465

امام دحیم ، غلام مصطفی ظہیرامن پوری حفظہ اللہ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ِ مبارکہ دین ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے امت میں مخصوص افراد پیدا فرمائے جنہیں ائمہ محدثین کہا جاتا ہے۔ ان کی بلند شان کا کیا کہنا ، وہ تو اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہیں۔ان کے بارے میں ناقد ِ رجال علامہ و حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٦٧٣۔٧٤٨ھ) لکھتے ہیں :
فباللّٰہ علیک ، یا شیخ ! ارفق بنفسک والزم الإنصاف ، ولا تنظر إلی ہؤلاء الحفّاظ النظر الشزر ، ولا ترمقنّہم بعین النقص ، ولا تعتقد فیہم أنّہم من جنس محدثی زماننا ، حاشا وکلّا ، فما فی من سمّیت أحد ــ وللّٰہ الحمد ــ إلّا وہو بصیر بالدین عالم بسبیل النجاۃ ، ولیس فی کبار محدثی زماننا أحد یبلغ رتبۃ أولئک فی المعرفۃ ، فإنّی أحسبک لفرط ہواک تقول بلسان الحال إن أعوزک المقال من أحمد ، وما ابن المدینی ، وأیّ شیء أبو زرعۃ وأبو داود ، ہؤلاء محدثون ولا یدرون ما الفقہ ، ما أصولہ ، ولا یفقہون الرأی ، ولا علم لہم بالبیان والمعانی والدقائق ولا خبرۃ لہم بالبرہان والمنطق ، ولا یعرفون اللّٰہ تعالی بالدلیل ، ولا ہم من فقہاء الملّۃ ، فاسکت بحلم أو انطق بعلم ، فالعلم النافع ہو النافع ما جاء عن أمثال ہؤلاء ، ولکن نسبتک إلی أئمّۃ الفقہ کنسبۃ محدثی عصرنا إلی أئمّۃ الحدیث ، فلا نحن ولا أنت ، وإنّما یعرف الفضل لأہل الفضل ذو الفضل ، فمن اتّقی اللّٰہ راقب اللّٰہ واعترف بنقصہ ، ومن تکلّم بالجاہ وبالجہل أو بالشر والبأو ، فأعرض عنہ وذرہ فی غیّہ ، فعقباہ إلی وبال ، نسأل اللّٰہ العفو والسلامۃ ۔
”اے شیخ ! اللہ سے ڈر، اپنے آپ پر رحم کر ، انصاف کا التزام کر اور ان حفاظ (ائمہ محدثین) کی طرف نفرت بھری اور توہین آمیز نگاہ سے نہ دیکھ نہ ان کے بارے میں یہ نظریہ بنا کہ وہ ہمارے زمانے کے محدثین کی طرح ہیں، حاشاوکلّا ! جن جن کا نام لے کر میں نے تذکرہ کیا ہے، الحمدللہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو دین میں بصیرت نہ رکھتا ہو اور راہ ِ نجات سے واقف نہ ہو ۔ ہمارے زمانے کے کبار محدثین میں سے بھی کوئی ان جیسی معرفت نہیں رکھتا۔میرے خیال میں تُو فرط ِ تعصب سے زبان حال کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ‘کون ہے احمد(بن حنبل)؟ کیا ہے ابنِ مدینی؟ کیا چیز ہیں ابوزرعہ اور ابوداؤد ؟یہ بس محدث تھے، فقہ اور اس کے اصولوں سے ناواقف تھے ، فہم و شعور نہ رکھتے تھے، علم بیان ، علم معانی اور باریک بینی سے ناآشنا تھے ، علم منطق کی کوئی مہارت نہ رکھتے تھے ، یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کو بھی دلیل کے ساتھ نہیں جانتے تھے نہ ہی یہ فقہائے اسلام میں سے تھے۔۔۔’ تُو بردباری کے ساتھ خاموش رَہ اور اگر تجھے کلام کرنا ہی ہے تو علم کے ساتھ کر ۔ علم نافع وہی ہے جو ان جیسے کبار محدثین کے ذریعے ہم تک پہنچا۔ ائمہ فقہ کی طرف تیری نسبت ایسی ہی ہے جیسی ہمارے زمانے کے محدثین کی ائمہ محدثین کی طرف۔نہ ہم ائمہ محدثین کے مرتبے کے ہیں نہ تُو فقہاء کے پَلّے کا ہے۔اہل فضل کے شان و مرتبے سے اہل فضل ہی واقف ہوتے ہیں۔ جو شخص اللہ کا ڈر اپنے سینے میں رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان دیتا ہے اور اپنے نقص کا اعتراف کرتا ہے۔ جو شخص جھوٹی شان و شوکت اور جہالت کی بات کرتا ہے یا شر اور شوخی کا اظہار کرتا ہے ، اس سے اعراض کر لے اور اسے اس کی سرکشی میں چھوڑ دے، اس کی عاقبت نقصان زدہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔”(تذکرۃ الحفاظ للذہبی : ٢/٦٢٧،٦٢٨)
ان ائمہ محدثین میں سے ایک محدث الشام ، ناقد الاثر ، الحافظ ، الحجہ ، قاضی اردن و فلسطین ، ابو سعید عبدالرحمن بن ابراہیم الدمشقی ابن الیتیم الملقب بہ ”دُحَیم” ہیں۔
