے۔”(مسندالامام احمد : 2/168، 2/223، سنن ابي داوٗد : 3123 مختصرا، سنن النسائي : 1881، وسندہٗ حسن)
اس حدیث کو امام ابنِ حبان (3177)نے “صحیح” قرار دیا ہے ۔ امام حاکم (1/373، 374)نے اسے “صحیح علی شرط الشیخین ” قرار دیا ہے ۔ حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔
اس کا راوی ربیعہ بن سیف جمہور محدثین کرام کے نزدیک “حسن الحدیث” ہے۔
اس حدیث کے تحت امام بیہقی(384- 458ھ)فرماتے ہیں : جدّ أبيها عبد المطّلب بن هاشم ۔۔۔۔۔ وكانوا يعبدون الوثن حتّى ماتوا، ولم يدينوا دين عيسى ابن مريم عليه السلام ؟ وأمرهم لا يقدح في نسب رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، لأنّ أنكحة الكفّار صحيحة، ألا تراهم يسلمون مع زوجاتهم فلا يلزمهم تجديد العقد، ولا مفارقتهنّ إذا كان مثله يجوز في الإسلام .
“سیّدہ فاطمہ کے والد ِ محترم کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم تھے — یہ لوگ مرتے دَم تک بتوں کی پُوجا کرتے رہے تھے ۔ انہوں نے سیّدناعیسیٰ کا دین قبول نہیں کیا تھا ۔ البتہ ان کا یہ معاملہ رسول اللہ کے نسب میں کوئی عیب کا باعث نہیں ، کیونکہ کفار کے کیے گئے نکاح درُست ہیں ۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ کفّار جب اپنی بیویوں سمیت مسلمان ہوتے ہیں تو ان کو نیا نکاح یا اپنی بیویوں سے جُدائی اختیار نہیں کرنی پڑتی ، کیونکہ اسلام میں اس طرح کی صورت جائز ہے۔”(دلائل النبوۃ للبیہقي : 1/192- 193)
معلوم ہوا کہ نبیٔ اکرم کے دادا عبد المطلب جاہلیت کے دین پر قائم تھے اور اسی پر اُن کی وفات ہوئی تھی ۔ یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے ۔ شیعہ اس کے بالکل برعکس کہتے ہیں ۔
حافظ ابنِ کثیر(700- 774ھ)فرماتے ہیں : والمقصود أنّ عبد المطلّب مات على ما كان عليه من دين الجاهلية، خلافا لفرقة الشيعة فيه وفي ابنه أبي طالب . “مقصود یہ ہے کہ عبدالمطلب اُسی دین جاہلیت پر فوت ہوئے تھے جس پر وہ قائم تھے ۔ شیعہ کا اُن کے بارے میں اور اُن کے بیٹے ابو طالب کے بارے میں نظریہ اس کے برعکس ہے۔”(السیرۃ لابن کثیر : 1/238،239)
نیز عطاء محمد بریلوی صاحب لکھتے ہیں : “اگر حضرت ابوطالب کے ایمان سے انکار کیا جائے تو لازم آئے گا کہ کافر کو مؤمن سے نرم عذاب ہو اور یہ خلاف ِ عدل اور خلاف ِ اجماع ہے۔”(تحقیق ایمان ابو طالب : ص 44)
یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے جو کہ عدل کے عین موافق ہے ۔ نبیٔ اکرم کا ابوطالب کے حق میں سفارش کرنا ثابت ہو گیا ہے ۔ آپ کی شفاعت کی وجہ سے اُن کا عذاب ہلکا ہے ۔ یہ واحد شخص ہیں جو ایمان نہ لانے کے باوجود نبیٔ اکرم کی شفاعت کے حقدار ہوئے ہیں اور اس وجہ سے ان کا عذاب بھی ہلکا ہے ، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث کے ذریعے ابوطالب کے لیے استثنیٰ ثابت ہو گئی ہے ۔
نبیٔ اکرم نے خود فرمایا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو ابوطالب جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوتے ۔ معاملہ عدل کے منافی تو تب ہوتا جب گناہ یا جُرم سے زیادہ سزا دی جاتی ۔ اس کے برعکس اگر اللہ تعالیٰ کسی کے عذاب کو اپنے نبی کی شفاعت کی وجہ سے ہلکا کرتا ہے تو یہ اُس کا فضل و کرم ہے ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے کہ کافروں کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ ابوطالب مؤمن تھے ، اسی لیے اُن کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ابوطالب فوت ہوتے وقت ایمان لائے تھے ، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے تو پھر اُن کو عذاب دینا ہی قرآن وسنت کی تعلیمات اور عدل کے تقاضوں کے منافی ہے ، کیونکہ جو ایمان کی حالت میں مرتا ہے ، اُسی حالت میں اُٹھایا جاتا ہے۔جب قرآن وسنت میں اُن کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے تھے ۔ رہی بات عذاب کی تخفیف کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوطالب کا عذاب بعد میں ہلکا نہیں ہوا ، بلکہ نبیٔ اکرم کی شفاعت کی بنا پر شروع سے ہی ہلکا رکھا گیا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کافروں کے عذاب کے ہلکا نہ کیے جانے والا اُصول عام ہے جبکہ ابوطالب کے عذاب کو ہلکا کیے جانے والا واقعہ خاص ہے ۔ جب عام اور خاص میں تعارض ہو تو اُصول کے مطابق خاص واقعے کو مقدّم اور عام سےمستثنیٰ خیال کیا جاتا ہے ۔
رہی عطاء محمد صاحب کی یہ بات کہ “اگر حضرت ابوطالب کے ایمان سے انکار کیا جائے تو لازم آئے گا کہ کافر کو مؤمن سے نرم عذاب ہو—-” تو یہ بندیالوی صاحب کی غفلت ِ علمی ہے ، کیونکہ یہ بات تو قرآن وسنت کی روشنی میں طَے ہے کہ اگر کسی شخص کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوا تو وہ آخر کار جہنم سے آزادی پا جائے گا ، لیکن کفار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے ۔ جب بات ایسے ہے تو کسی مؤمن کو اگر عارضی طور پر بہت سخت عذاب بھی ہو تو یہ کسی کافر کے ہمیشہ ہمیشہ کے ہلکے عذاب سے یقیناً کروڑوں ، اربوں ، بلکہ بے شمار گنا کم ہو گا۔
انصاف پسند قارئین ضرور حقیقت کو سمجھ گئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! آمین ھذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب !

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.