428

اسلاف پرستی سے اصنام پرستی تک، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

اسلاف پرستی ہی اصنام پرستی ہے ۔ دنیا میں شرک اولیاء وصلحاء کی محبت و تعظیم میں غلو کے باعث پھیلا جیسا کہ مشہور مفسر علامہ قرطبی(600-671ھ) فرماتے ہیں : فيؤدّي إلٰی عبادۃ من فیھا کما کان السبب في عبادۃ الأوثان . “قبر پرستی اصحاب ِ قبور کی عبادت تک پہنچا دیتی ہے جیسا کہ بت پرستی کاسبب بھی یہی تھا۔”(تفسير القرطبي : 10/380)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :  وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہٖ أَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُھُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی  “اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں (ان کا کہنا ہے کہ) ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔”(الزمر : ) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سنی امام علامہ ابن جریر طبری(224-310ھ) فرماتے ہیں: يَقُولُ تَعَالىٰ ذِکْرُه : وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ يَتَوَلَّوْنَهُم، ويعبدونهم من دون الله، يقولون لهم : ما نعبدكم أيّها الآلهة إلّا لتقربونا إلى الله زُلْفىٰ، قربة ومنزلة، وتشفعوا لنا عنده في حاجاتنا. “اور جو لوگ اللہ کے سوا اولیاء بناتے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ اے معبودو! ہم تمہاری عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ تم ہمیں مقام و مرتبے میں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دو اور ہمارےکاموں کے بارے میں اللہ سے سفارش کرو۔”
(جامع البيان في تأويل القرآن :)
آج کا مسلمان اولیاء اور صالحین کی قبروں کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے بتوں کے متعلق رکھتے تھے۔ وہ قبروں سے امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ آج بندوں کے نام کی دہائی دی جاتی ہے۔ خوشی اور غمی میں ان کو پکارا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ ہماری ان کے آگے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ یہ دستگیر اور غریب نواز ہیں۔ ان کی قبروں کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ منت منوتی پیش کی جاتی ہے۔ نذرانے چڑھائے جاتے ہیں۔نیازیں تقسیم ہوتی ہیں۔ بالکل یہی وطیرہ مشرکین مکہ کا تھا۔
حافظ ابن کثیر(ھ) لکھتے ہیں : ثم أخبر تعالى عن عُبّاد الأصنام من المشركين أنهم يقولون: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى  أي: إنما يحملهم على عبادتهم لهم أنهم عمدوا إلى أصنام اتخذوها على صور الملائكة المقربين في زعمهم، فعبدوا تلك الصور تنزيلا لذلك منزلة عبادتهم الملائكة ليشفعوا لهم عند الله في نصرهم ورزقهم، وما ينوبهم من أمر الدنيا.
“پھر اللہ تعالیٰ نے بتوں کے پجاری مشرکین کے اس قول کی خبر دی ہے کہ ہم تو ان بتوں کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ مقام و مرتبے میں ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ یعنی مشرکین مکہ کو بتوں کی پوجا پر صرف اس چیز نے آمادہ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے خیال کے مطابق مقرب فرشتوں کی شکل پر بت بنائے ہوئے تھے اور وہ ان بتوں کی عبادت فرشتوں کی ہی عبادت سمجھ کر کرتے تھے تاکہ وہ فرشتے اللہ کے ہاں ان کی مدد ، رزق اور دنیاوی مصائب کے بارے میں سفارش کریں۔”