734

فہم سلف اور اہل حدیث، حافظ ابویحیی نور پوری حفظہ اللہ

اہل حدیث کی خصوصیات میں سے خصوصی شرف و امتیاز یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کے منہج و فہم کے علمبردار ہیں۔وہ اپنی عقل و دانش کی بنیاد پر قرآن و حدیث کو نہیں سمجھتے،بلکہ سلف صحابہ کرام اور ائمہ دین و محدثین کے فہم پر اکتفا کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے مفاہیم و معانی اور مطالب معین کرتے ہیں۔بعض لوگ اس پر بہت سے سطحی اشکالات وارد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو سلف کی تقلید ہوئی اور اہل حدیث تو تقلید کو بُرابھلا کہتے ہیں۔ہاں! اگر اسے لغوی طور پر تقلید،جس کا اطلاق کبھی پیروی پر بھی ہو جاتا ہے،کہہ دیا جائے توکوئی حرج نہیں،لیکن فہم سلف کا التزام اصطلاحی تقلید،یعنی تقلیدِ شخصی نہیں کہلا سکتا،جو کہ مذموم و ممنوع ہے۔یہ تو سلف صالحین کے اجماعی و اتفاقی منہج و فہم کی پیروی ہے، جو کہ سبیل المومنین اور واجب الاتباع ہے۔یہی وجہ ہے کہ سلف کی پیروی اہل حدیث کا شعار ہے۔
جو شخص یا گروہ شرعی نصوص کو صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کے فہم و اجتہاد کے مطابق نہیں سمجھتا،وہ پکا گمراہ ہے۔سلف صالحین کی پیروی درحقیقت رشد و ہدایت اور حق و صداقت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔یہی وہ بنیاد ہے جو امت کو انتشار و افتراق سے بچا سکتی ہے اور معاشرے کو صحیح اسلامی عقائد پر استوار کر سکتی ہے۔
امامِ اندلس،محمد بن وضاح،قرطبی رحمہ اللہ (286-199ھ)فرماتے ہیں :
فَعَلَیْکُمْ بِالِاتِّبَاعِ لِأَئِمَّۃِ الْہُدَی الْمَعْرُوفِینَ، فَقَدْ قَالَ بَعْضُ مَنْ مَّضٰی : کَمْ مِّنْ أَمْرٍ، ہُوَ الْیَوْمَ مَعْرُوفٌ عِنْدَ کَثِیرٍ مِّنَ النَّاسِ، کَانَ مُنْکَرًا عِنْدَ مَنْ مَّضٰی، وَمُتَحَبَّبٌ إِلَیْہِ بِمَا یُبْغِضُہ، عَلَیْہِ، وَمُتَقَرَّبٌ إِلَیْہِ بِمَا یُبْعِدُہ، مِنْہُ، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ عَلَیْہَا زِینَۃٌ وَّبَہْجَۃٌ . ”تم پر معروف ائمہ ہدایت کی پیروی لازم ہے۔سلف میں سے ایک شخص نے فرمایا :بہت سے کام آج اکثر لوگوں میں رائج ہیں، لیکن سلف کے ہاں وہ منکر تھے۔بہت سے کام آج کے لوگوں کو محبوب ہیں،لیکن سلف کے ہاں مبغوض تھے۔بہت سے کام آج کے لوگوں کے تقرب کا ذریعہ ہیں،لیکن یہی کام سلف سے دُوری کا باعث تھے۔ہر بدعت (ظاہری طور پر)خوبصورت اور پررونق نظر آتی ہے۔”
(البدع والنہي عنہا، ص : 89)
قاضی،شریک بن عبد اللہ رحمہ اللہ (م : 177ھ)فرماتے ہیں :
أَمَّا نَحْنُ، فَقَدْ أَخَذْنَا دِینَنَا ہٰذَا عَنِ التَّابِعِینَ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَھُمْ عَمَّنْ أَخَذُوا .
”ہم نے تو اپنا یہ دین تابعین سے لیا ہے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے لیا اور صحابہ کرام نے کس سے لیا(یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں)۔”
(کتاب الأسماء والصفات للبیہقي : 949، وسندہ، صحیحٌ)
شیخ الاسلام،ابو العباس،احمد بن عبد الحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فہم سلف کو اختیار کرنے کی ضرورت کو یوں بیان کرتے ہیں :
وَمَنْ تَدَبَّرَ کَلَامَ أَئِمَّۃِ السُّنَّۃِ الْمَشَاہِیرِ فِي ہٰذَا الْبَابِ، عَلِمَ أَنَّہُمْ کَانُوا أَدَقَّ النَّاسِ نَظَرًا، وَأَعْلَمَ النَّاسِ فِي ہٰذَا الْبَابِ بِصَحِیحِ الْمَنْقُولِ، وَصَرِیحِ الْمَعْقُولِ، وَأَنَّ أَقْوَالَہُمْ ہِيَ الْمُوَافِقَۃُ لِلْمَنْصُوصِ وَالْمَعْقُولِ، وَلِہٰذَا تَأْتَلِفُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَتَتَوَافَقُ وَلَا تَتَنَاقَضُ، وَالَّذِینَ خَالَفُوہُمْ لَمْ یَفْہَمُوا حَقِیقَۃَ أَقْوَالِ السَّلَفِ وَالْـأَئِمَّۃِ، فَلَمْ یَعْرِفُوا حَقِیقَۃَ الْمَنْصُوصِ وَالْمَعْقُولِ، فَتَشَعَّبَتْ بِہِمُ الطُّرُقُ، وَصَارُوا مُخْتَلِفِینَ فِي الْکِتَابِ، مُخَالِفِینَ لِلْکِتَابِ، وَقَدْ قَالَ تَعَالٰی : (وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْ الْکِتَابِ لَفِيْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ) (البقرۃ 2 : 176) .
”جو اس بارے میں مشہور ائمہ سنت کے کلام پر غور کرے گا ،اسے بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ وہ (علومِ دینیہ پر)سب لوگوں سے زیادہ گہری نظر رکھتے تھے اور اس بارے میں صحیح منقول اور صریح منقول دلائل کا سب سے بڑھ کر علم رکھنے والے تھے۔ان کے اقوال نقلی و عقلی دلائل کے عین مطابق ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ باہم ملتے جلتے ہیں، مختلف نہیں ہوتے اور باہم موافق ہیں، متناقض نہیں ہوتے۔جن لوگوں نے ان کی مخالفت کی ہے،وہ سلف اور ائمہ دین کے اقوال کو سمجھ نہیں پائے،نہ وہ نقلی و عقلی دلائل کی حقیقت کو جان سکے ہیں۔اس طرح وہ گمراہ ہو کر وحیِ الٰہی میں اختلاف کا شکار ہو گئے اور اس کے مخالف بن گئے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْ الْکِتَابِ لَفِيْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ)(البقرۃ 2 : 176) (اور جن لوگوں نے کتاب[وحی]میں اختلاف کیا ہے،وہ دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں)۔”(درء تعارض العقل والنقل : 301/2)
قرآنِ کریم میں فہم سلف کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے،فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
(یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أَطِیعُوا اللّٰہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاُولِي الْـاَمْرِ مِنْکُمْ)(النساء 4 : 59)
”اے ایمان والو! اللہ،اس کے رسول اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو۔”
اولی الامر کے اول مصداق صحابہ کرام وتابعین اور ائمہ محدثین ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری صحابہ و تابعین اور ائمہ محدثین کے فہم و منہج کے مطابق کرو۔
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
(فَاِنْ آمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِيْ شِقَاقٍ)(البقرۃ 2 : 137)
”(میرے نبی کے صحابہ!)اگر یہ لوگ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ اس سے پھر گئے تو وہ گمراہی میں ہوں گے۔”
مزید فرمایا :
(وَالسَّابِقُوْنَ الْـاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْـاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ)(التوبۃ 9 : 100)
”مہاجرین اور انصار میں سے پہلے سبقت لے جانے والوں اور ان کی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہو گئے ہیں۔”
یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جس طرح مہاجرین و انصار صحابہ کرام کے لیے ہے ،اسی طرح ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان صحابہ کرام کا اتباع کرتے ہیں۔
صحابہ کرام کا اتباع ان کے فہم و اجتہاد میں کرنا ہے،جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خارجیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے اسی فہمِ صحابہ ہی کو دلیل بنایا تھا۔آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا :
أَتَیْتُکُمْ مِّنْ عِنْدِ صَحَابَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْـأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغَکُمْ مَّا یَقُولُونَ، الْمُخْبَرُونَ بِمَا یَقُولُونَ، فَعَلَیْہِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَہُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْکُمْ .
”میں تمہارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی طرف سے حاضر ہوا ہوں تاکہ تمہیں ان کی بات پہنچاؤں۔وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو (قرآنی و حدیثی دلائل) وہ بیان کرتے ہیں،ان سے باخبر ہیں،ان پر قرآنِ کریم نازل ہوا اور یہ لوگ وحیِ الٰہی کو تم سے بڑھ کر جانتے ہیں۔”
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 151,150/1، ح : 2656، وقال : ہٰذا حدیث صحیحٌ علی شرط مسلم، ووافقہ الذہبيّ، وسندہ، حسنٌ)
امت کے جہالت و ضلالت اور اندھی تقلید سے نکلنے کے لیے فہم سلف کی پیروی ضروری ہے۔جس طرح اہل سنت والجماعت کا ہر گروہ قرآن و سنت کو معیار ِحق قرار دیتا ہے، اسی طرح اس کا ہر فرقہ چار وناچار قرآن وسنت کو فہم سلف کے مطابق سمجھنے کو ضروری قرار دیتا ہے،یوں یہ امت کا اجماعی فیصلہ ہے،لیکن جس طرح قرآن وسنت پر ہر دعویدار عمل نہیں کرتا،اسی طرح فہم سلف کو بھی صرف اہل حدیث ہی صحیح معنوں میں قبول کرتے ہیں۔
ان سطور میں ہم بعض حنفی حضرات کی وہ آراء ذکر کرنا چاہتے ہیں جن میں فہم سلف کی ضرورت و اہمیت اور تقلید کی مذمت بیان ہوئی ہے :
1 علامہ، محمدبن علی بن محمد،ابن ابو العز،حنفی رحمہ اللہ (792-731ھ)فرماتے ہیں :
وَکَیْفَ یَتَکَلَّمُ فِي أُصُولِ الدِّینِ مَنْ لَّا یَتَلَقَّاہُ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَإِنَّمَا یَتَلَقَّاہُ مِنْ قَوْلِ فُلَانٍ؟ وَإِذَا زَعَمَ أَنَّہ، یَأْخُذُہ، مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ لَا یَتَلَقّٰی تَفْسِیرَ کِتَابِ اللّٰہِ مِنْ أَحَادِیثِ الرَّسُولِ، وَلَا یَنْظُرُ فِیہَا، وَلَا فِیمَا قَالَہُ الصَّحَابَۃُ وَالتَّابِعُونَ لَہُمْ بِإِحْسَانٍ، الْمَنْقُولِ إِلَیْنَا عَنِ الثِّقَاتِ النَّقَلَۃِ، الَّذِینَ تَخَیَّرَہُمُ النُّقَّادُ، فَإِنَّہُمْ لَمْ یَنْقُلُوا نَظْمَ الْقُرْآنِ وَحْدَہ،، بَلْ نَقَلُوا نَظْمَہ، وَمَعْنَاہُ، وَلَا کَانُوا یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ کَمَا یَتَعَلَّمُ الصِّبْیَانُ، بَلْ یَتَعَلَّمُونَہ، بِمَعَانِیہِ، وَمَنْ لَّا یَسْلُکُ سَبِیلَہُمْ فَإِنَّمَا یَتَکَلَّمُ بِرَأْیِہٖ، وَمَنْ یَتَکَلَّمُ بِرَأْیِہٖ وَمَا یَظُنُّہ، دِینَ اللّٰہِ، وَلَمْ یَتَلَقَّ ذٰلِکَ مِنَ الْکِتَابِ فَہُوَ مَأْثُومٌ وَّإِنْ أَصَابَ، وَمَنْ أَخَذَ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ فَہُوَ مَأْجُورٌ وَّإِنْ أَخْطَأَ، لٰکِنْ إِنْ أَصَابَ یُضَاعَفُ أَجْرُہ، .
”وہ شخص اصولِ دین کے بارے میں کلام کیسے کر سکتا ہے جس نے یہ اصول کتاب و سنت سے اخذ نہ کیے ہوں، بلکہ کسی شخص کے قول سے لیے ہوں۔اگر وہ قرآنِ کریم سے ان اصولوں کے اخذ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو قرآنِ کریم کی تفسیر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے نہیں لیتا۔وہ نہ احادیث کو دیکھتا ہے ،نہ صحابہ و تابعین کے ان اقوال میں غور کرتا ہے جنہیں ہم تک ان ثقہ راویوں نے پہنچایا ہے جن کو نقاد محدثین نے منتخب کیا تھا۔صحابہ و تابعین (کے اقوال اس لیے ضروری ہیں کہ انہوں)نے صرف قرآنِ کریم کے الفاظ نقل نہیں کیے،بلکہ اس کا معنیٰ بھی نقل کیا ہے۔وہ قرآنِ کریم کو اس طرح نہیں سیکھتے تھے جس طرح بچے (صرف لفظاً)سیکھتے ہیں،بلکہ وہ قرآنِ کریم کو اس کے معانی سمیت سیکھتے تھے۔جو شخص ان کے راستے پر نہیں چلے گا،وہ اپنی رائے سے بات کرے گا اور جو شخص اپنی رائے سے بات کرے گا اور اسے اللہ کا دین سمجھے گا،حالانکہ اس نے یہ رائے وحی سے نہیں لی ہو گی،وہ اگر درست فیصلہ بھی کرے گا تو گناہگار ہو گا۔اس کے مقابلے میں جو شخص کتاب و سنت سے مسئلہ اخذ کرے گا،اگرچہ وہ غلطی پر ہو،اسے اجر ملے گا۔اگر وہ درستی پر ہوا تو اسے دو اجر ملیں گے۔”
(شرح العقیدۃ الطحاویّۃ، ص : 196,195)
یعنی صرف کتاب وسنت کا دعویٰ مبہم ہے،کیونکہ ہر گمراہ فرقہ بھی کتاب و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا مدعی ہے۔فیصلہ کن بات یہ ہے کہ کتاب و سنت کو فہم سلف کے مطابق سمجھا جائے اور وحیِ الٰہی سے ایسا کوئی مسئلہ اخذ نہ کیا جائے،سلف جس کے مخالف ہوں۔
2 علامہ،احمد بن عبد الرحیم،المعروف بہ شاہ ولی اللہ،دہلوی،حنفی(1176-1114ھ) فہم سلف کو فرقہ ناجیہ کا منہج قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
اَلْفرْقَۃُ النَّاجِیَۃُ ہُمُ الْـآخِذُونَ فِي الْعَقِیدَۃِ وَالْعَمَلِ جَمِیعًا، بِمَا ظَہَرَ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَجَرٰی عَلَیْہِ جُمْہُورُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ، وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِیمَا بَیْنَہُمْ فِیمَا لَمْ یَشْتَہِرْ فِیہِ نَصٌّ، وَلَا ظَہَرَ مِنَ الصَّحَابَۃِ اتِّفَاقٌ عَلَیْہِ، اسْتِدْلَالًا مِّنْہُم بِبَعْضِ مَا ہُنَالِکَ، أَوْ تَفْسِیرًا لِّمُجْمَلِہٖ، وَغَیْرُ النَّاجِیَۃِ کُلُّ فِرْقَۃٍ انْتَحَلَتْ عَقِیدَۃً خِلَافَ عَقِیدَۃِ السَّلَفِ، أَوْ عَمَلًا دُونَ أَعْمَالِہِمْ .
