416

عربی لفظ “سَب”کا معنی ومفہوم صحیح احادیث کی روشنی میں!

عربی لفظ”سَبّ”کا معنی ومفہوم احادیث کی روشنی

 صحیح مسلم کی2404حدیث ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔۔بس اتنا ذکر ہے، کیا حکم دیا ؟ وہ اس حدیث میں ذکرنہیں ہے، یہ بات صرف ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ وہ لوگ بھی کہتے ہیں جن کو مرزا صاحب حق گو عالم دین کہتے ہیں جیسا کہ ہم آئندہ سطور میں بیان کریں گے۔
اس روایت میں آگے یہ بیان ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھاکہ آپ ابوتُراب(سیدنا علی رضی اللہ عنہ )کو “سبّ” کیوں نہیں کرتے؟مرزا صاحب “سبّ” کا معنی لعنت کرنا اور گالی دینا کرتے ہیں حالانکہ عربی زبان میں “سبّ”چھوٹے سے چھوٹے اختلاف سے لیکربڑی سے بڑی گالی پر بھی بولا جاتا ہے،قرائن وشواہد ہی بتائیں گے کہ جس موقع پر لفظ”سبّ” بولا گیا ہےوہاں اس سے مراد کیا ہے؟لیکن یہا ں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نےعلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو کون سی چیز مانع ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر “سبّ” نہیں کرتے؟
ہم اہل سنت یہ بات دلائل وبراہین کی روشنی میں کہتے ہیں کہ یہاں “سبّ” سے مرادتنقید کرنا ہے،سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ہوا تھا، یہ مطالبہ صرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نہیں تھا بلکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی تھا کہ جن کے جنتی ہونے کے مرزا صاحب بھی اقراری ہیں، انکاری نہیں ، ان کا یہ نظریہ تھا کا قصاصِ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ فوری لیا جائے، تاخیر درست نہیں ہےجب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا ان کا نظریہ یہ تھا کہ فوری قصاص خانہ جنگی کا سبب بن جائے گا مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھوڑا موخر کر دیاجائےتو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تنقید کیوں نہیں کرتےتو سیدنا سعد بن ابی وقاص کہنے لگے کہ میں ان پر تنقید نہیں کر سکتا، میں نے ان کے فضائل رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنے ہوئے ہیں لہذا میں ان کوحق پر سمجھتا ہوں۔
اس بات کو دلیل بنا کر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہاں “سبّ” سے مراد گالی اور لعنت ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے کا حکم دیتے تھے، ہم صحیح بخاری ومسلم سے کچھ روایات پیش کرتے ہیں جو “سبّ” کے معنی کو متعین کرتی ہیں کہ بسااوقات”سبّ” کا معنی لفظی اختلاف بھی ہوتا ہےاور بسا اوقات تنقید کرنا بھی ہوتا ہے ۔
پہلی مثال:
صحیح بخاری (2411)،صحیح مسلم(2373)میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں کہ :
اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ
مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے”سبّ” کیا ،”سبّ” کیا کیا ؟اس کی وضاحت حدیث میں ان الفاظ میں ہے:
قَالَ المُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى العَالَمِينَ، فَقَالَ اليَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى العَالَمِينَ ،
مسلما ن کہنے لگا کہ مجھے اس رب کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے،جب کہ یہودی نے کہ مجھے اس ذات کی قسم کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام کوجہانوں پر فضیلت دی ۔
یہ جو دو جملے ایک مسلمان کا اور دوسرا یہودی کا، یہودی نے مسلمان کےجملے پر “سبّ” کیا ہے،تنقید کرتے ہوئے اس کے خلاف جملہ بولا ہےلہذا حدیث نے ہم کو یہ بتایا کہ بسااوقات”سبّ” کا معنی نقد اور تنقید بھی ہوتا ہے، اب اگر یہاں “سبّ”کا معنی گالی گلوچ یا لعنت کریں تو حدیث اس کا ردّکرتی ہے۔
دوسری مثال
صحیح بخاری(6141)حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ مہمان آئےوہ مہمانوں کو چھوڑ کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئےوہاں انہیں کافی دیر ہو گئی جب وہ واپس آئے تو انہوں نے گھر والوں سے پوچھا کہ مہمانوں کوشام کا کھانا ان کو کھلایا ہے؟گھر والوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان سے پوچھا تھا لیکن انہوں نےانکار کر دیاکہ ہم نے نہیں کھانا، سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ بڑے مہمان نواز تھے اس لیےانہیں اس بات پہ غصہ آگیااور حدیث کے الفاظ ہیں
فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ،فَسَبَّ
سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور انہوں نے “سبّ” کیا ۔
اب کوئی “سبّ” کا معنی کرےکہ انہوں نے گھر والوں کو لعنت کی اور گالیاں دیں؟یقینا اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے گھر والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ آپ لوگوں نے غلط کیا، وہ تو مہمان ہیں، تکلف میں پڑ گئے لیکن آپ نےبھی انہیں کھانا نہیں دیا، تو اس حدیث میں بھی لفظ”سبّ” ہے،اس کا معنی لعنت یا گالی گلوچ تو ہے نہیں بس گھر والوں پر تنقید کی ۔
تیسری مثال:
صحیح مسلم(1801)حدیث میں ہے کہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بھیجاتو سیدنا محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اجاززت طلب کی کہ میں کچھ باتیں بظاہر آپ کے خلاف کر دوں گاتاکہ کعب بن اشرف کو اپنی طرف مائل کیا جاسکے اور وہ مطمئن رہے کہ یہ مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے،کیا مجھے اجازت ہے؟جب کعب بن اشرف کے پاس سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ گئےتو اس نے کہا کہ آپ مجھ سے کچھ چیزیں مانگ رہے ہیں تو اس کے عوض آپ مجھےاپنے بیٹے گروی رکھ دیں جب تم مجھے مال واپس کرو گے توپھر اپنے بیٹے لے جانا،تو اس وقت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا،ہم اپنے بچوں کوآپ کے پاس بطور گروی نہیں رکھ سکتےکیونکہ:
يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ
ہمارے بچوں کو”سبّ” کیا جائے گا،کہا جائے گاکہ کچھ کلو کھجوروں کے عوض اسے بطورضمانت رکھا گیا تھا۔
اس حدیث میں بھی لفظ “سبّ” استعمال ہوا ہے جس کا مطلب “طعنہ، نقص”ہے، ہمارے بچوں کو لوگ طعنے دیں گے کہ تم تو چند کلو کھجور کے بدلے گروی رکھے گئے تھے۔
یہاں ہم مرزا صاحب کواینٹی وینم دیتے ہیں کہ صحیح بخاری (7305) حدیث میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہوا ، دونوں اختلاف کرتے ہوئے امیر المومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دربار میں آئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا:
اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ ،اسْتَبَّا۔
میرے اور اس ظالم کے درمیان فیصلہ کر دیں، دونوں ایک دوسرے کو “سبّ” کررہے تھے۔
اب کوئی نیم رافضی یہاں”سبّ” کا معنی لعنت کرے اور کہے کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنھما ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے، ایک دوسرے پر لعنت کررہے تھے؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے چچا کو لعنت کررہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے؟
معا ذاللہ ۔ ایسا کوئی ناصبی ہی سوچ سکتا ہے، اہل سنت تو کبھی بھی ایسا نہیں سوچتے۔
بحر حال مرزا صاحب کی جو شرح ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے اور لعنت کرنے کاحکم دیاتھاکیونکہ “سبّ” کا معنی گالیاں اور لعنت کرنا ہوتا ہےتو آپ کریں یہاں معنی کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے، ایک دوسرے پر لعنت کررہے تھے، معاذ اللہ۔ جیسے وہاں قرائن وشواہد سےیہ بات ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے لعنت کی ہو یا گالیاں دی ہیں اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے لعنت کی ہو یا گالیاں دی ہیں، کیوں اصرار کرتے ہیں آپ؟نہ ہم وہاں یہ معنی کرتے ہیں اور نہ ہی یہاں یہ معنی کرتے ہیں،آپ لوگ ناانصافی کرتے ہیں ایک جگہ کہتے ہیں کہ یہاں معنی اختلاف اور تنقید ہو گا اور دوسری جگہ کہتے ہیں کہ نہیں جی، یہاں معنی لعنت اور گالی ہے، ہم کہتے ہیں کہ جیسے یہاں “سبّ” کا معنی لعنت یا گالیاں کرنا ثابت نہیں ویسے ہی وہاں بھی اس کا معنی لعنت اور گالی کرنا ثابت نہیں ہے، کیوں منافقت اختیا ر کرتے ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.