416

حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے، شمارہ 36 حافظ ابویحیی نور پوری

حدیثی دلائل پر اعتراضات اور جوابات :
قارئین کرام گزشتہ قسط میں اس حوالے سے حدیثی دلائل ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ، ان کا پیشاب پاک ہے۔محدثین کرام نے صاف و صریح انداز سے ان احادیث سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے۔ مخالفین کے پاس اس واضح موقف کے خلاف کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے وہ یہ ثابت کر سکیں کہ حلال جانوروں کا پیشاب بھی حرام جانوروں کی طرح نجس و پلید ہے۔کوئی دلیل نہ رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ حضرات حدیثی دلائل پر اعتراضات بھی کرتے ہیں۔ آئیے ان کے اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں:
حدیث انس پر اعتراضات کا تجزیہ :
ہم بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماروں کو اونٹنیوں کے دودھ کے ساتھ ساتھ ان کا پیشاب پینے کا بھی حکم دیا تھا۔(صحیح بخاری : ٢٣٣ ، صحیح مسلم : ١٦٧١)
اس پر اعتراضات اور ان کے جوابات درجِ ذیل ہیں:
اعتراض نمبر 1 :
جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب لکھتے ہیں :
”علامہ عینی (١/٩٢٠) عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں کہ اس مقام پر شرب ِبول کا حکم ضرورت تداوی کی بناء پر تھا اور وحی کے ذریعے اس کے ساتھ شفا ہونے کا علم آپ کو ہو گیا تھا۔ ضرورت اور غیر ضرورت کی حالت جدا ہوتی ہے جیسے أکل میتۃ وغیرھا بحالت ِ اضطرار درست ہے ، ویسے نہیں۔” (خزائن السنن از صفدر : ١/١٥٦)
اسی بات کو امام طحاوی حنفی یوں بیان کرتے ہیں :
فذلک إنّما کانت للضرورۃ ، فلیس فی ذلک دلیل أنّہ مباح فی غیر حال الضرورۃ ۔ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ کے پیشاب کو پینے کی اجازت دینا ضرورتِ تداوی کی بناء پر تھا۔ اس سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ ضرورت کے علاوہ بھی یہ مباح ہے ۔”(شرح معانی الآثار للطحاوی : ١/٨٣)
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں : إنّما أباح للعرنیّین شرب أبوال الإبل وألبان الإبل علی سبیل التداوی من المرض ۔۔۔۔۔ والتداوی بمنزلۃ الضرورۃ ۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے والوں کے لئے اونٹوں کا پیشاب اور دودھ بیماری کے علاج کے طور پر مباح کیا تھا اور علاج ضرورت کے قائم مقام ہے۔”
(المحلّٰی لابن حزم : ١/١٧٤، ١٧٥)
تجزیہ : 1 پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمہ شرعی قواعد کے مطابق اصلاً تمام اشیاء پاک اور حلال ہوتی ہیں۔ کسی بھی چیز کی نجاست اور حرمت ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت یا اجماع سے کوئی دلیل ہونا ضروری ہے۔ نجاست اور حرمت کا دعویٰ کرنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ جو جانور اللہ کریم نے حلال قرار دیئے ہیں اور یقینا وہ پاک بھی ہیں،ان میں سے تو کوئی جزو بھی سوائے دمِ مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والے خون) کے حرام یا ناپاک نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص حلال جانور کی کسی اور چیز کے بھی حرام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر دلیل پیش کرنا ضروری ہے۔جب حلال جانور کے پیشاب کی حرمت یا نجاست سرے سے ثابت ہی نہیں تو ضرورت یا غیر ضرورت کے چکر میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟
2 ضرورت ِتداوی(علاج کی مجبوری)کی بناء پر نجس و حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی نجس و حرام چیز سے اپنا علاج کیا نہ کسی بیمار کو ایسا مشورہ دیا۔ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس و حرام چیز سے علاج کرنے سے منع فرمایاہے ، جیسا کہ :
1 سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : نھی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن الدواء الخبیث ۔ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا کے استعمال سے منع فرما دیا۔” (سنن ابی داو،د : ٣٨٧٠ ، سنن الترمذی : ٢٠٤٥ ، سنن ابن ماجہ : ٣٤٩٩ ، وسندہ، صحیحٌ)
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث چیز کو بطور دوائی استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ نیز قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
(یَأْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَائِثَ)(الاعراف : ١٥٧)
”آپ ان کو نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال ٹھہراتے اور خبیث چیزیں ان پر حرام قرار دیتے ہیں ۔”
معلوم ہوا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ خبیث اور مضر ہیں۔اسی لئے تو وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام قرار دی ہیں۔ اگر ان میں یہ خباثت اور ضرر نہ ہوتا تو امت ِمحمدیہ کے مردو عورت دونوں پر کبھی بھی حرام قرار نہ دی جاتیں۔ لہٰذا اگر حلال جانوروں کے پیشاب کو حرام و نجس قرار دیا جائے تو یہ خبیث قرار پائے گا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف لوگوں کو خبیث دوائی سے منع فرمائیں اور دوسری طرف اس کے پینے کا حکم بھی دیں ؟
2 ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کو دوائی میں استعمال کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنّہ لیس بدواء ، ولکنّہ داء ۔ ”یہ دوائی نہیں ، بلکہ بیماری ہے ۔”
(صحیح مسلم : ١٩٨٤)
صحابہ کرام جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم یافتہ تھے ، ان کا بھی یہی فتوی تھا کہ حرام چیز دوائی میں استعمال نہیں ہو سکتی ، جیسا کہ :
1 سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ اس بارے میں سوال ہوا تو فرمایا :
إنّ اللّٰہ لم یجعل شفاء کم فیما حرّم علیکم ۔
”یقینا اللہ تعالی نے اس چیز میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی جو تم پر حرام قرار دی ہے۔”
(مصنف ابن أبی شیبہ : ٨/٢٠ ، ح : ٢٣٧٣٩ ، وسندہ، صحیحٌ)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ حرام چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہی نہیں ، لہٰذا حرام کے استعمال سے شفا کی توقع کرنا بھی بذات ِ خود ایک گناہ ہے۔
2 نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : کان ابن عمر إذا دعا طبیبا یعالج بعض أصحابہ اشترط علیہ أن لا یداوی بشيء حرّم اللّٰہ عزّوجلّ ۔
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول مبارک تھا کہ جب کسی عزیز کے علاج کے لئے حکیم کو بلاتے تو اس پر یہ شرط عائد کرتے کہ وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے علاج نہیں کرے گا۔” (المستدک للحاکم : ٤/٢١٨ ، وسندہ، صحیحٌ)
کیسے ممکن ہے کہ ایک رخصت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دی ہو اور صحابہ کرام اس کے بارے میں اتنی سختی کریں کہ دوسروں کو بھی اس کے استعمال کی اجازت نہ دیں۔
قارئین کرام نے دیکھ لیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام حرام و نجس چیز سے علاج کو ممنوع قرار دیتے تھے اور ان کے نزدیک حرام میں شفا کی توقع بھی عبث ہے۔ اگر حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اسے پینے کا حکم نہ دیتے۔ جب حرام میں شفا ہے ہی نہیں بلکہ یہ الٹا خود بیماری ہوتی ہے تو اسے بطور دوا استعمال کرنا کیسی عقل مندی ہے ؟
پھر حرام میں شفا تلاش کرنے سے دین اسلام پر بھی زد آئے گی کہ اس میں علاج کے لئے حلال و طیب اشیاء نہیں تھیں ، اس لئے حرام و نجس چیزوں سے علاج مشروع قرار دیا گیا۔ بھلا نجاست اور شفا کی آپس میں کیا مناسبت ؟ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ اونٹ کا پیشاب نجس ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف ضرورت ِتداوی کی بناء پر استعمال کرایا۔
امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (٢٢٣۔٣١١ھ) اس بات کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ولو کان نجساً لم یأمر بشربہ ، وقد أعلم أن لا شفاء فی المحرّم ، وقد أمر بالاستشفاء بأبوال الإبل ، ولو کان نجساً کان محرّماً ، کان دائً لا دوائً ، وما کان فیہ شفاء ، کما أعلم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لمّا سئل : أیتداوی بالخمر؟ فقال : (( إنّما ہی داء ، ولیست بدواء ))
”اگر اونٹوں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پینے کا حکم نہ دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود بتا دیا تھا کہ حرام میں شفا نہیں، پھر اونٹوں کے پیشاب سے علاج کا بھی حکم دیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو بیماری ہوتا ، دوا نہ بنتا اور اس میں شفا نہ ہوتی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب شراب کو بطور دوائی استعمال کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا : یہ تو بیماری ہے ، شفا نہیں۔”(صحیح ابن خزیمۃ : ١/٦٠، قبل الحدیث : ١١٥)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (م ٣٥٤ھ) شراب کو بیماری قرار دینے والے فرمانِ رسول کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ذکر الخبر المدحض قول من زعم أنّ العرنیّین إنّما أبیح لہم فی شرب أبوال الإبل للتداوی ، لا أنّہا طاہرۃ ۔