”فرقہ ناجیہ(جنتی گروہ)وہ لوگ ہیں جو عقیدہ و عمل دونوں میں وہ بات لیتے ہیں جو کتاب و سنت سے ظاہر ہو اور جس پر جمہور صحابہ و تابعین عمل کرتے ہیں۔ہاں! جن مسائل میں کوئی شرعی نص معروف نہ ہو ،نہ اس سلسلے میں صحابہ کرام کا کوئی اتفاق سامنے آیا ہو، اس میں فرقہ ناجیہ کے لوگ بعض آثار سے استدلال کرتے ہوئے یا مجمل نصوص کی تفسیر کرتے ہوئے آپس میں مختلف ہو سکتے ہیں۔اس کے برعکس غیرناجیہ گروہ ہر وہ فرقہ ہے جو ایسے عقیدے سے منسوب ہو جو سلف صالحین(صحابہ و تابعین)کے خلاف ہے یا ایسا عمل اپنائے جو سلف سے ثابت نہیں۔”(حجۃ اللّٰہ البالغۃ : 170/1)
نیز فرماتے ہیں : إِنَّ الْـأُمَّۃَ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَّعْتَمِدُوا عَلَی السَّلَفِ فِي مَعْرِفَۃِ الشَّرِیعَۃِ، فَالتَّابِعُونَ اعْتَمَدُوا فِي ذٰلِکَ عَلَی الصَّحَابَۃِ، وَتَبَعُ التَّابِعِینَ اعْتَمَدُوا عَلَی التَّابِعِینَ، وَہٰکَذَا فِي کُلِّ طَبَقَۃٍ اعْتَمَدَ الْعُلَمَاءُ عَلٰی مَنْ قَبْلَہُمْ، وَالْعَقْلُ یَدُلُّ عَلٰی حُسْنِ ذٰلِکَ، لِأَنَّ الشَّرِیعَۃَ لَا تُعْرَف إِلَّا بِالنَّقْلِ وَالِاسْتِنْبَاطِ، وَالنَّقْلُ لَا یَسْتَقِیمُ إِلَّا بِأَنْ تَأْخُذَ کُلُّ طَبَقَۃٍ عَمَّنْ قَبْلَہَا بِالِاتِّصَالِ، وََلَا بُدَّ فِي الِاسْتِنْبَاطِ أَنْ تُعْرَفَ مَذَاہِبُ الْمُتَقَدِّمِینَ، لِئَلَّا یَخْرُجَ عَنْ أَقْوَالِہِمْ، فَیَخْرُِقُ الْإِجْمَاعَ .
”امت ِمسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ شریعت کو سمجھنے کے سلسلے میں اپنے سلف پر اعتماد کرتی ہے۔تابعین کرام نے صحابہ پر اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا،اسی طرح ہر طبقے کے اہل علم نے اپنے سے پہلے لوگوں پر اعتماد کیا۔عقل بھی اس طریقے کو اچھا سمجھنے پر دلالت کرتی ہے،کیونکہ شریعت کی معرفت نقل(روایت)اور استنباط دو چیزوں سے ہوتی ہے۔جس طرح روایت صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہر طبقہ اپنے سے پہلے طبقے سے اتصال کے ساتھ لے،اسی طرح استنباط میں بھی ضروری ہے کہ متقدمین کے مذاہب بخوبی معلوم ہوں تاکہ کوئی استنباط سلف کے اقوال سے خارج ہو کر اجماعِ امت کا مخالف نہ ہو جائے۔”(عقد الجید في أحکام الاجتہاد والتقلید، ص : 36)
3 جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی(1352-1292ھ)کہتے ہیں:
”قرآن کریم کی تقریر کو سمجھنے کا سب سے زیادہ قابل اعتماد راستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور صحابہ و تابعین کا تعامل ہے۔”(درس ترمذی از تقی عثمانی : 252/1)
4 جناب شبیر احمد عثمانی،دیوبندی،فلسفی(م : 1369ھ)لکھتے ہیں :
”تَمَسُّک بالقرآن(قرآنِ کریم کو لازم پکڑنے)کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کو اپنی آراء و اہواء کا تختہئ مشق بنا لیا جائے،بلکہ قرآنِ کریم کا مطلب وہ ہی معتبر ہو گا، جو احادیث ِصحیحہ اور سلف صالحین کی متفقہ تصریحات کے خلاف نہ ہو۔”
(تفسیر عثماني، ص : 81، تحت سورہئ بقرہ : 107)
5 حافظ محمد ادریس،کاندھلوی،دیوبندی(م : 1394ھ)لکھتے ہیں :
”اس لیے کتاب و سنت کا مفہوم اور جو علوم کتاب و سنت سے ماخوذ اور مستفاد ہوں گے، وہ وہی ہوں گے جو صحابہ کرام] نے سمجھے ہیں۔ہر بدعتی اور گمراہ اپنے فاسد عقائد کو اپنے زعم اور خیال میں کتاب وسنت ہی سے ماخوذ ہونے کا مدعی ہے،لہٰذا کتاب وسنت کے وہی معانی اور مفاہیم معتبر ہوں گے،جو حضرات صحابہ کرام] نے سمجھے ہیں۔اس کے خلاف کسی مفہوم کا اعتبار نہ ہو گا۔جو شخص صحابہ کرام کے خلاف کتاب وسنت کا کوئی مفہوم بیان کرے،بس یہی اس کے گمراہ اور بے عقل ہونے کی دلیل ہے۔اگر صحابہ] نہیں سمجھے تو یہ نیم عربی داں اور یہ نیم انگریزی خواں کہاں سے سمجھ گیا؟ یہ نیم کی قید اس لیے لگائی کہ پورا عربی داں تو وہی سمجھے گا،جو صحابہ و تابعین اور سلف صالحین نے سمجھا اور پورا انگریزی داں جو عربی سے بالکل بے خبر ہو گا،سو اگر وہ عاقل اور دانا ہو گا تو وہ کتاب و سنت کے بارے میں کچھ لب کشائی نہ کرے گا۔اس لیے کہ عاقل اور دانا اس کتاب کے مطلب بیان کرنے پر کبھی جرأت نہیں کر سکتا،جس کتاب کی وہ زبان نہ جانتا ہو۔جس طرح ایک عربی زبان کا فاضل اور ادیب انگریزی قانون کی شرح کے بارے میں لب کشائی نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک انگریزی داں قرآن و حدیث کی تفسیر پر لب کشائی نہیں کر سکتا اور محض ترجمہ دیکھ کر اپنے کو قانون داں سمجھنا بھی نادان ہونے کی دلیل ہے۔”(عقائد ِاسلام، ص : 166)
نیز لکھتے ہیں : ”یہ فرقے دھوکا دینے کے لیے اسلام کا اور اللہ کا اور اس کے رسول کا نام لیتے ہیں اور آیات اور احادیث کے وہ معنیٰ بیان کرتے ہیں کہ جو صحابہ کرام اور تابعین اور امت کے علمائے ربانیین کے سمجھے ہوئے کے بالکل برعکس ہیں۔اور ظاہر ہے کہ دین وہ ہے جو صحابہ کرام نے سمجھا اور جو اس کے خلاف ہے،وہ کفر اور گمراہی ہے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے دھوکہ میں نہ آئیں۔”(عقائد ِاسلام، ص : 183)
6 جناب سرفراز خان ،صفدر،دیوبندی،حیاتی(2009-1914ئ)لکھتے ہیں :
”اگر انصاف،خدا خوفی اور دیانت کے ساتھ اس بات پر غور کر لیا جائے کہ آخر یہی قرآن و حدیث حضرات ِصحابہ کرام] ، تابعین عظام رحمہم اللہ اور ائمہ دین رحمہم اللہ وبزرگانِ صالحین رحمہم اللہ کے سامنے بھی تھے۔ان کا جو مطلب و معنیٰ اور جو تفسیر و مراد انہوں نے سمجھی، وہی حق اور صواب ہے،باقی سب غلط اور باطل ہے۔پس عوام کا یہ کام ہے کہ ہر باطل پرست اور خواہش زدہ سے یہ سوال کریں کہ فلاں آیت اور فلاں حدیث کی جو مراد تم بیان کر رہے ہو،آیا یہ سلف صالحین سے ثابت ہے؟ اگر ہے تو صحیح و صریح حوالہ بتاؤ۔چشمِ ما روشن، دلِ ما شاد۔ورنہ یہ مراد جو تم بیان کرتے ہو، اس قابل ہے کہ اُسے ؛
ع اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں!
عوام اس قائدہ اور ضابطہ کے بغیر اور کسی طرف نہ جائیں، پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے؟ اور قرآن و حدیث کی مراد کون سی صحیح ہے؟ اگر وہ ایسا نہ کریں گے اور اس میں کوتاہی کریں گے تو ضروریات ِدین میں غلطی کی وجہ سے کبھی عنداللہ سُرخرو نہیں ہو سکیں گے اور اپنی طاقت اور وسعت صَرف نہ کرنے کی وجہ سے جو گناہ قرآن و حدیث کی تحریف کرنے والوں کو ملے گا،اس میں ماننے والے بھی برابر کے شریک ہوں گے۔”(تنقید ِمتین، ص : 180)
نیز لکھتے ہیں : ”بریلوی حضرات کو ٹھنڈے دل سے غور کر لینا چاہیے کہ جو عقائد اور اعمال انہوں نے اختیار کر رکھے ہیں اور دن رات ـجن کی نشر و اشاعت میں وہ کوشاں ہیں،آیا یہ عقائد و اعمال حضرات صحابہ کرام] وتابعین رحمہم اللہ اور سلف صالحین کے تھے؟اگر تھے تو نجات انہی میں ہے اور اگر یہ عقائد و اعمال ان کے نہ تھے تو اپنی نجات کی فکر کریں،ایسا نہ ہو کہ کل پچھتانا پڑے۔
ع فریب خود کو دئیے اور خود ہی پچھتائے !
(تنقید ِمتین، ص : 45)
7 جناب تقی،عثمانی،دیوبندی،حیاتی لکھتے ہیں :
”قرآن و حدیث کا معاملہ انتہائی نازک ہے۔ان کی تفسیر و تشریح میں ہرکس و ناکس کی کتابوں سے استفادہ ٹھیک نہیں۔”(تبصرے، ص : 260,259)
نیز لکھتے ہیں : ”دین کی تشریح و تعبیر حضرات ِصحابہ کرام] کے نقوشِ قدم میں رہنمائی تلاش کیے بغیر ممکن نہیں۔”(تبصرے، ص : 42)
یہ وہ قیمتی باتیں ہیں جن سے تقلید ِناسدید،جو کہ جہالت و ضلالت کا دوسرا نام ہے، کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔سلف صالحین پر اعتماد اور طائفہ منصورہ سے رشتہ استوار ہو جاتا ہے۔یہ اصولی باتیں تب ہی بیان کی جاتی ہیں،جب اہل حدیث کے علاوہ کسی دوسرے گروہ سے پالا پڑے ، جبکہ اہل حدیث کے مقابلے میں ان کا ذکر تک ممنوع ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ قیمتی متاع دراصل مسلک اہل حدیث ہے۔ان زریں اصولی باتوں کی اہل حدیث کے علاوہ کوئی پاسداری نہیں کرتا۔اس لیے اہل حدیث کے عقائد و اعمال وہی ہیں جو سلف صالحین کے تھے۔یہ سلف سے سرِمُو انحراف نہیں کرتے۔
یہ اہل حدیث کے حق ہونے کی دلیل و برہان ہے۔اہل حدیث کے علاوہ کسی بھی فرقے کے پاس باطل اور گمراہی کی سرکوبی کے لیے کوئی سامان نہیں،کیونکہ حق کے ساتھ باطل کا ردّ کیا جا سکتا ہے،نہ کہ باطل کے ساتھ باطل کا۔
مقلدین لوگ جہاں ایک طرف طائفہ منصورہ ائمہ محدثین کی تصریحات کو حق کہتے ہیں،وہاں دوسری طرف فردِ واحد کی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے تقلید ِشخصی کو واجب ہونے کا دعویٰ بلند کرتے ہیں،حالانکہ تقلید ِشخصی سلف صالحین کے عقائد و اعمال سے انحراف کا دوسرا نام ہے۔اس کی ایک دو مثالیں پیشِ خدمت ہیں :
قبروں سے فیض اور فہم سلف :
مشہور دیوبندی،محمد بدر عالم،میرٹھی صاحب دار العلوم دیوبند کے ”شیخ الحدیث” انور شاہ کشمیری،یوبندی کے بارے میں بیان کرتے ہیں :
فَقَدْ سَأَلْتُ عَنْہُ مَرَّۃً عَنِ الِاسْتِفَاضَۃِ مِنْ أَہْلِ الْقُبُورِ، ہَلْ یَجُوزُ ذٰلِکَ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ لِي : أَمَّا الْمُحَدِّثُونَ، فَلَا أَرَاہُمْ یُجَوِّزُونَہ،، وَلٰکِنْ أَجِیزُ أَنَا، لِکَوْنِہٖ ثَابِتًا عِنْدَ أَرْبَابِ الْحَقَائِقِ .
