251

امام غائب، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

متواتر احادیث کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہو گا ، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے ، قرب ِ قیامت ان کا ظہور ہو گا اور وہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کے پھریرے لہرائیں گے۔
ائمہ دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں مروی احادیث صحیح اور قابل حجت ہیں۔اس حوالے سے چند ایک ائمہ دین کی آراء ملاحظہ فرمائیں :
1 امام ابو جعفر محمد بن عمرو بن موسیٰ بن حماد عُقَیْلی رحمہ اللہ (م : ٣٢٢ھ) فرماتے ہیں : وفي المہديّ أحادیث جید ۔ ”امام مہدی کے بارے میں عمدہ احادیث موجود ہیں۔”(الضعفاء الکبیر للعقیلي : ٣/٢٥٤)
2 امام ابوبکراحمد بن الحسین بن علی بن موسیٰ بیہقی رحمہ اللہ (٣٨٤۔٤٥٨ھ) فرماتے ہیں : والأحادیث في التنصیص علی خروج المہديّ أصحّ إسنادا ، وفیہا بیان کونہ من عترۃ النبي صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔
”امام مہدی کے خروج کے بارے میں احادیث صحیح سند والی ہیں۔ ان میں یہ وضاحت بھی ہے کہ امام مہدی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ہوں گے۔”
(تاریخ ابن عساکر : ٤٧/٥١٧، تہذیب التہذیب لابن حجر : ٩/١٢٦)
3 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ)فرماتے ہیں :
والأحادیث التي یحتجّ بہا علی خروج المہديّ أحادیث صحیحۃ ۔
”جن احادیث سے امام مہدی کے خروج پر دلیل لی جاتی ہے ، وہ احادیث صحیح ہیں۔”
(منہاج السنۃ لابن تیمیۃ : ٤/٩٥)
4 شیخ الاسلام ثانی ، عالم ربانی ، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ (٦٩١۔٧٥١ھ) نے فرمایا:
وہذہ الأحادیث أربعۃ أقسام ؛ صحاح وحسان وغرائب وموضوعۃ ۔
”یہ احادیث چار قسم کی ہیں جن میں سے صحیح بھی ہیں ، حسن بھی ہیں ، غریب بھی ہیں اور موضوع بھی۔”(المنار المنیف لابن القیم، ص : ١٤٨)
5 علامہ ابو عبداللہ محمد بن جعفر بن ادریس کتانی رحمہ اللہ (١٢٧٤۔١٣٤٥ھ) اس بارے میں تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد خلاصہ یوں بیان فرماتے ہیں :
والحاصل أنّ الأحادیث الواردۃ في المہديّ المنتظر متواترۃ ۔
”خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد احادیث متواتر ہیں۔”
(نظم المتناثر في الحدیث المتواتر للکتاني، ص : ٤٧)
6 علامہ شمس الدین ابو العون محمدبن احمد بن سالم سفارینی رحمہ اللہ (١١١٤۔١١٨٨ھ) لکھتے ہیں : من أشراط الساعۃ التي وردت بہا الأخبار وتواترت في مضمونہا الآثار ۔ ”امام مہدی کا ظہور قیامت کی ان علامات میں سے ہے جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں اور جن کے بارے میں متواتر آثار مروی ہیں۔”
(لوامع الأنوار البہیّۃ للسفاریني : ٢/٧٠)
7 علامہ محمد امین بن محمد مختار شنقیطی رحمہ اللہ (١٣٢٥۔١٣٩٣ھ) فرماتے ہیں :
وقد تواترت الأخبار واستفاضت بکثرۃ روایتہا عن المختار صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بمجيء المہديّ ، وأنّہ من أہل بیتہ ۔
”امام مہدی کے آنے اور ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہونے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر و مشہور احادیث مروی ہیں۔”
(الجواب المقنع المحرّر للشینقیطي، ص : ٣٠)
