308

غم حسین ۔۔۔علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

غم ِ حسین رضی اللہ عنہ
غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الّذین اصطفٰی !
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام کی تاریخ آلام ومصائب سے لبریز ہے ، مسلمانانِ امت نبی ئ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی وفات حسرت آیات ، سیدنا عمر بن خطاب ، سیدنا عثمان بن عفان ، سیدنا علی بن ابی طالب کی شہادت اور دیگر اصحاب ِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شہادتوں اور وفاتوں کا غم ابھی نہ بھولے تھے کہ دس محرم الحرام ٦١ ھ کو نواسہئ رسول ، گوشہ بتول ، نوجوانانِ جنت کے سردار ، گلستانِ رسالت کے پھول سیدنا حسین بن علی  رضی اللہ عنہا  کی مظلومانہ شہادت کے غم سے دوچار ہونا پڑا ۔
مصیبت و پریشانی کے وقت غمناک ہونا اور اشک ِ غم بہانا فطری امر ہے ۔ بے صبری ، جزع فزع ، نوحہ وبین اور سینہ کوبی باتفاق المسلمین حرام اور ممنوع ہے ۔ مصائب وآلام پر صبر واستقلال کا مظاہرہ کرنے والوں کی قرآنِ مقدس یوں مدح سرائی کرتا ہے :     ( وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ٭ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ٭ اُولٰۤئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ وَاُولٰۤئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ) (البقرۃ : ٢/١٥٥۔١٥٧)
”(اے نبی !)آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ، وہ لوگ کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) کہتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں ، جن پر ان کے رب کی طرف سے مغفرت ورحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔”
بے صبری اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے ، اس پر وعید شدید بھی وارد ہوئی ہے ، جیسا کہ :
نمبر 1 :      رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :      لیس منّا من لطم الخدود وشقّ الجیوب ودعا بدعوی الجاہلیّۃ ۔     ”جس نے رخساروں کو پیٹا ، گریبانوں کو پھاڑا اور جاہلیت کی پکار پکاری ، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔”(صحیح بخاری : ١٢٩٤، صحیح مسلم : ١٠٣)
نمبر 2 :     سیدنا ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  نے بیان کیا کہ :     أن رسول اللّٰہ بریئ من الصالقۃ والحالقۃ والشّاقّۃ ۔    ”اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  مصیبت کے وقت چیخنے چلانے والی ، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورت سے بری ہیں۔”(صحیح بخاری : ١٢٩٦، صحیح مسلم : ١٠٤)
نمبر 3 :      رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :      ”میری امت میںچار کام جاہلیت والے ہوں گے ، جن کو (بعض)لوگ نہیں چھوڑیں گے ، حسب ونسب میں فخر ، نسب میں طعن وعیب ، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا ، نوحہ کرنے والی عورت جب توبہ نہ کرے (بلکہ اسی حالت میں مر جائے) قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا تو اس پر گندھک کی قمیص اور خارش کی چادر ہو گی ۔”(صحیح مسلم : ٩٣٤)