”میں نے ان سے ایک مرتبہ اہل قبور سے فیض حاصل کرنے کے بارے میں سوال کیا کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟تو انہوں نے مجھے فرمایا : جہاں تک محدثین کرام کا تعلق ہے تو میں نے ان کو اس کے جواز کے قائل نہیں پایا۔لیکن میں اسے جائز قرار دیتا ہوں،کیونکہ یہ صوفیوں کے نزدیک ثابت ہے۔”(حاشیۃ فیض الباري : 434/3)
مُردوں سے فیض حاصل کرنے کا یہ نسخہ سلف صالحین،یعنی صحابہ وتابعین اور تبع تابعین میں سے کسی کے پاس نہیں تھا،نہ محدثین کرام کے وہم و گمان میں کبھی گزرا۔کشمیری صاحب نے اسے گمراہ اور ملحد صوفیوں کی گھڑنت جانتے ہوئے بھی دین سمجھ بنا لیا ہے۔کیا فہم سلف کی پاسداری اسی کا نام ہے؟یہی بات تو ہمارے بریلوی بھائی بھی کہتے ہیں۔ان میں اور دیوبندیوں میں کیا فرق رَہ جاتا ہے؟
تقلید اور فہم سلف :
دیوبندیوں کے ”سید الطائفہ” حاجی امداد حسین،المعروف بہ ”امداد اللہ مہاجر مکی” قرآنِ مجید کی معنوی تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں :
”غیر مقلدین انکار ِتقلید کرتے ہیں۔ (یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ) میں (صاف اشارہ، بلکہ تصریحِ) تقلید موجود ہے۔”(امداد المشتاق از اشرف علی تھانوی دیوبندی، ص : 83)
خیرالقرون کے ائمہ اہل سنت،یعنی صحابہ وتابعین اور تبع تابعین میں سے کوئی بھی تقلید کے جواز کا قائل نہیں تھا،نہ کسی نے امداد حسین کی ذکر کردہ اس آیت ِکریمہ سے تقلید کا اشارہ یا تصریح سمجھی۔ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ!

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور تعظیمِ رسول
علامہ،عمر بن علی،بزّار رحمہ اللہ (م : 749ھ)شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وَکَانَ لَا یَذْکُرُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَطُّ، إِلَّا وَیُصَلِّي وَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ، وَلَا وَاللّٰہِ، مَا رَأَیْت أَحَدًا أَشَدَّ تَعْظِیمًا لِّرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَحْرَصَ عَلَی اتِّبَاعِہٖ، وَنَصْرِ مَا جَاءَ بِہٖ مِنْہُ، حَتّٰی إِذَا کَانَ وَرَدَ شَیْئًا مِّنْ حَدِیثِہٖ فِي مَسْأَلَۃٍ، وَیَرٰی أَنَّہ، لَمْ یَنْسَخْہُ شَيْءٌ غَیْرُہ، مِنْ حَدِیثِہٖ، یَعْمَلُ بِہٖ، وَیَقْضِي، وَیُفْتِي بِمُقْتَضَاہُ، وَلَا یلْتَفِتُ إِلٰی قَوْلِ غَیْرِہٖ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ، کَائِنًا مَّنْ کَانَ، وَقَالَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنہُ : کُلُّ قَائِلٍ إِنَّمَا یُحْتَجُّ لِقَوْلِہٖ، لَا بِہٖ، إِلَّا اللّٰہَ وَرَسُولَہ، .
”آپ رحمہ اللہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ فرماتے تو درود وسلام پڑھتے۔اللہ کی قسم! میں نے آپ سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنے والا،متبع سنت اور تعلیمات ِ رسول کی حمایت و نصرت پر حریص کوئی نہیں دیکھا۔حالت یہ تھی کہ جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی غیر منسوخ حدیث آ جاتی تو اس پر عمل کرتے اور اسی کے مطابق فیصلہ و فتویٰ صادر فرماتے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی کے بھی قول کی طرف التفات نہ فرماتے، خواہ وہ کوئی بھی ہوتا۔آپ فرمایا کرتے تھے : اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ہر شخص کے قول کی دلیل طلب کی جائے گی،اسے دلیل نہیں بنایا جائے گا۔”(الأعلام العلیّۃ في مناقب ابن تیمیّۃ، ص : 29 )

تقلید کیا ہے؟
امام اندلس،حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463-368ھ)نے تقلید کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: وَالتَّقْلِیدُ أَنْ تَقُولَ بِقَوْلِہٖ، وَأَنْتَ لَا تَعْرِفُ وَجْہَ الْقَوْلِ، وَلَا مَعْنَاہُ، وَتَأْبٰی مَنْ سِوَاہُ، أَوْ أَنْ یَّتَبَیَّنَ لَکَ خَطَأُہ،، فَتَتَّبِعَہ، مَہَابَۃَ خِلَافِہٖ، وَأَنْتَ قَدْ بَانَ لَکَ فَسَادُ قَوْلِہٖ، وَہٰذَا مُحَرَّمٌ الْقَوْلُ بِہٖ فِي دِینِ اللّٰہِ سُبْحَانَہ، وَتَعَالٰی .
”تقلید یہ ہے کہ آپ اس(معیَّن شخص)کی بات کو تسلیم کر لیں، حالانکہ آپ کو نہ اس کی دلیل معلوم ہو،نہ اس کا معنیٰ اور اس کے علاوہ آپ ہر بات کا انکار کریں۔یا یوں سمجھیں کہ آپ پر اس(معیَّن شخص)کی غلطی واضح ہو جائے تو پھر بھی اس کی مخالفت سے ڈرتے ہوئے اسی کی پیروی کرتے رہیں۔ایسا کرنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت میں حرام ہے۔”
(جامع بیان العلم وفضلہ : 787/2)
علامہ محمد بن احمد بن اسحاق بن خواز،ابوعبد اللہ مصری مالکی کہتے ہیں :
التَّقْلِیدُ، مَعْنَاہُ فِي الشَّرْعِ الرُّجُوعُ إِلٰی قَوْلٍ لَّا حُجَّۃَ لِقَائِلِہٖ عَلَیْہِ، وَہٰذَا مَمْنُوعٌ فِي الشَّرِیعَۃِ . ”تقلید کا اصطلاحی معنیٰ یہ ہے کہ ایسے قول کی طرف رجوع کیا جائے جس کی قائل کے پاس کوئی دلیل نہ ہو۔شریعت ِاسلامیہ میں یہ کام ممنوع ہے۔”(جامع بیان العلم وفضلہ : 992/2)
معلوم ہوا کہ تقلید ممنوع اور خلافِ شرع ہے۔وحی اور دین کے مقابلے میں انسانوں کی آراء کو عقائد و اعمال میں دلیل بنانا اہل ایمان کا شیوا نہیں۔اہل علم و عقل کا اس بات پر اجماع ہے کہ تقلید حرام اور ممنوع ہے۔قرآن و حدیث سے اس کی مذمت ثابت ہے، نیز ضلالت و جہالت کا دوسرا نام تقلید ہے۔
تقلید جہالت ہے :
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463-368ھ)تقلید کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں :
وَالْمُقَلِّدُ لَا عِلْمَ لَہ،، وَلَمْ یَخْتَلِفُوا فِي ذٰلِکَ .
”اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مقلد جاہل مطلق ہوتا ہے۔”
(جامع بیان العلم وفضلہ : 992/2)
شیخ الاسلام ثانی،عالم ربانی،علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751-691ھ)فرماتے ہیں :
وَالتَّقْلِیدُ لَیْسَ بِعِلْمٍ بِاتِّفَاقِ أَھْلِ الْعِلْمِ . ”اہل علم کا اتفاق ہے کہ تقلید،علم نہیں(جہالت ہے)۔”(إعلام الموقّعین عن ربّ العالمین : 169/2)
نیز فرماتے ہیں : فَإِنَّہ، لَیْسَ عِلْمًا بِاتِّفَاقِ النَّاسِ .
”سب مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ تقلید علم نہیں(بلکہ جہالت ہے) ۔”
(إعلام الموقّعین عن ربّ العالمین : 215/2)
تقلید کی خرابیاں :
تقلید وہ بُری مؤنث ہے جو ہر وقت بُرائیاں جنم دیتی رہتی ہے۔اس کے باعث انبیائے کرامoکو قتل کیا گیا،ان کی نبوت کا انکار کیا گیااور ان کی دعوت کو جھٹلایا گیا۔اسی تقلید نے انسانوں کودین الٰہی کا باغی بنا دیا،ان کو اللہ کے دین کے مقابلے میں دین ایجاد کرنے پر اُکسایا، اجماعِ امت کا مخالف بنایا،حق کا دشمن بنایااور سلف صالحین وائمہ دین سے بیگانہ کیا۔ اسی تقلید نے انسانیت سے علم و عقل کا زیور چھین لیا اور وحدت ِامت کا شیرازہ بکھیرتے ہوئے اور مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق پارہ پارہ کرتے ہوئے ہرجگہ منافرت اور کدورتوں کے بیج بو دیئے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تقلید کی قباحتیں ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں :
وَأَمَّا الْمُتَعَصِّبُونَ فَإِنَّہُمْ عَکَسُوا الْقَضِیَّۃَ، وَنَظَرُوا فِي السُّنَّۃِ، فَمَا وَافَقَ أَقْوَالَہُمْ مِّنْہَا قَبِلُوہُ، وَمَا خَالَفَہَا تَحَیَّلُوا فِي رَدِّہٖ أَوْ رَدِّ دَلَالَتِہٖ، وَإِذَا جَاءَ نَظِیرُ ذٰلِکَ أَوْ أَضْعَفُ مِنْہُ سَنَدًا وَدَلَالَۃً، وَکَانَ یُوَافِقُ قَوْلَہُمْ قَبِلُوہُ، وَلَمْ یَسْتَجِیزُوا رَدَّہ،، وَاعْتَرَضُوا بِہٖ عَلٰی مُنَازِعِیہِمْ، وَأَشَاحُوا وَقَرَّرُوا الِاحْتِجَاجَ بِذٰلِکَ السَّنَدِ وَدَلَالَتِہٖ، فَإِذَا جَاءَ ذٰلِکَ السَّنَدُ بِعَیْنِہٖ أَوْ أَقْوٰی مِنْہُ، وَدَلَالَتُہ، کَدَلَالَۃِ ذٰلِکَ أَوْ أَقْوٰی مِنْہُ فِي خِلَافِ قَوْلِہِمْ، دَفَعُوہُ وَلَمْ یَقْبَلُوہُ، وَسَنَذْکُرُ مِنْ ہٰذَا إنْ شَاءَ اللّٰہُ طَرَفًا، عِنْدَ ذِکْرِ غَائِلَۃِ التَّقْلِیدِ وَفَسَادِہٖ، وَالْفَرْقِ بَیْنَہ، وَبَیْنَ الِاتِّبَاعِ . ”متعصب لوگوں نے معاملے کو برعکس کر دیااور جو حدیث اپنے ائمہ کے اقوال کے مطابق ملی، اسے لے لیا اور جو ان کے خلاف معلوم ہوئی ،کسی نہ کسی حیلے سے اسے ردّ کر دیا،اس کامعنیٰ و مفہوم بدلنے کی کوشش کی،اس سے بہت کمزور سند والی اور کمزور دلالت والی حدیث اگر ان کے مذہب کے موافق معلوم ہوئی تو اسے قبول کر لیا، اس کو ردّ کرنے والوں کے سر ہو گئے اور اپنے مخالف کے سامنے اس پَر ڈٹ گئے، اس کے لیے تمام جتن کر ڈالے،حالانکہ خود اپنے امام کے خلاف پا کر اس سے بہت واضح دلالت والی حدیث کو درخوراعتناء نہ سمجھتے ہوئے پورے زور سے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ہم اس طرح کی مثالیں تقلید کی قباحت و شناعت کے بیان میں ذکر کریں گے۔ان شاء اللہ، وہیں پر اس تقلید کی خرابیاں،بُرائیاں اور بیہودگیاں بھی معلوم ہوں گی اور وہیں پر ہم اتباع اور تقلید کا فرق بھی بیان کریں گے۔”(إعلام الموقّعین : 60/1)
شیخ عزّالدین بن عبد السلام رحمہ اللہ (660-577ھ)فرماتے ہیں :
وَمِنَ الْعَجَبِ الْعَجِیبِ أَنَّ الْفُقَہَاءَ الْمُقَلِّدِینَ یَقِفُ أَحَدُہُمْ عَلٰی ضَعْفِ مَأْخَذِ إمَامِہٖ، بِحَیْثُ لَا یَجِدُ لِضَعْفِہٖ مَدْفَعًا، وَمَعَ ہٰذَا یُقَلِّدُہ، فِیہِ، وَیَتْرُکُ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَالْـأَقْیِسَۃِ الصَّحِیحَۃِ لِمَذْہَبِہٖ، جُمُودًا عَلٰی تَقْلِیدِ إمَامِہٖ، بَلْ یَتَحَلَّلُ لِدَفْعِ ظَوَاہِرِ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَیَتَأَوَّلُہُمَا بِالتَّأْوِیلَاتِ الْبَعِیدَۃِ الْبَاطِلَۃِ، نِضَالًا عَنْ مُقَلَّدِہٖ، وَقَدْ رَأَیْنَاہُمْ یَجْتَمِعُونَ فِي الْمَجَالِسِ، فَإِذَا ذُکِرَ لِأَحَدِہِمْ فِي خِلَافٍ مَا وَطَّنَ نَفْسَہ، عَلَیْہِ تَعَجَّبَ مِنْہُ غَایَۃَ التَّعَجُّبِ، مِنْ غَیْرِ اسْتِرْوَاحٍ إلٰی دَلِیلٍ، بَلْ لِّمَا أَلِفَہ، مِنْ تَقْلِیدِ إِمَامِہٖ، حَتّٰی ظَنَّ أَنَّ الْحَقَّ مُنْحَصِرٌ فِي مَذْہَبِ إِمَامِہٖ، وَلَوْ تَدَبَّرَہ، لَکَانَ تَعَجُّبُہ، مِنْ مَّذْہَبِ إِمَامِہٖ أَوْلٰی مِنْ تَعَجُّبِہٖ مِنْ مَذْہَبِ غَیْرِہٖ، فَالْبَحْثُ مَعَ ہَؤُلَاءِ ضَائِعٌ، مُفْضٍ إِلَی التَّقَاطُعِ وَالتَّدَابُرِ، مِنْ غَیْرِ فَائِدَۃٍ یُّجْدِیہَا، وَمَا رَأَیْت أَحَدًا رَجَعَ عَنْ مَذْہَبِ إِمَامِہٖ، إِذَا ظَہَرَ لَہُ الْحَقُّ فِی غَیْرِہٖ، بَلْ یُصِرُّ عَلَیْہِ مَعَ عِلْمِہٖ بِضَعْفِہٖ وَبُعْدِہٖ، فَالْـأَوْلٰی تَرْکُ الْبَحْثِ مَعَ ہَؤُلَائِ، الَّذِینَ إِذَا عَجَزَ أَحَدُہُمْ عَنْ تَمْشِیَۃِ مَذْہَبِ إِمَامِہٖ، قَالَ : لَعَلَّ إمَامِي وَقَفَ عَلٰی دَلِیلٍ لَّمْ أَقِفْ عَلَیْہِ وَلَمْ أَہْتَدِ إِلَیْہِ، وَلَا یَعْلَمُ الْمِسْکِینُ أَنَّ ہٰذَا مُقَابَلٌ بِّمِثْلِہٖ، وَیَفْضُلُ لِخَصْمِہٖ مَا ذَکَرَہ، مِنَ الدَّلِیلِ الْوَاضِحِ وَالْبُرْہَانِ اللَّائِحِ، فَسُبْحَانَ اللّٰہِ، مَا أَکْثَرَ مَنْ أَعْمَی التَّقْلِیدُ بَصَرَہ،، حَتّٰی حَمَلَہ، عَلٰی مِثْلِ مَا ذُکِرَ ! وَفَّقَنَا اللّٰہُ لِاتِّبَاعِ الْحَقِّ، أَیْنَ مَا کَانَ وَعَلٰی لِسَانِ مَنْ ظَہَرَ، وَأَیْنَ ہٰذَا مِنْ مُّنَاظَرَۃِ السَّلَفِ وَمُشَاوَرَتِہِمْ فِي الْـأَحْکَامِ، وَمُسَارَعَتِہِمْ إلَی اتِّبَاعِ الْحَقِّ، إذَا ظَہَرَ عَلَی لِسَانِ الْخَصْمِ .
