2,942

ہم اہل حدیث کیوں؟ حافظ ابویحیی نور پوری حفظہ اللہ


ہم اہل حدیث کیوں؟
حافظ ابو یحییٰ نورپوری

اہل حدیث ہی اہل حق ہیں۔لقب ِاہل حدیث گمراہی کو ہر گز قبول نہیں کرتا۔اسی لیے جو بھی گمراہ ہو جاتا ہے،وہ اہل حدیث سے نفرت کرنے لگتا ہے۔تب ہی تو ہر ظالم اور گمراہ فرقے کی کوشش ہوتی ہے کہ دنیا میں اہل حدیث کہنے،کہلوانے والا کوئی نہ ہو۔ ان کا یہ خواب نہ کبھی شرمندۂ تعبیر ہوا ،نہ ہو گا۔ إن شاء اللّٰہ!
دراصل یہ بُری خواہش کرنے والے وہ لوگ ہیں جو سلف صالحین،ائمہ دین اور محدثین کے منہج و عقیدے کے مخالف اور دشمن ہیں۔وہ ان کے عقیدہ و عمل کو مٹانے کے درپے ہیں، نیز یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سلف صالحین کا دین ناقابل اتباع ہے۔
حالانکہ دنیا میں محدثین کرام ہی وہ لوگ تھے،جو اہل حق تھے۔یہی گروہ قرآن و سنت کو کماحقہ سمجھتا اور اس پر عمل کرتا تھا۔اسی لیے یہ طائفہ منصورہ اہل حدیث کہلایا اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے بھی اپنے آپ کو اہل حدیث ہی کہتے ہیں۔
اہل حدیث ہی اہل حق کیوں؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{ وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ} (الأعراف 7 : 181)
’’جو لوگ ہم نے پیدا کیے،ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے ،جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق عدل وانصاف کرتا ہے۔‘‘
اس آیت ِکریمہ کا مصداق وہ اہل حق ہیں،جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ متواترو مشہور حدیث ہے:
’لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ أُمَّتِي ظَاہِرِینَ عَلَی الْحَقِّ حَتّٰی یَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰہُ‘ ۔
’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اورغالب رہے گا،یہاں تک کہ (قیامت کی صورت میں)اللہ کا حکم آجائے گا۔‘‘
(قطف الأزھار المتناثرۃ في الأحادیث المتواترۃ للسیوطي : 81، لقط اللّآلي المتناثرۃ في الأحادیث المتواترۃ للزبیدي : 20، نظم المتناثر من الحدیث المتواتر : 145)
اس حدیث کی تشریح میں ائمہ اہل سنت،محدثین کرام بالاتفاق فرماتے ہیں کہ اس طائفہ منصورہ سے مراد اہل حدیث ہیں۔ملاحظہ فرمائیں :
1 امام اہل سنت،احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241-164ھ)فرماتے ہیں :
إِنْ لَّمْ تَکُنْ ھٰذِہِ الطَّائِفَۃُ الْمَنْصُورَۃُ أَصْحَابَ الْحَدِیثِ، فَلاَ أَدْرِي مَنْ ھُمْ ۔
’’اگر یہ طائفہ منصورہ اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔‘‘
(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص : 2، وسندہٗ صحیحٌ)
2 امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ (181-118ھ)فرماتے ہیں :
ھُمْ عِنْدِي أَصْحَابُ الْحَدِیثِ ۔
’’میرے نزدیک وہ(طائفہ منصورہ) اہل حدیث ہی ہیں ۔‘‘
(شرف أصحاب الحدیث للخطیب البغدادي، ص : 42، وسندہٗ صحیحٌ)
3 امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا۔انہوں نے فرمایا: میں نے امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (234-161ھ)کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
ھُمْ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ ۔ ’’وہ (طائفہ منصورہ) اہل حدیث ہی ہیں ۔‘‘
(سنن الترمذي : 504/4، 505، ح : 2229، مطبوعۃ إحیاء التراث العربي، بیروت)
4 امام یزید بن ہارون رحمہ اللہ (206-117ھ)فرماتے ہیں :
إِنْ لَّمْ یَکُونُوا أَھْلَ الْحَدِیثِ وَالْـأَثَرِ، فَلَا أَدْرِي مَنْ ھُمْ ۔
’’اگر وہ(طائفہ منصورہ )اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں؟‘‘
(مسألۃ الاحتجاج بالشافعيّ للخطیب، ص : 33، وسندہٗ صحیحٌ)
5 امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (256-194ھ)فرماتے ہیں :
یَعْنِي أَھْلَ الْحَدِیثِ ۔ ’’اس سے مراد اہل حدیث ہیں ۔‘‘
(مسألۃ الاحتجاج بالشافعيّ، ص : 33، وسندہٗ صحیحٌ)
6 امام حاکم رحمہ اللہ (405-321ھ)اس بارے میں فرماتے ہیں :
وَفِي مِثْلِ ھٰذَا قِیلَ : مَنْ أَمَّرَ السُّنَّۃَ عَلٰی نَفْسِہٖ قَوْلًا وَّفِعْلاً نَطَقَ بِالْحَقِّ، فَلَقَدْ أَحْسَنَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي تَفْسِیرِ ھٰذَا الْخَبَرِ أَنَّ الطَّائِفَۃَ الْمَنْصُورَۃَ الَّتِي یُرْفَعُ الْخِذْلَانُ عَنْھُمْ إِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ؛ ھُمْ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ، وَمَنْ أَحَقُّ بِھٰذَا التَّأْوِیلِ مِنْ قَوْمٍ سَلَکُوا مَحَجَّۃَ الصَّالِحِینَ، وَاتَّبَعُوا آثَارَ السَّلَفِ مِنَ الْمَاضِینَ، وَدَحَضُوا أَھْلَ الْبِدَعِ وَالْمُخَالِفِینَ سُنَنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی آلِہٖ أَجْمَعِینَ ۔
’’ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص اپنے نفس پر قولاً وفعلاً سنت کو لاگو کرلیتا ہے ، وہ حق کے مطابق ہی بولتا ہے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کی بہت اچھی تفسیر کی ہے کہ طائفہ منصورہ ،جن سے قیامت تک ذلت ورسوائی دور کر دی گئی ہے ،وہ اہل حدیث ہی ہیں ۔اس تفسیر کا ان لوگوں سے بڑھ کر مصداق ہو بھی کون سکتا ہے،جو نیک لوگوں کے منہج پر گامزن ہوئے،سلف صالحین کے آثار کی پیروی کی،نیز اہل بدعت اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالفین کو لا جواب کیا ؟‘‘(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص : 2)
نیز فرماتے ہیں : وَعَلٰی ھٰذَا عَھِدْنَا فِي أَسْفَارِنَا وَأَوْطَانِنَا کُلَّ مَنْ یُّنْسَبُ إِلٰی نَوْعٍ مِّنَ الْإِلْحَادِ وَالْبِدَعِ؛ لَا یَنْظُرُ إِلَی الطَّائِفَۃِ الْمَنْصُورَۃِ إِلَّا بِعَیْنِ الْحَقَارَۃِ، وَیُسَمِّیھَا الْحَشَوِیَّۃَ ۔۔۔ ۔
’’ہم نے اپنے سفر و حضر میں اسی طرح دیکھاہے کہ جس شخص میں کوئی گمراہی اور بدعت ہوتی ہے،وہ طائفہ منصورہ کو حقارت ہی کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کو حشویہ(گمراہ فرقہ) کا نام دیتا ہے۔‘‘ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص : 4)
7 امام،قوام السنہ،اسماعیل بن محمد اصفہانی(535-457ھ) فرماتے ہیں :
ذِکْرُ أَھْلِ الْحَدِیثِ، وَإِنَّھُمُ الْفِرْقَۃُ الظَّاھِرَۃُ عَلَی الْحَقِّ إِلٰی أَنْ تَقُومُ السَّاعَۃِ ۔
’’اہل حدیث کا بیان،وہی قیامت تک حق پر غالب رہنے والا گروہ ہے ۔‘‘
(الحجّۃ في بیان المحجّۃ : 262/1)
8 امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ (463-392ھ)فرماتے ہیں :
فَقَدْ جَعَلَ رَبُّ الْعَالَمِینَ الطَّائِفَۃَ الْمَنْصُورَۃَ حُرَّاسَ الدِّینِ، وَصَرَفَ عَنْھُمْ کَیْدَ الْمُعَانِدِینَ، لِتَمَسُّکِھِمْ بِالشَّرْعِ الْمَتِینِ، وَاقْتِفَائِھِمْ آثَارَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ، فَشَأْنُھُمْ حِفْظُ الْـآثَارِ وَقَطْعُ الْمَفَاوِزِ وَالْقَفَارِ، وَرُکُوبُ الْبَرَارِيِّ وَالَبِحَارِ، فِي اقْتِبَاسِ مَا شَرَعَ الرَّسُولُ الْمُصْطَفٰی، لَا یُعَرِّجُونَ عَنْہُ إِلٰی رَأْيٍ وَّلَا ہَوًی، قَبِلُوا شَرِیعَتَہٗ قَوْلًا وَّفِعْلًا، وَحَرَسُوا سُنَّتَہٗ حِفْظًا وَّنَقَلًا، حَتّٰی ثَبَّتُوا بِذٰلِکَ أَصْلَہَا، وَکَانُوا أَحَقَّ بِہَا وَأَہْلَہَا، وَکَمْ مِّنْ مُّلْحِدٍ یَّرُومُ أَنْ یَّخْلِطَ بِالشَّرِیعَۃِ مَا لَیْسَ مِنْہَا، وَاللّٰہُ تَعَالٰی یَذُبُّ بِأَصْحَابِ الْحَدِیثِ عَنْہَا، فَہُمُ الْحُفَّاظُ لِأَرْکَانِہَا، وَالْقَوَّامُونَ بِأَمْرِہَا وَشَأْنِہَا، إِذَا صَدَفَ عَنِ الدِّفَاعِ عَنْہَا، فَہُمْ دُونَہَا یُنَاضِلُونَ {أُولٰئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ} (المجادلۃ 58 : 22) ۔
’’اللہ رب العالمین نے طائفہ منصورہ کو دین کامحافظ بنایا اور ان کو مخالفین کی سازشوں سے محفوظ کیا،کیونکہ انہوں نے شریعت ِ مطہرہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایاہے اور صحابہ وتابعین کے آثار کی پیروی کی ہے۔وہ ہر وقت آثار کویاد کرتے،(حدیث کے لیے) صحراؤں و بیابانوں کا سفر کرتے اور پیغمبر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی شریعت کو سمجھنے کے لیے بحر وبر میں گھستے نظر آتے ہیں۔ وہ حدیث کو چھوڑ کر کسی رائے یا خواہش کی پیروی نہیں کرتے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو قولاً وفعلاً قبول کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حفظ ونقل کے اعتبار سے حفاظت کرکے اس کی جڑ مضبوط کردی ہے۔یہی لوگ اس کام کے لائق اور اہل تھے۔کتنے ہی ملحدین شریعت میں وہ چیزیں ملا دینا چاہتے ہیں،جو اس میں شامل نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اہل حدیث کے ذریعے شریعت کا دفاع کرتا ہے۔ اہل حدیث ہی شریعت کے ارکان کے محافظ اور اس کی ساکھ کو مضبوط کرنے والے ہیں۔جب شریعت کے دفاع کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جائیں تو وہ اس کی خاطر لڑائی بھی کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہیں، خبردار!اللہ تعالیٰ کے گروہ(کے لوگ)ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘
(شرف أصحاب الحدیث، ص : 39)
اہلِ حدیث کا عقیدہ و منہج :
اہل حدیث کا وہی عقیدہ و منہج ہے،جو محدثین کرام کا تھا ۔ہم سر مو بھی اس سے منحرف نہیں ہیں۔اس لیے کہ ہمارے نزدیک محدثین کرام سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اہل حدیث ، قرآن وحدیث،اجماعِ امت اور اجتہاد ِ شرعی کو حق مانتے ہیں۔ہمارے نزدیک قرآن وسنت کا وہی فہم معتبر ہے،جو محدثین کا اتفاقی فہم ہے۔دنیا میں محدثین سے ثابت ایک بھی اجماع ایسا نہیں،جس کے اہل حدیث منکر ہوں۔ہم دینی مسائل میں اسلاف ِامت اور محدثین کرام کے اجتہادات کو مقدم رکھتے ہیں، جیسا کہ اہل حدیث کے اسلاف :
b امام عبد الرحمن بن عمرو،اوزاعی رحمہ اللہ (م : 157ھ)فرماتے ہیں :
عَلَیْکَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ وَإِنْ رَّفَضَکَ النَّاسُ، وَإِیَّاکَ وَرَأْيِ الرِّجَالِ وَإِنْ زَخْرَفُوہُ بِالْقَوْلِ، فَإِنَّ الْـأَمْرَ یَنْجَلِي وَأَنْتَ عَلٰی طَرِیقٍ مُّسْتَقِیمٍ ۔
’’تو سلف (محدثین)کے آثار کو لازم پکڑ،اگرچہ لوگ تجھے چھوڑدیں۔ تو(بدعتی) لوگوں کی آرا سے بچ،اگرچہ وہ ان کو مزین کر کے پیش کریں،کیونکہ بلاشبہ ایسا کرنے سے تیرا معاملہ صاف ہو جائے گااور تو صراط ِ مستقیم پر گامزن ہو جائے گا۔‘‘
(شرف أصحاب الحدیث للخطیب : 6، الشریعۃ للآجري : 127، وسندہٗ صحیحٌ)
b امام ابوزرعہ رازی(264-200ھ)اور امام ابوحاتم رازی (327-240ھ)H فرماتے ہیں : ’’ نیز ہم اہل سنت والجماعت کی اتباع کرتے ہیں ، شذوذ ، اختلاف اور تفرقہ بازی سے اجتناب کرتے ہیں۔۔۔‘‘(کتاب أصل السنّۃ واعتقاد الدین)
b علامہ ابوالمظفرسمعانی رحمہ اللہ (489-426ھ)فرماتے ہیں :
وَشِعَارُ أَھْلِ السُّنَّۃِ اتِّبَاعُھُمُ السَّلَفَ الصَّالِحَ، وَتَرْکُھُمْ کُلَّ مَا ھُوَ مُبْتَدَعٌ مُّحْدَثٌ ۔ ’’اہل سنت (اہل حدیث)کا شعار سلف صالحین کی پیروی کرنا اور ہر بدعت کو چھوڑ دینا ہے ۔‘‘(الحجّۃ في بیان المحجّۃ للاصبھاني : 395/1)
سوال یہ ہے کہ اگر محدثین کرام کا منہج و عقیدہ درست تھا اور وہ اہل حق تھے تو ان کے ہم عقیدہ وہم منہج اہل حق کیوں نہیں ؟
اعتراضات کا منصفانہ تجزیہ
اہل حدیث لقب پر مختلف قسم کے لوگ کئی قسم کے اعتراضات کرتے ہیں،آئیے اختصار کے ساتھ ان سب کا جائزہ لیتے ہیں:
1 ہمارا نام صرف مسلمان !