”اس حدیث کا بیان جو اس شخص کی بات کا ردّ کرتی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ قبیلہ عرینہ والوں کے لیے اونٹوں کا پیشاب پینا بطور دوائی جائز قرار دیا گیا ہے ، اس لیے نہیں کہ وہ پاک تھا۔”(صحیح ابن حبان : ٤/٢٣١، قبل الحدیث : ١٣٨٩)
اعتراض نمبر 2 : حافظ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
فإذا اضطررنا إلیہ فلم یحرّم علینا حینئذ بل ھو حلال ، فھو لنا حینئذ شفاء ۔۔۔ وقد قال اللّٰہ تعالی فما حرّم علینا : (فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ) ، وقد قال تعالی : (وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْہِ) ، وصحّ أنّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قال : ((الحریر والذھب حرام علی ذکور أمّتی ، حلال لإناثھا )) ۔۔۔۔ ثمّ صحّ یقینا أنّہ علیہ السلام أباح لعبد الرحمن بن عوف والزبیر بن العوّام لباس الحریر علی سبیل التداوی ۔
”جب ہم کسی حرام چیز کے استعمال پر مجبور ہو جائیں تو وہ اس وقت ہم پر حرام نہیں رہے گی بلکہ حلال ہو جائے گی اور شفاء بن جائے گی۔اللہ تعالی نے حرام چیزوں کے متعلق فرمایا ہے : (فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ)(جو مجبور ہو جائے اور وہ بغاوت پر اترنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں)،نیز فرمایا : (وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْہِ)(اللہ نے تم پر تمام حرام چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں ، ہاں ! جس کے استعمال پر تم مجبور ہو جاؤ وہ استعمال کر سکتے ہو) ، مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ، البتہ ان کی عورتوں پر حلال ہیں ۔۔۔۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ نے ریشم کا لباس بطور علاج عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کے لئے جائز قرار دیا تھا ۔۔۔”
تجزیہ : حرام چیزوں کے بطور دوائی استعمال کو جائز قرار دینے والوں کا سب سے بڑا شبہ یہی ہے لیکن یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ مجبوری کے وقت حرام کھانے کا تعلق بقولِ قرآن بھوک سے ہے ، بیماری سے نہیں۔اگر (فَمَنِ اضْطُرَّ) کی تفسیر قرآن کریم سے ہی معلوم کر لی جائے تو بآسانی یہ اشکال رفع ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر ارشاد باری تعالی ہے :
(فَمَنِ اضْطُرَّ فِی مَخْمَصَۃٍ )(المائدہ : ٣)
یعنی حرام کھانے کی اجازت صرف اس شخص کو ہے جو بھوک کی وجہ سے لاچار ہو جائے۔حرام چیزوں کا استعمال اس شخص کے لیے جائز ہے جو بھوک کی وجہ سے قریب المرگ ہو۔ بیماری کی لاچاری کی وجہ سے حرام کے استعمال پر قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کی ممانعت صراحت سے موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ دین اور مفسرین کرام نے مذکورہ آیت ِ کریمہ کو ضرورت ِ جوع پر محمول کیا ہے ، ضرورت ِ تداوی پر نہیں، یعنی انہوں نے اس آیت سے علاج کے لیے حرام کا جواز مستنبط نہیں کیا بلکہ بھوک کی صورت میں اسے جائز کہا ہے۔
امام طبری رحمہ اللہ (٢٤٤۔٣١٠ھ)فرماتے ہیں : فمن اضطرّ إلی ذلک أو إلی شیء منہ لمجاعۃ حلَّت ۔ ”جو شخص بھوک کی وجہ سے ان سب حرام چیزوں یا ان میں سے بعض کے کھانے پر مجبور ہو جائے تو اس کے لیے یہ کھانا حلال ہو گا۔”
(تفسیر الطبری : ١٧/٣١٣)
پھر ہم پہلے بھی بیان کرآئے ہیں کہ یہ بالکل غلط بات ہے کہ کسی ایسی بیماری کا وجود ہو جس کا علاج اسلام کی حلال کردہ کسی دوا میںنہ ہو ، نیز یہ بھی نا ممکن ہے کہ کسی حرام چیز میں شفا ہو ۔ بھوک کی مجبوری پر علاج کی مجبوری کو قیاس کرنا بالکل باطل ہے ، کیونکہ حرام کھانے سے بھوک کا مٹنا اتفاقی طور پر یقینی ہے جبکہ حرام سے شفا کا ملنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی تصریحات کے مطابق اتفاقی طور پر نا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حرام میں شفا رکھی ہی نہیں تو اسے شفا کے لئے استعمال کرنا کیسے جائز اور معقول ہوا ؟
حرام دوائی کا ریشم پر قیاس !