”کتنی تعجب خیز بات ہے کہ ہر مقلد فقیہ اپنے امام کی کمزور بات پر ڈٹ جاتا ہے، حالانکہ وہ اس کمزوری کا کوئی توڑ بھی نہیں جانتا ہوتا۔پھر بھی وہ اس مسئلے میں اسی امام کی تقلید کرتے ہوئے قرآن و سنت اور قیاسِ صحیح کے روز روشن کی طرح واضح دلائل کو ٹھکرا دیتا ہے۔وہ یہ کام صرف اپنے امام کے مذہب پر جمود کی وجہ سے کرتا ہے۔اسی پر بس نہیں،بلکہ وہ اپنے امام کا ناحق دفاع کرنے کی خاطر قرآن و حدیث کے اصل معانی کو بدلنے اور اس میں دورازکار تاویلات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم نے مقلدین کو علمی مجالس میں جمع ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے،جب ان میں سے کسی کے سامنے ایسی بات کر دی جائے جو اس کے مذہب کے خلاف ہو تو بغیر کوئی دلیل ذکر کیے اسے عجیب و غریب قرار دیتا ہے۔دراصل وہ اپنے امام کی تقلید سے اتنا مانوس ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے امام کے مذہب کے علاوہ کسی مذہب کو حق نہیں سمجھتا۔ایسے لوگوں کے ساتھ بحث فضول ہے،بلکہ اس سے بجائے فائدے کے قطع رحمی اور بغض و کینہ حاصل ہوتا ہے۔میں نے ان لوگوں میں سے کسی کو اپنے امام کے مذہب سے رجوع کرتے ہونے نہیں دیکھا،حالانکہ ان کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہوتی ہے کہ اس مسئلے میں کوئی دوسرا مذہب حق پرہے۔وہ اپنے امام کے مذہب کو کمزور اور دورازکار جاننے کے باوجود بھی اسی کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔جب ان میں سے کوئی اپنے امام کے مذہب کو دلائل سے ثابت کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو کہہ دیتاہے کہ شاید میرے امام کے پاس وہ دلیل ہو جو مجھے معلوم نہیں ہو سکی۔اس بیچارے کو اتنا شعور بھی نہیں ہوتا کہ اسے بھی کوئی مخالف یہی بات کہہ سکتا ہے،بلکہ اس کی طرف سے یہ بیان اس کے مخالف کے لیے زیادہ واضح اور ٹھوس دلیل بن جائے گا۔سبحان اللہ! لوگوں کو تقلید نے کتنا اندھا کر دیا ہے کہ وہ اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کا اتباع کرنے کی توفیق دے،وہ کہیں بھی ہو اور کسی کی زبان پرجاری ہو۔کہاں یہ روَش اور کہاں سلف صالحین کا آپس میں معنیٰ خیز بحث و مباحثہ، مسائل میں ان کی باہمی مشاوت اور مخالف کی زبانی حق کو سن کر اس کی پیروی میں جلدی!۔”
(قواعد الأحکام في مصالح الأنام : 135/2، وفي نسخۃ : 159)
جناب اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب(1943-1863ئ)تقلید کے مفاسد یوں بیان کرتے ہیں: ”اور مفاسد کا ترتب یہ کہ اکثر مقلدین عوام،بلکہ خواص اس قدر جامد ہوتے ہیں کہ قولِ مجتہد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث کان میں پڑتی ہے،ان کے قلب میں انشراح و انبساط نہیں رہتا،بلکہ اول استنکار قلب میں پیدا ہوتا ہے،پھر تاویل کی فکر ہوتی ہے،خواہ کتنی ہی بعید ہو اور خواہ دوسری دلیل قوی اس کے معارض ہو،بلکہ مجتہد کی دلیل اُس مسئلہ میں بجز قیاس کے کچھ بھی نہ ہو،بلکہ خود اپنے دل میں اس تاویل کی وقعت نہ ہو، مگر نصرت ِمذہب کے لیے تاویل ضروری سمجھتے ہیں،دل یہ نہیں مانتا کہ قولِ مجتہد کو چھوڑ کر حدیث صحیح و صریح پر عمل کر لیں۔”(تذکرۃ الرشید : 131/1)
شاہ ولی اللہ دہلوی حنفی(1176-1114ھ)لکھتے ہیں :
فَإِنْ بَلَغَنَا حَدِیثٌ مِّنَ الرَّسُولِ الْمَعْصُومِ، الَّذِي فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْنَا طَاعَتَہ،، بِسَنَدٍ صَالِحٍ یَّدُلُّ عَلٰی خِلَافِ مَذْہَبِہٖ، وَتَرَکْنَا حَدِیثَہ،، وَاتَّبَعْنَا ذٰلِکِ التَّخْمِینَ، فَمَنْ أَظْلَمُ مِنَّا، وَمَا عُذْرُنَا یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ؟
”اگر ہمارے پاس اس رسولِ معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قابل حجت سند کے ساتھ پہنچ جائے،جن کی اطاعت اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کی ہے اوروہ حدیث ہمارے امام کے مذہب کے خلاف جاتی ہو اور ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو چھوڑ کر اس ظن کی پیروی میں لگ جائیں، تو ہم سے بڑا ظالم کون ہو گا اور جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے،اس دن ہمارا کیا عذر ہو گا؟”(حجّۃ اللّٰہ البالغۃ : 156/1)
تقلید میں ردّ حدیث کی دو مثالیں
اب ہم دو مثالیں ذکر کریں گے،جن سے معلوم ہو گا کہ مقلدین اپنے امام کے مذہب کے خلاف حدیث کو کس طرح ردّ کرتے ہیں اور کس طرح اس میں دورازکار اور مضحکہ خیز تاویلات کرتے ہیں۔
مثال نمبر 1 : تقلید اور سواری پر وِتر کی ادائیگی
سواری پر نماز وتر کی ادائیگی اور سنت ِرسولq :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری پر وتر ادا کرنا ثابت ہے، جیسا کہ :
1 صحابی جلیل، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
کَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، حَیْثُ تَوَجَّھَتْ بِہٖ، یُؤْمِي إِیمَائً، صَلَاۃَ اللَّیْلِ، إِلَّا الْفَرَائِضَ، وَیُوتِرُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ باقی نماز سفر میں اپنی سواری ہی پر ادا کر لیتے تھے، اس کا رُخ جس طرف بھی ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارے سے نماز پڑھ لیتے تھے اور وتر بھی سواری پر ادا فرماتے تھے۔”(صحیح البخاري : 136/1، ح : 1000، صحیح مسلم : 244/1، ح : 700)
2 عظیم تابعی،سعید بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَقَالَ سَعِیدٌ : فَلَمَّا خَشِیتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ، فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُہ،، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : أَیْنَ کُنْتَ؟، فَقُلْتُ : خَشِیتُ الصُّبْحَ، فَنَزَلْتُ، فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : أَلَیْسَ لَکَ فِي رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلٰی، وَاللّٰہِ ! قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُوتِرُ عَلَی البَعِیرِ .
”میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا۔جب مجھے صبح صادق طلوع ہونے کا خدشہ ہوا تو میں نے سواری سے نیچے اُتر کر وتر ادا کیے،پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔انہوں نے پوچھا : تم کہاں رَہ گئے تھے؟ میں نے کہا : مجھے صبح صادق طلوع ہونے کا خدشہ ہوا تو میں نے سواری سے اُتر کر وِتر ادا کر لیے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہئ حسنہ قابل عمل نہیں ہے؟میں نے کہا : اللہ کی قسم! کیوں نہیں۔انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وِتر ادا کر لیا کرتے تھے۔”
(صحیح البخاري : 136/1، ح : 999، صحیح مسلم : 244/1، ح : 36/700)
3 نافع تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : کَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی اللہ عنہ یُصَلِّي عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، وَیُوتِرُ عَلَیْھَا، وَیُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَفْعَلُہ، .
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر(نفل)نماز پڑھ لیتے اور وتر بھی اسی پر ادا فرماتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔”
(صحیح البخاري : 1095، صحیح مسلم : 700)
4 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُوتِرُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر ادا فرما لیتے تھے۔”
(السنن الکبرٰی للبیہقي : 6/2، وسندہ، صحیحٌ)
سواری پروِتر اور صحابی ئ رسول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما :
n جریر بن حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُوتِرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ؟ قَالَ : وَہَلْ لِّلْوِتْرِ فَضِیلَۃٌ عَلٰی سَائِرِ التَّطَوُّعِ؟ إِي، وَاللّٰہِ ! لَقَدْ کَانَ یُوتِرُ عَلَیْہَا .
”میں نے نافع (مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ )سے پوچھا کہ کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر وتر ادا کر لیتے تھے؟انہوں نے فرمایا : کیا وِتر کو باقی نوافل پر کوئی فضیلت ہے(کہ وہ سواری پر ادا نہ کیا جا سکتے)؟۔اللہ کی قسم!وہ سواری پر وِتر(بھی)ادا کر لیا کرتے تھے۔”
(السنن الکبرٰی للبیہقي : 6/2، وسندہ، صحیحٌ)
امام عبد اللہ بن دینار تابعی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں:
وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ . ”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر وِتر ادا کیا کرتے تھے۔”(السنن الکبرٰی للنسائي : 456/1، تہذیب الآثار للطبري : 542/1، وسندہ، صحیحٌ)
عظیم تابعی، امام سالم رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں:
إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ کَانَ یُصَلِّي فِي اللَّیْلِ، وَیُوتِرُ رَاکِبًا عَلٰی بَعِیرِہٖ، لَا یُبَالِي حَیْثُ وَجَّہَہ، . ”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو نماز ادا فرماتے تو اپنی سواری پر ہی وتر ادا کر لیا کرتے تھے،اس کا رُخ جس طرف بھی ہوتا۔”
(مسند الإمام أحمد : 105/2، وسندہ، صحیحٌ)
سواری پر نماز وتر کی ادائیگی اور فقہائے امت:
عظیم المرتبت تابعی،فقیہ امت،امام حسن بصری رحمہ اللہ (م : 110ھ)کے بارے میں ہے :
کَانَ الْحَسَنُ لَا یَرٰی بَأْسًا أَنْ یُّوتِرَ الرَّجُلُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ .
”وہ اس بات میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے کہ آدمی اپنی سواری پر وِتر پڑھے۔”
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 98/2، وسندہ، حسنٌ)
امام موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
وَقَدْ رَأَیْتُ أَنَا سَالِمًا یَّصْنَعُ ذٰلِکَ . ”میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ کو سواری پر وِتر ادا کرتے ہوئے دیکھا۔”(مسند الإمام أحمد : 105/2، وسندہ، صحیحٌ)
جلیل القدر تابعی،مشہور فقیہ،نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ (م : 117ھ)کے بیٹے ان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: إِنَّ أَبَاہُ کَانَ یُوتِرُ عَلَی الْبَعِیرِ .
”ان کے والد(نافع رحمہ اللہ ) اونٹ پر وِتر ادا کر لیا کرتے تھے۔”
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 97/2، وسندہ، صحیحٌ)
فقیہ عراق،امام ابو عبد اللہ،سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ (161-97ھ)فرماتے ہیں :
أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ یُّوتِرَ عَلَی الْـأَرْضِ، وَأَيُّ ذٰلِکَ فَعَلَ، أَجْزَأَہ، .