بعض لوگوں کو لفظ اسلام اور مسلم کا ہیضہ ہو گیا ہے۔یہ لوگ کسی کافرو مشرک اور بدعتی سے اتنی نفرت نہیں کرتے،جتنی اہل حدیث سے روا رکھتے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو کافر بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام صرف مسلمان رکھا ہے۔جو کوئی اپنے آپ کو اہل سنت یا اہل حدیث کہتا ہے،وہ کافر و مشرک ہو جاتا ہے۔اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں کہ اللہ نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے اور ہم مسلمان ہی ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا نام صرف مسلمان ہے۔اس سلسلے میں جو آیت ِ کریمہ پیش کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے :
{ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ہٰذَا} (الحجّ 22 : 78)
’’اس(اللہ)نے تمہارا نام مسلمان رکھا،اس سے پہلے بھی اور اس (قرآن)میں بھی۔‘‘
اس آیت میں کوئی کلمہ حصر استعمال نہیں کیا گیا،جس سے یہ ثابت ہو کہ ہمارا نام صرف مسلمان ہے یا اللہ نے ہمارا نام صرف مسلمان رکھا ہے ،اس کے علاوہ کوئی نام رکھنا جائز ہی نہیں رہا اور جو اپنا کوئی اور نام رکھ لے گا،وہ مسلمان ہی نہیں رہے گا۔
خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اور بھی نام رکھے ہیں،جیسا کہ :
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’فَادْعُوا بِدَعْوَی اللّٰہِ الَّذِي سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ، الْمُؤْمِنِینَ، عِبَادَ اللّٰہِ‘ ۔
’’تم اللہ کی پکار کے ساتھ پکارو،جس نے تمہارا نام مسلمان،مؤمن اور عباد اللہ رکھا ہے۔‘‘
(سنن الترمذي : 2863، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہمارے تین نام رکھے ہیں؛ مسلمان،مؤمن اور عباد اللہ۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو مؤمن کے سوا اپنا کوئی نام رکھ لے گا،وہ مؤمن نہیں رہے گا اور جو عبد اللہ کے علاوہ اپنا کوئی نام رکھ لے،وہ اللہ کا بندہ نہیں رہے گا اور جو ان تینوں میں سے کسی نام کو چھوڑے گا،وہ دائرۂ اسلام و ایمان سے خارج ہو جائے گا؟
ہمارا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ اللہ نے جب مؤمن اور عباد اللہ نام بھی رکھا ہے تو آپ لوگ مؤمن اور عباد اللہ کے نام کیوں نہیں رکھتے؟
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دور ِنبوت کے مسلمانوں کے دو نام ’’مہاجرین‘‘ اور ’’انصار‘‘ بھی ذکر کیے،جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْاَنْصَارِ} (التوبۃ 9 : 117)
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر مہربانی فرمائی۔‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جس طرح مسلمانوں کو [یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ] (اے مسلمانوں کی جماعت!)کہہ کر پکارا(صحیح البخاري : 4141، صحیح مسلم : 2770)،اسی طرح ان کو [یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ] (اے مہاجرین کی جماعت!)(صحیح البخاري : 6830) اور [یَا مَعْشَرَ الْـأَنْصَارِ] (اے انصار کی جماعت!)(صحیح البخاري : 4330، صحیح مسلم : 1059) کہہ کر بھی یاد فرمایا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو کئی اور ناموں سے بھی پکارا اور یاد فرمایا،لیکن ہم نے خصوصاً مہاجرین اور انصار کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ اسلام کے بعض ٹھیکیداروں کو جب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے تمہارا نام صرف مسلمان رکھا ہے تو تمہارا نام مسعود،حنیف،شمیم وغیرہ کیوں ہے؟ تو وہ یہ جواب دے کر بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ پابندی صرف مذہبی نام پر ہے،یعنی مسلم کے سوا کوئی مذہبی نام نہیں رکھا جا سکتا،مثلاً اہل سنت اور اہل حدیث وغیرہ مذہبی نام ہیں،یہ نام ناجائز ہیں،ان کی وجہ سے مسلمان مشرک اور فرقہ پرست بن جاتا ہے۔
حالانکہ اہل سنت اور اہل حدیث دونوں اسی طرح کے مذہبی نام ہیں،جس طرح کے مذہبی نام مہاجرین اور انصار ہیں۔مہاجرین کو ہجرت جیسے مذہبی فریضے کی بجاآوری پر مہاجرین کا نام دیا گیا اور ان بے یارومددگار مہاجرین کی نصرت جیسے دینی کارنامے کی بنا پر مدینہ کے مسلمانوں کو انصار کا نام دیا گیا۔جب کسی مذہبی کارنامے کی بنا پر کوئی نام جائز ہے تو قرآن و سنت پر عمل جیسے مذہبی کارنامے کی بنا پر اہل سنت یا اہل حدیث کہلوانا کیونکر شرک و کفر بن گیا؟
اگراب بھی کسی کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ہم ایک اور طرح سے سمجھائے دیتے ہیں۔اسلام اور مسلمان کوئی نئی اصطلاح نہیں،بلکہ پہلی امتوں میں بھی دین اسلام ہی تھا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ} (آل عمران 3 : 19)
’’بیشک دین اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے۔‘‘
اسی لیے سیدنا ابراہیم اور سیدنا یعقوبiنے اپنے بیٹوں کو وصیت فرمائی تھی :
{اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ}
(البقرۃ 2 : 132)
’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین(اسلام)پسند کیا ہے،لہٰذا تم نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے بلقیس اور اس کی رعایا کو خط لکھا تھا :
{اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَاْتُوْنِيْ مُسْلِمِیْنَ} (النمل 27 : 31)
’’میرے خلاف سرکشی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔‘‘
یعنی پہلے انبیاکا دین بھی اسلام ہی تھااور پہلی امتوں کو بھی مسلمان ہی ہونے کا حکم تھا، لیکن اس کے باوجود اپنے انبیا کے پیروکار یہودی کہلاتے تھے یا نصرانی،اگر وہ اہل توحید تھے،تو جنت میں جائیں گے،جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصَارٰی وَالصَّابِئِیْنَ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ} (البقرۃ 2 : 62)
’’بلاشبہ جو لوگ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر)ایمان لائے اور جو یہودی،نصرانی اور صابی(آبا و اجداد کا دین چھوڑ کر نیا دین قبول کرنے والے)بنے،ان میں سے جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے،ان کے لیے ان کے ربّ کے ہاں اجر ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہو گا ،نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
یعنی یہود و نصاریٰ کہلانے والے مؤمنوں کو بھی جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔
اسی طرح کچھ لوگ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دور ِجاہلیت میں بھی اہل توحید تھے،جنہوں نے بت پرستی چھوڑ کر توحید کو اپنا لیا تھا۔ان کا دین نصرانیت تھا۔مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسے لوگ جنتی ہیں۔ورقہ بن نوفل سے کون واقف نہیں؟یہ انہی لوگوں میں سے تھے۔ذرا ان کا تعارف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی ملاحظہ فرمائیں :
وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ، فَیَکْتُبُ مِنَ الْإِنْجِیلِ بِالعِبْرَانِیَّۃِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّکْتُبَ ۔
’’ورقہ بن نوفل دور ِ جاہلیت میں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی ہوئے تھے،وہ عبرانی زبان لکھنا جانتے تھے،چنانچہ جس قدر انہیں توفیق ملتی عبرانی زبان میں انجیل لکھتے رہتے۔‘‘
(صحیح البخاري : 3، صحیح مسلم : 160)
یعنی موحّد ہونے کے ساتھ ساتھ ورقہ بن نوفل کا مذہب نصرانیت تھا۔
نصرانیت کی وجہ تسمیہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔امام قتادہ تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تُسُمُّوا بِقَرْیَۃٍ یَّقَالُ لَہَا نَاصِرَۃً، کَانَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَنْزِلُہَا ۔
’’ان کا یہ نام ایک بستی[ناصرہ]کی بنا پر پڑا جس میں عیسیٰ بن مریمi تشریف لایا کرتے تھے۔‘‘(تفسیر الطبري : 145/2، وسندہٗ صحیحٌ)
یعنی پہلی امتوں کو بھی مسلمان ہونے کا حکم تھا اور ان سے بھی صرف دین اسلام ہی کا مطالبہ تھا۔پہلے انبیا نے اسلام ہی کی دعوت دی اور انبیائے کرام کے پیروکار مسلمان ہی تھے، لیکن مسلمان ہونے کے ساتھ کوئی اہل توحید یہودی یا نصرانی بھی کہلایا،تو اللہ کی جنت کا وارث قرار پایا۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہوتے ہوئے کوئی ایسا دینی، مذہبی،تنظیمی و تحریکی اور مسلکی نام کفر و شرک نہیں ہوتا،جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
اصل بات تو عقیدہ و منہج کی ہے۔اگر عقیدہ و منہج سلامت نہیں،تو لاکھ دفعہ مسلمان کہلائے اور کروڑ دفعہ اسلام کا دعویٰ کرے،نجات ممکن نہیں اور اگر عقیدہ و منہج درست ہے تو مسلمان ہونے کے ساتھ مہاجر کہلائے یا انصاری،اہل سنت کہلائے یا اہل حدیث،نجات سے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
نصرانیت ایک مذہبی نام تھا،جو ایک بستی کی بنا پر پڑا تھا۔ جب مسلمان ہوتے ہوئے ایک بستی کی طرف منسوب مذہبی نام ورقہ بن نوفل کی نجات میں رکاوٹ نہیں بن سکا، تو قرآن و سنت کی طرف منسوب نام ہم اہل توحید کے لیے کفر وشرک کیسے بن گیا؟
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی کفریہ و شرکیہ اور باطل عقیدہ و منہج کی طرف نسبت کرنے کے لیے رکھے جانے والے جماعتی نام اپنے منسوب الیہ عقیدہ و منہج کی بنا پر ناجائز ہیں،اس لیے نہیں کہ مسلمان ہوتے ہوئے کوئی دوسرا جماعتی نام نہیں رکھا جا سکتا۔
2 اہل حدیث تو محدثین تھے !