رہا ریشم کے استعمال کی اجازت پر اونٹ کے پیشاب کو قیاس کر کے حرام کا اکل و شرب بطور علاج درست قرار دینا تو یہ قیاس کئی وجوہ سے باطل ہے :
1 ریشم ایسا حرام نہیں جیسا کہ خنزیر ، مردار کا گوشت اور شراب وغیرہ حرام ہیں،بلکہ ریشم کی حرمت جزوی ہے ، کلی نہیں ، یعنی یہ صرف مردوں پر حرام ہے ، عورتوں پر نہیں۔ جزوی حرمت پر کلی حرمت کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق(باطل)ہے ۔
2 ریشم کی حرمت کا تعلق صرف پہننے سے ہے ، وہ نجس تو نہیںہے۔جب ریشم مردوں پر حرام ہوتے ہوئے بھی نجس نہیں تو اونٹ کا پیشاب بطور دوائی استعمال ہوتے ہوئے بھی حرام کیسے ہو سکتا ہے؟قیاس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر ریشم مردوں پر حرام ہونے کے باوجودپاک ہے تو اونٹوں کا پیشاب بطور دوائی استعمال ہونے کی بنا پر بالاولیٰ پاک ہوتا۔
3 ریشم کے بطور علاج پہننے کے جواز پر نص آ چکی ہے ، جبکہ حرام چیزوں کو بطور علاج کھانے پینے کی ممانعت پر نصوص ہم پیش کر چکے ہیں۔ ان کا آپس میں قیاس کرنا تو جمع بین الاضداد کے مترادف ہے ؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اونٹوں کے پیشاب کے پینے کے حکم کو اضطرار پر محمول کرنا بالکل غلط ہے ،کیونکہ آپ نے اس حکم سے پہلے ان کے لئے کوئی دوائی تجویز نہیں کی۔اگر ان پر کوئی اور دوائی اثر نہ کرتی تو مجبوری کا بھی سوال پیدا ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی بیماری کو سنتے ہی یہ حکم دینا صاف بتاتا ہے کہ یہ اختیاری حالت تھی نہ کہ اضطراری۔ حدیث میں لفظ ہیں کہ ان کو مدینہ کی آب و ہوا نا موافق ہو گئی تھی ۔ کیا کسی جگہ کی آب و ہوا نا موافق ہونے سے اضطراری حالت شروع ہو جاتی ہے ؟
علامہ ابن سید الناس رحمہ اللہ (٦٧١۔٧٣٤ھ)لکھتے ہیں :
ألبان الإبل وأبوالہا تدخل فی علاج بعض أنواع الاستسقاء ، لا سیّما إبل البادیۃ التی ترعی الشیح والقیصوم ۔
”اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب استسقاء کی بعض اقسام کے علاج میں شامل ہے، خصوصاً وہ اونٹ جو شِیح اور قیصوم کے پودوں کو بطور چارہ استعمال کرتے ہیں۔”
(شرح السیوطی لسنن النسائی : ١/١٦١)
معلوم ہوا کہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب استسقاء کی بیماری کے علاج میں داخل ہے ، ایسا نہیں کہ دنیا میں استسقاء کا کوئی اور علاج ہی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید اسے اضطراری حالت قرار دینے والوں کے لیے کوئی دلیل بن سکتی۔
اعتراض نمبر 3 : جناب صفدر صاحب لکھتے ہیں :
”بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شرب ِبول کا حکم نہیں دیا تھا اور اس کے لئے بخاری (١/٤٢٣)اور (٢/١٠٠٥)کی یہ روایت پیش کرتے ہیں :