ولادت با سعادت : آپ کی ولادت باسعادت ١٧٠ ہجری میں ہوئی۔
اساتذہ کرام : آپ نے امام سفیان بن عیینہ ، ابو مسعر، ولید بن مسلم ، عمر بن عبدالواحد، شعیب بن اسحاق ، مروان بن معاویہ اور محمدبن شعیب بن شابور جیسے محدثین سے علم حاصل کیا۔
تلامذہ : آپ رحمہ اللہ کے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت ہے۔ ان میں امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام نسائی ، امام ابن ما جہ ، امام ابوزرعہ رازی ، امام ابوزرعہ دمشقی ، امام ابوحاتم رازی ، امام محمد بن یحییٰ ذہلی اور امام فریابی رحمہم اللہ شامل ہیں۔
توثیق و توصیف : بہت سے ائمہ محدثین نے ان کی توثیق و توصیف کی ہے:
امام عجلی(تاریخ الثقات : ٢٨٧)، امام ابوحاتم رازی(الجرح والتعدیل : ٥/٢١٢)، امام نسائی (مشیخۃ النسائی : ١٦١)، امام دارقطنی(سوالات الحاکم للدارقطنی : ص ٢٣٨) اور خطیب بغدادی (تاریخ بغداد : ١٠/٢٦٥) رحمہم اللہ نے ان کو ”ثقہ” قرار دیا ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہو عاقل ، رکین ۔ ”آپ عقلمند اور سنجیدہ و باوقار شخص تھے۔”(العلل ومعرفۃ الرجال : ٢٤٦)
ثقہ و حافظ عبداللہ بن محمد بن سیار فرہیائی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ شام کے جن علمائے کرام سے آپ نے ملاقات کی ہے ، ان میں سے سب سے قابل اعتماد شخص کون تھے ، اس پر انہوںنے فرمایا :
أعلاہم دُحَیم ۔ ”ان میں سے سب سے بلند پایہ عالم امام دُحَیم رحمہ اللہ تھے۔”
(تاریخ بغداد للخطیب : ١٠/٢٥٦، وسندہ، صحیحٌ)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان من المتقنین الذین یحفظون علماء أہل بلدہ بشیوخہم وأنسابہم ۔ ”آپ ان پختہ حافظے والے لوگوںمیں شمار ہوتے ہیں جن کو اپنے علاقے کے علمائے کرام ان کے شیوخ اور نسب سمیت حفظ تھے۔”(کتاب الثقات لابن حبان : ٨/٣٨١)
حافظ خلیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان أحد حفّاظ الأئمّۃ ، متّفق علیہ ، ویعتمد علیہ فی تعدیل شیوخ الشام وجرحہم ۔ ”آپ رحمہ اللہ حفاظ ائمہ محدثین میں سے ایک تھے۔ ان کی جلالت ِعلمی پر علمائے کرام کا اتفاق ہے ، شام کے شیوخ کی جرح وتعدیل میں آپ پر اعتماد کیا جاتاہے۔”(کتاب الارشاد للخلیلی : ١/٤٥٠)
امام ابن عدی رحمہ اللہ آپ کو نقاد ائمہ میں شمار کرتے ہیں۔(الکامل لابن عدی : ١/١٣٤)
اور انہوں نے آپ سے تیرہ کے قریب اقوال جرح و تعدیل ذکر کیے ہیں۔
اسی طرح حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے آپ کو اپنی کتاب ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل (ان لوگوں کا تذکرہ جن کا قول جرح و تعدیل میں معتبر ہوتا ہے) میں ذکر کیا ہے۔
(ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل للذہبی : ص ١٧٣)
امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان دُحَیم یمیّز ویضبط حدیث نفسہ ۔
”امام دُحَیم رحمہ اللہ اپنی حدیث پر مکمل ضبط رکھتے تھے۔”(الجرح والتعدیل : ٥/٢١١)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ آپ کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں : القاضی ، الإمام ، الفقیہ ، الحافظ ، محدّث الشام۔۔۔وعنی بہذا الشأن ، وفاق الأقران ، وجمع وصنّف ، وجرّح وعدّل ، وصحّح وعلّل ۔ ”آپ قاضی ، امام ، فقیہ ، حافظ اور شام کے محدث تھے۔۔۔ آپ نے علم ِحدیث میں دلچسپی لی اور ہم عصروں پر فوقیت لے گئے۔ آپ نے حدیث کو جمع کیا اور کتب تصنیف کیں، راویوں کی جرح وتعدیل کی اور احادیث کی صحت و ضعف پر کام کیا۔”(سیر اعلام النبلاء للذہبی : ١١/٥١٥)
وفات : اس عظیم محدث ، حافظ ِ حدیث اور ناقد رجال کی وفات حسرت آیات ٢٥٤ ہجری میں ہوئی۔ رحمہ اللّٰہ الکریم !

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.