451

امام ابن صاعد رحمہ اللہ، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

حدیث کے راویوں کے متعلق علم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بارے میں امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : التفقہ فی معانی الحدیث نصف العلم ، ومعرفۃ الرجال نصف العلم ۔ ”آدھا علم حدیث کے معانی میں سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے اور باقی آدھا علم رجال (راویانِ حدیث) کی معرفت ہے۔”(المحدث الفاصل بین الراوی والواعی للرامہرمزی : ١/٣٢٠، الجامع لاخلاق الراوی للخطیب : ٢/٢١١، وسندہ، صحیحٌ)
اللہ تعالیٰ نے حاملینِ علم روایت کی ایک جماعت پیدا کی ہے جنہوں نے ثقہ و ضعیف، ضابط و غیر ضابط میں فرق دلائل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ فنِ رجال علم و بصیرت پر مبنی ہے۔ ائمہ رجال بڑی تحقیق و تفتیش کے ساتھ راویوں کے بارے میں جرح و تعدیل کرتے تھے جیسا کہ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ (١٩٥۔٢٧٧ھ) فرماتے ہیں : أنکرت قول یحیی بن معین فیہ (یوسف بن خالد السمتی) أنّہ زندیق ، حتّی حمل إلی کتاب قد وضعہ فی التجہّم بابا بابا ، ینکر المیزان فی القیامۃ ، فعلمت أنّ یحیی بن معین کان لا یتکلّم إلّا علی بصیرۃ ۔ ”میں یوسف بن خالد سمتی راوی کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے زندیق کہنے کو شک کی نظر سے دیکھتا رہا حتی کہ میرے سامنے اس شخص کی ایک کتاب پیش کی گئی جو اس نے عقیدہئ جہمیت کے بارے میں ابواب کی صورت میں لکھی تھی۔ اس نے روزِ قیامت میزان قائم ہونے کا انکار کیا تھا۔ پھر مجھے یقین ہو گیا کہ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کسی رجال کے بارے میں ہمیشہ علم و بصیرت کے ساتھ کلام کرتے تھے۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٩/٢٢٢)
تمام ائمہ محدثین کا یہی حال تھا۔ ان ائمہ میں سے ایک محدث العراق ، الامام ، الحافظ ، عالم بالعلل والرجال ، یحییٰ بن محمد بن صاعد ، کاتب ابومحمد الہاشمی البغدادی رحمہ اللہ ہیں۔
ولادت باسعادت : آپ رحمہ اللہ کی ولادت باسعادت ٢٢٨ھ کو ہوئی۔
اساتذہ کرام : آپ رحمہ اللہ نے محمد بن سلیمان بن لُوَیْنا، احمد بن منیع البغوی، ابراہیم بن سعید الجوہری ، محمد بن مثنّٰی، ابو ہشام الرفاعی اور امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہم اللہ جیسے کبار محدثین کرام سے علم حاصل کیا۔
تلامذہ : آپ رحمہ اللہ کے شاگردوں میں محدثین کرام کی ایک بڑی جماعت شامل ہے۔ ان میں عبد اللہ بن محمد البغوی، امام دارقطنی، امام ابن شاہین ، امام طبرانی اور امام ابن عدی رحمہم اللہ وغیرہم شامل ہیں۔
توثیق و توصیف : بہت سے ائمہ کرام نے ان کی توثیق کی ہے:
امام خلیلی (الارشاد : ٢/٦١١)، امام ابراہیم الحربی (تاریخ اسماء الثقات : ص ٢٣٩) اور امام دارقطنی(سنن الدارقطنی : ١/٣١٩) رحمہم اللہ نے آپ کو ”ثقہ” قرار دیا ہے۔
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان أحد حفّاظ الحدیث وممّن عنی بہ ورحل فی طلبہ ۔ ”آپ رحمہ اللہ حفاظ ِ حدیث میں سے تھے، نیز آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث کی طلب کا بہت اہتمام کیا اور اس کے لیے سفر بھی کیا۔”(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی : ١٤/٢٣١)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٦٧٣۔٧٤٨ھ)فرماتے ہیں : الحافظ ، الإمام ، الثقۃ ۔
”آپ حافظ ، امام اور ثقہ تھے۔”(تذکرۃ الحفاظ للذہبی : ٢/٧٧٦)
نیز فرماتے ہیں : ولہ کلام متین فی الجرح والتعدیل والعلل یدلّ علی تبحّرہ وسعۃ علمہ ۔ ”آپ رحمہ اللہ نے جرح و تعدیل اور علل کے بارے میں بڑی عمدہ و ٹھوس کلام کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بڑے متبحر اور وسیع العلم شخص تھے۔”(تاریخ الاسلام للذہبی : ١٣/٥٧٦)