(تفسير ابن کثير : 5/396،397)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ(ھ) فرماتے ہیں : وھذہ الأمور المبتدعۃ من الأقوال ھی مراتب : أبعدھا عن الشرع أن یسأل المیّت حاجۃ أو یستغیث بہ فیھا کما یفعلہ کثیر من الناس بکثیر من الأموات ، وھو من جنس عبادۃ الأصنام ، ولہذا تتمثّل لہم الشیاطین علی صورۃ المیّت أو الغائب کما کانت تتمثّل لعبادۃ الأصنام، بل أصل عبادۃ الأصنام إنّما کانت من القبور کما قال ابن عبّاس وغیرہ، وقد یری أحدھم القبر قد انشقّ وخرج منہ المیّت فعانقہ أو صافحہ أو کلّمہ ، ویکون ذلک شیطانا تمثّل علی صورتہ لیضلّہ ، وھذا یوجد کثیرا عند قبور الصالحین ، وأمّا السجود للمیّت أو للقبر فہو أعظم وکذلک تقبیلہ ، المرتبۃ الثانیۃ : أن یظنّ أنّ الدعاء عند قبرہ مستجاب أو أنّہ أفضل من الدعاء فی المساجد والبیوت ، فیقصد زیارتہ لذلک أو للصلاۃ عندہ أو لأجل طلب حوائجہ منہ ، فہذا أیضا من المنکرات المبتدعۃ باتّفاق أئمّۃ المسلمین وھي محرّمۃ ، وما علمت في ذلک نزاعا بین أئمّۃ الـدین ، المرتبۃ الثالثۃ : أن یسأل صاحب القبر أن یسأل اللّٰہ لہ ، وھذا بدعۃ باتّفاق أئمّۃ المسلمین . “یہ بدعت پر مبنی اقوال بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو قول سب سے بڑھ کر شریعت سے دور ہے وہ یہ ہے کہ میت سے کسی ضروری چیز کا مطالبہ کیا جائے یا اس سے اس بارے میں مدد طلب کی جائے۔ بہت سے لوگ بہت سے مُردوں سے ایسا کرتے ہیں۔ یہ کام بتوں کی عبادت ہی کی قسم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیاطین میت یا غائب شخص کی شکل میں ان لوگوں کے پاس بھی آتے ہیں جیسا کہ بت پرستوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ بلکہ بتوں کی عبادت کی بنیاد قبروں سے ہی ہوئی تھی جیسا کہ سیدنا ابن عباس وغیرہ نے فرمایا ہے۔ بسا اوقات کوئی قبر پرست دیکھتا ہے کہ قبر پھٹی ہے اور مُردے نے اس سے نکل کر اس سے معانقہ یا مصافحہ یا کلام کی ہے۔ درحقیقت یہ شیطان ہوتا ہے جو اس میت کی شکل میں آیا ہوتا ہے تاکہ اس شخص کو گمراہ کرے۔ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے۔ رہا میت یا قبر کو سجدہ کرنا یا اس کو بوسہ دینا تو وہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔دوسرے درجے میں یہ بات آتی ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ قبر کے پاس دعا قبول ہوتی ہے یا یہ مسجد یا گھر میں دعا کرنے سے افضل ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ قبر کی زیارت کے لیے جاتا ہے یا اس کے پاس نماز کا اہتمام کرتا ہے یا اس سے اپنی ضروریات طلب کرتا ہے۔ یہ بھی بدعت پر مبنی منکرات میں سے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کے ائمہ کا اتفاق ہے کہ یہ کام حرام ہیں۔ مجھے اس بارے میں ائمہ دین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ملا۔تیسرے درجے میں یہ بات آتی ہے کہ صاحب قبر سے کہا جائے کہ وہ اللہ سے کوئی چیز مانگ کر دے۔ یہ کام ائمہ مسلمین کے نزدیک بالاتفاق بدعت ہے۔”(تلخيص کتاب الاستغاثة لابن تيمية : ١/١٤٥)
امام ابن ابی العز الحنفی(-792ھ )لکھتے ہیں : ولم یکونوا یعتقدون في الأصنام أنّہا مشارکۃ للّہ في خلق العالم بل کان حالہم فیہا کحال أمثالہم من مشرکی الأمم من الہند والترک والبربر وغیرھم ، تارۃ یعتقدون أنّ ھذہ تماثیل قوم صالحین من الأنبیاء والصالحین ، ویتّخذونہم شفعاء ویتوسّلون بہم إلی اللّٰہ ، وھذا کان أصل شرک العرب ، قال تعالٰی حکایۃ عن قوم نوح : وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا  “مشرکین مکہ کا بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد نہیں تھا کہ وہ کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ، بلکہ ان کا حال ہندوستان ، ترکی اور بربر کی مشرک قوموں کی طرح ہی تھا۔ کبھی ان کا اعتقاد یہ بن جاتا ہے کہ یہ نیک لوگوں اور انبیائے کرام کی مورتیاں ہیں اور وہ ان کو اپنا سفارشی بناتے ہیں اور اللہ کی طرف ان کو وسیلہ بناتے ہیں۔ یہی عرب لوگوں کا اصل شرک تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا :  وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا  (اور انہوں نے کہا : تم کبھی بھی اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا نہ ودّ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کو چھوڑنا)۔” (شرح العقيدة الطحاوية : ص ٨١)