فقالوا : یا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ! ابغنا رسلا (ہمارے لیے دودھ والا جانور تلاش کریں ) ، فقال : ما أجد لکم إلّا أن تلحقوا بالزود ، فانطلقوا فشربوا من أبوالھا وألبانھا ۔ الحدیث تو اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے صرف دودھ مانگا تھا۔ اگلی کاروائی شرب ِبول والی انہوں نے اپنی مرضی سے خود کی تھی۔ باقی ((اشربوا من أبوالھا وألبانھا)) بعض رواۃ کی اپنی تعبیر ہے۔”
(خزائن السنن از صفدر : ١/١٥٥)
تجزیہ : بڑے افسوس کی بات ہے کہ جناب صفدرصاحب حدیث کی اہانت و تاویل میں اپنے بڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ امام طحاوی حنفی اور جناب ظفر احمد تھانوی دیوبندی صاحب نے بھی اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح صفدر صاحب کے ہم عصر جناب تقی عثمانی دیوبندی صاحب نے بھی اس سے پہلو تہی کی ہے ، لیکن صفدر صاحب کو تقلید نے اس گھٹیا تاویل پر بھی مجبور کر دیا۔ نہ جانے آیندہ یہ مہلک بیماری کیا کیا گل کھلائے گی ؟
انکار حدیث کا خفیہ اقدام :
مقلدین کی یہ عادت بد ہے کہ جب حدیث ان کے مذہب کے مخالف آ جائے تو بڑی سے بڑی تاویل سے گریز نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہ تاویل ان کو انکار حدیث تک لے جا رہی ہے ۔جو الفاظ فقہ حنفی کی دھجیاں بکھیرتے ہیں ،ان کے بارے میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ راویوں کی اپنی کارروائی ہے۔قارئین کرام اللہ کے لیے غور فرمائیں کہ کیا ایسا کہنے سے حدیث کی صحت مشکوک نہیں ہو جاتی ؟
کیا منکرین حدیث پھر سچ کہتے ہیںکہ(نعوذ باللہ!) حدیث عجمیوں کی سازش ہے ؟ جو احادیث آپ اپنے مذہب کی تائید میں پیش کرتے ہیں کیا ان کے راوی کوئی اور مخلوق ہوتے ہیں یا آپ کو بذریعہ وحی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں ان راویوں نے ایسی کوئی کاروائی نہیں کی ؟
یہ اعتراض انکار حدیث کی ایک خفیہ صورت ہے اور اس کا سبب صرف تقلید نا سدید ہے کیونکہ اگر صفدر صاحب مقلد نہ ہوتے تو یقینا ان کو اس صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور ایسی بے تُکی باتیں نہ کرنا پڑتیں۔زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بخاری و مسلم اور حدیث کے دوسرے معتبر اور ثقہ راویوں سے تو صفدر صاحب اور مقلدین اس قدر بد ظن ہیں کہ جن احادیث اور کتب کو امت ِ مسلمہ نے قبول کرنے پر اجماع کر لیا ہے ، یہ لوگ انہیں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جبکہ محمد بن حسن شیبانی اور حسن بن زیاد لؤلوی جیسے راویانِ فقہ حنفی پریہ لوگ اندھا اعتماد کرتے ہیں جن کو محدثین کرام نے کذاب اور خبیث کا لقب عطا کیا ہے۔نہ معلوم ان کذاب اور خبیث راویوں نے امام ابو حنیفہ پر کیا کیا جھوٹ باندھے ہیں اور فقہ حنفی میں کیا کیا کاروائیاں کی ہیں ؟ اس طرف کبھی دھیان نہیں گیا!!!