یہ تو علمائے کرام اور ائمہ دین کے نزدیک امام مہدی کے متعلق وارد ہونے والی احادیث کا حال تھا۔ اب ان میں سے چند احادیث و آثار ملاحظہ فرمائیں :
n سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‘لَوْلَا یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا یَوْمٌ لَّطَوَّلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ حَتّٰی یَبْعَثَ رَجُلًا مِّنِّي ، أَوْ مِنْ أَہْلِ بَیْتِي ، یُوَاطِیئُ اسْمُہُ اسْمِي ، وَاسْمُ أَبِیہِ اسْمَ أَبِي’
”اگر دنیا کے ختم ہونے میں ایک دن بھی باقی ہوا (اور امام مہدی نہ آئے) تو اللہ تعالیٰ اسی دن کو لمبا کر دے گا حتی کہ میری نسل سے یا میرے اہل بیت سے ایک آدمی کو مبعوث کرے گا جس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا۔”(مسند الإمام أحمد : ١/٣٧٧، ٤٣٠، سنن أبي داو،د : ٤٢٨٢، سنن الترمذي : ٢٢٣٠، وقال : حسن صحیحٌ، وسندہ، حسنٌ)
n سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ستکون فتنۃ یحصل الناس منہا کما یحصل الذہب فی المعدن ، فلا تسبّوا أہل الشام ، وسبّوا ظلمتہم ، فإنّ فیہم الأبدال ، وسیرسل اللّٰہ إلیہم سیبا من السماء فیغرقہم ، حتّی لو قاتلتہم الثعالب غلبتہم ، ثمّ یبعث اللّٰہ عند ذلک رجلا من عترۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی اثنی عشر ألفا إن قلّوا وخمسۃ عشر ألفا إن کثروا ، إمارتہم أو علامتہم أمت أمت علی ثلاث رأیات ، یقاتلہم أہل سبع رایات ، لیس من صاحب رأیۃ إلّا و ہو یطمع بالملک ، فیقتتلون و یہزمون ، ثمّ یظہر الہاشمیّ ، فیردّ اللّٰہ إلی الناس إلفتہم ونعمتہم ، فیکونون علی ذلک حتّی یخرج الدجّال۔
”عنقریب فتنہ نمودار ہو گا۔ لوگ اس سے ایسے کندن بن کر نکلیں گے جیسے سونا بھٹی میںکندن بنتا ہے۔ تم اہل شام کو بُرا بھلا نہ کہو بلکہ ان پر ظلم کرنے والوں کو بُرا بھلا کہو کیونکہ اہل شام میں ابدال ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش نازل کرے گا اور ان کو غرق کر دے گا۔ اگر لومڑیوں جیسے مکار لوگ بھی ان سے لڑیں گے تو وہ ان پر غالب آ جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ایک شخص کو کم از کم بارہ ہزار اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار لوگوں میں بھیجے گا۔ ان کی علامت أمت أمت ہو گی ۔ وہ تین جھنڈوں پر ہوں گے۔ ان سے سات جھنڈوں والے لڑائی کریں گے۔ہر جھنڈے والا بادشاہت کا طمع کرتا ہو گا۔ وہ لڑیں گے اور شکست کھائیں گے، پھر ہاشمی غالب آ جائے گا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف ان کی الفت اور محبت و مودّت لوٹا دے گا۔ وہ دجّال کے نکلنے تک یونہی رہیں گے۔”(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ٤/٥٩٦، ح : ٨٦٥٨، وسندہ، صحیحٌ)
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد” اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح” کہا ہے۔
احادیث و آثار کے خلاف رافضی شیعوں نے اپنا ایک ”امام غائب” بنا رکھا ہے۔ وہ ان کا ”مہدیئ منتظر”ہے۔ اس کا نام محمد بن حسن عسکری ہے۔
اس بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (٧٠١۔٧٧٤ھ)فرماتے ہیں :
المہديّ الذي یکون في آخر الزمان ، وہو أحد الخلفاء الراشدین والأئمّۃ المہدیین ، ولیس بالمنتظر الذي تزعم الروافض ، وترتجي ظہورہ من سرداب في سامراء ، فإنّ ذاک ما لا حقیقۃ لہ ، ولا عین ولا أثر ۔