”مجھے زمین پر وتر پڑھنا زیادہ پسند ہے،لیکن جیسے بھی پڑھ لیے جائیں،جائز ہیں۔”
(تھذیب الآثار للطبري : 545/1، وسندہ، صحیحٌ)
امام شافعی رحمہ اللہ سواری پر وتر ادا کرنے کو جائز سمجھتے تھے۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَقَدْ ذَھَبَ بَعْضُ أَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَغَیْرِھِمْ إِلٰی ہٰذَا، وَرَأَوْا أَنْ یُّوتِرَ الرَّجُلُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، وَبِہٖ یَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
”اس حدیث پر بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم نے عمل کیا ہے اور ان کی رائے میں آدمی کا اپنی سواری پر وتر ادا کرنا جائز ہے۔امام شافعی،امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔”(سنن الترمذي، تحت الحدیث : 472)
امام اہل سنت،احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241-164ھ)کے بیٹے ابوفضل صالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : سَأَلْتُ أَبِي : یُوتِرُ الرَّجُلُ عَلٰی بَعِیرِہٖ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَدْ أَوْتَرَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی بَعِیرِہٖ .
”میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا آدمی اپنے اونٹ پر وتر ادا کر سکتا ہے؟انہوں نے فرمایا : ہاں، یقینا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر وتر ادا فرمائے ہیں۔”
(مسائل الإمام أحمد بروایۃ ابنہ أبي الفضل صالح : 257/2، الرقم : 859)
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (238-161ھ)فرماتے ہیں : اَلسُّنَّۃُ الْوِتْرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ فِي السَّفَرِ . ”سفر میں سواری پر وتر ادا کرنا سنت ِرسول ہے۔”
(مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راہویہ للکوسج : 650/2، الرقم : 297)
مشہور امام،ابومحمد،عبد اللہ بن عبد الرحمن بن فضل بن بہرام دارمی رحمہ اللہ (255-181ھ) نے جب سواری پر وتر ادا کرنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تو اُن سے پوچھا گیا : تَأْخُذُ بِہٖ؟ کیا آپ اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا : نَعَمْ . ”ہاں،(میں اس کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں)۔”
(سنن الدارمي : 991/2)
امام اہل سنت،رئیس المفسرین،ابوجعفر،محمدبن جریر،طبری رحمہ اللہ (310-224ھ)سواری پر وتر کے بارے میں اختلاف اور دلائل ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِي الْوِتْرِ رَاکِبًا، قَوْلُ مَنْ أَجَازَہ،، لِمَعَانٍ : أَحَدُہَا صِحَّۃُ الْخَبَرِ الْوَارِدِ عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّہ، کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ، وَہُوَ الْإِمَامُ الْمُقْتَدٰی بِہٖ .
”سواری پر وِتر کی ادئیگی(کے جواز اور عدمِ جواز)کے بارے میں اس شخص کی بات درست ہے،جو اسے جائز کہتا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سواری پر وِتر ادا کرنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث ثابت ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ امام ہیں جن کی اقتدا کی جانی چاہیے۔”(تہذیب الآثار للطبري : 545/5)
امام الائمہ،ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311-223ھ)حدیث ابن عمر پر یوں تبویب فرماتے ہیں :
بَابُ إِبَاحَۃِ الْوِتْرِ عَلَی الرَّاحِلَۃِ . ”سواری پر وتر کے جائز ہونے کا بیان۔”
(صحیح ابن خزیمۃ : 249/2)
امام ابن منذر رحمہ اللہ (319-242ھ)اس کے جواز کو ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ذِکْرُ الْوِتْرِ عَلَی الرَّاحِلَۃِ، ثَبَتَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُوتِرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ .
”سواری پر وتر ادا کرنے کا بیان۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر ادا فرمایا کرتے تھے۔”(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف : 201/5)
علامہ نووی رحمہ اللہ (676-631ھ)نے یوں باب قائم کیا ہے:
بَابُ جَوَازِ الْوِتْرِ جَالِسًا، وَعَلَی الرَّاحِلَۃِ فِي السَّفَرِ .
”اس بات کا بیان کہ بیٹھ کر وتر پڑھنا اور سفر میں سواری پر وتر ادا کرنا جائز ہے۔”
(خلاصۃ الأحکام في مہمّات السنن وقواعد الإسلام : 562/1)
سواری پر نماز وتر کی ادائیگی اور فقہ حنفی:
اس صحیح و ثابت سنت ِرسول،عمل صحابہ، فہم ائمہ دین اور فقہائے امت کے خلاف سواری پر وتر ادا کرنے کے بارے میں فقہ حنفی کا فتویٰ یہ ہے :
وَلَا یَجُوزُ أَنْ یُّوتِرَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ . ”سواری پر وتر ادا کرنا جائز نہیں۔”
(الفتاوی الہندیّۃ المعروف بہ فتاوی عالمگیری : 111/1، البنایۃ شرح الہدایۃ للعیني الحنفي : 477/2، البحر الرائق لابن نجیم الحنفي : 41/2)
سنت ِرسول اور حنفی تاویلات :
قارئین کرام صحیح احادیث سے یہ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ سواری پر وترادا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔جلیل القدر صحابی سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ائمہ دین اور فقہائے امت نے اسے سنت ِرسول ہی بتایا ہے۔
اس صحیح و ثابت سنت ِرسول کو قبول کرنے کی سعادت احناف کے حصے میں نہیں آئی، بلکہ انہوں نے اسے اپنی نام نہاد فقہ کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے اس میں عجیب و غریب تاویلات اور گمراہ کن دعوے کیے ہیں۔آئیے ان تاویلات ِباطلہ کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
تاویل نمبر 1 : دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث،جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب (1933-1875ئ)لکھتے ہیں :
أَمَّا ابْنُ عُمَرَ، فَالْجَوَابُ عِنْدِي أَنَّہ، مِمَّنْ لَّمْ یَکُنْ یُّفَرِّقُ بَیْنَ الْوِتْرِ وَصَلَاۃِ اللَّیْلِ، وَکَانَ یُطْلِقُ الْوِتْرَ عَلَی الْمَجْمُوعِ، فَیُمْکِنُ أَنْ یَّکُونَ مَا ذَکَرَہ، مِنْ وِّتْرِہٖ عَلَی الدَّابَّۃِ، ھِيَ صَلَاۃَ اللَّیْلِ .
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان کا تو میرے پاس یہ جواب ہے کہ وہ وتر اور نماز تہجد میں فرق نہیں کرتے تھے،بلکہ ساری نماز کے لیے وتر ہی کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ممکن ہے کہ انہوں نے سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کا جو ذکر کیا ہے،اس سے مراد تہجد کی نماز ہو۔”
(فیض الباري : 194/3)
علامہ زیلعی حنفی(م : 762ھ)اور علامہ عینی حنفی(م : 855ھ)نے کیا خوب کہا ہے کہ :
اَلْمُقَلِّدُ ذَھْلٌ، وَالْمُقَلِّدُ جَھْلٌ . ”مقلد حقائق سے چشم پوشی کرنے والا اور جاہل ہوتا ہے۔”(نصب الرایۃ للزیلعي : 219/1، 228/3، البنایۃ شرح الہدایۃ للعیني : 317/1)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے فہم پر یہ حملہ دیکھ کر ہمیں بھی بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس مسئلے میں شاہ صاحب نے علم و عقل سے خوب دشمنی کمائی ہے۔یہ احادیث بول بول بتا رہی ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہاں وتر اور تہجدکو نہ خود ایک سمجھا ہے،نہ اپنے شاگرد سعید بن یسار تابعی کے سامنے اسے ایک شمار کیا ہے،بلکہ ان کی مراد سراسر اصطلاحی وتر ہی تھی۔یہ بات ادنیٰ شعور رکھنے والے شخص کو ادنیٰ غوروفکر سے سمجھ میں آ سکتی ہے۔
تابعی سعید بن یسار رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے استفسار پر بتایا تھا کہ :
خَشِیتُ الصُّبْحَ، فَنَزَلْتُ، فَأَوْتَرْتُ .
”مجھے صبح صادق کے طلوع ہونے کا خدشہ ہوا تو میں نے اُتر پر وتر ادا کر لیے۔”
کیا جب اتنا تھوڑا وقت ہو کہ صبح صادق کے طلوع ہونے کا خدشہ ہو رہا ہو تو پوری نماز تہجد ادا کی جا سکتی ہے؟کیا کوئی عقل مند اس طرح کی ہفوات پرکان دَھر سکتا ہے؟
آئیے اب ہم آپ کو یہی بات حدیث ِرسول کی روشنی میں بتاتے ہیں :
إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَہُوَ یَخْطُبُ، فَقَالَ : کَیْفَ صَلاَۃُ اللَّیْلِ؟ فَقَالَ : ‘مَثْنٰی مَثْنٰی، فَإِذَا خَشِیتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَۃٍ’ .
”ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔اس نے پوچھا : رات کی نماز (تہجد)کس طرح پڑھنی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو دو رکعت کر کے۔پھر جب صبح صادق طلوع ہونے کا خدشہ ہو تو ایک وتر ادا کر لے۔”
(صحیح البخاري : 473، صحیح مسلم : 749)
یعنی بقولِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب صبح صادق طلوع ہونے کے قریب ہو تو اصطلاحی وتر ہی ادا کیے جاتے ہیں۔اب کس کس حدیث کی مخالفت پر افسوس کریں! اس حدیث میں خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وتر پڑھنے کا حکم دیا ہے،لیکن احناف اسے بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔بھلا مؤخر الذکر حدیث سننے کے بعد کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ صبح صادق کے طلوع ہونے کے عین قریبی وقت میں وتر پڑھنے سے مراد تہجد پڑھنا ہے؟یہ حدیث بھی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی نے بیان کی ہے۔بھلا وہ کیسے سعید بن یسار کے اصطلاحی وتر کو تہجد سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے تھے؟فہم کی ایسی غلطی میں تو کوئی ادنیٰ شعور رکھنے والا عام آدمی بھی مبتلا نہیں ہو سکتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہماری ذکر کردہ پہلی حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد اور وتر دونوں کو الگ الگ ذکر کر کے یہ صراحت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد اور وتر دونوں کو سواری پر ادا فرمایا کرتے تھے۔کیا اب بھی کوئی یہ بہانہ کر سکے گا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تہجد اور وتر،دونوں کو وتر کہتے تھے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہماری ذکر کردہ تیسری روایت میں نافع تابعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ وتر اپنی سواری ہی پر ادا کر لیا کرتے تھے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ نافع تابعی رحمہ اللہ بھی تہجد کو وتر کہتے تھے؟
چوتھی بات یہ کہ احناف کے متقدمین علماء اس بات کے اقراری تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اصطلاحی وِتر ہی ادا کیے تھے۔آئندہ اعتراض کے ضمن میں امام طحاوی حنفی کا یہ اعتراف آپ ملاحظہ فرما لیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواری پر وِتر سے مراد تہجد لینا خالص کشمیری اختراع ہے۔ہمارے علم کے مطابق ان سے پہلے کسی مسلمان نے ایسا نہیں کہا۔
پانچویں بات یہ کہ سعید بن یسار تابعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث سن کر کوئی معارضہ نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ میں نے تو وتر ادا کیا ہے،جبکہ آپ کی بیان کردہ حدیث کے مطابق تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر نہیں،بلکہ تہجد کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ پھر ائمہ دین اور فقہائے امت کا فہم اس پر مستزاد ہے۔امام شافعی،امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابن خزیمہ وغیرہم رحمہم اللہ کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواری پر وتر کو بَابُ الْوِتْرِ عَلَی الدَّابَّۃِ (سواری پر وتر پڑھنے کا بیان)کی تبویب کر کے اصطلاحی وتر ہی سمجھا ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ کے اجتہاد اور ان کی فقاہت کا اعتراف کرتے ہوئے تو خود انورشاہ کشمیری صاحب نے لکھا ہے:
فَإِنَّہ، لَیْسَ بِمُقَلِّدٍ لِّلْـأَحْنَافِ وَالشَّافِعِیَّۃِ . ”امام بخاری رحمہ اللہ حنفی یا شافعی مقلد نہیں تھے۔”(العرف الشذي : 106/1)
یعنی ان احادیث میں وتر سے اصطلاحی وتر ہی مراد ہے،مجتہدین امت کا یہی فیصلہ ہے،ایسا نہیں کہ ہم احناف کی مخالفت میں ایسا کر رہے ہیں۔جن محدثین کرام نے احادیث پر فقہی تبویب کی ہے،سب نے اس حدیث سے اصطلاحی وِتر ہی مراد لیا ہے۔
اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے باوجود بھی مقلدین واضح احادیث کی باطل تاویلات پر اُتر آتے ہیں،کیونکہ انہوں نے حدیث کے خلاف اپنے امام کی ”لایجوز” کی لاج جو رکھنی ہے،خواہ انہیں منکرینِحدیث کا انداز ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔ہم تو حدیث کی مخالفت پر ایسے لوگوں سے وہی سوال کریں گے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سعید بن یسار تابعی سے سواری پر وتر نہ پڑھنے پر فرمایا تھا کہ :
أَمَا لَکَ فِي رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ .
”کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہئ حسنہ قابل عمل نہیں ہے؟”
فرق صرف یہ ہے کہ سعید بن یسار تابعی رحمہ اللہ نے تو حدیث کا علم نہ ہونے کی بنا پر ایسا کیا تھا،لیکن ہمارے احناف بھائی نہ صرف حدیث کو بخوبی جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں، بلکہ اس سنت سے روکنے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے بھی اپناتے ہیں، جن سے فہم صحابہ و فقاہت ِفقہائے امت کی فقاہت پر سخت زَد آتی ہے۔اہل انصاف کو غور وفکر کی دردمندانہ اپیل ہے!