جونہی محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے ،ایک فرقہ بے شمار بدعات ، خرافات ،ہفوات ،ترہات ،بیسیوں محرّمات اور منکرات کا ارتکاب کرتا ہے، جیسا کہ ماتم کرنا ، سینہ کوبی ، نوحہ اور بین کرنا ، مرثیہ خوانی کے لیے مجالس ومحافل کا انعقاد ، عزاداری ، تعزیہ (قبر حسین  رضی اللہ عنہ  کی شبیہ)، تابوت (سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ  کے جنازے کی شبیہ) ، تعزیہ اٹھانا (تعزیہ کو امام باڑہ یا تعزیہ خانہ سے گشت کرانے یا دفن کے لیے لے جانا)، تعزیہ کی زیارت کرنا ، طلب ِ حاجات کے لیے اس کے ساتھ عرضیاں باندھنا ، جھک کر اسے سلام کرنا ، اس کے سامنے رکوع اور سجدہ کرنا ، اس کو چومنا چاٹنا ، اس پر منت منوتی کے چڑھاوے چڑھانا ، بچوں کو اس کے ساتھ بطور ِ قیدی باندھنا ، کاغذ کی روٹی کتر کر باندھنا ، اس کی تزیین وآرائش کرنا ، علم ِ عباس نکالنا ، آگ پر ماتم کرنا ، زنجیروں ، ٹوکوں اور تلواروں سے اپنے آپ کو لہو لہان کرنا ، سر پیٹنا ، چہرہ پیٹنا ، سر پر راکھ ڈالنا ، گریبان چاک کرنا ، ننگے پاؤں چلنا ، پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا ، کالا لباس پہننا ، سر پر چھلے مارنا ، ذوالجناح (سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ  کے گھوڑے کی شبیہ) نکالنا ، اس پر سواری نہ کرنا ، بچوں کو اس کے نیچے سے گزارنا ، چھ محرم کو علی اصغر کا جھولا نکالنا ، سات محرم کو قاسم بن حسن کی مہندی نکالنا ، علم ِ عباس ، تعزیہ اور ذوالجناح کو سجدہ کرنا ، جسے سجدہئ تعظیمی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ  کے نام کی نیاز پیش کرنا ، سلسبیل لگانا ، جلوس کے ساتھ ڈھول ، شرنااور دیگر آلات ِ لہو ولعب لے جانا (جیسا کہ بعض علاقوں میں ہوتا ہے) ، مردو زن کا اختلاط ، دسویں محرم کو شام ِ غریباں ، جھوٹے قصے کہانیاں، بے سند اور من گھڑت روایات کا بیان ، قرآن وحدیث کی مخالفت ، اللہ اور اس کے رسولوں کی شان میں تنقیص ، اصحاب ِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض کا اظہار اور ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کرنا ، نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیویوں اور بیٹیوں کا انکار اور ان پر تنقید ، بعض اہل بیت کی شان میں غلو اور بعض کی شان میں تقصیر ، قرآن وحدیث کی باطل تاویلات ، اہل سنت والجماعت کی توہین اور ان پر الزام تراشی ، سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  پر کذب وافترا وغیرہ ۔
یقینا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مصداق ہیں :      ( اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہ، سُوۤءُ عَمَلِہٖ فَرَآہُ حَسَنًا فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (فاطر : ٣٥/٨)
”کیا جس کے لیے اس کے برے عمل کو خوشنما بنا دیا گیا ہے اوروہ اسے اچھا سمجھنے لگا ہے ، (آپ اسے بچا سکتے ہیں؟) ، اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ۔”
نیز فرمایا :      ( قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ٭ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا ) (الکہف : ١٨/١٠٣۔١٠٤)
”(اے نبی!)کہہ دیجیے کیا ہم تمہیںاعمال کے اعتبار سے گھاٹا پانے والوں کی خبر نہ دیں ؟ (یہ ) وہ لوگ (ہیں) جن کی کوشش وکاوش دنیا کی زندگی میں ختم ہو گئی ، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں ۔”
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ لکھتے ہیں :     وصار الشّیطان بسبب قتل الحسین رضی اللّٰہ عنہ یحدث للنّاس بدعتین ، بدعۃ الحزن والنوح یوم عاشوراء ، من اللّطم والصّراخ والبکاء والعطش وانشاء المراثی ، وما یفضی الی ذلک من سبّ السّلف ولعنھم وادخال من لا ذنب لہ مع ذوی الذّنوب حتّی یسبّ السّابقون الأوّلون ، وتقرأ أخبار مصرعہ الّتی کثیر فیھا کذب ، وکان قصد من سنّ ذلک فتح باب الفتنۃ والفرقۃ بین الأمّۃ ، فانّ ھذا لیس واجبا ولا مستحبّا باتفاق المسلمین ، بل احداث الجزع والنّیاحۃ للمصائب القدیمۃ من أعظم ما حرّمہ اللّٰہ ورسولہ ۔۔۔ ”سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کی وجہ سے شیطان لوگوں میں دو طرح کی بدعات پیدا کر رہا ہے ، ایک دس محرم کے دن غم ونوحہ کی بدعت ، یعنی جسم پیٹنا ، چیخ وپکار ، رونا ، پیاسے رہنا ، مرثیہ پڑھنا اور وہ کام کرناجو اس صورت ِ حال تک لے جاتے ہیں ، مثلاً سلف صالحین کو گالی گلوچ کرنا اور ان پر لعنت کرنا ، ان لوگوں کو مجرموں کے ساتھ اس گناہ میں شریک کرنا ، جو بالکل بے گناہ ہیں ۔ سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کے وہ قصے پڑھے جاتے ہیں ، جن میں اکثر جھوٹ ہوتا ہے ۔ جس شخص نے یہ کام شروع کیا تھا ، اس کا مقصد فتنہ کا دروازہ کھولنا اور امت میں تفرقہ ڈالنا تھا ۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ کام نہ واجب ہیں اور نہ مستحب ، بلکہ پرانے مصائب پرجزع وفزع اور نوحہ کرنا ان چیزوں میں سے ہیں ، جو اللہ ورسول کے حرام کردہ کاموں میں سے بہت بڑے ہیں ۔”(منھاج السنۃ لابن تیمیۃ : ٢/٣٢٢۔٣٢٣)
جس طرح یہودی سیدنا موسیٰ  علیہ السلام  اور نصرانی سیدنا عیسیٰ  علیہ السلام سے محبت کے دعویدار ہیں ، لیکن ان کی تعلیمات سے مکمل انحراف برتتے ہیں ، اسی طرح یہ لوگ بھی سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  اور اہل بیت ] سے محبت کے دعویدار ہیں ، لیکن ان کی تعلیمات اور سیرت وکردار سے منحرف ہیں ، ان کی کتابیں ان کے فضائل ومناقب سے خالی ہیں ، افسوس تو اس بات پر ہے کہ اہل سنت والجماعت جو اہل بیت سے دلی محبت رکھتے ہیں ، اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ، قرآن وحدیث نے ان کا جو مرتبہ ومقام متعین کیا ہے ، اسے بلا غلو وتقصیر قبول کرتے ہیں ، ان کی کتابیں اہل بیت کے فضائل ومناقب سے بھری پڑی ہیں ، اس کے باوجود بعض لوگ ان اہل سنت سے بغض وعداوت رکھتے ہیں ، کیوں ؟ اہل سنت جب ان کے ماتم پر ردّ وانکار کرتے ہیں تو وہ بطور ِ طعن یہ روایت پیش کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  کہتی ہیں :      مات رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بین سحری ونحری وفی دولتی ، لم أظلم فیہ أحدا ، فمن سفھی وحداثۃ سنّی أنّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قبض ، وھو فی حجری ، ثمّ وضعت رأسہ علی وسادۃ وقمت ألتدم مع النّساء وأضرب وجھی ۔
”رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے سینے پراور میرے گھر میں ہوئی ، میں نے اس میں کسی پر ظلم نہیں کیا ، میری ناسمجھی اور کم عمری کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جب فوت ہوئے تو آپ میری گود میں تھے ، پھر میں نے آپ کا سر مبارک ایک سرہانے پر رکھا اور عورتوں کے ساتھ سینہ اور منہ پیٹنے لگی ۔”(مسند احمد : ٦/٢٧٤، وسندہ، حسنٌ)
ان عورتوں نے اس ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب لاعلمی کی بنا پر کیا تھا ، جن میں سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  بھی شامل ہیں ، اسی لیے تو سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  اس کو اپنی ناسمجھی اور کم عمری کا نتیجہ خیال کررہی ہیں ، ویسے بھی صحابہ کرام کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ) (التوبۃ : ٩/١٠٠، المجادلۃ : ٥٨/٢٢، البینۃ : ٩٨/٨)
”اللہ تعالیٰ ان سے اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے ۔”
نیز فرمایا :      ( وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ) (آل عمران : ٣/١٥٢)
”اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے درگزر کیا ہے ، اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر فضل والا ہے ۔”
نیز ان کا یہ اقدام قرآن وحدیث نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.