”اس سے مراد وہ مہدی ہیں جو آخر زمانے میں ہوں گے۔ وہ ایک خلیفہ راشد اور ہدایت یافتہ امام ہوں گے۔ان سے مراد وہ مہدیئ منتظر نہیں جس کے بارے میں رافضی لوگ دعویٰ کرتے ہیں اور سامراء کے ایک مورچے سے اس کے ظہور کا انتظار کرتے ہیں۔اس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ اس کے بارے میں کوئی روایت و اثر ہی موجود ہے۔”
(النہایۃ في الفتن والملاحم لابن کثیر : ١/٤٩)
نیز فرماتے ہیں : فیخرج المہديّ ، ویکون ظہورہ من بلاد المشرق ، لا من سرداب سامراء ، کما تزعمہ جہلۃ الرافضۃ من أنّہ موجود فیہ الآن ، وہم ینتظرون خروجہ في آخر الزمان ، فإنّ ہذا نوع من الہذیان ، وقسط کثیر من الخذلان ، وہوس شدید من الشیطان ، إذ لا دلیل علیہ ولا برہان ، لا من کتاب ولا من سنّۃ ولا من معقول صحیح ولا استحسان ۔
”امام مہدی نکلیں گے۔ ان کا ظہور مشرق کے علاقے سے ہو گا ، سامراء کے مورچے سے،جاہل رافضیوں کا خیال ہے کہ وہ امام مہدی اس غار میں اب موجود ہیں اور وہ آخری زمانے میں ان کے خروج کے منتظر ہیں۔ یہ ایک قسم کی بے وقوفی ، بہت بڑی رسوائی اور شیطان کی طرف سے شدید ہوس ہے کیونکہ اس بات پر کوئی دلیل و برہان نہیں ، نہ قرآن سے ، نہ سنت ِ رسول سے ، نہ عقل سے اور نہ قیاس سے۔”(النہایۃ في الفتن والملاحم لابن کثیر : ١/٥٥)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں : وہذا الحدیث فیہ دلالۃ علی أنّہ لا بدّ من وجود اثني عشر خلیفۃ عادلا ، ولیسوا ہم بأئمّۃ الشیعۃ الأثني عشر ، فإنّ کثیرًا من أولئک لم یکن إلیہم من الأمر شيء ، فأمّا ہؤلاء فإنّہم یکونون من قریش ، یَلُون فیعدلون ، وقد وقعت البشارۃ بہم فی الکتب المتقدّمۃ ، ثمّ لا یشترط أن یکون متتابعین ، بل یکون وجودہم في الأمّۃ متتابعا ومتفرّقا ، وقد وُجِد منہم أربعۃ علی الولاء ، وہم أبو بکر ، ثمّ عمر ، ثمّ عثمان ، ثمّ عليّ ، رضی اللّٰہ عنہم ، ثمّ کانت بعدہم فترۃ ، ثمّ وُجِد منہم ما شاء اللّٰہ ، ثمّ قد یُوجَد منہم مَن بقي في وقت یعلمہ اللّٰہ ، ومنہم المہديّ الذی یطابق اسمہ اسم رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، وکنیتہ کنیتہ ، یملأ الأرض عدلا وقسطا ، کما ملئت جورًا وظلما ۔
”اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بارہ عادل خلیفہ ضرور ہوں گے۔ان سے مراد شیعوں کے بارہ امام نہیں۔کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس کوئی حکومت تھی ہی نہیں جبکہ جن بارہ خلفاء کا حدیث میں ذکر ہے ، وہ قریش سے ہوں گے جو حاکم بن کر عدل کریں گے۔ان کے بارے میں پہلی کتابوں میں بھی بشارت موجود ہے۔ پھر ان کا پے در پے آنا ضروری نہیں بلکہ امت میں ان کا وجود پے درپے بھی ہو گا اور وقفے وقفے سے بھی۔ ان میں سے چار پے در پے آئے ۔ وہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدناعثمان اور سیدنا علیyہیں۔ ان کے بعد وقفہ ہوا اور پھر جتنے اللہ نے چاہے آئے ، پھر ان میں سے جتنے باقی ہیں ، وہ اللہ کے علم میں وقت ِ مقررہ پر ضرور آئیں گے۔انہی میں سے امام مہدی ہوں گے جن کا نام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اور کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت کے مطابق ہو گی۔وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔”
(تفسیر ابن کثیر : ٤/٥٦٨،٥٦٩، تحت سورۃ النور : ٥٥)