دیوبندی بھائیوںسے ہمارا سوال ہے کہ یہ گھناؤنی کاروائی آخر کس راوی کی ہے ؟ کیا صحابی رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ تو آپ کے اس خالص تقلیدی فتوے کی زد میں نہیں آ رہے ؟ اگر آپ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بری کر دیں تو آگے سند ملاحظہ فرمائیں :
پہلا طبقہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بہت سے شاگرد ان الفاظ کو بیان کرتے ہیں۔صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ان کے درج ذیل چھ شاگردوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشاب پینے کا حکم بیان کیا ہے :
1 قتادہ بن دعامہ 2 ابو قلابہ عبد اللہ بن زید 3 عبدالعزیز بن صہیب
4 حمیدالطویل 5 عنبسہ بن سعید 6 معاویہ بن قرۃ
کیا ان سب تابعین نے اپنی طرف سے یہ الفاظ بڑھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیئے اور کیا ان سب نے ایک جگہ جمع ہو کر میٹنگ میں یہ بات طے کی تھی؟ حالانکہ یہ لوگ مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ورنہ اگر یہ الفاظ اصل فرمان نبوی نہ تھے تو ان سب کو خواب آگیا تھا کہ یہ الفاظ بڑھا دو ؟
دوسرا طبقہ : ان تابعین سے یہ الفاظ بیان کرنے والے راوی درج ذیل ہیں :
1 ایوب سختیانی 2 ابو رجاء 3 یحییٰ بن ابی کثیر 4 ہمام
5 ہشیم 6سماک بن حرب
یہ بھی یقینا مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ، ان کا اس ذاتی تعبیر پر اتفاق کیسے ہو گیا؟
تیسرا طبقہ : تیسرے طبقے میں تقریبا گیارہ راوی یہ الفاظ بیان کرتے ہیں :
1 حماد 2 ابن عون 3حجاج بن صواف 4 اوزاعی
5 یزید بن زریع 6 عبدالاعلیٰ بن حماد 7 ہداب بن خالد
8 موسیٰ بن اسماعیل 9 ابن ابی شیبہ 0یحییٰ بن یحییٰ !زہیر
چوتھا طبقہ : اس طبقہ میں بھی بہت سے راوی یہ الفاظ بیان کرتے ہیں :
1 سلیمان بن حرب 2 حفص بن عمر 3 قتیبہ بن سعید
4 ابو بشیر 5 ابن علیہ 6 ولید بن مسلم
7 محمد بن یوسف 8 مسکین 9 محمد بن مثنی
0 ازہر ! معاذ بن معاذ
اس سے اگلے طبقوں میں بھی راویوں کی بڑی جماعت یہ الفاظ بیان کرتی ہے ۔
اب دیوبندی بھائیوںسے سوال ہے کہ بلا شبہ یہ سب راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔ کیا سب نے اپنی طرف سے یہ الفاظ بیان کر دیے کو آپ کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں؟یہ بات کر کے جناب نے صحیح بخاری و مسلم کے قریبا چالیس راویوں پر بد ظنی کا اظہار کیا ہے۔ ابھی تو یہ اعداد و شمار صرف بخاری و مسلم کی اسانید کے مطابق ہیں۔ اگر باقی کتب سے بھی اس حدیث کی تخریج کر کے اندازہ لگایا جائے تو بات کہاں سے کہاں تک چلی جائے گی ۔
اگر فن حدیث سے صفدر صاحب کو ذرا سا بھی مس ہوتا تو شاید وہ یہ نہ کہتے کہ یہ بعض رواۃ کی اپنی تعبیر ہے کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے چھ تابعین نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔ صرف ایک راوی ثابت نے ((اشربوا من ألبانھا)) کے الفاظ ذکر کئے ہیں، یعنی اس نے وأبوالھا کا لفظ بیان نہیںکیا جبکہ باقی چھ نے یہ زائد لفظ بیان کر دیا۔ اب یہ زائد لفظ اگر ایک ثقہ راوی بھی بیان کرتا،باقی سب بیان نہ کرتے تو بھی مقبول ہونا تھا،چہ جائیکہ سب نے بیان کیا ہے ، صرف ایک نے بیان نہیں کیا تو صفدر صاحب اسے بعض راویوں کا تصرف اور ذاتی تعبیر کا نام دے کر چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔صفدر صاحب سے یہ بھی سوال ہے کہ چھ کے مقابلے میں ایک بعض ہے یا ایک کے مقابلے میں چھ کو بعض قرار دےا جائے گا؟
قارئین کرام!دیکھا آپ نے کہ یہ مقلدین کا مبلغ علم ہے۔ بھلا جس بارے آپ کو علم نہیں اس بارے میں بات کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟
محدثین و فقہائے کرام کی اہانت !!!
محدثین کرام و فقہائے امت جنہوں نے اپنی زندگیاں حدیث کے لیے وقف کر رکھی تھیں اور جن کی وجہ سے احادیث ِ نبویہ ہم تک پہنچی ہیں اور جو حدیث کو بہتر سمجھنے والے تھے۔ ان کی ایک جماعت نے اس حدیث سے اونٹوں کے پیشاب کی طہارت ثابت کی ہے ، جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔ کیا مذکورہ سب محدثین وفقہائے امت حدیث میں لاعلمی کا شکار تھے ؟ ان میں سے تو کسی کو یہ بات سمجھ نہ آئی جو مقلدین کی عقل نارسا نے اخذ کی ہے۔جہاں یہ بات حدیث کی مخالفت ہے ، وہاں محدثین کے علم اور ان کی حدیث فہمی پر بھی ضرب کاری ہے۔ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاھِھِمْ إِنْ یَّقُولُونَ إِلَّا کَذِبًا !
سب تاویلات بے فائدہ ہیں !