اس سلسلے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل حدیث صرف محدثین تھے۔ان کے بعد کوئی اہل حدیث نہیں ہو سکتا۔دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ ان کے خیال کے مطابق محدثین کرام کو ماننے والا دنیا میں کوئی رہا ہے نہ ان کے عقیدہ و عمل کو کسی نے سمجھا اور اپنایا ہے اور محدثین کرام سے محبت کرنے والا کوئی دنیا میں تھا، نہ ہے،نیز ان کے منہج کی دعوت دینے والا کوئی تھا،نہ ہے۔اگر خدانخواستہ واقعی ایسا ہو جائے،تو اہل باطل کی دلی مراد پوری ہو جائے، گمراہ فرقوں کو پنپنے کا موقع مل جائے اور دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے۔
حالانکہ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہندوستان کے شہر دیوبند میں ’’دارالعلوم دیوبند‘‘قائم کرنے والے ہی دیوبندی تھے،ان کے بعد کوئی دیوبندی نہیں ہو سکتا اور ہندوستان کے شہر ’’بریلی‘‘کے باشندے،جناب احمد رضا خان ہی بریلوی تھے،ان کے بعد کوئی بریلوی نہیں ہو سکتا۔ اہل حدیث کے بدخواہوں کی طرف سے کبھی یہ سوال نہیں کیا گیا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کے باشندے ہندوستان کے شہر دیوبند اور بریلی کی طرف کیسے منسوب ہو گئے؟
جن لوگوں نے دیوبند میں 1866ء کو قائم ہونے والے ’’دارالعلوم‘‘ کا دیا ہوا طریقہ کار اختیار کیا،وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اور کسی بھی وقت دیوبندی کہلا سکتے ہیں اورجنہوں نے بریلی کے باشندے جناب احمد رضا خان (1921-1865ئ)کا دیا ہوا دین اپنایا،وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اور کسی بھی وقت بریلوی کہلا سکتے ہیں،تو جن خوش نصیبوں نے اسلام کے دورِ اوّل میں صحابہ کرام سے لے کر تدوین حدیث تک کے،حدیث پڑھنے پڑھانے والے، محدثین کرام کا منہج اختیار کیا، وہ اہل حدیث کیوں نہیں کہلا سکتے؟
درا صل اہل حدیث کی دو قسمیں ہیں؛ ایک قسم ان محدثین کرام پر مشتمل ہے،جنہوں نے حدیث کو روایت کیا،جمع کیااور اس کے معنیٰ و مفہوم کو بجا طور پر سمجھا۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے،جنہوں نے محدثین کرام کے فہم دین کو لیا،شریعت کے متعلق محدثین کرام کی تعبیرات کو کافی جانا اور ہر دور میں انہی کے عقیدہ و منہج اور عمل کو اپنایا۔
شیخ الاسلام،تقی الدین،احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں:
وَنَحْنُ لَا نَعْنِي بِأَہْلِ الْحَدِیثِ الْمُقْتَصِرِینَ عَلٰی سَمَاعِہٖ، أَوْ کِتَابَتِہٖ، أَوْ رِوَایَتِہٖ، بَلْ نَعْنِي بِہِمْ کَلَّ مَنْ کَانَ أَحَقَّ بِحِفْظِہٖ، وَمَعْرِفَتِہٖ، وَفَہْمِہٖ ظَاہِرًا وَّبَاطِنًا، وَاتِّبَاعِہٖ بَاطِنًا وَّظَاہِرًا، وَکَذٰلِکَ أَہْلُ الْقُرْآنِ، وَأَدْنٰی خَصْلَۃٍ فِي ہٰؤُلَائِ مَحَبَّۃُ الْقُرْآنِ وَالْحَدِیثِ، وَالْبَحْثُ عَنْہُمَا وَعَنْ مَّعَانِیہِمَا، وَالْعَمَلُ بِمَا عَلِمُوہُ مِنْ مُّوجِبِہِمَا ۔
’’اہل حدیث سے ہماری مراد صرف وہ لوگ نہیں،جو حدیث سننے،لکھنے یاروایت کرنے پر اکتفا کرتے ہیں،بلکہ ہمارے نزدیک ہر وہ شخص اہل حدیث ہے،جو حدیث کو یاد کرتا ہو، اس کی معرفت رکھتا ہو،ظاہری و باطنی طور پر حدیث کو سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہو۔ اسی طرح قرآنِ کریم کو یاد کرنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے بھی اہل حدیث ہیں۔اہل حدیث کی کم سے کم خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے محبت رکھتے ہیں،ان کی نصوص اور معانی کی جستجو میں رہتے ہیں اور ان کی جو تعلیمات معلوم ہو جائیں،ان پر عمل کرتے ہیں۔‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 95/4)
یعنی جس طرح قرآن و سنت کو یاد کرنے،سمجھنے اور آگے بیان کرنے والے محدثین کرام اہل حدیث تھے،اسی طرح ان سے قرآن و سنت کو سن کر عمل کرنے والے بھی اہل حدیث ہیں۔
قابل غور بات تو یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی فقہی خدمات کو یاد کرنے ،نقل کرنے اور امام صاحب کے اقوال میں سے صحیح و غلط کی تمیز کرنے والے ائمہ احناف بھی حنفی تھے اور ان کے بعدمیں آنے والے فقہ حنفی کے ایسے اَن پڑھ پیروکار بھی حنفی کہلائے،جن کو فقہ کی تعریف تک نہیں آتی۔اگر یہ طرز عمل درست تھا تو یہ کیسے غلط ہو گیاکہ قرآن و سنت کو یاد کرنے، سمجھنے، نقل کرنے اور صحیح و ضعیف احادیث میں تمیز کرنے والے محدثین بھی اہل حدیث ہوں اور بعد میں قیامت تک آنے والے وہ لوگ بھی اپنے آپ کو اہل حدیث کہلائیںجو محدثین سے قرآن و سنت کا علم لے کر اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے ہوں؟
3 اہل سنت ہونا چاہیے ،اہل حدیث نہیں!
بعض لوگ تو ایسے عقل کے دشمن ہیں کہ لقب اہل سنت پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، بلکہ وہ اپنے تئیں اہل سنت کہلاتے بھی ہیں،لیکن لقب اہل حدیث سے انہیں خاص قسم کی دشمنی ہے،حالانکہ ان دونوں القاب میں کوئی خاص فرق نہیں،اگر سنت اور حدیث میں فرق کرنے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ حدیث،سنت سے زیادہ جامع لفظ ہے، کیونکہ حدیث کا اطلاق قرآن (الکہف 18 : 6، الزمر 39 : 23، القلم 68 : 44) پر بھی ہوا ہے اور اسوۂ رسول پر بھی،جبکہ سنت کے لفظ کا قرآنِ کریم پر کبھی اطلاق نہیں ہوا،اس کا اطلاق صرف اسوۂ رسول پر ہوتا ہے۔یوں اہل حدیث کا معنیٰ ہو گا ؛ ایسے لوگ جو قرآن اور اسوۂ رسول کو اپنا دستور زندگی سمجھتے ہیں اور اہل سنت کا معنیٰ ہو گا ؛ ایسے لوگ جو اسوۂ رسول کو اپنا ضابطہ حیات قرار دیتے ہیں۔
یہ فرق صرف ان لوگوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا گیا ہے،جو اہل سنت کے نام کو تسلیم کرتے ہیں اور اہل حدیث کے نام سے چڑتے ہیں،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت اور اہل حدیث دونوں ایک ہی گروہ کے دو نام ہیں۔جب اہل اسلام نے اسلام کے نام لیوا دشمنانِ اسلام روافض سے جداگانہ تشخص اختیار کرنا چاہا تو اپنے آپ کو اتفاقی طور پر اہل سنت کہا اور جب اہل سنت نے اپنے آپ کو اہل سنت کہنے والے اہل بدعت سے جداگانہ تشخص بنانا چاہا تو اتفاقی طور پر اپنے آپ کو اہل حدیث کہا۔حقیقت میں اہل سنت و اہل حدیث ایک ہی گروہ اور ایک ہی جماعت ہے،جیسا کہ :
امام اندلس،حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463-368ھ)فرماتے ہیں :
وَأَمَّا قَوْلُہٗ فِي ہٰذَا الْحَدِیثِ لِلْجَارِیَۃِ : ’أَیْنَ اللّٰہُ ؟‘ فَعَلٰی ذٰلِکَ جَمَاعَۃُ أَہْلِ السُّنَّۃِ، وَہُمْ أَہْلُ الْحَدِیثِ ۔
’’اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لونڈی سے سوال کرناکہ اللہ کہاں ہے؟(اور اس کا جواب کہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے)، اسی کے مطابق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور اہل سنت والجماعت اہل حدیث ہی ہیں۔‘‘(الاستذکار : 337/7)
نیز فرماتے ہیں : وَیَحْتَجُّ بِہٖ أَہْلُ الْحَدِیثِ وَالْفِقْہِ، وَہُمْ أَہْلُ السُّنَّۃِ ۔
’’اس حدیث سے اہل حدیث و فقہ دلیل لیتے ہیں اور یہی لوگ اہل سنت ہیں۔‘‘
(الاستذکار : 258/8)
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ (561-471ھ)فرماتے ہیں :
إِنَّ أَہْلَ السُّنَّۃِ لَا اسْمَ لَہُمْ إِلَّا اسْمٌ وَّاحِدٌ، وَہُوَ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ ۔
’’بلاشبہ اہل سنت کا ایک ہی نام ہے اور وہ اہل حدیث ہے۔‘‘
(الغنیّۃ لطالبي طریق الحقّ : 71/1، طبعۃ دار المعرفۃ، بیروت)
معلوم ہوا کہ اہل سنت اور اہل حدیث ایک ہی جماعت کے دو نام ہیں۔محدثین کرام ایک ہی وقت میں اہل سنت اور اہل حدیث کہتے، کہلاتے تھے،آج بھی اہل سنت اپنے آپ کو اہل حدیث کہلائیں تو اس میں آخر مضائقہ کیا ہے؟
اس بات کو مثال سے یوں سمجھیں کہ پاکستان میں رہنے والے سارے لوگ ہی پاکستانی ہیں، لیکن جب لاہور میں رہنے والا کوئی پاکستانی،پشاور میں رہنے والے پاکستانی سے ملتا ہے تو ایک کی شناخت لاہوری اور دوسرے کی پشاوری ہوتی ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایک پاکستانی اپنے آپ کو لاہوری تو کہہ سکتا ہے،پشاوری نہیں کہہ سکتا؟جب یہ درست نہیں تو یہ کہنا کیسے مناسب ہے کہ مسلمان روافض کے مقابلے میں اہل سنت کہلا سکتے ہیں،لیکن اہل بدعت کے مقابلے میں اہل حدیث نہیںکہلا سکتے؟
ہاں، اگر کوئی شخص یا گروہ اہل سنت و اہل حدیث کے منہج و عمل کا مخالف ہے،تو اسے بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ اہل سنت و اہل حدیث کے منہج کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے آپ کو اہل سنت یا اہل حدیث کیوں کہہ رہے ہیں؟
n اصلی اہل سنت کون ؟
اصطلاحِ اہل سنت کا اطلاق دو طرح سے ہوتا ہے ؛ ایک عام اور دوسرے خاص۔عام اطلاق شیعہ کے مقابلے میں ہوتا ہے،یعنی شیعہ کے علاوہ ہر وہ فرقہ جو اسلام کی طرف منسوب ہو،اہل سنت کہلاتا ہے،جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فَلَفْظُ أَہْلِ السُّنَّۃِ یُرَادُ بِہٖ مَنْ أَثْبَتَ خِلَافَۃَ الْخُلَفَائِ الثَّلَاثَۃِ، فَیَدْخُلُ فِي ذٰلِکَ جَمِیعُ الطَّوَائِفِ إِلَّا الرَّافِضَۃَ ۔
’’لفظ ِاہل سنت سے مراد وہ لوگ ہیں،جو خلفائے ثلاثہ(سیدنا ابوبکرو عمر اور عثمانy) کی خلافت کو حق سمجھتے ہیں۔اس میں سوائے روافض کے تمام اسلامی گروہ شامل ہیں۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویّۃ في نقض کلام الشیعۃ القدریّۃ : 221/2)
جبکہ اہل سنت کا خاص اطلاق تمام اہل بدعت و ضلالت،مثلاً شیعہ،خوارج،جہمیہ، معتزلہ، مرجیہ،اشاعرہ وغیرہ کے مقابلے میں ہوتا ہے اور اس خاص اطلاق کے مطابق اہل سنت سے مراد صرف وہ فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ ہے،جو ہر قسم کی گمراہی سے پاک ہے اور جسے محدثین کرام کے بقول اہل حدیث کہا جاتا ہے،جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں :
وَقَدْ یُرَادُ بِہٖ أَہْلُ الْحَدِیثِ وَالسُّنَّۃِ الْمَحْضَۃِ، فَلَا یَدْخُلُ فِیہِ إِلَّا مَنْ یُّثْبِتُ الصِّفَاتِ لِلّٰہِ تَعَالٰی، وَیَقُولُ : إِنَّ الْقُرْآنَ غَیْرُ مَخْلُوقٍ، وَإِنَّ اللّٰہَ یُرٰی فِي الْآخِرَۃِ، وَیُثْبِتُ الْقَدْرَ، وَغَیْرَ ذٰلِکَ مِنَ الْـأُصُولِ الْمَعْرُوفَۃِ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِیثِ وَالسُّنَّۃِ.