ایک مقام پر یوں فرماتے ہیں : ولا تقوم الساعۃ حتّی تکون ولایتہم لا محالۃ ، والظاہر أنّ منہم المہديّ المبشّر بہ في الأحادیث الواردۃ بذکرہ أنّہ یُواطیءُ اسمُہ اسم النبيّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، واسم أبیہ اسم أبیہ ، فیملأ الأرض عدْلا وقِسْطًا ، کما ملئت جَوْرا وظُلْمًا ، ولیس ہذا بالمنتظر الذی یتوہّم الرافضۃ وجودہ ثمّ ظہورہ من سرداب سَامرّاء ، فإنّ ذلک لیس لہ حقیقۃ ولا وجود بالکلّیّۃ ، بل ہو من ہَوَسِ العقول السخیفۃ ، وَتَوَہُّم الخیالات الضعیفۃ ، ولیس المراد بہؤلاء الخلفاء الأثني عشر الأئمّۃ الأثني عشر الذین یعتقد فیہم الإثنا عشریّۃ من الروافض ، لجہلہم وقلّۃ عقلہم ، وفي التوراۃ البشارۃ بإسماعیل علیہ السلام ، وأنّ اللّٰہ یقیم من صُلْبِہ اثني عشر عظیما ، وہم ہؤلاء الخلفاء الإثنا عشر المذکورون فی حدیث ابن مسعود ، وجابر بن سَمُرۃ ، وبعض الجہلۃ ممّن أسلم من الیہود إذا اقترن بہم بعض الشیعۃ یوہّمونہم أنّہم الأئمّۃ الإثنا عشر ، فیتشیّع کثیر منہم جہلا وسَفَہا ، لقلّۃ علمہم وعلم من لقّنہم ذلک بالسنن الثابتۃ عن النبيّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔
”بلاشبہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ان بارہ خلیفوں کی حکومت قائم نہ ہو جائے۔ظاہر ہے کہ انہی میں سے امام مہدی ہوں گے جن کے بارے میں احادیث میں یہ موجود ہے کہ ان کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے مطابق(محمد)اور ان کے والد کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام کے مطابق(عبد اللہ)ہوگا۔ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔امام مہدی سے مراد وہ امام منتظر نہیں جس کے بارے میں رافضی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اب موجود ہے اور سامراء کے مورچے سے اس کا ظہور ہوگا۔اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں نہ اس کا قطعاً کوئی وجود ہے بلکہ یہ گندی ذہنیت کی ہوس اور کمزور خیالات کا وہم ہے۔ان بارہ خلفاء سے مراد وہ بارہ امام نہیں جن کا اثناعشری رافضی اپنی جہالت اور کم علمی کی بنا پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ تورات میں اسماعیلu کی بشارت کے ساتھ یہ بات بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے بارہ عظیم لوگ پیدا کرے گا۔ یہ وہی بارہ خلفاء ہیں جن کا ذکر سیدنا ابن مسعود اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے۔ یہودیت سے توبہ کر کے اسلام لانے والے بعض جاہل لوگوں سے جب کوئی شیعہ ملتا ہے تو وہ ان کو دھوکا دیتا ہے کہ ان سے مراد بارہ امام ہیں۔ان میں سے اکثر جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر شیعہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت احادیث کے بارے میں کم علم ہوتے ہیں اور ان کو ایسی تلقین کرنے والے بھی کم علم ہوتے ہیں۔”(تفسیر ابن کثیر : ٣/٥٠٤، تحت سورۃ المائدۃ : ١٢)
امامیہ شیعوں کے ”امام غائب” کے بارے میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وأمّا الرافضۃ الإمامیّۃ فلہم قول رابع ، وہو أنّ المہديّ ہو محمّد بن الحسن العسکريّ المنتظر من ولد الحسین بن علی ، لا من ولد الحسن ، الحاضر فی الأمصار ، الغائب عن الأبصار ، الذی یورث العصا ، ویختم القضاء ، دخل سرداب سامراء طفلا صغیرا ، من أکثر من خمس مئۃ سنۃ ، فلم ترہ بعد ذلک عین ، ولم یحس فیہ بخبر ولا أثر ، وہم ینتظرونہ کلّ یوم یقفون بالخیل علی باب السرداب ، ویصیحون بہ أن یخرج إلیہم ، اخرج یا مولانا ، اخرج یا مولانا ، ثمّ یرجعون بالخیبۃ والحرمان ، فہذا دأبہم ودأبہ ، ولقد أحسن من قال : ما آن للسرداب أن یلد الذي کلمتموہ بجہلکم ما آنا