اعتراض نمبر 2 : امام طحاوی حنفی لکھتے ہیں :
فَیَجُوزُ أَنْ یَّکُونَ مَا رَوَی ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ وِّتْرِہٖ عَلَی الرَّاحِلَۃِ کَانَ ذٰلِکَ مِنْہُ قَبْلَ تَأْکِیدِہٖ إِیَّاہُ، ثُمَّ أَکَّدَہ، مِنْ بَعْدِ نَسْخِ ذٰلِکَ . ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سواری پر وِتر پڑھنا ذکر کیا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ وِتر کی تاکید(وجوب)سے پہلے کا واقعہ ہو،پھر اس کے نسخ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وِتر کی تاکید کر دی ہو۔”(شرح معاني الآثار : 430/1)
امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ کے دعویئ نسخ پر شارحِ صحیح بخاری،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852-773ھ) یوں تبصرہ فرماتے ہیں :
لٰکِنَّہ، یُکْثِرُ مِنِ ادِّعَاءِ النَّسْخِ بِالِاحْتِمَالِ . ”لیکن امام طحاوی محض احتمال کی بنا پر بکثرت نسخ کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔”(فتح الباري في شرح صحیح البخاري : 487/9)
جب اپنا فقہی مذہب حدیث کے خلاف ہو اور کوئی جواب نہ بن پڑے تو آلہ نسخ کا بلادریغ استعمال کرتے ہوئے احادیث کو ردّ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز وتر کے وجوب کی حقیقت ایک مفروضے سے بڑھ کر نہیں،دلائل شرعیہ یہی بتاتے ہیں کہ نماز وتر نفل ہی ہے۔دوسرے کوئی احناف سے پوچھے کہ نماز وتر کی تاکید کب ہوئی؟جب تک ٹھوس قرائن و شواہد سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ کون سا معاملہ پہلے کا اور کون سا بعد کا ہے، اس وقت تک نسخ کا دعویٰ ہی مردُود ہوتا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ (458-384ھ)سواری پر وتر پڑھنے کو منسوخ کہنے کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وَلَا یَجُوزُ دَعْوَی النَّسْخِ فِیمَا رُوِّینَا فِي ذَلِکَ، بِمَا رُوِيَ فِي تَأْکِیدِ الْوِتْرِ، مِنْ غَیْرِ تَارِیخٍ، وَلَا سَبَبٍ، یَدُلُّ عَلَی النَّسْخِ .
”وِتر کی تاکید والی حدیث سے سواری پر وِتر کی ادائیگی کے بارے میں مروی حدیث کے منسوخ ہونے کا دعویٰ جائز نہیں۔دعویئ نسخ پر وقت کا علم،کوئی تاریخ یا کوئی سبب موجود نہیں۔”(معرفۃ السنن والآثار : 448/3)
وَمَا رُوِيَ فِي تَأْکِیدِ الْوِتْرِ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہ، أَوَّلُ مَا شَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوِتْرَ، وَإِنَّمَا صَلَّاہَا عَلَی الرَّاحِلَۃِ، بَعْدَ مَا شَرَعَہَا، وَأَخْبَرَ أُمَّتَہ، بِأَمْرِہِمْ بِہَا، إِنْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ عَنْہُ، فَکَیْفَ یَکُونُ ذٰلِکَ نَاسِخًا لِّمَا صَنَعَ فِیہَا بَعْدَہ، ؟
”وِتر کی تاکید کے بارے میں جو احادیث مروی ہیں،اگر وہ صحیح ہیں تو،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز ِوتر کی مشروعیت کے بالکل آغاز کی بات ہے، جبکہ سواری پر وِترنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشروعیت اور اس کی تاکید کے بعد پڑھے ہیں۔پھر یہ تاکید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والے عمل (سواری پر وِتر)کو کیسے منسوخ کر سکتی ہے؟۔”(معرفۃ السنن والآثار : 447/3)
اہل خرد انصاف کریں کہ صحابی ئ رسول سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سواری پر وِتر ادا کرنے کو امت کے لیے بیان کرتے ہیں،وہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سواری پر وتر ادا کرتے تھے اور اسے اسوہئ حسنہ قرار دے کر دوسروں کو اس کی تاکید بھی کرتے تھے۔ اگر سواری پر وتر ادا کرنا منسوخ ہو چکا تھا تو انہیں کیوں علم نہ ہوا؟امام طحاوی حنفی سے پہلے، سوا تین سو سال تک،کسی امام و فقیہ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سواری پر وتر ادا کرنا منسوخ ہو چکا ہے۔اس پر مستزاد کہ امام بیہقی رحمہ اللہ جیسے محدثِ شہیر نے اس کا سختی سے علمی ردّ بھی کر دیا ہے۔
علامہ عبد الحئی حنفی نے بھی امام طحاوی کے دعویئ نسخ کا ردّ کرتے ہوئے لکھا ہے:
وَفِیہِ نَظَرٌ لَّا یَخْفٰی، إِذْ لَا سَبِیلَ إِلٰی إِثْبَاتِ النَّسْخِ بِالِاحْتِمَالِ مَا لَمْ یُعْلَمْ ذٰلِکَ بِنَصٍّ وَارِدٍ فِي ذٰلِکَ .
”امام طحاوی حنفی کا دعویئ نسخ واضح طور پر مردودہے،کیونکہ نسخ کبھی بھی احتمال کے ساتھ ثابت نہیں ہوتا،جب تک اس بارے میں قرآن وسنت کی واضح تعلیمات معلوم نہ ہو جائیں۔”
(التعلیق الممجّد علی مؤطّإ مالک : 133)
تنبیہ : اگر کوئی کہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے :
إِنَّہ، کَانَ یُصَلِّي عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، وَیُوتِرُ بِالْـأَرْضِ، وَیَزْعَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ .
”وہ سواری پر(نفل)نماز ادا کرتے تھے،پھر وتر زمین پر ادا فرماتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔”(شرح معاني الآثار للطحاوي : 429/1، وسندہ، صحیحٌ)
تو ایسا کرنا بالکل جائز اور درست ہے۔سواری پر وِتر ادا کیے جائیں یا زمین پر،دونوں صورتیں بالکل درست ہیں۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس عمل کو سواری پر وِتر ادا کرنے کے خلاف پیش کرنا دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں،کیونکہ ہم ان سے سواری پر وِتر ادا کرنے کے بارے میں ان کے کئی شاگردوں کی صحیح الاسناد روایات پیش کر چکے ہیں۔
اگر پھر بھی کسی کو کوئی شبہ ہو تو وہ یہ روایت پڑھ لے۔نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں :
إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ رُبَّمَا أَوْتَرَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ، وَرُبَّمَا نَزَلَ .
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کبھی سواری پر وتر ادا فرماتے اور کبھی نیچے اُتر کر۔”
(تہذیب الآثار للطبري : 541/1، سنن الدارقطني : 339/2، وسندہ، صحیحٌ)
معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سواری سے اُتر کر وِتر ادا کرنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ سواری پر وتر کو ناجائز سمجھتے تھے،کیونکہ خود ان سے سواری پر وِتر ادا کرنا بھی ثابت ہے،یعنی وہ حدیث ِرسول کی روشنی میں دونوں صورتوں کو جائز سمجھتے تھے۔
امام ابن منذر رحمہ اللہ (319-242ھ)فرماتے ہیں :
أَمَّا نُزُولُ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَّاحِلَتِہٖ حَتّٰی أَوْتَرَ بِالْـأَرْضِ، فَمِنَ الْمُبَاحِ، إِنْ شَاءَ الَّذِي یُصَلِّي الْوِتْرَ صَلّٰی عَلَی الرَّاحِلَۃِ، وَإِنْ شَاءَ صَلّٰی عَلَی الْـأَرْضِ، أَيَّ ذٰلِکَ فَعَلَ یُجْزِیہِ، وَقَدْ فَعَلَ ابْنُ عُمَرَ الْفِعْلَیْنِ جَمِیعًا، رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہ، کَانَ رُبَّمَا أَوْتَرَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، وَرُبَّمَا نَزَلَ، وَالْوِتْرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ جَائِزٌ، لِلثَّابِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہ، أَوْتَرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ، وَیَدُلُّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْوِتْرَ تَطَوُّعٌ، خِلَافَ قَوْلِ مَنْ شَذَّ عَنْ أَہْلِ الْعِلْمِ، وَخَالَفَ السُّنَّۃَ، فَزَعَمَ أَنَّ الْوِتْرَ فَرْضٌ .
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سواری سے اُتر کر وِتر ادا کرنا جواز کی دلیل ہے۔ وِتر پڑھنے والا چاہے تو سواری پر پڑھ لے اور چاہے تو اُتر کر۔دونوں صورتیں جائز ہیں۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دونوں طرح سے وِتر پڑھے ہیں۔ہمیں یہ روایت مل گئی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کبھی سواری پر وِتر ادا فرماتے اور کبھی اُتر کر۔سواری پر وتر ادا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث کی بنا پر جائز ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وتر نفل ہے،جن لوگوں نے اہل علم(سلف صالحین) اور سنت کی مخالفت میں وتر کو فرض سمجھا ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔”
(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف : 247/5)
امام طبری رحمہ اللہ اس بارے میں فرماتے ہیں :
وَأَمَّا مَا رُوِيَ فِي ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّہ، کَانَ یُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاللَّیْلِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یُّوتِرَ نَزَلَ، فَأَوْتَرَ عَلَی الْـأَرْضِ، فَإِنَّہ، لَا حُجَّۃَ فِیہِ لِمُحْتَجٍّ بِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہ، کَانَ لَا یَرٰی جَائِزًا لِّلْمَرْءِ أَنْ یُّوتِرَ رَاکِبًا، وَأَنَّہ، کَانَ یَرٰی أَنَّ الْوِتْرَ فَرْضٌ کَسَائِرِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَاتِ، وَذٰلِکَ أَنَّہ، جَائِزٌ أَنْ یَّکُونَ نُزُولُہ، لِلْوِتْرِ إِلَی الْـأَرْضِ کَانَ اخْتِیَارًا مِنْہُ ذٰلِکَ لِنَفْسِہٖ، وَطَلَبًا لِّلْفَضْلِ لَا عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ عِنْدَہُ الْوَاجِبُ عَلَیْہِ الَّذِي لَا یَجُوزُ غَیْرُہ،، ہٰذَا لَوْ لَمْ یَکُنْ وَّرَدَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ خَبَرٌ، فَکَیْفَ وَالْـأَخْبَارُ عَنْہُ بِخِلَافِ ذٰلِکَ مِنَ الْفِعْلِ مُتَظَاہِرَۃٌ ؟
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو یہ روایت ہے کہ وہ رات کو نفل نماز سواری پر ادا فرماتے اور جب وِتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اُتر کر زمین پر ادا کرتے،اس میں کسی کے لیے یہ دلیل نہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر وِتر کو ناجائز سمجھتے ہوئے کرتے تھے یا وہ وِتر کو فرضی نمازوں کی طرح فرض سمجھتے تھے،بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زمین پر اُتر کر زیادہ ثواب کے لیے ایسا کرتے تھے،اس لیے نہیں کہ وہ اسے ضروری سمجھتے تھے۔ اگر اُن سے اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہ ہو تو بھی اس روایت سے یہی ثابت ہو گا،چہ جائیکہ اس کے خلاف اُن سے (سواری پر وِتر ادا کرنے کی)بہت سی روایات ثابت ہیں۔”
(تہذیب الآثار : 541/1)
امام بیہقی رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سواری سے اُتر کر وِتر پڑھنے کے بارے میں فرماتے ہیں: وَقَدْ ذَکَرْنَا ۔۔۔ وِتْرَ عَلِيٍّ وَّابْنِ عُمَرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ، بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنُزُولُ ابْنِ عُمَرَ لِوِتْرِہٖ لَا یَرْفَعُ جَوَازَہ، عَلَی الرَّاحِلَۃِ .
”ہم ذکر کر چکے ہیں کہ۔۔۔سیدنا علی اور سیدنا ابن عمرy رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سواری پر وِتر ادا فرماتے تھے۔جبکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سواری سے اُتر کر وِتر ادا کرنا سواری پر وِتر ادا کرنے کے جواز کو ختم نہیں کرتا۔”(معرفۃ السنن والآثار 448/3)
امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس عمل کے بارے میں فرماتے ہیں:
وَوِتْرُہ، عَلَی الْـأَرْضِ فِیمَا لَا یَنْفِي أَنْ یَّکُونَ قَدْ کَانَ یُوتِرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ أَیْضًا، ثُمَّ جَاءَ سَالِمٌ وَّنَافِعٌ وَّأَبُو الْحُبَابِ، فَأَخْبَرُوا عَنْہُ أَنَّہ، کَانَ یُوتِرُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ .
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا زمین پر وِتر ادا کرنا اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ وہ سواری پر بھی وِتر ادا فرمایا کرتے تھے۔پھر سالم،نافع اور ابو الحباب نے یہ بیان بھی کر دیا ہے کہ وہ سواری پر وِتر ادا فرمایا کرتے تھے۔”(شرح معاني الآثار : 430/1)
شارحِ بخاری،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852-773ھ)فرماتے ہیں:
قَالَ الطَّحَاوِيُّ : ذُکِرَ عَنِ الْکُوفِیِّینَ أَنّ الْوِتْرَ لَا یُصَلّٰی عَلَی الرَّاحِلَۃِ، وَھُوَ خِلَافُ السُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ، وَاسْتَدَلَّ بَعْضُہُمْ بِرِوَایَۃِ مُجَاہِدٍ أَنَّہ، رَأَی ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ بِمُعَارِضٍ، لِکَوْنِہٖ أَوْتَرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ، لِأَنَّہ، لَا نَزَاعَ أَنَّ صَلَاتَہ، عَلَی الْـأَرْضِ أَفْضَلُ .