’’کبھی لفظ ِاہل سنت سے مراد اہل حدیث ہوتے ہیں،جو اصلی اہل سنت ہیں۔ ایسی صورت میں اہل سنت میں صرف وہ لوگ شامل ہوں گے،جو تمام صفاتِ باری تعالیٰ کا اثبات کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم مخلوق نہیں،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن (مؤمنوں کو)اپنا دیدار کرائے گا،نیز وہ تقدیر اور اہل حدیث و اہل سنت کے ہاں معروف دیگر اصولِ دین پر ایمان لاتے ہوں۔‘‘(منہاج السنّۃ النبویّۃ : 221/2)
اس بنا پر اہل سنت کا لقب اپنانا اہل حدیث کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں۔احناف مقلدین عقائد کے باب میں صرف سات صفات ِباری تعالیٰ (سمع،بصر،علم،کلام،قدرت، ارادہ،حیات)کا اثبات کرتے ہیں،باقی سب میں اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کے خلاف تاویل کرتے ہیں،جبکہ اہل حدیث ہر دور میں اللہ رب العزت کی تمام صفات کو بغیر تمثیل و تکییف اور تحریف و تاویل کے تسلیم کرتے رہے ہیں۔اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر وہ صفت جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے ثابت کر دی ہے یا اپنے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہمیں بتا دی ہے،وہ جیسے اللہ تعالیٰ کے لائق و مناسب ہے اور جیسے اس کے شایانِ شان ہے،اس پر ایمان لانا واجب ہے۔
ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جو لوگ عقیدۂ توحید،یعنی اسماء و صفات میں سلف صالحین کے مخالف ہوں،کیا وہ حقیقی سنی ہو سکتے ہیں اور کیا ان کے لیے اہل سنت کہلانا روا ہے؟الحمد للہ! ہم اہل حدیث، سلف صالحین کے منہج و عقیدہ سے سرِمُو بھی منحرف نہیں۔جو لوگ سلف کے عقیدے کے مخالف ہوں،ہم ان کے مخالف ہیں۔اہل حدیث دراصل سلف صالحین و محدثین کرام کی یادگار ہیں اور سلف جن کو اہل بدعت اور اہل کلام کہہ کر پکارتے تھے،ان میں سے اکثر گروہ آج اہل سنت ہونے کے دعویدار ہیں۔جو لوگ ہردور میں محدثین کرام کے دشمن اور مخالف رہے ہیں، ان کو اہل سنت کہلوانے کا کیا حق ہے؟
اہل سنت والجماعت سے مراد وہ جماعت ہے جو سلف صالحین کے منہج و عقیدہ کی پابند ہو اور ان کے اجماع کو شرعی حجت مانتی ہو۔اہل بدعت و تقلید کبھی ائمہ سلف کے عقیدہ و منہج پر کاربند نہیں ہو سکتے،نہ ہی وہ ان کے اجماع کو شرعی حجت تسلیم کر سکتے ہیں۔ایسے اہل بدعت و ضلالت کو ہرگز ہرگز اہل سنت والجماعت کا لیبل استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ایسے لوگوں کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں :
فَکَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ یُخْبِرُ عَنْ ہٰذِہِ الْفِرَقِ بِحُکْمِ الظَّنِّ وَالْہَوٰی، فَیَجْعَلُ طَائِفَتَہٗ وَالْمُنْتَسِبَۃَ إِلٰی مَتْبُوعِہِ الْمُوَالِیَۃَ لَہٗ ہُمْ أَہْلَ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ، وَیَجْعَلُ مَنْ خَالَفَہَا أَہْلَ الْبِدَعِ، وَہٰذَا ضَلَالٌ مُّبِینٌ، فَإِنَّ أَہْلَ الْحَقِّ وَالسُّنَّۃِ لَا یَکُونُ مَتْبُوعُہُمْ إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی، إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْيٌ یُّوحٰی، فَہُوَ الَّذِي یَجِبُ تَصْدِیقُہٗ فِي کُلِّ مَا أَخْبَرَ، وَطَاعَتُہٗ فِي کُلِّ مَا أَمَرَ، وَلَیْسَتْ ہٰذِہِ الْمَنْزِلَۃُ لِغَیْرِہٖ مِنَ الْـأَئِمَّۃِ، بَلْ کُلُّ أَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ یُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِہٖ وَیُتْرَکُ، إِلَّا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ جَعَلَ شَخْصًا مِّنَ الْـأَشْخَاصِ غَیْرَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؛
مَنْ أَحَبَّہٗ وَوَافَقَہٗ کَانَ مِنْ أَہْلِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ، وَمَنْ خَالَفَہٗ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْبِدْعَۃِ وَالْفُرْقَۃِ ـــــ کَمَا یُوجَدُ ذٰلِکَ فِي الطَّوَائِفِ مِنْ أَتْبَاعِ أَئِمَّۃٍ فِي الْکَلاَمِ فِي الدِّینِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ ـــــ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْبِدَعِ وَالضَّلَالِ وَالتَّفَرُّقِ، وَبِہٰذَا یَتَبَیَّنُ أَنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِأَنْ تَکُونَ ہِيَ الْفِرْقَۃُ النَّاجِیَۃُ أَہْلُ الْحَدِیثِ وَالسُّنَّۃِ؛ الَّذِینَ لَیْسَ لَہُمْ مَّتْبُوعٌ یَّتَعَصَّبُونَ لَہٗ إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُمْ أَعْلَمُ النَّاسِ بِأَقْوَالِہٖ وَأَحْوَالِہٖ، وَأَعْظَمُہُمْ تَمْیِیزًا بَیْنَ صَحِیحِہَا وَسَقِیمِہَا، وَأَئِمَّتُہُمْ فُقَہَائُ فِیہَا وَأَہْلُ مَعْرِفَۃٍ بِمَعَانِیہَا، وَاتِّبَاعًا لَّہَا تَصْدِیقًا وَّعَمَلًا وَحُبًّا، وَّمُوَالَاۃً لِّمَنْ وَّالَاہَا وَمُعَادَاۃً لِّمَنْ عَادَاہَا، الَّذِینَ یَرُدُّونَ الْمَقَالَاتِ الْمُجْمَلَۃَ إِلٰی مَا جَائَ بِہٖ مِنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ، فَلَا یَنْصِبُونَ مَقَالَۃً وَّیَجْعَلُونَہَا مِنْ أُصُولِ دِینِہِمْ وَجُمَلِ کَلَامِہِمْ إِنْ لَّمْ تَکُنْ ثَابِتَۃً فِیمَا جَائَ بِہِ الرَّسُولُ بَلْ یَجْعَلُونَ مَا بُعِثَ بِہِ الرَّسُولُ مِنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ، ہُوَ الْـأَصْلَ الَّذِي یَعْتَقِدُونَہٗ وَیَعْتَمِدُونَہٗ، وَمَا تَنَازَعَ فِیہِ النَّاسُ مِنْ مَّسَائِلِ الصِّفَاتِ وَالْقَدَرِ وَالْوَعِیدِ وَالْـأَسْمَائِ وَالْـأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْيِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ یَرُدُّونَہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ، وَیُفَسِّرُونَ الْـأَلْفَاظَ الْمُجْمَلَۃَ الَّتِي تَنَازَعَ فِیہَا أَہْلُ التَّفَرُّقِ وَالِاخْتِلَافِ، فَمَا کَانَ مِنْ مَّعَانِیہَا مُوَافِقًا لِّلْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ أَثْبَتُوہُ، وَمَا کَانَ مِنْہَا مُخَالِفًا لِّلْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ أَبْطَلُوہُ، وَلَا یَتَّبِعُونَ الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْـأَنْفُسُ، فَإِنَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ جَہْلٌ، وَاتِّبَاعُ ہَوَی النَّفْسِ بِغَیْرِ ہُدًی مِّنَ اللّٰہِ ظُلْمٌ، وَجِمَاعُ الشَّرِّ الْجَہْلُ وَالظُّلْمُ ۔
’’ ان گمراہ فرقوں کے بارے میں بہت سے لوگ اپنے ظن و تخمین اور ہوائے نفس سے حکم لگاتے ہیں،چنانچہ اپنے گروہ اور اس کے پیروکاروں کو اہل سنت والجماعت قرار دیتے ہیں،جبکہ مخالفین کو گمراہ،اہل بدعت و اہل تفرقہ کہتے ہیں۔یہ بہت واضح گمراہی ہے۔اہل حق،یعنی اہل سنت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں،جو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے تھے،آپ کا قول وحیِ الٰہی پر مبنی ہوتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ہستی ہیں،جن کی ہر خبر کی تصدیق اور جن کے ہر حکم کی تعمیل ضروری ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی امام کی یہ شان نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر شخص کی بات(قرآن وسنت کے موافق ہونے کی صورت میں) لی بھی جا سکتی ہے اور (قرآن و سنت کے خلاف ہونے کی بنا پر)چھوڑی بھی جا سکتی ہے۔جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کو (پیروی کے لیے)معین کر لیتے ہیں،پھر جو اس سے محبت کرے اور اس کی موافقت کرے،اسے اہل سنت والجماعت کہتے ہیں،جبکہ اس کے مخالفین کو اہل بدعت قرار دیتے ہیں،ایسے لوگ خود بدعتی اور گمراہ ہیں۔علم کلام وغیرہ میں بعض ائمہ کے پیروکار گروہ ایسی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔اس بحث سے معلوم ہوا کہ فرقہ ناجیہ ہونے کے سب سے زیادہ مستحق اہل حدیث و اہل سنت ہیں۔یہ ایسے لوگ ہیں،جن کے اکلوتے پیشوا و مقتدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں،انہی لوگوں کو صحیح اور ضعیف احادیث کی سب سے بڑھ کر معرفت ہے۔اہل حدیث کے ائمہ کرام ہی حدیث میں فقاہت رکھتے ہیں اور اس کے معانی کی حقیقی پہچان کے حامل ہیں۔تصدیق،عمل اور محبت میں یہی لوگ حقیقی طور پر حدیث کی پیروی کرتے ہیں۔جو لوگ حدیث ِرسول کے محب ہیں،اہل حدیث ان سے محبت کرتے ہیں اور جو لوگ حدیث ِرسول سے عداوت رکھتے ہیں،اہل حدیث ان کے دشمن ہیں۔اہل حدیث مجمل باتوں (جن میں ایک سے زائد احتمالات ہوں،
ان)کو کتاب و سنت کی نصوص پر پیش کرتے ہیں۔کوئی بات اگر تعلیمات ِنبوی سے ثابت نہ ہو تو یہ لوگ اسے اپنے دین کا اصول اور اپنا تکیہ کلام نہیں بناتے،بلکہ اپنے اعتقاد و اعتماد کا مرکز و محور صرف کتاب و سنت کو بناتے ہیں۔صفات ِباری تعالیٰ،تقدیر،وعید،اسمائِ باری تعالیٰ،امربالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ کے ایسے معاملات جن میں اختلاف ہو گیا ہے،وہ انہیں اللہ ورسول (قرآن و سنت)کی طرف لوٹاتے ہیں۔اسی طرح وہ مجمل الفاظ جن کے استعمال میں اہل بدعت اختلاف ہو گیا ہو،ان کی توضیح و تشریح کرتے ہیں؛ان میں سے جن الفاظ کے معانی کتاب و سنت کے موافق ہوں، ان کا اثبات کرتے ہیں اور جن الفاظ کے معانی کتاب وسنت سے متصادم ہوں،ان کو باطل قرار دیتے ہیں۔ وہ(کسی دینی معاملے) میں ظن و تخمین اور ہوائے نفس کے پیروکار نہیں بنتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظن و تخمین کی پیروی جہالت ہے،جبکہ ہوائے نفس کی پیروی ظلم ہے اور یہی جہالت و ظلم ہر برائی کی جڑ ہے۔(مجموع الفتاوٰی : 348-346/3)
nn کیا لفظ ِاہل حدیث دعوت میں رکاوٹ ہے؟

بعض لوگ اہل حدیث نام کو درست اور حق تسلیم کرتے ہیں،لیکن ان کی یہ خام خیالی ہے کہ لوگ ’’اہل حدیث‘‘ نام سے دُور بھاگتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دعوت دینے کے لیے یہ کہنا چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کے پیروکار ہیں،لفظ ِاہل حدیث استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ہمارے خیال میں ایسے لوگ دراصل محدثین کرام اور سلف صالحین سے معارضہ کرتے ہیں۔محدثین کرام جو سب سے بڑھ کر علم و حکمت اور ورع و تقویٰ کے حامل تھے،وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے تھے۔اس کے باوجود ان کے دَور میں حق کا بول بالا اور باطل کا منہ کالا ہوا اور دین اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔محدثین کرام کے نزدیک اہل حق کا لقب اہل حدیث تھا۔اس وقت بھی لوگ اس نام سے چِڑتے تھے۔اہل حدیث کو بُری نظر سے دیکھنا ہر دور کے اہل بدعت کا شیوا رہا ہے۔پھر بھی محدثین کرام اپنے آپ کو اجماعی و اتفاقی طور پر اہل حدیث ہی کہتے اور کہلاتے تھے۔
رہی بات لوگوں کے دُور بھاگنے کی،تو جو لوگ اپنے آپ کو مصلحت کی خاطر صرف مسلمان کہتے ہیں،بہت سے لوگ ان سے بھی نفرت کرتے ہیں،ان کو بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان کی دعوت میں بھی رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔ہم نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ ایسے لوگوں کو کافر،بے دین اور زہریلا سانپ تک کہا جاتا ہے،نیز ان کی مجلسوں میں شریک ہونے سے لوگوں کو روکا جاتا ہے۔