فعلی عقولکم العفاء ، فإنــکم ثلّثتم العنقاء والغیــــلانا
ولقد أصبح ہؤلاء عارا علی بني آدم وضحکۃ یسخر منہا کلّ عاقل ۔
”امامی رافضیوں کی ایک چوتھی بات یہ ہے کہ امام مہدی کا نام محمد بن حسن عسکری ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی نسل سے ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نسل سے نہیں۔وہ آبادیوں میں موجود ہے لیکن آنکھوں سے غائب ہے۔وہ دنیا پر اپنی حکومت قائم کرے گا۔وہ چھوٹا سا بچہ تھا جب وہ سامراء کے مورچے میں داخل ہوا تھا۔یہ پانچ سو سال( اور اب سے کوئی بارہ سو سال)پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد نہ کسی آنکھ نے اسے دیکھا ہے نہ اس کے بارے میں کوئی خبر ملی ہے نہ اس کا کوئی نشان ملا ہے۔امامی شیعہ ہر روز مورچے کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرتے ہیں اور اسے آوازیں لگاتے ہیں کہ اے ہمارے مولیٰ تُو نکل ، اے ہمارے مولا تُو نکل۔ پھر وہ ناکامی و نامرادی کے ساتھ واپس لوٹ جاتے ہیں۔ یہ ان کی اور ان کے امام منتظر کی روداد ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
مَا آنَ لِلسِّرْدَابِ أَنْ یَّلِدَ الَّــــذِي کَلَّمْتُمُوہُ بِجَہْلِکُمْ مَّا آنَــــا
فَعَلٰی عُقُولِکُمُ الْعَفَائُ، فَإِنَّکُمْ ثَلَّثْتُمُ الْعَنْقَــــــاءَ وَالْغِیْــــلَانَا
[ابھی وقت نہیں آیا، ابھی وقت نہیں آیا کہ مورچے سے وہ شخص پیدا ہو جس سے تم اپنی جہالت کی بنا پر باتیں کرتے ہو۔تمہاری عقلوں پر مٹی پڑ گئی ہے اور تم عنقاء اور غیلان (عربوں کے ہاں دو وہمی و خیالی چیزوں)کو تین کر رہے ہو]۔ یہ لوگ بنی آدم کے لیے باعث ِ عار اور ایسے بن گئے ہیں کہ کوئی عقل مند شخص ان کی بیوقوفی پر ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔”(المنار المنیف لابن القیم : ١٥٣)
دراصل عنقاء وہ پرندہ ہے جس کا نام لیا جاتا ہے ، لیکن وجود نہیں ملتا۔اسی طرح غیلان چڑیل کو کہتے ہیں جس کا نام تو ہے لیکن وجود کوئی نہیں، اسی طرح شیعوں کے مہدی اور امام غائب کا نام ہی ہے ، وجود کوئی نہیں۔
n سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‘لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنَ الدَّہْرِ إِلَّا یَوْمٌ لَّبَعَثَ اللّٰہُ رَجُلًا مِّنْ أَہْلِ بَیْتِي، یَمْلَـأُہَا عَدْلًا کَمَا مُلَئَتْ جَوْرًا’ ”اگر زمانے کا ایک دن بھی باقی رہ گیا (اور امام مہدی نہ آئے) تو اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو ضرور بھیجے گا جو ظلم سے بھری ہوئی زمین کو عدل سے بھر دے گا۔”(مسند الإمام أحمد : ١/٩٠، سنن أبي داو،د : ٤٢٨٣، وسندہ، حسنٌ)
n سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‘اَلْمَہْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وُّلْدِ فَاطِمَۃَ’ ”امام مہدی میرے خاندان سے ، فاطمہ( رضی اللہ عنہا )کی اولاد سے ہوں گے۔”
(سنن أبي داو،د : ٤٢٨٤، سنن ابن ماجہ : ٤٠٨٦، وسندہ، حسنٌ)
n سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‘لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَمْتَلِیئَ الْـأَرْضُ ظُلْماً وَّعُدْوَاناً’، قَالَ : ‘ثُمَّ یَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ عِتْرَتِي، أَوْ مِنْ أَہْلِ بَیْتِي، یَمْلَؤُہَا قِسْطاً وَّعَدْلاً، کَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَّعُدْوَاناً’ ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک زمین ظلم و زیادتی کے ساتھ بھر نہ جائے۔ پھر میری نسل یا میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف کے ساتھ بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و زیادتی کے ساتھ بھری ہوئی تھی۔”
(مسند الإمام أحمد : ٣/٣٦، وسندہ، صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (٦٨٢٣)نے ”صحیح”اور امام حاکم رحمہ اللہ (المستدرک : ٤/٥٥٧)نے امام بخاری ومسلم کی شرط پر ”صحیح” کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
مسند احمد اور صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :
‘یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِینَ’ ”امام مہدی سات سال حکومت کریں گے۔”
(مسند الإمام أحمد : ٣/١٧، صحیح ابن حبان : ٦٨٢٦، وسندہ، حسنٌ)
ان تمام احادیث کے خلاف رافضیوں کا کہنا ہے کہ مہدی کا نام محمد بن حسن عسکری ہے۔ وہ اس کے نام کی پکار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں : یا صاحب الزمان ، الغوث الغوث الغوث ، أدرکني أدرکني أدرکني وغیرہ۔
یہ لوگ اس کا نام پکارنا جائز نہیں سمجھتے بلکہ المہدی ، القائم ، المنتظر، صاحب الزمان ، صاحب الامرو الحاجۃ والخاتم اور صاحب الدار کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس کو نقمہ بھی کہا جاتا ہے۔(روضۃ الکافي للکلیني، ص : ١٩٥)
ان کے نزدیک امام مہدی کا نام لینا جائز نہیں۔ ان کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے :
ولا یحلّ ذکرہ باسمہ ۔ ”امام مہدی کا نام لے کر اس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔”(أصول الکافي : ١/٣٣٣، الإرشاد، ص : ٣٩٤، إکمال الدین لابن بابویہ، ص : ٦٠٨)
جو شیعہ مہدی کا نام لے لے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں :
صاحب ہذا الأمر ، لا یسمّیہ باسمہ إلّا کافر ۔ ”صاحب ہذا الامر، اس کا نام کافر ہی لیتا ہے۔”(أصول الکافي : ١/٣٣٣)
اگر کہیں مہدی کا نام لکھنا پڑے تو شیعہ اس کا نام حروف ِ مقطعات کے ساتھ لکھتے ہیں، مثلاً م ح م د ۔(أصول الکافي : ١/٣٢٩)
شیعہ اپنے مہدی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ٢٥٥ھ میں اس کی ولادت ہوئی اور ٢٦٠ھ میں وہ غائب ہو گیا۔ کہتے ہیں : یشہد الموسم ، فیراہم ، ولا یرونہ ۔
”مہدی حج کے لیے آتا ہے۔ وہ ان کو دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسے نہیں دیکھ پاتے۔”
(أصول الکافي : ١/٣٣٧۔٣٣٨۔ الغیبۃ للنعماني، ص : ١١٦)
مشہور شیعہ الفیض کاشانی(م : ١٠٩١ھ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے :
لو قام قائمنا ردّ الحمیراء عائشۃ حتّی یجلدھا الحدّ ۔
”اگر ہمارا مہدیئ منتظر آ گیا تو وہ حمیراء عائشہ کو قبر سے واپس نکال کر اس پر حد قائم کرے گا۔”(التفسیر الصافي للفیض الکاشاني : ٣/٣٥٩، نور الیقین للمجلسي : ص ٣٤٧)