”امام طحاوی نے کوفیوں سے یہ بات ذکر کی ہے کہ سواری پر وِتر نہ پڑھے جائیں۔یہ بات ثابت شدہ سنت ِنبوی کے خلاف ہے۔بعض لوگوں نے امام مجاہد کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اُتر کر زمین پر وِتر ادا کیے۔لیکن یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سواری پر وِتر ادا کرنے کے خلاف نہیں، کیونکہ بالاتفاق زمین پر وِتر کرنا افضل ہے۔”(فتح الباري : 488/2)
اعتراض نمبر 3 : جناب تقی عثمانی دیوبندی حیاتی لکھتے ہیں:
”امام طحاوی فرماتے ہیں کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ وِتر کو قدرت علی القیام کی صورت میں قاعداً (بیٹھ کر)پڑھنا جائز نہیں،جس کا تقاضا ہے کہ وتر علی الراحلہ(سواری پر) بطریق اولیٰ ناجائز ہو، کیونکہ راحلہ(سواری)پر نماز نہ صرف قیام سے بلکہ استقبالِ قبلہ اور قعود(بیٹھنے)کی ہیئت ِمسنونہ سے بھی خالی ہوتی ہے۔”(تقریر ترمذی : 244/1)
”عقل بڑی کہ بھینس؟”کی مصداق یہ وہ رائے ہے جس کی محدثین کرام مذمت کرتے ہیں۔صحیح و صریح سنت ِنبوی کے خلاف یہ قیاس کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر نماز ِوتر ادا کی ہے تو پھر یہ اعتراض کیسا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نماز جائز تھی یا ناجائز؟اگر جائز تھی تو اس حیلہ و حجت سازی کا کیا جواز؟
اعتراض نمبر 4 : شارحِ ہدایہ،ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں:
إِنَّہ، وَاقِعَۃُ حَالٍ، لَا عُمُومَ لَہَا، فَیَجُوزُ کَوْنُ ذٰلِکَ لِعُذْرٍ، وَالِاتِّفَاقُ عَلٰی أَنَّ الْفَرْضَ یُصَلّٰی عَلَی الدَّابَّۃِ لِعُذْرِ الطِّینِ وَالْمَطَرِ وَنَحْوِہٖ .
”یہ خاص واقعہ ہے،اس میں عموم نہیں۔ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عُذر کی بنا پر سواری پر وِتر ادا کیاہو اور اس بات پر اتفاق ہے کہ کیچڑاور بارش کی مجبوری میں فرائض سواری پر ادا کیے جا سکتے ہیں۔”(فتح القدیر : 371/1)
راویئ حدیث،صحابی ئ جلیل،سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسے اُسوہئ حسنہ قرار دے کر یہ تعلیم دے رہے کہ سواری پر وِتر جائز ہے اور اس کے خلاف ابن ہمام صاحب اسے ایک خاص واقعہ کہہ کر سواری پر وِتر کو ناجائز قرار دے رہے ہیں۔ائمہ محدثین کے فہم کے مطابق یہ سنت ِرسول ہے،جبکہ احناف بغیر دلیل شرعی کے نماز وتر کی سواری پر ادائیگی کو ناجائز کہتے ہیں۔اسی بنا پر محدثین کرام ان کو مخالف ِسنت سمجھتے ہیں۔
کیا صحابہ و تابعین اور ائمہ دین میں سے کسی کو یہ بات معلوم نہ ہو سکی کہ یہ ایک خاص واقعہ ہے؟صرف ابن ہمام کو یہ بات سوجھی ہے۔
یہ ہے تقلید کا بھیانک انجام کہ مقلدین کو اپنے امام کا بے دلیل مذہب بچانے کی خاطر کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اور نتیجے میں سوائے سنت کی مخالفت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تقلید اور تعصب کو چھوڑ کر ہمیں سنت ِرسول پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مثال نمبر 2 : تقلیداورجانور کے پیٹ کا بچہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‘ذَکَاۃُ الْجَنِینِ ذَکَاۃُ أُمِّہٖ’ . ”اپنی ماں کے ذبح ہونے سے پیٹ کا بچہ بھی ذبح ہو جاتا ہے۔”(مسند الإمام أحمد : 39/3، سنن الدارقطني : 274/4، السنن الکبرٰی للبیہقي : 335/9، وسندہ، حسنٌ)
اس حدیث کے راوی یونس بن ابو اسحاق سبیعی،صحیح مسلم کے راوی ہیں اور جمہور محدثین کرام کے نزدیک ثقہ ہیں۔ان پر تدلیس کا الزام ثابت نہیں۔ان کے بارے میں امام یحییٰ بن معین(سؤالات ابن الجنید : 430)،امام عجلی(تاریخ الثقات : 486)،امام ابن سعد(الطبقات الکبرٰی : 344/6) رحمہم اللہ نے ثقہ، امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 244/9، وسندہ، صحیحٌ)نے لم یکن بہٖ بأس (ان میں کوئی خرابی نہیں)اور امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ (أیضًا)نے کَانَ صَدُوقًا(یہ سچے تھے)کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 650/7)اور امام ابن شاہین رحمہ اللہ (الثقات : 1621) نے انہیں ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَہ، أَحَادِیثُ حِسَانٌ .
”انہوں نے حسن درجے کی احادیث بیان کی ہیں۔”(الکامل في ضعفاء الرجال : 179/7)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَھُوَ حَسَنُ الْحَدِیثِ .
”یہ حسن الحدیث راوی ہیں۔”(سیر أعلام النبلاء : 27/7)
نیز انہیں ثقہ بھی قرار دیا ہے۔(من تکلّم فیہ وہو موثّق : 393)
اس روایت کے دوسرے راوی ابو ودّاک جبر بن نوف بکالی بھی ثقہ ہیں۔
ان کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَلَمْ أَرَ مَنْ ضَعَّفَہ،، وَقَدِ احْتَجَّ بِہٖ مُسْلِمٌ .
”میں نہیں جانتا کہ انہیں کسی نے ضعیف قرار دیا ہو،البتہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ان کی حدیث سے حجت لی ہے۔”(التلخیص الحبیر : 157/4، ح : 2009)
اس حدیث کو امام ابن حبان(صحیح ابن حبان : 5889)نے ”صحیح” قرار دیا ہے۔
حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن”کہا ہے۔(مختصر السنن : 120/4)
حافظ نووی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو ”صحیح” کہا ہے۔(المجموع : 562/2)
نیز فرماتے ہیں: وَہُوَ حَدِیثٌ حَسَنٌ . ”یہ حدیث حسن ہے۔”
(تہذیب الأسماء واللّغات : 111/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ،علامہ غزالی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فَقَالَ : ہُوَ حَدِیثٌ صَحِیحٌ، وَتَبِعَ فِي ذٰلِکَ إِمَامَہ، (إِمَامُ الْحَرَمَیْنِ الْجُوَیْنِيُّ) .
”انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، اس سلسلے میں انہوں نے اپنے امام(امام الحرمین جُوَیْنِی)کی پیروی کی ہے۔”(التلخیص الحبیر : 157/4)
علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح”قرار دیا ہے۔(أیضًا)
خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہٰذِہٖ مُتَابَعَۃٌ قَوِیَّۃٌ .
”یہ مضبوط متابعت ہے۔”(أیضًا)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر بکری،گائے،اونٹنی وغیرہ کو ذبح کیا جائے تو اس کے پیٹ میں جو بچہ ہو گا،وہ بھی ذبح ہو جائے گا اور اس کا کھانا حلال ہو گا۔یہ اہل حق کا اجماعی مسئلہ ہے۔
اس کے برعکس امام ابوحنیفہ اور ان کے مقلدین کے نزدیک ایسے بچے کا کھانا حرام ہے۔ ان کے نزدیک اپنی ماں کے ذبح ہونے سے وہ بچہ ذبح نہیں ہو گا۔اسے کھانا ناجائز ہے۔
(المبسوط للسرخسي : 6/12، الہدایۃ للمرغیناني : 351/4، بدائع الصنائع للکاساني : 421/5، النتف في الفتاوی للسعدي : 228/1، البحر الرائق لابن نجیم : 195/8، مجمع الأنہر في شرح ملتقی الأبحر لشیخي زادہ : 512/2، ردّ المحتار علی الدّر المختار : 304/6)
یہ موقف صحیح احادیث،اجماعِ امت اور فہم محدثین کے سراسر خلاف ہے۔یہ بے اصل اور بے دلیل بات ہے،جیسا کہ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319-242ھ)فرماتے ہیں:
لَمْ یُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِّنْ أَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ وَسَائِرِ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْجَنِینَ لَا یُؤْکَلُ، إِلَّا بِاسْتِئْنَافِ الذَّکَاۃِ فِیہِ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِیفَۃَ، وَلَا أَحْسِبُ أَصْحَابَہ، وَافَقُوہُ عَلَیْہِ .
”صحابہ و تابعین اور باقی اہل علم میں سے کسی سے بھی یہ بات مروی نہیں کہ (حلال جانور کے)پیٹ کے بچے کو الگ ذبح کیے بغیر نہیں کھایا جا سکتا۔صرف امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کیا گیا ہے۔میرا نہیں خیال کہ اس مسئلے میں ان کے شاگردوں نے بھی ان کی موافقت کی ہو۔”(نصب الرایۃ للزیلعي الحنفي : 192/4)
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (463-368ھ)فرماتے ہیں:
وَأَمَّا قَوْلُ أَبِي حَنِیفَۃَ وَزُفَرَ، فَلَیْسَ لَہ، فِي حَدِیثِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَلَا فِي قَوْلِ أَصْحَابِہٖ، وَلَا فِي قَوْلِ الْجُمْہُورِ أَصْلٌ .
”امام ابوحنیفہ اور زُفَر کے قول کی کوئی دلیل نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں موجود ہے، نہ صحابہ کرام کے اقوال میں،نہ جمہور اہل علم کے مذہب میں۔”(الاستذکار : 265/5)
شیخ الاسلام ثانی،علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (751-691ھ)فرماتے ہیں:
رَدُّ السُّنَّۃِ الصَّحِیحَۃِ الصَّرِیحَۃِ الْمُحْکَمَۃِ بِأَنَّ ذَکَاۃَ الْجَنِینِ ذَکَاۃُ أُمِّہٖ، بِأَنَّہَا خِلَافُ الْـأُصُولِ، وَہُوَ تَحْرِیمُ الْمَیْتَۃِ، فَیُقَالُ : الَّذِي جَاءَ عَلٰی لِسَانِہٖ تَحْرِیمُ الْمَیْتَۃِ ہُوَ الَّذِي أَبَاحَ الْـأَجِنَّۃَ الْمَذْکُورَۃَ، فَلَوْ قُدِّرَ أَنَّہَا مَیْتَۃٌ لَکَانَ اسْتِثْنَاؤُہَا بِمَنْزِلَۃِ اسْتِثْنَاءِ السَّمَکِ وَالْجَرَادِ مِنَ الْمَیْتَۃِ، فَکَیْفَ وَلَیْسَتْ بِمَیْتَۃٍ؟ فَإِنَّہَا جُزْءٌ مِّنْ أَجْزَاء ِ الْـأُمِ،ّ وَالذَّکَاۃُ قَدْ أَتَتْ عَلٰی جَمِیعِ أَجْزَائِہَا، فَلَا یَحْتَاجُ أَنْ یُّفْرَدَ کُلُّ جُزْءٍ مِّنْہَا بِذَکَاۃٍ، وَالْجَنِینُ تَابِعٌ لِلْـأُمِّ، جُزْءٌ مِّنْہَا، فَہٰذَا ہُوَ مُقْتَضَی الْـأُصُولِ الصَّحِیحَۃِ، وَلَوْ لَمْ تَرِدِ السُّنَّۃُ بِالْإِبَاحَۃِ، فَکَیْفَ وَقَدْ وَرَدَتْ بِالْإِبَاحَۃِ الْمُوَافِقَۃِ لِلْقِیَاسِ وَالْـأُصُولِ؟
”اپنی ماں کے ذبح ہونے سے پیٹ کا بچہ بھی ذبح ہو جاتا ہے، اس بارے میں ثابت شدہ ،صریح اور محکم سنت ِنبوی کو یہ کہہ کر ردّ کیا گیا کہ یہ اصول کے خلاف ہے،اصول یہ ہے کہ مُردار حرام ہے۔ایسی باتیں کرنے والوں سے کہا جائے کہ جس ہستی (رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبان پر مردار کی حرمت نازل ہوئی،اسی نے مذکورہ پیٹ کے بچوں کو حلال قرار دیا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ (ذبح شدہ حلال جانور کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ)مُردہ ہے تو بھی یہ حرمت سے مستثنیٰ ہو گا،جیسے مردار کی حرمت سے مچھلی اور جراد(ٹڈی)مستثنیٰ ہے،چہ جائیکہ یہ مُردہ ہے ہی نہیں۔پیٹ کا بچہ ماں کے اجزاء میں سے ایک جزء ہوتا ہے۔ذبح کرنے سے جانور کے تمام اجزاء ذبح ہو جاتے ہیں، ہر ہر جزوِ جسم کو الگ الگ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پیٹ کا بچہ بھی ماں کا جزوِ جسم ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ ذبح ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں اگر ہمیں سنت ِنبوی نہ بھی ملتی تو صحیح اصولوں کا تقاضا یہی تھا۔اب جبکہ اس بارے میں قیاس و اصول کے موافق سنت ِنبوی بھی مل گئی ہے، تو اسے ردّ کرنا کیسے جائز ہوا؟۔”
(إعلام الموقعین عن رب العالمین : 334/2)
علامہ ابو محمد،ابن قدامہ،مقدسی رحمہ اللہ (620-541ھ)فرماتے ہیں:
وَلِأَنَّ ہٰذَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ وَمَنْ بَعْدَہُمْ، فَلَا یُعَوَّلُ عَلٰی مَا خَالَفَہ،، وَلِأَنَّ الْجَنِینَ مُتَّصِلٌ بِہَا اتِّصَالَ خِلْقَۃٍ، یَتَغَذّٰی بِغِذَائِہَا، فَتَکُونُ ذَکَاتُہ، ذَکَاتَہَا، کَأَعْضَائِہَا، وَلِأَنَّ الذَّکَاۃَ فِي الْحَیَوَانِ تَخْتَلِفُ عَلٰی حَسَبِ الْإِمْکَانِ فِیہِ وَالْقُدْرَۃِ، بِدَلِیلِ الصَّیْدِ الْمُمْتَنِعِ وَالْمَقْدُورِ عَلَیْہِ وَالْمُتَرَدِّیَۃِ، وَالْجَنِینُ لَا یُتَوَصَّلُ إلٰی ذَبْحِہٖ بِأَکْثَرَ مِنْ ذَبْحِ أُمِّہٖ، فَیَکُونُ ذَکَاۃً لَہ، .