سرخیل دیوبند جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب اس تاویل کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : إنّ ھذا کلّہ ذکرتہ بحثا محضا ، ولیس بمختار عندی ۔
”میں نے یہ سب تاویلات محض (فضول) بحث کرتے ہوئے ذکر کی ہیں ، حالانکہ میرے نزدیک یہ تاویلات پسندیدہ نہیں ہیں ۔” (فیض الباری للکشمیری : ١/٣٢٦، ٣٢٧)
قارئین خود اندازہ کریں کہ جو بات آپ کو پسند ہی نہیں ہے ، حدیث میں باطل تاویلات کے لیے اسے ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ساری کی ساری تاویلات جناب کشمیری صاحب کے ہاں فضول ہیں۔
اعتراض نمبر 4 :
جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب لکھتے ہیں :
”ہدیۃ المجتنی (٣٨) میںہے کہ یہ عبارت سقیتھا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔ اس کا مطلب جیسا کہ امام ابن ہشام نے مغنی اللبیب (١/١٩٣) میں لکھا ہے کہ دو جملوں کا آپس میں فی الجملہ کچھ نہ کچھ تعلق ہو ، ایک کا عامل ذکر کر دیا جائے اور دوسرے کا چھوڑ دیا جائے، اس لئے کہ سامعین خود بخود سمجھ جائیں گے۔ جیسے سقیتھا تبنا وماء باردا میںسقیت ، ماء باردا سے متعلق ہے اور تبنا کا عامل علّفت ہے ، یعنی علّفتھا تبنا ۔
اس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ اشربوا من ألبانھا واطلوا من أبوالھا ، یعنی پیشاب کو پیٹ پر لیپ کرو۔” (خزائن السنن از صفدر : ١/١٥٥)
نیز دیکھیں فیض الباری از کشمیری (١/٣٢٧)اور درس ترمذی از تقی عثمانی (١/٢٩١)
تجزیہ : 1 اس بات میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس طرح نحو میں نحویوں کی ، صرف میں صرفیوں کی اور لغت میں لغویوں کی بات معتبر ہوتی ہے ، اسی طرح حدیث کے فہم میں محدثین کی بات معتبر ہوتی ہے ۔
آج تک کسی ایک ثقہ محدث نے یہ نہیں کہا کہ اشربوا من ألبانھا وأبوالھا کو سقیتھا تبنا وماء باردا کی قبیل سے شمار کیا جائے گا۔اس کے برعکس ہم نے تو امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ سمیت بہت سے محدثین سے ثابت کیا ہے کہ وہ اس سے اونٹ کے پیشاب کو پینا ہی مراد لیتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے اس حدیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کی طہارت کا استدلال کیا ہے ۔کیا کسی محدث کو حدیث کی اتنی سمجھ نہیں تھی جتنی جناب صفدر صاحب اور ان کے ہم نواؤں کو ہے؟؟؟
2 اس کا یہ معنی اس لئے بھی محال ہے کہ حرام و نجس چیز میں شفا ہے ہی نہیں ، جیسا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت کر چکے ہیں، لہٰذا آپ بے فائدہ لیپ کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟
3 دیوبندیوں کے امام العصر جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
وحینئذ یجوز أن یکون من باب علّفتھا تبنا و ماء باردا ۔۔۔۔ ثمّ إنّ ھذا کلّہ ذکرتہ بحثا محضا ، ولیس بمختار عندی ، والظاھر أنّھم شربوا أبوالھا أیضا ۔
”اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ یہ علّفتھا تبنا وماء باردا ۔۔۔ کے قبیل سے ہو۔۔۔ پھر یہ بات بھی مد نظر رہے کہ میں نے یہ تمام باتیں محض بحث کرتے ہوئے ذکر کی ہیں ورنہ میرے نزدیک یہ تاویلات مختار(پسندیدہ) نہیں۔ ظاہر بات یہی ہے کہ انہوں نے اونٹوں کا پیشاب بھی پیا تھا۔”(فیض الباری از کشمیری : ١/٣٢٧)
صفدر صاحب سے سوال ہے کہ جو بات آپ کے اکابرین کے ہاں مختار نہ تھی ، آپ اسے کیوں اختیار کرتے ہیں ؟ مقلدین کی یہ عادت ہے کہ اپنی خفت مٹانے کے لیے وہ باتیں بھی اپنے دلائل میں ذکر کر دیتے ہیں جو خود ان کو پسند نہیں ہوتیں۔
اعتراض نمبر 5 : جناب محمد سرفراز خاں صفدر صاحب لکھتے ہیں :