نعوذ باللہ! کتنے خبیث اور بدباطن ہیں یہ لوگ جو نبی ئ طاہر و مطہر کی ازواجِ مطہرات پر بھی کیچڑ اچھالنے سے باز نہیں آتے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس میں بیان کردی لیکن رافضی جھوٹے اور ظالم ان پر حد قائم کرنے کا سوچتے ہیں۔انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
(إِنَّمَا یَفْتَرِي الْکَذِبَ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِ اللّٰہِ وَأُولٰئِکَ ہُمُ الْکَاذِبُونَ) (النحل : ١٠٥)
”جھوٹ وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔”
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ان کے ”امام زمان” کے بارے میں لکھتے ہیں :
فلیس فیہم أحد یعرفہ ، لا بعینہ ولا صفتہ ، لکن یقولون : إنّ ہذا الشخص الذي لم یرہ أحد ، ولم یسمع لہ خبر ، ہو إمام زمانہم ، ومعلوم أنّ ہذا لیس ہو معرفۃ بالإمام ۔۔۔۔۔ ”ان میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا نہیں، نہ اسے کسی نے دیکھا ہے نہ اس کی کوئی صفت کسی کو معلوم ہے بلکہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا شخص ہے جسے کسی نے دیکھا نہیں نہ اس کی کوئی خبر سنی ہے۔ وہ ان کا امامِ زمان ہے حالانکہ معلوم ہے کہ یہ امام کی پہچان نہیں ہے۔”(منہاج السنۃ النبویّۃ لابن تیمیۃ : ١/١١٤)
شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں : ویقولون : إنّما کانوا علی الحقّ ، لأنّ فیہم الإمام المعصوم ، والمعصوم عند الرافضۃ الإمامیّۃ الإثني عشریّۃ ہو الذي دخل إلی سرداب سامراء بعد موت أبیہ الحسن بن عليّ العسکريّ سنۃ ستّین ومأتین ، وہو إلی الآن غائب ، لم یعرف لہ خبر ، ولا وقع لہ أحد علی عین ولا أثر ۔ ”رافضی کہتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں کیونکہ ان میں امام معصوم موجود ہے۔ رافضی امامی اثناعشری شیعوںکے نزدیک معصوم وہ ہے جو اپنے والد کی وفات کے بعد ٢٦٠ھ میں سامراء کے مورچے میں داخل ہو گیا اور اب تک غائب ہے۔اس کی کوئی خبر معلوم نہیں ہوئی نہ کسی کو اس کا کوئی نشان ملا ہے۔”(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ٢٧/٤٥٢)
کیا امام مہدی اور عیسٰی بن مریم ایک ہیں؟
بعض لوگوں کا یہ نظریہ بھی ہے کہ امام مہدی عیسیٰuہی ہیں۔ جب ابن تومرت نے ”المہدی المنتظر” ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے ردّ میں علامہ ابراہیم بن موسیٰ بن محمدشاطبی رحمہ اللہ (م : ٧٩٠ھ)نے فرمایا :
وکذّب ، فالمہديّ عیسٰی علیہ السلام ۔ ”اس نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ امام مہدی عیسیٰuہی ہیں۔”(الاعتصام للشاطبي : ٢/٩٢، وفي نسخۃ : ٢/٥٨٥)
لیکن یہ بات بے دلیل ہونے اور صحیح احادیث و آثار کے خلاف ہونے کی بنا پر مردود و باطل ہے۔ علامہ شاطبی رحمہ اللہ سے ایک صدی پہلے ہی مشہور مفسر علامہ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی رحمہ اللہ (٦٠٠۔٦٧١ھ) فرما گئے تھے :
وقیل : المہديّ ہو عیسٰی فقط ، وہو غیر صحیح ، لأنّ الأخبار الصحاح قد تواترت علی أنّ المہديّ من عترۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فلا یجوز حملہ علی عیسٰی ۔ ”کہا گیا ہے کہ امام مہدی ، عیسیٰuہی ہیں لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ صحیح احادیث اس بارے میں تواتر کے درجے تک پہنچ گئی ہیں کہ مہدی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے ہوں گے، لہٰذا امام مہدی کو عیسیٰuقرار دینا جائز نہیں۔”(تفسیر القرطبي : ٨/١٢٢)