”صحابہ کرام اور بعد والے اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے(کہ ماں کے ذبح ہونے سے اس کے پیٹ کا بچہ بھی ذبح ہو جاتا ہے)،لہٰذا اس کے خلاف کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات یہ ہے کہ پیٹ کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ تخلیقی حوالے سے متصل ہوتا ہے، اسی کی غذا سے وہ غذا پاتا ہے۔یوں ماں کے ذبح ہونے سے اس کے دوسرے اعضاء کی طرح وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ جانوروں میں ذبح کا طریقہ امکان و قدرت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ جس شکار کو زندہ پکڑنے پر انسان قادر نہ ہو اورجس کو زندہ پکڑ لینے پر قادر ہو اور کنویں وغیرہ میں گر گیاہو، ان کو ذبح کا طریقہ الگ الگ ہے۔اسی طرح پیٹ کے بچے کو صرف اسی طرح ذبح کیا جا سکتا ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کر دیا جائے۔یوں اس کی ماں کو ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جائے گا۔”
(المغني : 401/9)
نیز امام ابن منذر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
کَانَ النَّاسُ عَلٰی إِبَاحَتِہٖ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِّنْہُمْ خَالَفَ مَا قَالُوا إِلٰی أَنْ جَاءَ النُّعْمَانُ، فَقَالَ : لَا یَحِلُّ، لِأَنَّ ذَکَاۃَ نَفْسٍ لَّا تَکُونُ ذَکَاۃَ نَفْسَیْنِ .
”لوگ (صحابہ و تابعین اور اہل علم)اس(جانور کے پیٹ کے بچے )کو حلال ہی سمجھتے تھے۔ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے صحابہ و تابعین اور اہل علم کی اس بات میں مخالفت کی ہو،حتی کہ نعمان(امام ابوحنیفہ)آئے اور کہا کہ یہ حلال نہیں،(اور یہ عقلی دلیل دی) کہ ایک جان کو ذبح کرنے سے دو جانیں ذبح نہیں ہوتیں۔”(المغني : 401/9)
علامہ عبد الحئی لکھنوی حنفی اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَبِالْجُمْلَۃِ، فَقَوْلُ مَنْ قَالَ بِمُوَافَقَۃِ الْحَدِیثِ أَقْوٰی .
”الحاصل، جس کا قول حدیث کے موافق ہے،وہی زیادہ قوی ہے۔”
(التعلیق الممجّد علی المؤطّإ لمحمّد : 287)
بعض احناف مقلدین نے اس صحیح حدیث کو اپنے بے دلیل مذہب کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور کہہ دیا ہے کہ اس حدیث میں ذَکَاۃُ أُمِّہٖ کو ذَکَاۃَ أُمِّہٖ ،یعنی نصب کے ساتھ پڑھا جائے گا ،یوں اس کا معنیٰ یہ ہو گاکہ بچے کو بھی اس کی ماں کی طرح ذبح کیا جائے۔یہ ایسی مردود اور باطل تاویل ہے،جو صحابہ و تابعین اور محدثین کرام کے متفقہ فہم کے خلاف ہے۔یہ حدیث بھی اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔
مشہور لغوی،علامہ نووی رحمہ اللہ (676-631ھ)اس باطل تاویل کے ردّ میں فرماتے ہیں:
وَالرِّوَایَۃُ الْمَشْہُورَۃُ : ذَکَاۃُ أُمِّہٖ، بِرَفْعِ ذَکَاۃٍ، وَبَعْضُ النَّاسِ یَنْصِبُہَا، وَیَجْعَلُہَا بِالنَّصْبِ دَلِیلًا لِّأَصْحَابِ أَبِي حَنِیفَۃَ، رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی، فِي أَنَّہ، لَا یَحِلُّ إِلَّا بِذَکَاۃٍ، وَیَقُولُونَ : تَقْدِیرُہ، [کَذَکَاۃِ أُمِّہٖ]، حُذِفَتِ الْکَافُ، فَانْتَصَبَ، وَہٰذَا لَیْسَ بِشَيئٍ، لِأَنَّ الرِّوَایَۃَ الْمَعْرُوفَۃَ بِالرَّفْعِ .
وَکَذَا نَقَلَہُ الْإِمَامُ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِيُّ وَغَیْرُہ،، وَتَقْدِیرُہ، عَلَی الرَّفْعِ یَحْتَمِلُ أَوْجُہًا، أَحْسَنُہَا أَنَّ [ذَکَاۃُ الْجَنِینِ] خَبَرٌ مُّقَدَّمٌ، وَ[ذَکَاۃُ أُمِّہٖ] مُبْتَدَأٌ، وَالتَّقْدِیرُ : ذَکَاۃُ أُمِّ الْجَنِینِ ذَکَاۃٌ لَّہ،، کَقَوْلِ الشَّاعِرِ : بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا، وَنَظَائِرِہٖ، وَذٰلِکَ لِأَنَّ الْخَبَرَ مَا حَصَلَتْ بِہِ الْفَائِدَۃُ، وَلَا تَحْصُلُ إِلَّا بِمَا ذَکَرْنَاہُ، وَأَمَّا رِوَایَۃُ النَّصْبِ عَلٰی تَقْدِیرِ صِحَّتِہَا، فَتَقْدِیرُہَا [ذَکَاۃُ الْجَنِینِ حَاصِلَۃٌ وَقْتَ ذَکَاۃِ أُمِّہٖ]، وَأَمَّا قَوْلُہُمْ : تَقْدِیرُہ، [کَذَکَاۃِ أُمِّہٖ]، فَلاَ یَصِحُّ عِنْدَ النَّحْوِیِّینَ بَلْ ہُوَ لَحْنٌ، وَإِنَّمَا جَاءَ النَّصْبُ بِإِسْقَاطِ الْحَرْفِ فِي مَوَاضِعَ مَعْرُوفَۃٍ عِنْدَ الْکُوفِیِّینَ بِشَرْطٍ لَیْسَ مَوْجُودًا ہٰہُنَا .
”مشہور روایت ذَکَاۃُ أُمِّہٖ یعنی رفع کے ساتھ ہی ہے۔البتہ بعض الناس اسے نصب سے پڑھتے ہیں اور اسے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلدین کے لیے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ پیٹ کا بچہ ذبح کرنے ہی سے ذبح ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ اصل عبارت کَذَکَاۃِ أُمِّہٖ ہے،یعنی پیٹ کا بچہ اپنی ماں کی طرح ذبح ہو گا۔کاف کو حذف کر دیا گیا تو یہ منصوب ہو گیا۔ لیکن یہ بات بالکل فضول ہے۔امام ابوسلیمان خطابی وغیرہ نے اسے اسی طرح(رفع کے ساتھ)ہی نقل کیا ہے۔رفع کی حالت میں اصل عبارت کئی طرح سے ہو سکتی ہے۔سب سے بہتر یہ ہے کہ ذَکَاۃُ الْجَنِینِ کو خبر مقدم بنایا جائے اور ذَکَاۃُ أُمِّہٖ مبتدا ہو۔اصل عبارت یوں ہو گی ذَکَاۃُ أُمِّ الْجَنِینِ ذَکَاۃٌ لَّہ،(ماں کا ذبح پیٹ کے بچے کے لیے بھی ذبح ہے)، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا (ہمارے بیٹوں کے بیٹے بھی ہمارے بیٹے ہیں)،وغیرہ۔اس لیے کہ خبر وہ ہوتی ہے،جس سے کوئی فائدہ حاصل ہو اور فائدہ تب حاصل ہو گا، جب ہماری مذکورہ صورت مراد لی جائے۔رہی نصب والی صورت تو اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو اصل عبارت یہ ہو گی [ذَکَاۃُ الْجَنِینِ حَاصِلَۃٌ وَقْتَ ذَکَاۃِ أُمِّہٖ] کہ پیٹ کا بچہ اسی وقت ذبح ہو جاتا ہے جب اس کی ماں کو ذبح کیا جاتا ہے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ اصل عبارتکَذَکَاۃِ أُمِّہٖہے ، یہ نحویوں کے ہاں درست نہیں،بلکہ غلط ہے،کیونکہ صرف کوفیوں کے ہاں کسی حرف کے حذف ہونے سے نصب آتی ہے اور وہ خاص ہے بعض معروف مقامات کے ساتھ اور وہ بھی ایک شرط کے پورا ہونے پر، جو یہاں پائی ہی نہیں جا رہی۔”
(تہذیب الأسماء واللّغات : 112/3)
علامہ زیلعی حنفی(م : 762ھ)بعض الناس کے ردّ میں لکھتے ہیں:
وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ فِي مُخْتَصَرِہٖ : وَقَدْ رَوٰی ہٰذَا الْحَدِیثَ بَعْضُہُمْ لِغَرَضٍ لَّہ، : [ذَکَاۃُ الْجَنِینِ ذَکَاۃَ أُمِّہٖ]، بِنَصْبِ [ذَکَاۃ] الثَّانِیَۃِ، لِتُوجِبَ ابْتِدَاءَ الذَّکَاۃِ فِیہِ إذَا خَرَجَ، وَلَا یُکْتَفٰی بِذَکَاۃِ أُمِّہٖ، وَلَیْسَ بِشَيْئٍ، وَإِنَّمَا ہُوَ بِالرَّفْعِ، کَمَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ أَئِمَّۃِ ہٰذَا الشَّأْنِ، وَأَبْطَلَہ، بَعْضُہُمْ بِقَوْلِہٖ : ‘فَإِنَّ ذَکَاتَہ، ذَکَاۃُ أُمِّہٖ’، لِأَنَّہ، تَعْلِیلٌ لِّإِبَاحَتِہٖ، مِنْ غَیْرِ إحْدَاثِ ذَکَاۃٍ .
”علامہ منذری رحمہ اللہ نے مختصر السنن میں فرمایا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے خاص مقصد کے تحت اس حدیث کو دوسرے لفظ ذَکَاۃ کی نصب کے ساتھ [ذَکَاۃُ الْجَنِینِ ذَکَاۃَ أُمِّہٖ] روایت کیا ہے،تاکہ اس حدیث سے بچے کے پیٹ سے نکلنے کے بعد اسے دوبارہ ذبح کرنا ضرروی قرار دیا جائے اور اس کی ماں کے ذبح ہونے کو اس کے لیے کافی نہ سمجھا جا سکے۔ لیکن یہ فضول حرکت ہے۔یہ حدیث لفظ ِذَکَاۃ کے رفع کے ساتھ ہی ہے، جیسا کہ ائمہ حدیث سے ثابت ہے۔بعض محدثین کرام نے اس بات کا ردّ حدیث میں موجود ان الفاظ سے کیا ہے :’فَإِنَّ ذَکَاتَہ، ذَکَاۃُ أُمِّہٖ’ ،کیونکہ یہ الفاظ تو بغیر ذبح کیے جانے والے بچے کے حلال ہونے کی علت کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔”(نصب الرایۃ : 191/4، 192)
علامہ عبد الحئی لکھنوی حنفی نے بھی یوں اس کا ردّ کیا ہے :
وَفِیہِ نَظَرٌ، فَإِنَّ الْمَحْفُوظَ عَنْ أَئِمَّۃِ الشَّأْنِ الرَّفْعُ، صَرَّحَ بِہِ الْمُنْذِرِيُّ .
”یہ محل نظر بات ہے،کیونکہ ائمہ حدیث سے رفع ہی منقول ہے۔علامہ منذری رحمہ اللہ نے اس بات کی صراحت کی ہے۔”(التعلیق الممجّد علٰی مؤطّإ محمّد، ص : 287)
تنبیہ : بعض لوگوں نے اس مسئلے میں صحیح و صریح حدیث ِنبوی اور اجماعِ امت کے خلاف امام ابراہیم نخعی تابعی کا یہ قول پیش کیا ہے :
لَا یَکُونُ ذَکَاۃُ نَفْسٍ ذَکَاۃَ نَفْسَیْنِ، یَعْنِي أَنَّ الْجَنِینَ إِذَا ذُبِحَتْ أُمُّہ، لَمْ یُؤْکَلْ حَتّٰی یُدْرَکَ ذَکَاتُہ، . ”ایک جان کا ذبح دو جانوں کے ذبح کا کام نہیں دے سکتا،یعنی جب ماں کو ذبح کیا جائے تو اس کے پیٹ کا بچہ ذبح نہیں ہوگا،ہاں، اگر خود اس بچے کو بھی ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو وہ حلال ہو گا۔”
(کتاب الآثار لمحمّد بن الحسن الشیباني، ص : 186)
لیکن امام ابراہیم نخعی سے یہ قول ثابت نہیں،کیونکہ :
1 صاحب ِکتاب محمد بن حسن شیبانی محدثین کے ہاں”متروک” اور ”کذاب” ہے۔
2 ان کے استاذ بھی باتفاقِ محدثین غیر معتبر اور غیر ثقہ ہیں۔
3 حماد بن ابو سلیمان ”مختلط” راوی ہیں۔امام ابوحنیفہ ان لوگوں میں سے نہیں، جنہوں نے حماد سے اختلاط سے پہلے روایات لی ہیں،جیسا کہ حافظ ہیثمی فرماتے ہیں:
وَلَمْ یُقْبَلْ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادٍ إِلَّا مَا رَوَاہُ عَنْہُ الْقُدَمَائُ، شُعْبَۃُ وَسُفْیَانُ الثَّوْرِيُّ والدَّسْتَوَائِيُّ، وَمَنْ عَدَا ہٰؤُلَاءِ رَوَوْا عَنْہُ بَعْدَ الِاخْتِلَاطِ .
”حماد کی وہی حدیث قبول ہو گی جو اس سے اس کے پرانے شاگردوں ،یعنی شعبہ، سفیان ثوری اور ہشام دستوائی نے بیان کی ہے۔باقی لوگوں نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایات لی ہیں۔”(مجمع الزوائد : 119/1)
ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ تک تمام صحابہ و تابعین اور اہل علم کے نزدیک صحیح حدیث کی روشنی میں پیٹ کا بچہ اپنی ماں کے ذبح ہونے کے ساتھ ہی ذبح ہو جاتا ہے۔اب امام ابوحنیفہ کو یہ حدیث نہ ملی اور انہوں نے اپنی رائے سے یہ بات کہہ دی۔چاہیے تو یہ تھا کہ صحابہ و تابعین کے اجماع کی پاسداری کرتے ہوئے حدیث ِنبوی پر عمل کیا جاتا، لیکن بُرا ہو تقلید کا کہ وہ دین الٰہی کے مقابلے میں نیا دین کھڑا کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔
دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے اور تقلید جیسی بیماری سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
nnnnnnn

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.