شیخ الاسلام ثانی ، عالم ربانی ، علامہ ابن القیم(691- 751ھ) فرماتے ہیں :
وتلاعب الشيطان بالمشركين في عبادة الأصنام له أسباب عديدة : تلاعب بكلّ قوم على قدر عقولهم ، فطائفة دعاهم إلى عبادتها من جهة تعظيم الموتى الّذين صوّروا تلك الأصنام على صورهم كما تقدّم عن قوم نوح عليه السلام ، ولهذا لعن النبي صلّى الله عليه وسلّم المتّخذين على القبور المساجد والسرج ، ونهى عن الصلاة إلى القبور ، وسأل ربّه سبحانه أن لا يجعل قبره وثنا يعبد ، ونهى أمّته أن يتّخذوا قبره عيدا ، وقال :(( اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد ))، وأمر بتسوية القبور وطمس التماثيل ، فأبى المشركون إلّا خلافه في ذلك كلّه إمّا جهلا وإمّا عنادا لأهل التوحيد، ولم يضرّهم ذلك شيئا، وهذا السبب هو الغالب على عوّام المشركين، وأمّا خواصّهم فإنّهم اتخّذوها بزعمهم على صور الكواكب المؤثّرة في العالم عندهم، وجعلوا لها بيوتا وسدنة وحجابا وحجبا وقربانا، ولم يزل هذا في الدنيا قديما وحديثا“بہت سے اسباب ہیں جن کے ذریعے شیطان نے مشرکین کو بتوں کی عبادت میں ملوث کیا۔ اس نے ہر قوم سے اس کی عقل کے مطابق کھیل کیا۔ ایک گروہ کو بتوں کی عبادت کی طرف دعوت مُردوں کی تعظیم کے ذریعے دی۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کی صورتوں پر مُورتیاں بنائیں جیسا کہ قوم نوح کے بارے میں اس بات کو ہم بیان کر چکے ہیں۔ اسی لیے نبیٔ اکرمنے ایسے لوگوں پر لعنت کی ہے جو قبروں پر مسجدیں بناتے ہیں، نیز آپ نے قبروں کی طرف سے رُخ کر کے نماز پڑھنے سے منع بھی فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی ہے کہ میری قبر کو ایسا بت نہ بنا دینا جس کی عبادت کی جائے ۔ اور اپنی امت کو اپنی قبر کو میلہ گاہ بنانے سے منع بھی فرمایا ہے۔ اور فرمایا: (( اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد )))ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہوا جنہوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا)۔نیز آپنے قبروں کو برابر کرنے اور مُورتیوں کو مٹانے کا حکم فرمایا۔مشرکین نے ان سب باتوں کی مخالفت ہی کی یا اپنی جہالت کی بنا پر یا پھر اہل توحید سے عداوت کی بنا پر حالانکہ اس سے اہل توحید کا کچھ نہیں بگڑا۔ عام مشرکین میں یہی طرز عمل غالب رہا ہے۔ رہے خاص مشرکین تو انہوں نے بت یہ سمجھ کر بنائے تھے کہ یہ بت کائنات میں موجود بااثر ستاروں کی شکل میں ہیں۔ ان مشرکین نے ان بتوں کے لیے آستانوں ، غلافوں ، دربانوں اور قربانیوں کا اہتمام کیا۔ دنیا میں پرانے اور نئے زمانے میں ایسا ہوتا آیا ہے۔”(إغاثة اللهفان :2/222،223)
نیز فرماتے ہیں : فوضع الصنم إنّما كان في الأصل على شكل معبود غائب، فجعلوا الصنم على شكله وهيأته وصورته ليكون نائبا منابه وقائما مقامه، وإلّا فمن المعلوم أنّ عاقلا لا ينحت خشبة أو حجرا بيده ثمّ يعتقد أنّه إلهه ومعبوده “بت بنانے کا آغاز کسی غائب معبود کی شکل میں مُورتی بنانے سے ہوا۔ مشرکین نے اپنے معبود کی شکل و صورت کے مطابق بت بنا لیے تاکہ وہ ان کے معبود کے قائم مقام ہو جائیں ، ورنہ معلوم بات ہے کہ کوئی عاقل اپنے ہاتھ سے کسی لکڑی یا پتھر کو اپنے ہاتھ سے تراش کر اس کے بارے میں یہ اعتقاد نہیں رکھ سکتا کہ وہ اس کا الٰہ اور معبود ہے۔”
(إغاثة اللهفان لابن القيم : ٢/٢٢٤)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.