”دوسرا جواب علامہ عینی ہی نے یہ دیا ہے کہ یہ منسوخ ہے اور دلیل نسخ یہ ہے کہ اس میں مثلہ کا ذکر ہے او ربعد میں آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا تھا چنانچہ ابو داؤد (٢/٦) میں روایت ہے : حضرت سمرۃ بن جندب اور عمران بن الحصین فرماتے ہیں: کان علیہ السلام یحثّنا (برا نگیختہ کرتے تھے) علی الصدقہ وینھانا عن المثلۃ ، موارد الظمان (٣٦٢) ، وعن عمران بن الحصین : إنّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کان یقوم فینا ، فیأمر بالصدقۃ وینھانا عن المثلۃ ۔ انتھی ۔۔۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوتے اور صدقہ کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے)۔۔۔”(خزائن السنن از صفدر : ١/١٥٤، ١٥٥)
تجزیہ : 1 نسخ کا یہ دعوی بلا دلیل ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ مقلدین اکثر ایسے بلا دلیل دعوی ہائے نسخ کرتے رہتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ)ان کی یہعادتِ بد یوں بیان کرتے ہیں :
ونجد کثیرا من الناس ، ممّن یخالف الحدیث الصحیح من أصحاب أبی حنیفۃ أو غیرھم ، یقول : ھذا منسوخ ، وقد اتّخذوا ھذا محنۃ ، کلّ حدیث لا یوافق مذھبھم یقولون : ھو منسوخ من غیر أن یعلموا أنّہ منسوخ ، ولا یثبتوا ما الذی نسخہ ۔ ”ہم نے بہت سے امام ابو حنیفہ کے پیروکاروں وغیرہم کو دیکھا ہے جو صحیح حدیث کی مخالفت یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ یہ منسوخ ہے۔ ایسا کرنا انہوں نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ ہر وہ حدیث جو ان کے(تقلیدی) مذہب کے خلاف ہو ، ا س کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ منسوخ ہے حالانکہ ان کو اس کے نسخ کا پتا بھی نہیں ہوتا نہ وہ دلیل سے اس کا ناسخ ثابت کر سکتے ہیں۔” (مجموع الفتاوی : ٢١/١٥٠)
2 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام طحاوی حنفی احتمال کی بنیاد پر بکثرت دعوی نسخ کرتے ہیں۔ دیکھیں (فتح الباری : ٩/٤٨٧)
اس مسئلہ میں تو عینی حنفی کی تقلید میں صفدر صاحب نے اپنے اکابرین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس حدیث کو امام طحاوی حنفی نے بھی منسوخ نہیں کہا ، گویا امام طحاوی حنفی بھول گئے اور صفدر صاحب نے اس کی تلافی کر دی ۔
3 یہ دعویئ نسخ خود دیوبندی علماء کے نزدیک بھی معتبر نہیںبلکہ وہ اس دعویئ نسخ کو اصولِ حدیث کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں جناب محمد تقی عثمانی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں : ”تیسرا جواب بعض حضرات نے یہ دیا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ اس کی ناسخ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی استنزہوا من البول والی حدیث ہے۔ نسخ کی دلیل یہ ہے کہ مؤرخین کی تصریح کے مطابق عرنیین کا یہ واقعہ ٦ ہجری میں پیش آیا اور حدیث استنزہوا من البول لازماً اس سے مؤخر ہے کیونکہ اس کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو ٧ ہجری میں اسلام لائے۔ اس کے علاوہ اسی حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے عرنیین کا مثلہ فرمایا اور مثلہ باتفاق منسوخ ہے۔ لہٰذا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم بھی منسوخ ہو گا۔ لیکن یہ جواب بہتر نہیں ، اس لئے کہ اصول حدیث میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ محض راوی کا متاخر الاسلام ہونا حدیث کے متاخر ہونے کی دلیل نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ حدیث ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ہو اور راوی نے اسلام لانے کے بعد کسی اور صحابی سے اسے سن کر روایت کر دیا ہو۔ایسی حدیث کو اصولِ حدیث میں مرسل صحابی کہتے ہیں۔ کتب ِ حدیث میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔ لہٰذا حدیث عرنیین کو منسوخ کہنا مشکل ہے ۔۔۔”
(درس ترمذی از تقی عثمانی : ١/٢٩١)
نہ جانے صفدر صاحب اس مشکل میں کیوں پڑ گئے تھے ؟ جاری ہے۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.