nnn اہل حدیث نام کی ضرورت و اہمیت :
اہل حدیث نام سے اہل حق اور اہل باطل ممتاز ہوتے ہیں۔یہ نام اس بات کا غماز اور عکاس ہے کہ یہ شخص قرآن و حدیث کو صحابہ کرام اور محدثین عظام کے منہج و فہم کے مطابق سمجھنے والا ہے،انہی کے عقیدہ و عمل کو اپنانے والا ہے،جبکہ اہل الرائے و اہل التقلید سے بری ہے اور سلف صالحین کا ساتھی ہے،نہ کہ مقلدین و متکلمین کا۔اس نام کے بغیر حق کی تلاش و پہچان ناممکن ہے،کیونکہ ہر گمراہ فرقہ بھی قرآن و سنت کا دعویٰ کرتا ہے،لیکن اپنے آپ کو اہل حدیث صرف اہل حق ہی کہتے ہیں۔اس نام کے بغیر حق پر قائم رہنا بھی محال ہے،کیونکہ جو اپنے آپ کو اہل حدیث نہیں کہتا،وہ سلف صالحین اور محدثین کرام کے منہج و فہمِ دین کا پابند نہیں رہتا۔
اہل حدیث نام اہل حق کے لیے ثبات و یقین کا باعث ہے،کیونکہ محدثین عظام اور سلف صالحین کے اہل حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں،وہ نام اور منہج و عمل ہر اعتبار سے اہل حدیث تھے۔اگر وہ اہل حق ہیں اور یقینا اہل حق ہیں،تو ان کے پیروکاروں کے اہل حق ہونے میں شبہ کیونکر کیا جا سکتا ہے؟یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سلف صالحین تو حق پر ہوں لیکن ان کے ماننے والے اور ان کے منہج و فہم پر عمل کرنے والے حق پر نہ ہوں؟ اگر سلف صالحین کے پیروکار حق پر نہیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں کوئی بھی حق پر نہیں،کیونکہ سلف کے مخالفین قطعاً حق پر نہیں ہو سکتے۔
اہل حدیث نام ہی وحدت ِامت کا واحد معتبر ذریعہ ہے،اس کے بغیر امت حق پر مجتمع نہیں ہو سکتی،کیونکہ بقولِ محدثین فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ کا نام اہل حدیث ہی تو ہے۔ لقب ِ اہل حدیث میں دینِ اسلام کی منقبت ہے اور یہی غلبۂ حق کی علامت ہے،کیونکہ اس نام کے ذریعے ائمہ ہدیٰ سے رشتہ استوار ہوتا ہے۔اس سے ایوانِ ظلم و کفر میں بھونچال آتاہے اور اسی کی وجہ سے اہل حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے ،جبکہ اہل باطل کو شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
جو شخص سلف صالحین کے اجماع کو حق مانتا ہے،وہ اپنا نام اہل حدیث رکھ کر یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محدثین کرام کے اجماع کو حجت سمجھتا ہے۔اسی لیے ہر دور میں اہل حق اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے تھے اور لوگ انہیں اہل حدیث نام ہی سے پہچانتے تھے۔اسلامی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ باطل پرستوں نے اپنے آپ کو اہل حدیث کہا ہو۔
معلوم ہوا کہ جو لوگ اہل حدیث نام کا انکار کرتے ہوئے اسے علم و حکمت کے منافی اور تکلف ِمحض قرار دیتے ہیں،وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ علم و حکمت میں محدثین کرام سے فائق ہیں۔ان کی ایسی باتیں سراسر محدثین کرام کی گستاخی پر مبنی ہیں۔
اہل حدیث کے دلوں میں بشاشت و اطمینان اور چہروں پر رونق ہوتی ہے۔ان میں اختلاف شاذ و نادر ہوتا ہے۔اگران میں تھوڑا بہت اختلاف ہو بھی تو وہ عقیدے و منہج کا نہیں،بلکہ فروعی ہوتا ہے،جو کہ صحابہ کرام کے دور میں بھی موجود تھا۔جو لوگ اہل حدیث کہلانا ضروری نہیں سمجھتے،وہ ہمیشہ بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔ایسے لوگ عموماً کسی جاہل اور ظالم شخص کو اپنا بڑا سمجھ بیٹھتے ہیںاور اس کے مرنے کے بعد تتر بتر ہو جاتے ہیں اور شدید اختلافات میں مبتلا ہو کر گمراہ کن نظریات اپنا لیتے ہیں۔یوں ایسے لوگ حق سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔اہل حدیث نام ہی سلف کے عقیدے اور منہج پر قائم رکھتا ہے۔ اس طرح اہل حدیث ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔سلف صالحین کا فہم و منہج راہِ حق پر چلانے کا ضامن ہے۔
بعض لوگ یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ اہل حدیث نام نہیں رکھنا چاہیے،کیونکہ اس سے فرقہ بندی کو ہوا ملتی ہے،جبکہ دوسری طرف وہ خود اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت،جو اہل حدیث ہی کا دوسرا نام ہے،کہتے ہیں۔وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ سلف صالحین اور ائمہ دین کا اجماعی لقب اہل حدیث تھا۔ان کا یہ اعتراض براہِ راست سلف صالحین پر ہے۔سلف پر اعتراض کرنے والا کبھی بامراد نہیں ہو سکتا۔دوسری بات یہ ہے کہ اہل حدیث یا اہل سنت والجماعت کا لقب اختیار کرنے سے فرقہ بندی کو ہوا کیسے ملتی ہے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نعوذ باللہ محدثین عظام اور ائمہ سلف بے خبری میں فرقہ بندی میں مبتلا تھے۔حقیقت یہ ہے کہ محدثین فرقہ ضرور تھے،لیکن فِرقہ ناجیہ تھے،فُرقہ(حق اور دین اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے)نہیں تھے۔اہل بدعت نے سلف صالحین کے مقابلے میں عقائد و اصول وضع کیے اور اپنی اس فرقہ پرستی پر لیبل اہل سنت والجماعت کا لگا لیا،اس وجہ سے کیا سلف صالحین کے پیروکاروں کا اپنے آپ کو اہل سنت کہلانا ناجائز ہو جائے گا؟
ہمارے نزدیک محض گمراہ لوگوں کی باتوں میں آ کر سلف صالحین،جو ہمارے مقتدا ہیں، کا نام ترک کر دینا کوئی جرأت مندانہ اقدام نہیں۔جو شخص اپنا تشخص برقرار نہ رکھ سکے، وہ بزدل اور نالائق ہوتا ہے۔پھر ایسے لوگوں کو تو مسلمان بھی نہیں کہلانا چاہیے،کیونکہ مسلمان نام پر بھی بعض کفار معترض ہوتے ہیں،جو اتحاد بین المذاہب کا درس دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ خود کو مسلمان اور ہمیں کافر کہتے ہیں۔
اہل حدیث نام قرآن و حدیث کے خلاف نہیں،ورنہ سلف کبھی اپنا نام اہل حدیث نہ رکھتے،کیونکہ وہ بعد والوں سے بڑھ کر قرآن و حدیث کا علم رکھتے تھے۔ان کے بعد ہر دور میں ان کے پیروکار اپنا یہی نام پکارتے تھے،جیسا کہ :
امام،قوام السنہ،اسماعیل بن محمد اصفہانی(535-457ھ) فرماتے ہیں :
وَالْفِرْقَۃُ النَّاجِیَۃُ أَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَأَصْحَابُ الْحَدِیثِ، وَہُوَ السَّوَادُ الْـأَعْظَمُ ۔ ’’فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت،اہل حدیث ہیں اور یہی لوگ سوادِ اعظم ہیں۔‘‘(الحجّۃ في بیان المحجّۃ : 409/2)
شیخ الاسلام،تقی الدین،احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں:
إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِأَنْ تَکُونَ الْفِرْقَۃَ النَّاجِیَۃَ أَہْلُ الْحَدِیثِ وَالسُّنَّۃِ ۔
’’فرقہ ناجیہ ہونے کے سب سے زیادہ حق دار اہل حدیث و اہل سنت ہیں۔‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 347/3)
ہر گمراہ فرقے کی یہ کوشش رہتی ہے کہ محدثین کرام اور سلف صالحین سے لوگوں کا محبت و عقیدت کا رشتہ و ناطہ ٹوٹ جائے۔وہ اس کوشش میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ اہل حدیث نام نہ رکھا جائے۔یوں سادہ لوح لوگوں کو بآسانی شکار کر کے اپنی خواہشات کا پیروکار بنا لیتے ہیں۔جو لوگ اہل حدیث نام کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے فرقہ واریت کے معنیٰ میں لیتے ہیں،فطری طور پر ان کے دلوں میں اہل حدیث کے بارے میں نفرت اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔یہ سراسر ہلاکت و بربادی ہے۔
nnnn اہل حدیث سے عداوت اور ان پر بہتان طرازی !
بعض لوگ اہل حدیث کو بدنام کرنے کی کوشش میں جھوٹے عقائد و اعمال ان کی طرف منسوب کرتے ہیں،غلط اور قبیح باتیں ان کے نام لگاتے ہیں یا اہل حدیث جن چیزوں سے بَری ہیں،وہ ان پر تھوپ دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ڈر جانا چاہیے:
{وَالَّذِینَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّإِثْمًا مُّبِینًا} (الأحزاب 33 : 58)
’’وہ لوگ جو مؤمن مردوں اور عورتوں کو کسی جرم کے بغیر تکلیف دیتے ہیں،وہ بہتان اور صریح گناہ (کا بوجھ اپنے کندھوں پر) اٹھاتے ہیں۔‘‘
مؤمنوں کی طرف یوں غلط باتیں منسوب کرنا کافروں اور رافضیوں کا شیوا ہے،جیسا کہ سنی امام،حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774-700ھ)اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
وَہٰذَا ہُوَ الْبُہْتُ الْکَبِیرُ أَنْ یُّحْکٰی أَوْ یُنْقَلَ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ مَا لَمْ یَفْعَلُوہُ عَلٰی سَبِیلِ الْعَیْبِ وَالتَّنَقُّصِ لَہُمْ، وَمِنْ أَکْثَرِ مَنْ یَّدْخُلُ فِي ہٰذَا الْوَعِیدِ الْکَفَرَۃُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہٖ، ثُمَّ الرَّافِضَۃُ الَّذِینَ یَتَنَقَّصُونَ الصَّحَابَۃَ ، وَیَعِیبُونَہُمْ بِمَا قَدْ بَرَّأَہُمُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَیَصِفُونَہُمْ بِنَقِیضِ مَا أَخْبَرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّہٗ قَدْ رَضِيَ عَنِ الْمُہَاجِرِینَ وَالْـأَنْصَارِ وَمَدَحَہُمْ، وَہٰؤُلَائِ الْجَہَلَۃُ الْـأَغْبِیَائُ یَسُبُّونَہُمْ وَیَتَنَقَّصُونَہُمْ، وَیَذْکُرُونَ عَنْہُمْ مَّا لَمْ یَکُنْ وَلَا فَعَلُوہُ أَبَدًا، فَہُمْ فِي الْحَقِیقَۃِ مَنْکُوسُو الْقُلُوبِ، یَذُمُّونَ الْمَمْدُوحِینَ وَیَمْدَحُونَ الْمَذْمُومِینَ ۔
’’یہ بہت بڑا بہتان ہے کہ مؤمنوں کی عیب جوئی اور تنقیص کے لیے ان کے بارے میں ایسی بات بیان یا نقل کی جائے جس کا انہوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔سب سے بڑھ کر یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں،جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے۔کافروں کے بعد اس کام میں رافضیوں کا نمبر ہے،جو صحابہ کرام] کی تنقیص کرتے ہیں اور ان پر ایسی عیب جوئی کرتے ہیں،جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بَری فرما دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے،وہ ان کے بارے میں اس کے برعکس بیان کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ وہ مہاجرین و انصار سے راضی ہو گیا ہے اور اللہ نے ان کی تعریف بھی فرمائی ہے،لیکن یہ جاہل اور بے وقوف لوگ ان کو بُرا بھلا کہتے ہیں،ان کی گستاخیاں کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ایسی باتیں بیان کرتے ہیں،جو کبھی معرضِ وجود میں آئی ہی نہیں اور جن کا ارتکاب انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔درحقیقت ان لوگوں کی عقل و شعور اُلٹ ہو گئی ہے،اسی لیے یہ ممدوح لوگوں کی مذمت اور مذموم لوگوں کی مدح میں مصروف ہیں۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر : 481-480/1، بتحقیق سلامۃ)
قیامت کے دن خسارہ پانے والے لوگ جہنم سے نکلنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے،تو اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا :
{قَالَ اخْسَئُوْا فِیہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ٭ اِنَّہٗ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ٭ فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰی اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِيْ وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ٭ اِنِّيْ جَزَیْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْا اَنَّہُمْ ہُمُ الْفَائِزُوْنَ ٭} (المؤمنون 23 : 111-108)