بعض لوگ اس ضمن میں ایک ”ضعیف” روایت کا بھی سہارا لیتے ہیں کہ
‘مَا المَہْدِيُّ إِلَّا عِیسٰی’ ”عیسیٰuکے علاوہ کوئی مہدی نہیں۔”
(سنن ابن ماجہ : ٤٠٣٩، حلیۃ الأولیاء لابي نعیم : ٩/١٦١، المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ٤/٤٤١، جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البرّ : ١/١٥٥، تاریخ بغداد للخطیب : ٤/٢٢١)
لیکن یہ روایت دو وجہ سے ”ضعیف” ہے :
1 اس کا راوی محمد بن خالد الجندی ”مجہول” ہے۔
(تقریب التہذیب لابن حجر، ت : ٥٨٤٩)
اس کو امام حاکم رحمہ اللہ (تاریخ ابن عساکر : ٤٧/٥١٧) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (بیان خطأ للبیہقی: ٢٩٩)نے ”مجہول” کہا ہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ نے تو یہ بھی لکھا ہے:
لم یعرف بما تثبت بہ عدالتہ ویوجب قبول خبرہ ۔
”اس کی معرفت نہیں ہوئی جس کے ذریعے اس کی عدالت ثابت ہو اور اس کی حدیث کو قبول کرنا واجب ہو۔”
کسی ایک بھی ثقہ امام سے اس کی توثیق ثابت نہیں۔ البتہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اسے ”متروک”ضرور کہا ہے۔ (التمہید لابن عبد البر : ٢٣/٣٩)
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ولسنا نقبل روایۃ المجہولین ۔
”ہم مجہول راویوں کی روایات قبول نہیں کرتے۔”(کتاب القراء ت للبیہقي : ١٩٧)
نیز فرماتے ہیں : ولسنا نقبل دین اللّٰہ تعالٰی عمّن لا یعرفہ أہل العلم بالحدیث بالعدالۃ ولا احتجّ بہ أحد من المتقدّمین من علماء أہل الکوفۃ ۔
”ہم اللہ کا دین ان لوگوں سے نہیں لیتے جن کی عدالت کو محدثین کرام نہیں جانتے۔ متقدمین علمائے کوفہ میں سے بھی کسی نے ایسے راویوں سے حجت نہیں پکڑی۔”
(کتاب القراء ت للبیہقي : ص ١٨٠،١٨١، تحت الحدیث : ٣٩٢)
2 اس کی سند میں امام حسن بصری رحمہ اللہ ”مدلس” ہیں۔ انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔
اس حدیث کو ائمہ حدیث نے قبول نہیں کیا جیسا کہ :
(ا) علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام نسائی رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کرتے ہیں : ہذا حدیث منکر ۔ ”یہ حدیث منکر ہے۔”
(العلل المتناہیۃ لابن الجوزي : ٢/٨٦٢، ح : ١٤٤٧)
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہذا الحدیث إن کان منکرا بہذا الإسناد ، فالحمل فیہ علی محمّد بن خالد الجنديّ ۔
”اگر یہ حدیث اس سند کے ساتھ منکر ہے تو اس کی ذمہ داری محمد بن خالد پر پڑتی ہے۔”(بیان خطأ للبیہقي : ٢٩٩)
(ج) حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہو خبر منکر ۔
”یہ حدیث منکر ہے۔”(میزان الاعتدال للذہبي : ٣/٥٣٥)
(د) علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : غیر صحیح ۔ ”یہ حدیث صحیح نہیں۔”(تفسیر القرطبي : ٨/١٢٢)
(ھ) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعیف ۔
”یہ روایت ضعیف ہے۔”(منہاج السنۃ النبویّۃ لابن تیمیۃ : ٤/٢١١)
(و) علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وأنّہ لا یصحّ ، ولو صحّ لم یکن فیہ حجّۃ ۔ ”یہ حدیث ثابت نہیں ، اگر ثابت بھی ہو تو اس میں کوئی دلیل موجود نہیں۔”(المنار المنیف لابن القیم : ١٤٨)
علامہ صنعانی رحمہ اللہ نے اسے ”موضوع”(من گھڑت) قرار دیا ہے۔
(الفوائد المجموعۃ للشوکاني، ص : ٥١٠)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.