محمد بن نعیم الضبی کہتے ہیں : سمعت أبا علی (الحسین بن علی) الحافظ یقدّم أبا محمد بن صاعد علی أبی القاسم بن منیع وأبی بکر بن داو،د فی الفہم والحفظ ۔ ”میں نے ابوعلی حسین بن علی الحافظ کو سنا، وہ ابو محمد بن صاعد رحمہ اللہ کو فہم اور حفظ میں ابوالقاسم بن منیع اور ابوبکر بن داؤد دونوں پر ترجیح دے رہے تھے۔”(تاریخ بغداد للخطیب : ١٤/٢٣١، وسندہ، صحیحٌ)
رحلت ِ علمیہ : آپ رحمہ اللہ نے حصولِ علم کے لیے بصرہ ، کوفہ ، شام اور مصر کا سفر کیا اور وہاں کے محدثین کرام سے اکتساب ِ علم کیا۔
فائدہ : ابوبکر الابہری الفقیہ رحمہ اللہ کا بیان ہے :
کنت عند یحیی بن محمد بن صاعد ، فجاء تہ امرأۃ ، فقالت لہ : أیّہا الشیخ ! ما تقول فی بئر سقطت فیہا دجاجۃ فماتت ، ہل الماء طاہر أم نجس؟ فقال یحیی : ویحک ! کیف سقطت الدجاجۃ فی البئر؟ قالت : لم تکن البئر مغطّاۃ ، فقال یحیی : ألا غطّیتہا حتّی لا یقع فیہا شیئ؟ قال الأبہریّ : فقلت لہا : یا ہذہ ! إن لم یکن الماء تغیّر فہو طاہر ، ولم یکن عند یحیی من الفقہ ما یجیب المرأۃ ۔ ”میں امام یحییٰ بن محمد بن صاعد رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ آپ کے پاس ایک عورت آ کر کہنے لگی : اے شیخ ! آپ اس کنویں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس میں گر کر مرغی مر جائے ، کیا پانی پاک رہے گا یا ناپاک ہو جائے گا؟ امام صاحب نے فرمایا : تیری بربادی ہو! مرغی کنویں میں کیسے گر گئی ؟ عورت کہنے لگی : کنواں ڈھانپا ہوا نہیں تھا۔ امام یحییٰ(ابنِ صاعد) رحمہ اللہ نے فرمایا : تُو نے اسے ڈھانپ کر کیوں نہ رکھا تاکہ اس میں کوئی چیز نہ گر پاتی؟ ابہری کہتے ہیں : میں نے اس عورت سے کہا : اے عورت ! اگر پانی (کا رنگ ، بُو یا ذائقہ) نہیں بدلا تو وہ پاک ہے۔ امام یحییٰ رحمہ اللہ کے پاس عورت کو جواب دینے کے لیے فقہ نہ تھی۔”(تاریخ بغداد للخطیب : ١٤/٢٣١، وسندہ، صحیحٌ)
اس واقعے کے متعلق امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی رائے ملاحظہ فرمائیں ، وہ لکھتے ہیں:
ہذا القول تظنّن من الأبہریّ ، وقد کان یحیی ذا محلّ من العلم عظیم ، ولہ تصانیف فی السنن وترتیبہا علی الأحکام ، یدلّ من وقف علیہا وتأمّلہا علی فقہہ ، ولعلّ یحیی لم یجب المرأۃ لأنّ المسألۃ فیہا خلاف بین أہل العلم ، فتورّع أن یتقلّد قول بعضہم أو کرہ أن ینصب نفسہ للفتیا ، ولیس ہو من المرتسمین بہا ، وأحبّ أن یسئل ذلک إلی الفقہاء المشتہرین بالفتاوی والنظر ، واللّٰہ أعلم ! ”یہ قول ابہری کا اپنا خیال ہے، ورنہ امام یحییٰ(ابن صاعد) رحمہ اللہ کا علمی مقام بہت بڑا تھا۔ آپ رحمہ اللہ نے حدیث اور ان کی فقہی ترتیب پر بہت سے کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کتابوں کو دیکھنے اور ان میں غور کرنے والے شخص کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ رحمہ اللہ فقیہ شخص تھے۔ شاید آپ رحمہ اللہ نے اس عورت کو جواب اس لیے نہ دیا کہ اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف تھا اور انہوں نے اس بارے میں کسی ایک کی رائے کی تقلید کرنا پسند نہ کیا ہو یا اس وجہ سے اپنے آپ کو فتویٰ دینے سے روکا ہو کہ آپ اس سلسلے میں بڑے بڑے معروف لوگوں میں سے نہ تھے۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ اس بارے میں معروف مفتیان اور فقہاء سے سوال کیا جائے۔”(تاریخ بغداد للخطیب : ١٤/٢٣١)
آپ رحمہ اللہ کو حافظ ذہبی نے اپنی کتاب ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل (ان لوگوں کا بیان جن کے جرحی و تعدیلی اقوال پر اعتماد کیا جاتا ہے) میں ذکر کیا ہے۔
امام ابنِ عدی رحمہ اللہ نے بھی ان سے جرح و تعدیل کے اقوال نقل کیے ہیں۔
تصانیف : آپ رحمہ اللہ کی تصانیف میں مسند ابی بکر الصدیق اور حدیث عبد اللہ بن مسعود کا ذکر ملتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.