’’اسی میں ذلیل و خوار ہوتے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔بلاشبہ میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا کہ اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے،ہمیں معاف فرما دے،ہمارے حال پر رحم فرما اور تُو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔تم نے انہیں مذاق بنا لیا تھا،یہاں تک کہ انہوں (ان سے بغض)نے تمہیں میرا ذکر بھلا دیا اور تم ان سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ان کو میں نے ان کے صبر کی بنا پر آج یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘
اس آیت ِکریمہ کی تفسیر میں بھی حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ثُمَّ قَالَ تَعَالٰی مُذَکِّرًا لَّہُمْ بِذُنُوبِہِمْ فِي الدُّنْیَا، وَمَا کَانُوا یَسْتَہْزِئُونَ بِعِبَادِہِ الْمُؤْمِنِینَ وَأَوْلِیَائِہٖ، فَقَالَ : {اِنَّہٗ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِینَ ٭ فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا} أَيْ فَسَخِرْتُمْ مِّنْہُمْ فِي دُعَائِہِمْ إِیَّايَ وَتَضَرُّعِہِمْ إِلَيَّ، {حَتّٰی اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِيْ}،أَيْ حَمَلَکُمْ بُغْضُہُمْ عَلٰی أَنْ نَّسِیتُمْ مُّعَامَلَتِي، {وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ}،أَيْ مِنْ صَنِیعِہِمْ وَعِبَادَتِہِمْ، کَمَا قَالَ تَعَالٰی : {اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ ٭ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ} (المطففین 83 : 29، 30)، أَيْ یَلْمُزُونَہُمُ اسْتِہْزَائً، ثُمَّ أَخْبَرَ عَمَّا جَازٰی بِہٖ أَوْلِیَائَہٗ وَعِبَادَہُ الصَّالِحِینَ، فَقَالَ : {اِنِّيْ جَزَیْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْا}، أَيْ عَلٰی أَذَاکُمْ لَہُمْ وَاسْتِہْزَائِکُمْ مِّنْہُمْ، {اَنَّہُمْ ہُمُ الْفَائِزُوْنَ}، أَيْ جَعَلْتُہُمْ ہُمُ الْفَائِزِینَ بِالسَّعَادَۃِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْجَنَّۃِ، النَّاجِینَ مِنَ النَّارِ ۔
’’پھر اللہ تعالیٰ نے ان (مجرموں)کو ان کے دنیاوی گناہ اور اپنے مؤمن بندوں اور اولیاء سے مذاق یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ میرے بندوں کا ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ اے ہمارے ربّ ہم ایمان لائے،ہمیں معاف فرما دے،ہمارے حال پر رحم فرما،تُو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے،تُم نے ان لوگوں کو مذاق بنا لیا تھا۔یعنی ان کے مجھے پکارنے اور میری طرف گریہ و زاری کرنے کو تم نے مذاق کا ذریعہ بنا لیا تھا۔پھر یہ ہوا کہ ان سے بغض رکھنے کی وجہ سے تمہیں میرا معاملہ بالکل بھول گیا اور تم بس ان کی عبادت کا تمسخر اڑانے میں مگن رہنے لگے۔ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے :{اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ ٭ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ} (المطففین 83 : 29، 30)(مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو مذاق میں ان کی عیب جوئی کرتے تھے)۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو دی جانے والی جزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری تکلیفوں اور مذاق پر صبر کی بنا پر میں نے آج ان کو یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔میں نے ان کو سعادت،سلامتی اور جنت سے ہمکنار کرتے ہوئے جہنم سے پچا لیا۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر : 499/5، بتحقیق سلامۃ)
معلوم ہوا کہ اہل حدیث کی عیب جوئی کرنا،ان کے بُرے القابات بنانا،ان کے عقائد و اعمال کا تمسخر اُڑا کر ان کو اذیت و دُکھ پہنچانا اور ان کی تضحیک و تحقیر مجرمانہ کارروائی ہے۔ ایسے لوگوں کو اہل حق مؤمنین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے :
{وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ} (الروم 30 : 47)
’’مؤمنوں کی مدد کرنا ہمارے اوپر لازم ہے۔‘‘
امام،ابوبکر،عبد اللہ بن سلیمان،ابن ابو داؤد رحمہ اللہ (316-230ھ)فرماتے ہیں :
وَلَا تَکُ مِنْ قَوْمٍ تَلَہَّــــــــــــوْا بِدِینِہِمْ
فَتَطْعَنَ فِيْ أَہْلِ الْحَدِیثِ وَتَقْدَحٗ
’’(اے مسلمان!)تُو اہل حدیث پر طعن و تشنیع کر کے ان لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین کے ساتھ کھیل تماشا کیا۔‘‘(الشریعۃ للآجري : 2562/5، بتحقیق الدمیجي)
امام،ابوجعفر، احمد بن سنان،واسطی رحمہ اللہ (م : 259ھ)فرماتے ہیں :
لَیْسَ فِي الدُّنْیَا مُبْتَدِعٌ إِلَّا وَہُوَ یُبْغِضُ أَہْلَ الْحَدِیثِ، فَإِذَا ابْتَدَعَ الرَّجُلُ نُزِعَ حَلَاوَۃُ الْحَدِیثِ مِنْ قَلْبِہٖ ۔
’’دنیا میں کوئی بدعتی ایسا نہیں،جو اہل حدیث سے بغض نہ رکھتا ہو۔جب کوئی بندہ بدعتی بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے حدیث کی حلاوت کھینچ لیتا ہے۔‘‘
(شرف أصحاب الحدیث للخطیب، ص : 73، معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص : 40، وسندہٗ صحیحٌ)
حکم بن ابو فتیلہ نامی شخص کے پاس اہل حدیث کا ذکر ہوا تو وہ بکنے لگا :
أَصْحَابُ الْحَدِیثِ قَوْمُ سَوئٍ ۔
’’اہل حدیث بُرے لوگ ہیں۔‘‘
ابن ابو فتیلہ کی یہ جسارت امام اہل سنت،احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241-164ھ)سے ذکر کی گئی تو بھلا کیا ہوا؟ثقہ امام محمد بن اسماعیل ترمذی رحمہ اللہ کا بیان سنیں:
فَقَامَ أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَنْفُضُ ثَوْبَہٗ، فَقَالَ : زِنْدِیقٌ، زِنْدِیقٌ، زِنْدِیقٌ ۔
’’آپ رحمہ اللہ اپنے کپڑے کو جھاڑتے ہوئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ بے دین شخص ہے،یہ بے دین شخص ہے،یہ بے دین شخص ہے۔‘‘
(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص : 4، وسندہٗ صحیحٌ)
حافظ،ابو عبد اللہ،حاکم،نیشاپوری،المعروف بہ ابن البیّع رحمہ اللہ (405-321ھ)فرماتے ہیں:
وَعَلٰی ہٰذَا عَہِدْنَا فِي أَسْفَارِنَا وَأَوْطَانِنَا کُلَّ مَنْ یُّنْسَبُ إِلٰی نَوْعٍ مِّنَ الْإِلْحَادِ وَالْبِدَعِ، لَا یَنْظُرُ إِلَی الطَّائِفَۃِ الْمَنْصُورَۃِ إِلَّا بِعَیْنِ الْحَقَارَۃِ، وَیُسَمِّیہَا الْحَشْوِیَّۃَ ۔ ’’ہم نے اپنے سفر و حضر میں ہر گمراہ و بدعتی شخص کو اسی طرح طائفہ منصورہ کو نظر حقارت سے دیکھتے ہوئے پایا ہے۔یہ لوگ طائفہ منصورہ کا نام حشویہ(ایک گمراہ فرقے کا نام)رکھتے ہیں۔‘‘(معرفۃ علوم الحدیث، ص : 4)
نیز موصوف خود اہل حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :
وَأَہْلُ السُّنَّۃِ قَاطِبَۃً إِخْوَانُہُمْ، وَأَہْلُ الْإِلْحَادِ وَالْبِدَعِ بِأَسْرِہَا أَعْدَائُہُمْ ۔
’’اہل سنت سارے کے سارے ان کے بھائی ہیں،جبکہ گمراہ و بدعتی تمام کے تمام ان کے دشمن ہیں۔‘‘(معرفۃ علوم الحدیث، ص : 3)
امام،ابو محمد،عبد اللہ بن مسلم،ابن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ (276-213ھ)فرماتے ہیں :
وَلَیْسَ یَدْفَعُ أَصْحَابَ الْحَدِیثِ عَنْ ذٰلِکَ إِلَّا ظَالِمٌ، لِأَنَّہُمْ لَا یَرُدُّونَ شَیْئًا مِّنْ أَمْرِ الدِّینِ، إِلَی اسْتِحْسَانٍ، وَلَا إِلٰی قِیَاسٍ وَّنَظَرٍ، وَلَا إِلٰی کُتُبِ الْفَلَاسِفَۃِ الْمُتَقَدِّمِینَ، وَلَا إِلٰی أَصْحَابِ الْکَلَامِ الْمُتَأَخِّرِینَ ۔
’’اہل حدیث کے اہل حق ہونے کا انکار کوئی ظالم شخص ہی کر سکتا ہے،کیونکہ اہل حدیث کسی بھی دینی معاملے کو(نصوصِ شرعیہ کی موجودگی میں) استحسان،قیاس یا رائے کی طرف نہیں لے کر جاتے،نہ وہ دینی معاملات میں متقدمین فلاسفہ اور متاخرین اہل کلام کی کتب سے رجوع کرتے ہیں۔‘‘
(تأویل مختلف الحدیث في الردّ علی أعداء أہل الحدیث، ص : 83)
علامہ،ابو محمد،حسن بن عبد الرحمن رامہرمزی رحمہ اللہ (م : 360ھ)فرماتے ہیں :
اعْتَرَضَتْ طَائِفَۃٌ مِّمَّنْ یَّشْنَأُ الْحَدِیثَ وَیُبْغِضُ أَہْلَہٗ، فَقَالُوا بِتَنَقُّصِ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ وَالْإِزْرَائِ بِہِمْ، وَأَسْرَفُوا فِي ذَمِّہِمْ وَالتَّقَوُّلِ عَلَیْہِمْ، وَقَدْ شَرَّفَ اللّٰہُ الْحَدِیثَ وَفَضَّلَ أَہْلَہٗ، وَأَعْلَی مَنْزِلَتَہٗ، وَحَکَّمَہٗ عَلٰی کُلِّ نِحْلَۃٍ، وَقَدَّمَہٗ عَلٰی کُلِّ عَلْمٍ، وَرَفَعَ مِنْ ذِکْرِ مَنْ حَمَلَہٗ وَعُنِیَ بِہٖ، فَہُمْ بَیْضَۃُ الدِّینِ وَمَنَارُ الْحُجَّۃِ ۔
’’ایک گروہ اٹھا ہے جو حدیث اور اہل حدیث سے بغض رکھتا ہے،انہوں نے اہل حدیث کی تنقیص اور گستاخی شروع کی ہوئی ہے ،یہ لوگ ان کی مذمت کرنے اور ان پر بہتان لگانے میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حدیث کو شرف بخشا اور اہل حدیث کو فضیلت عطا فرمائی،اس نے حدیث کا مرتبہ بلند کیا،اسے ہر ملت پر حاکم بنایا،اسے ہر علم پر فوقیت بخشی اور جو لوگ حدیث کو سیکھتے اور اس سے لگاؤ رکھتے ہیں،ان کو بھی ارفع مقام عطا فرمایا۔یہی لوگ دین کی بنیاد اور دلیل و حجت کے مینار ہیں۔‘‘
(المحدّث الفاصل بین الراوي والواعي، ص : 4)
اہل حدیث ہی اہل حق ہیں
عقل صریح،نقل صحیح اور مقبول و منصور دین صرف اہل حدیث کے پاس ہے۔ویسے تو ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پرست کہتا ہے،لیکن معیار ِحق پر پورا صرف اہل حدیث اترتے ہیں۔ کوئی بجا طور پر پوچھ سکتا ہے کہ اہل حدیث ہی اہل حق ہیں،اس کی دلیل کیا ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ،ابو مظفر،منصور بن محمد،سمعانی رحمہ اللہ (489-426ھ)فرماتے ہیں:
إِنَّ کُلَّ فَرِیقٍ مِّنَ الْمُبْتَدِعَۃِ إِنَّمَا یَدَّعِي أَنَّ الَّذِي یَعْتَقِدہٗ ہُوَ مَا کَانَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّہُمْ کُلَّہُمْ مُّدَّعُونَ شَرِیعَۃَ
الْإِسْلَامِ، مُلْتَزِمُونَ فِي الظَّاہِرِ شَعَائِرَہَا، یَرَوْنَ أَنَّ مَا جَائَ بِہٖ مُحَمَّدٌ(ہُوَ الْحَقُّ)، غَیْرَ أَنَّ الطُّرُقَ تَفَرَّقَتْ بِہِمْ بَعْدَ ذٰلِکَ، وَأَحْدَثُوا فِي الدِّینِ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہِ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ، فَزَعَمَ کُلُّ فَرِیقٍ أَنَّہٗ ہُوَ الْمُتَمَسِّکُ بِشَرِیعَۃِ الْإِسْلَامِ، وَأَنَّ الْحَقَّ الَّذِي قَامَ بِہٖ رَسُولُ اللّٰہِ ہُوَ الَّذِي یَعْتَقِدہٗ وَیَنْتَحِلُہٗ، غَیْرَ أَنَّ اللّٰہَ أَبٰی أَنْ یَّکُونَ الْحَقَّ وَالْعَقِیدَۃَ الصَّحِیحَۃَ إِلَّا مَعَ أَہْلِ الْحَدِیثِ وَالْآثَارِ، لِأَنَّہُمْ أَخَذُوا دِینَہُمْ وَعَقَائِدَہُمْ خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ، وَقَرْنًا عَنْ قَرْنٍ، إِلٰی أَنِ انْتَہَوْا إِلَی التَّابِعِینَ، وَأَخَذَہُ التَّابِعُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَہٗ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَا طَرِیقَ إِلٰی مَعْرِفَۃِ مَا دَعَا إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ مِنَ الدِّینِ الْمُسْتَقیمِ، وَالصِّرَاطِ الْقَوِیمِ، إِلَّا ہٰذَا الطَّرِیقَ الَّذِي سَلَکَہٗ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ، وَأَمَّا سَائِرُ الْفِرَقِ فَطَلَبُوا الدِّینَ لَا بِطَرِیقِہٖ لِأَنَّہُمْ رَجَعُوا إِلٰی مَعْقُولِہِمْ، وَخَوَاطِرِہِمْ، وَآرَائِہِمْ، فَطَلَبُوا الدِّینَ مِنْ قِبَلِہٖ، فَإِذَا سَمِعُوا شَیْئًا مِّنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ عَرَضُوہُ عَلٰی مِعْیَارِ عُقُولِہِمْ، فَإِنِ اسْتَقَامَ قَبِلُوہُ، وَإِنْ لَّمْ یَسْتَقِمْ فِي مِیزَانِ عُقُولِہِمْ رَدُّوہُ، فَإِنِ اضْطُرُّوا إِلٰی قُبُولِہٖ حَرَّفُوہُ بِالتَّأْوِیلَاتِ الْبَعِیدَۃِ، وَالْمَعَانِي الْمُسْتَکْرَہَۃِ، فَحَادُوا عَنِ الْحَقِّ وَزَاغُوا عَنْہُ، وَنَبَذُوا الدِّینَ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ، وَجَعَلُوا السُّنَّۃَ تَحْتَ أَقْدَامِہِمْ، تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَصِفُونَ، وَأَمَّا أَہْلُ الْحَقِّ فَجَعَلُوا الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ إِمَامَہُمْ، وَطَلَبُوا الدِّینَ مِنْ قِبَلِہِمَا، وَمَا وَقَعَ لَہُمْ مِّنْ مَّعْقُولِہِمْ وَخَوَاطِرِہِمْ، عَرَضُوہُ عَلَی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، فَإِنْ وَّجَدُوہُ مُوَافِقًا لَّہُمَا قَبِلُوہُ، وَشَکَرُوا اللّٰہَ حَیْثُ أَرَاہُمْ ذٰلِکَ وَوَفَّقَہُمْ إِلَیْہِ، وَإِنْ وَّجَدُوہُ مُخَالِفًا لَّہُمْا تَرَکُوا مَا وَقَعَ لَہُمْ، وَأَقْبلُوا عَلَی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَرَجَعُوا بِالتُّہْمَۃِ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ، فَإِنَّ الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ لَا یَہْدِیَانِ إِلَّا إِلَی الْحَقِّ، وَرَأْيُ الْإِنْسَانِ قَدْ یَرَی الْحَقَّ، وَقَدْ یَرَی الْبَاطِلَ ۔
’’ہر گمراہ فرقہ یہی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا عقیدہ وہ ہے ،جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاربند تھے،کیونکہ تمام فرقے شریعت ِاسلام ہی کے دعویدار ہیں اور ظاہری طور پر اسلام ہی کے شعائر پر عمل کرتے ہیں،نیز ان کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہی برحق ہیں۔لیکن اس کے باوجود ان کی راہیں (صراطِ مستقیم سے)جدا ہو گئیں اور انہوں نے دین میں وہ وہ چیزیں ایجاد کر لیں جن کی اللہ ورسول نے اجازت نہیں دی۔ہر فریق نے یہ دعویٰ کیا کہ وہی شریعت ِ اسلام پر کاربند ہے اور وہ حق جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے،اسی کے پاس ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے حق اور صحیح عقیدے کی دولت سے صرف اہل حدیث کو مالا مال کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حدیث اپنا دین اور اپنے عقائد طبقہ در طبقہ سلف صالحین سے لیتے رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا سلسلہ تابعین عظام تک پہنچ گیا۔تابعین نے دین وعقائد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے لیے اور صحابہ کرام نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب کچھ سیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مضبوط دین اور صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی تھی،اس کی معرفت صرف اسی طریقے سے ممکن ہے ،جسے اہل حدیث نے اپنایا ہے۔باقی تمام فرقوں نے دین کو اس اصل طریقے سے نہیں،بلکہ اپنی عقل وشعور اور رائے سے اخذ کیا ہے۔چنانچہ جب وہ کتاب و سنت کی کسی نص کو سنتے ہیں تو اسے اپنی عقلی کسوٹی پر پیش کرتے ہیں،اگر وہ اس معیار پر درست معلوم ہو تو اسے قبول کر لیتے ہیں،ورنہ ردّ کر دیتے ہیں۔اگر وہ کسی وجہ سے اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں تو بعید از کار تاویلات اور غلط معانی کے ذریعے اس میں تحریف پر اُتر آتے ہیں۔یوں یہ باقی فرقے حق سے دُور چلے گئے ہیں،انہوں نے دین کو پس پشت ڈال دیا ہے اور سنت ِرسول کو بے وقعت کر دیا ہے۔ان کے برعکس اہل حق نے کتاب و سنت کو اپنا پیشوا اور دین کا ماخذ بنایا ہے۔ان کی عقل اور رائے جو اختراع کرتی ہے،وہ اسے کتاب و سنت پر پیش کرتے ہیں،اگر اسے کتاب و سنت کے موافق پائیں تو اسے قبول کر کے اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے انہیں درست رائے قائم کرنے کی توفیق بخشی اور اگر وہ اپنی رائے کو کتاب وسنت کے مخالف پائیں تو اسے چھوڑ کر کتاب و سنت کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں،کیونکہ کتاب و سنت تو حق ہی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں،جبکہ عقلِ انسانی کبھی حق کو پاتی ہے اور کبھی باطل کو۔‘‘
(الحجّۃ في بیان المحجّۃ لأبي القاسم الأصبہاني : 238-237/2)
نیز فرماتے ہیں : وَمِمَّا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ أَہْلَ الْحَدِیثِ ہُمْ عَلَی الْحَقِّ، أَنَّکَ لَوْ طَالَعْتَ جَمِیعَ کُتُبِہِمُ الْمُصَنَّفَۃَ مِنْ أَوَّلِہِمْ إِلٰی آخِرِہِمْ، قَدِیمِہِمْ وَحَدِیثِہِمْ مَعَ اخْتِلَافِ بُلْدَانِہِمْ وَزَمَانِہِمْ، وَتَبَاعُدِ مَا بَیْنَہُمْ فِي الدِّیَارِ، وَسُکُونِ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُم قُطْرًا مِّنَ الْـأَقْطَارِ، وَجَدتَّہُمْ فِي بَیَانِ الِاعْتِقَادِ عَلٰی وَتِیرَۃٍ وَّاحِدَۃٍ وَّنَمْطٍ وَاحِدٍ، یَجْرُونَ فِیہِ عَلٰی طَریقَۃٍ لَّا یَحِیدُونَ عَنْہَا، وَلَا یَمِیلُونَ فِیہَا، قَوْلُہُمْ فِي ذٰلِکَ وَاحِدٌ وَّنَقْلُہُمْ وَاحِدٌ، لَا تَرٰی بَیْنَہُمُ اخْتِلَافًا وَّلَا تَفَرُّقًا فِي شَيْئٍ مَّا وَإِنْ قَلَّ، بَلْ لَّوْ جَمَعْتَ جَمِیعَ مَا جَرٰی عَلٰی أَلْسِنَتِہِمْ، وَنَقَلُوہُ عَنْ سَلَفِہِمْ، وَجَدْتَّہٗ کَأَنَّہٗ جَائَ مِنْ قَلْبٍ وَّاحِد، وَجَرٰی عَلٰی لِسَانٍ وَّاحِدٍ، وَہَلْ عَلَی الْحَقِّ دَلِیلٌ أَبْیَنُ مِنْ ہٰذَا ؟
قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی : {اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا} (النساء 4 : 82)، وَقَالَ تَعَالٰی : {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا}(آل عمران 3 : 103)، وَأَمَّا إِذَا نَظَرْتَ إِلٰی أَہْلِ الْـأَہْوَائِ وَالْبِدَعِ، رَأَیْتَہُمْ مُتَفَرِّقِینَ مُخْتَلِفِینَ أَوْ شِیَعًا وَّأَحْزَابًا، لَا تَکَادُ تَجِدُ اثْنَیْنِ مِنْہُمْ عَلٰی طَرِیقَۃٍ وَّاحِدَۃٍ فِي الِاعْتِقَادِ، یُبَدِّعُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، بَلْ یَرْتَقُونَ إِلَی التَّکْفِیرِ، یُکَفِّرُ الِابْنُ أَبَاہُ، وَالرَّجُلُ أَخَاہُ، وَالْجَارُ جَارَہٗ، تَرَاہُمْ أَبَدًا فِي تَنَازُعٍ وَّتَبَاغُضٍ وَّاخْتِلَافٍ، تَنْقَضِيْ أَعْمَارُہُمْ وَلَمَا تَتَّفِقُ کَلِمَاتُہُمْ، {تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوبُہُمْ شَتّٰی ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ}(الحشر 59 : 14)، أَوَ مَا سَمِعْتَ أَنَّ الْمُعْتَزلَۃَ مَعَ اجْتِمَاعِہِمْ فِي ہٰذَا اللَّقَبِ یُکَفِّرُ الْبَغْدَادِیُّونَ مِنْہُمُ الْبَصَرِیِّینَ، وَالْبَصَرِیُّونَ مِنْہُمُ الْبَغْدَادِیِّینَ، وَیُکَفِّرُ أَصْحَابُ أَبِي عَلِيٍّ الْجَبَائِيِّ ابْنَہٗ أَبَا ہَاشِمٍ، وَأَصْحَابُ أَبِي ہَاشِمٍ یُّکَفِّرُونَ أَبَاہُ أَبَا عَلِيٍّ، وَکَذٰلِکَ سَائِرُ رُؤُوسِہِمْ وَأَرْبَابُ الْمَقَالَاتِ مِنْہُم، إِذَا تَدَبَّرْتَ أَقْوَالَہُمْ رَأَیْتَہُمْ مُّتَفَرِّقِینَ یُکَفِّرُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، وَیَتَبَرَّأُ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ، کَذٰلِکَ الْخَوَارِجُ وَالرَّوَافِضُ فِیمَا بَیْنَہُمْ وَسَائِرُ الْمُبْتَدِعَۃُ بِمَثَابَتِہِمْ، وَہَلْ عَلَی الْبَاطِلِ دَلِیلٌ أَظْہَرُ مِنْ ہٰذَا ؟ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی : {اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِيْ شَيْئٍ اِنَّمَا اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ} (الأنعام 6 : 159)، وَکَانَ السَّبَبُ فِي اتِّفَاقِ أَہْلِ الْحَدِیثِ أَنَّہُمْ أَخَذُوا الدِّینَ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَطَرِیقِ النَّقْلِ، فَأَوْرَثَہُمُ الِاتِّفَاقَ والِائْتِلَافَ، وَأَہْلُ الْبِدْعَۃِ أَخَذُوا الدِّینَ مِنَ الْمَعْقُولَاتِ وَالْآرَائِ، فَأَوْرَثَہُمْ الِافْتِرَاقَ وَالِاخْتِلَافَ، فَإِنَّ النَّقْلَ وَالرِّوَایَۃَ مِنَ الثِّقَاتِ وَالْمُتْقِنِینَ قَلَّمَا یَخْتَلِفُ، وَإِنِ اخْتَلَفَ فِي لَفْظٍ أَوْ کَلِمَۃٍ، فَذٰلِکَ اخْتِلَافٌ لَّا یَضُرُّ الدِّینَ، وَلَا یَقْدَحُ فِیہِ، وَأَمَّا دَلَائِلُ الْعَقْلِ فَقَلَّمَا تَتَّفِقُ، بَلْ عَقْلُ کُلِّ وَاحِدٍ؛ یَّرٰی صَاحِبُہٗ غَیْرَ مَا یَرَی الْآخَرُ، وَہٰذَا بَیِّنٌ ۔
’’اہل حدیث کے اہل حق ہونے کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ اگر آپ ان کی اول و آخر اور قدیم و جدید تمام کتابوں کا مطالعہ کرلیں،تو باوجود ان کے علاقوں اور زمانوں کے مختلف ہونے اور ان کے باہمی فاصلوں اور دنیا کے مختلف کونوں میں رہائش پذیر ہونے کے،آپ ان کو ایک ہی طرز اور طریقے پر عقائد کا بیان کرتے پائیں گے، ان کا منہج ایک ہی ہو گا،جس سے وہ کبھی نہیں ہٹیں گے۔عقائد میں ان کا قول اور دلیل ایک ہی ہو گی،ان کے مابین کوئی معمولی سا اختلاف و انتشار بھی آپ تلاش نہیں کر سکتے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات کہ اگر آپ ان کی زبانوں سے نکلی ہوئی اور ان کی اپنے سلف سے نقل کردہ تمام باتیں جمع کر لیں،تو آپ کو یوں محسوس ہو گا کہ وہ ایک ہی دل سے نکل کر ایک ہی زبان پر جاری ہوئی ہیں۔کیا کسی کے حق ہونے پراس سے بڑھ کر بھی کوئی دلیل ہو گی؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ
غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا} (النساء 4 : 82)(کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر وہ غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے)۔نیز فرمایا : {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا}(آل عمران 3 : 103)(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو)۔اس کے برعکس جب آپ اہل بدعت کو دیکھیں گے تو ان کو تفرقہ و اختلاف میں مبتلا اور گروہوں میں بٹے ہوئے پائیں گے۔عقائد کے معاملے میں ان میں سے کسی دو کو بھی آپ کسی ایک منہج پر متفق نہیں پائیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو بدعتی کہتا ہے،بلکہ وہ ایک دوسرے کی تکفیر تک پہنچ جاتے ہیں۔بیٹا اپنے باپ کو،بھائی اپنے بھائی کو اور پڑوسی اپنے پڑوسی کو کافر قرار دیتا نظر آتا ہے۔وہ ہمیشہ جھگڑے اور بغض و عناد میں مبتلا رہتے ہیں۔ان کی عمریں گزر جاتی ہیں،لیکن کسی ایک بات پر جمع نہیں ہوپاتے۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوبُہُمْ شَتّٰی ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ}(الحشر 59 : 14) (آپ انہیں متفق سمجھتے ہیں،لیکن ان کے دل جدا جدا ہیں،اس لیے کہ یہ بے شعور قوم ہیں)۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تمام معتزلہ لقب’اعتزال‘میں متحد تھے،اس کے باوجود بغداد کے معتزلہ بصرہ کے معتزلہ کو کافر کہتے ہیں اور بصرہ والے بغداد والوں کو،ابو علی جبائی کے اصحاب اس کے بیٹے ابوہاشم کو کافر کہتے ہیں اور ابوہاشم کے اصحاب اس کے باپ ابو علی کو کافر قرار دیتے ہیں۔یہی حال ان کے باقی اکابر اور اہل قلم کا ہے۔جب آپ گمراہ لوگوں کے اقوال پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ متفرق ہیں،ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔خوارج ،روافض اور تمام اہل بدعت کی صورت ِحال ایسی ہی ہے۔ کیا ان کے باطل ہونے پر اس سے بھی بڑی کوئی دلیل ہو گی؟اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :{اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِيْ شَيْئٍ اِنَّمَا اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ} (الأنعام 6 : 159)(بلاشبہ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے،آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں،ان کا معاملہ تو اللہ ہی کے سپرد ہے)۔اہل حدیث کے متفق ہونے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنا دین کتاب و سنت سے نقل در نقل کے ذریعے اخذ کیا ہے۔قرآن و سنت نے ان میں اتفاق و اتحاد پیدا کر دیا،جبکہ اہل بدعت نے اپنا دین عقل اور رائے سے اخذ کیا اور عقل و رائے نے ان میں تفرقہ و اختلاف پیدا کیا۔کیونکہ ثقہ و بااعتماد راویوں کی نقل و روایت میں کم ہی اختلاف ہوتا ہے اور جو اختلاف ہوتاہے،وہ بھی لفظی ہوتا ہے، جوکہ دین میں مضر اور قابل قدغن نہیں ہوتا۔اس کے بالمقابل عقلی دلائل کم ہی متفق ہوتے ہیں،بلکہ ہر شخص کی عقل وہ سوچتی ہے جو دوسرے نہیں سوچتے۔یہ بالکل واضح بات ہے۔‘‘
(الحجّۃ في بیان المحجّۃ لأبي القاسم الأصبہاني : 241-239/2)
مشہور تابعی،امام قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ (118-61ھ)نے کیا خوب فرمایا ہے :
وَلَعَمْرِي ! لَوْ کَانَ أَمْرُ الْخَوَارِجِ ہُدًی لَّاجْتَمَعَ، وَلٰکِنَّہٗ کَانَ ضَلَالَۃً فَتَفَرَّقَ ۔
’’قسم ہے،اگر خوارج ہدایت پر ہوتے تو وہ متفق ہوتے،لیکن وہ گمراہی پر تھے،اس لیے تفرقے میں پڑ گئے۔‘‘(تفسیر عبد الرزّاق : 375، تفسیر الطبري : 178/3، وسندہٗ صحیحٌ)
امام،ابو محمد،عبد اللہ بن مسلم،ابن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ (276-213ھ)فرماتے ہیں :
وَلَوْ أَرَدْنَا ــــ رَحِمَکَ اللّٰہُ ــــ أَنْ نَّنْتَقِلَ عَنْ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ وَنَرْغَبَ عَنْہُمْ، إِلٰی أَصْحَابِ الْکَلَامِ وَنَرْغَبَ فِیہِمْ، لَخَرَجْنَا مِنِ اجْتِمَاعٍ إِلٰی تَشَتُّتٍ، وَعَنْ نِّظَامٍ إِلٰی تَفَرُّقٍ، وَعَنْ أُنْسٍ إِلٰی وَحْشَۃٍ، وَعَنِ اتِّفَاقٍ إِلَی اخْتِلَافٍ ۔
’’اگر (بالفرض)ہم اہل حدیث کو چھوڑ کر اہل کلام(اہل رائے)میں شامل ہو جائیں تو یقینا ہم اجتماعیت کو چھوڑ کر انتشار میں، نظم کو چھوڑ کر تفرقے میں،محبت کو چھوڑ کر نفرت میں اور اتفاق کو چھوڑ کر اختلاف میں داخل ہو جائیں گے۔‘‘(تأویل مختلف الحدیث، ص : 16)
شیخ الاسلام،تقی الدین،احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں:
وَبِالْجُمْلَۃِ فَالثُّبَاتُ وَالِاسْتِقْرَارُ فِي أَہْلِ الْحَدِیثِ وَالسُّنَّۃِ أَضْعَافُ أَضْعَافِ أَضْعَافِ مَا ہُوَ عِنْدَ أَہْلِ الْکَلَامِ وَالْفَلْسَفَۃِ ۔
’’الغرض اہل حدیث ثبات و استقامت میں اہل کلام وفلسفہ سے کئی گنا زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔‘‘(مجموع الفتاوٰی : 51-50/4)
نیز فرماتے ہیں : وَلَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یَّنْصِبَ لِلأُْمَّۃِ شَخْصًا یَّدْعُو إِلٰی طَرِیقَتِہٖ وَیُوَالِي وَیُعَادِي عَلَیْہِ غَیْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَا یَنْصِبَ لَہُمْ کَلَامًا یُّوَالِي عَلَیْہِ وَیُعَادِي غَیْرَ کَلَامِ اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ وَمَا اجْتَمَعَتْ عَلَیْہِ الْـأُمَّۃُ، بَلْ ہٰذَا مِنْ فِعْلِ أَہْلِ الْبِدَعِ الَّذِینَ یَنْصِبُونَ لَہُمْ شَخْصًا أَوْ کَلَامًا یُّفَرِّقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْـأُمَّۃِ یُوَالُونَ بِہٖ عَلٰی ذٰلِکَ الْکَلَامِ أَوْ تِلْکَ النِّسْبَۃِ وَیُعَادُونَ ۔
’’کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ امت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی ایک شخص کو متعین کرے اور اسی کے راستے کی دعوت دے،نیز اسی کو محبت و نفرت کا معیار بنائے۔ نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اللہ و رسول کے قول اور اجماعِ امت کے علاوہ کسی اور کلام کو متعین کر کے اسے محبت و عداوت کا معیار بنائے۔ایسا کرنا تو ان بدعتی لوگوں کا شیوا ہے جو کسی(امتی کی)کلام اور نسبت کی بنا پر محبت و عداوت کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 164/20، درء تعارض العقل والنقل : 273-272/1)
نیز فرماتے ہیں : شِعَارُ الطَّائِفَۃِ النَّاجِیَۃِ ہُوَ السُّنَّۃُ وَالْجَمَاعَۃُ، دُونَ الْبِدْعَۃِ وَالْفُرْقَۃِ ۔ ’’نجات پانے والی جماعت کا شعار سنت اور اجتماعیت ہے، نہ کہ بدعت اور تفرقہ۔‘‘(بیان تلبیس الجہمیّۃ : 310/2)
مزید فرماتے ہیں : اَلْبِدْعَۃُ مَقْرُونَۃٌ بِالْفُرْقَۃِ، کَمَا أَنَّ السُّنَّۃَ مَقْرُونَۃٌ بِالْجَمَاعَۃِ، فَیُقَالُ : أَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ، کَمَا یُقَالُ : أَہْلُ الْبِدْعَۃِ وَالْفُرْقَۃِ ۔
’’بدعت اور تفرقہ لازم و ملزوم ہے،جیسا کہ سنت اور اجتماعیت لازم و ملزوم ہے۔ ویسے بھی اہل علم اہل سنت کے ساتھ [والجماعۃ] کا لفظ بولتے ہیں اور اہل بدعت کے ساتھ [والفرقۃ] (تفرقہ بازی)کا اطلاق کرتے ہیں۔‘‘(الاستقامۃ : 42/1)
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن و حدیث نے فِرقہ سے منع نہیں کیا،فُرقہ سے منع کیا ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا} (آل عمران 3 : 103)
’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو۔‘‘
اسی طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے :
’وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ ! لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلٰی ثَلَاثٍ وَّسَبْعِینَ فِرْقَۃً، وَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ‘، قِیلَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَنْ ہُمْ ؟ قَالَ : ’الْجَمَاعَۃُ‘ ۔
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )جان ہے! ضرور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ان میں سے ایک فرقہ جنتی اور باقی بہتر (72)جہنمی ہوں گے۔[آپ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے رسول!وہ جنتی فرقہ کن لوگوں پر مشتمل ہو گا؟]فرمایا: وہ جماعت ہوں گے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ : 3992، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث سے امت محمدیہq کا تہتر فرقوں میں بٹنا اور ایک فرقے کا جنتی ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ فرقہ،گروہ یا جماعت مطلق ممنوع نہیں،ورنہ ایک فرقہ جنتی کیسے؟ بہتر فرقے کس جرم کی پاداش میں جہنمی بنیں گے؟ ناجی فرقے کا کیا منہج ہوتا ہے؟ اس کے بارے میں :
امام،ابوحاتم،محمدبن حبان،ابن حبان،تمیمی رحمہ اللہ (م : 354ھ)فرماتے ہیں :
إِنَّ مَنْ وَّاظَبَ عَلَی السُّنَنِ، قَالَ بِہَا، وَلَمْ یُعَرِّجْ عَلٰی غَیْرِہَا مِنَ الْآرَائِ مِنَ الْفِرْقَۃِ النَّاجِیَۃِ فِي الْقِیَامَۃِ، جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَنِّہٖ ۔
’’جو شخص سنت کی پابندی کرتا ہے،سنت ہی کے مطابق اپنا مذہب بناتا ہے اور سنت کو چھوڑ کر آراء پر عمل نہیں کرتا،وہ قیامت کے دن فرقہ ناجیہ میں سے ہو گا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں بھی اس میں شامل فرمائے۔‘‘(صحیح ابن حبّان : 180/1)
علامہ،ابراہیم بن موسیٰ، شاطبی رحمہ اللہ (م : 790ھ)فرماتے ہیں :
إِنَّ الْجَمَاعَۃَ مَا کَانَ عَلَیْہِ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُہٗ وَالتَّابِعُونَ لَہُمْ بِإِحْسَانٍ ۔
’’نجات پانے والی جماعت ان لوگوں پر مشتمل ہو گی،جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اور تابعین عظام کے بتائے ہوئے طریقے پر قائم رہے۔‘‘(الاعتصام : 28/1)
شیخ الاسلام،تقی الدین،احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں:
فَإِذَا کَانَ وَصْفُ الْفِرْقَۃِ النَّاجِیَۃِ اتِّبَاعَ الصَّحَابَۃِ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَذٰلِکَ شِعَارُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ، کَانَتِ الْفِرْقَۃُ النَّاجِیَۃُ ہُمْ أَہْلَ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ، فَالسُّنَّۃُ مَا کَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہُوَ وَأَصْحَابُہٗ عَلَیْہِ فِي عَہْدِہٖ ۔
’’جب(حدیث میں) فرقہ ناجیہ کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ صحابہ کرام کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنائے گئے طریقے کی پیروی کریں گے اور یہ طریقہ اہل سنت والجماعت ہی کا ہے،تو فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت ہی ہوئے۔سنت اس طریقے کو کہتے ہیں،جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صحابہ کرام کاربند تھے۔‘‘(منہاج السنّۃ : 457/3)
علامہ،عبیداللہ بن محمد عبد السلام،مبارکپوری رحمہ اللہ (1414-1327ھ)فرماتے ہیں :
’وَہِيَ الْجَمَاعَۃُ‘، أَيِ الْمُوَافِقُونَ لِجَمَاعَۃِ الصَّحَابَۃِ الْآخِذُونَ بِعَقَائِدِہِمْ، الْمُتَمَسِّکُونَ بِطَرِیقَتِہِمْ، وَہُمْ أَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃُ، أَيْ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ الَّذِینَ اجْتَمَعُوا عَلَی اتِّبَاعِ آثَارِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي جَمِیعِ الْـأَحْوَالِ، وَاتَّفَقُوا عَلَی الْـأَخْذِ بِتَعَامُلِ الصَّحَابَۃِ وَإِجْمَاعِہِمْ، وَلَمْ یَبْتَدِعُوا بِالتَّحْرِیفِ وَالتَّغْیِیرِ، وَلَمْ یُبَدِّلُوا بِالْآرَائِ الْفَاسِدَۃِ ۔
’’حدیث ِنبوی کے مطابق کامیاب ہونے والی جماعت میں وہ لوگ شامل ہوں گے، جو صحابہ کرام کی جماعت کے پیروکار ہوں گے،یعنی انہی کے عقائد اپنائیں گے اور انہی کے منہج کو لازم پکڑیں گے۔یہ لوگ اہل سنت والجماعت ،یعنی اہل حدیث ہی ہیں،جو کہ ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر عمل کرنے پر متفق ہیں،نیز صحابہ کرام کے تعامل اور اجماع کو اپنانے پر بھی مجتمع ہیں۔انہوں نے تحریف و تبدل کے ذریعے نہ کوئی بدعت اختیار کی ہے اور نہ فاسد آراء کے ذریعے دین میں کوئی تبدیلی کی ہے۔‘‘
(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح : 278/1)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.