316

مرزا صاحب کی طرف سے صحابہ کرام اور شعرائے اسلام کی توہین؛

مرزا صاحب کی طرف سے صحابہ کرام اور شعرائے اسلام کی توہین؛
انجنیئر محمد علی مرزاصاحب نے پہلے بھی شعرائے اسلام میں سے علامہ اقبال رحمہ اللہ پر اپنی نادانی کی وجہ سےبہتان لگادیاتھا کہ انہوں نے علم وعقل کی توہین کی ہےہم نے بتایا کہ آپ نے اپنی عقل کا فطور علامہ اقبال رحمہ اللہ پر ڈالنی کی کوشش کی ہے،علامہ اقبال رحمہ اللہ انسان تھے،ان کی غلطیاں ہیں لیکن یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو مشہور کرنے کے لیےعلامہ اقبال رحمہ اللہ پر جھوٹے الزام لگاناشروع کردیئے جائیں اور ان کی صحیح باتوں کو بھی لوگوں کے سامنے غلط رنگ دے کر لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنا شروع کردیا جائےاور یہی طریقہ کار آپ نےاسی مجلس نمبر9میں اختیار کیا، اس میں آپ نے کہاکہ”جتنے شاعر ہیں آپ کو بے عمل نظر آئیں گے،میں بڑے شعراء کے نام اس لیے نہیں لوں گا کیونکہ لوگوں کی عقیدتیں وابستہ ہیں، ان کے عشق رسول نے ان کو اس لیول پر نہیں لایا کہ وہ داڑھی رکھ لیں۔”
بحر حال مرزا صاحب نے اشارتا علامہ اقبال رحمہ اللہ کی توہین کردی ، ہم کہتے ہیں کہ داڑھی نہ رکھنا یہ کمی وکوتاہی ہے لیکن آپ کو پھکی والا جواب دینے کے لیے پوچھتے ہیں کہ اگر داڑھی نہ رکھنا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھی تو پھر غامدی صاحب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے،ان کی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس لیول تک پہنچایاہے کہ وہ داڑھی رکھ لیں؟غامدی صاحب کو آپ بڑا سکالر مانتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان کو سنو،غامدی صاحب کی تعریفوں کے آپ پل باندھتے ہیں۔
ایک من گھڑت قصہ علامہ اقبال رحمہ اللہ کی طرف مرزا صاحب نے منسوب کردیاکہ وہ ایک دفعہ نائی کے پاس داڑھی مونڈانے گئے توایک شخص نے اقبال سے یہ کہہ دیا کہ آپ داڑھی کیوں نہیں رکھتے؟تو اقبال نے کہا کہ میں کسی کا دل تو نہیں دکھاتاتو مرزا صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ “اس شخص نے ان کو پھکی دی کہ آپ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دکھارہے ہیں،داڑھی رکھنے کا حکم تو انہوں نے دیا تھاتو علامہ اقبال یہ بات سن کر بے ہوش ہوگئے۔”
مرزا صاحب نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ”یہ بے ہوش ہی ہوسکتے تھے عمل نہیں کرسکتے ۔”
مرزاصاحب نے خود اپنے پمفلٹ کے باہر لکھا ہواہے کہ”تاریخ کے بے سند روایات اور جھوٹے واقعات کی حثییت کھوٹے سکوں کی مانند ہے۔”تو مرزا صاحب یہ واقعہ کھوٹا سکّہ نہیں ہے؟اس کی کوئی سندہے؟آپ علامہ اقبال رحمہ اللہ پر اس طرح کی طنز اس لیے کرتے ہیں کہ میں مشہور ہوجاؤں؟
مرزاصاحب نے علامہ اقبال رحمہ اللہ کےایک شعر پر طنز کی کہ ان کو تو اتنی بھی عقل نہیں تھی کہ وہ شعر صحیح پڑھتے۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ کا شعر یوں تھا؛
آج بھی ہوجوبراہیم ساایماں پیدا، تو آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا۔
مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ شعر درست نہیں ہے، ایساہو ہی نہیں سکتا، لوگ مباہلے کے چیلنج دے رہے ہیں ایک دوسرے کو کہ آؤ آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں وہ اس طرح کی شعر پڑھ کرہی کہہ رہےہوتے ہیں۔
مرزا صاحب!کسی نے اگر اس طرح کی جہالت ماری ہے کہ آؤ،آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں تو کیا علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ان کو ایسا کرنے کے لیے کہا تھا،خدا کاخوف کریں آپ ،جو بات علامہ اقبال نے کہی ہی نہیں،جوان کے شعر سے ثابت ہوتا ہی نہیں تھاوہ آپ نے ان کے ذمے لگادیا اور اس بنا پر ان کی توہین کرتے رہے اور لوگوں کے ذہنوں سے علامہ اقبال رحمہ اللہ کے حوالے سے جو محبت ہے اس کونکالنے کی کوشش کرتے رہے،مرزا صاحب کی حالت یہ ہے کہ اقبال کاپورا شعر صحیح نہیں پڑھنا آتااور اعتراض کرنے چلے ہیں شاعرِ مشرق پر،مرزا صاحب نے شعر یوں پڑھا؛
ہو آج بھی ابراہیم ساایماں پیدا،تو آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا۔
حالانکہ اصل یہ شعر تھا؛
آج بھی ہوجوبراہیم ساایماں پیدا، تو آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا۔
مرزا صاحب آپ کو تو اقبال کا شعر بھی صحیح نہیں پڑھنا آتااور آپ اس پر طعن کرتے ہیں؟اصل میں علامہ اقبال رحمہ اللہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ اگر سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملتا جلتا ایمان کسی کے اندر پیداہوجائےیعنی ایمان میں پختگی اور مضبوطی آجائے تو پھر جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ نقصان نہیں پہنچاسکی تھی اسی طرح اب بھی مسلمان اگر اپنے ایمان کو مضبوط کرلیں توکفار کی سازشیں دم توڑ سکتی ہیں اور اللہ کی مدد اب بھی آسکتی ہے۔بدرکے موقع پر 313مسلمان100کے مقابلے میں آئے توکیااس وقت اللہ کی مدد نہیں آئی تھی؟اور اس طرح کے بہت سارے واقعات ہمیں آج کے دور میں بھی ملتے ہیں ۔
مرزا صاحب نے صرف علامہ اقبال رحمہ اللہ کی توہین نہیں کی بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بھی کی،کہتے ہیں کہ ؛
“حسان بن ثابت کو ہی دیکھ لیں وہ شاعر تھے اور شاعر بندہ لڑائی جھگڑا کرہی نہیں سکتا۔”
مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جو شاعر ہو وہ کافروں سے لڑائی نہیں کرسکتااوروہ اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتاحالانکہ اگر آپ کا کوئی مطالعہ ہوتو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں مورخین نےلکھا ہے کہ ان کی جسم میں کوئی اس طرح کی بیماری تھی جس کی وجہ سے وہ جہاد کے میدان میں آگے آگے نہیں رہ سکے،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ شاعر ہونے کہ وجہ سے بزدل تھے، معاذاللہ۔ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ صحیح بخاری(4261)میں ہے؛
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو سپاہ سالار مقرر کیا اور فرمایا:
إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
اگر سیدنا زید رضی اللہ عنہ شہید ہوجائیں تو پھر کمانڈر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ہونگے اور اگر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوجائیں تو پھر کمانڈری سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہونگے ۔
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ شعرائے اسلام میں شامل بھی ہیں اور جنگوں میں کفار کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے کمانڈری بھی کرتے تھے،اور ان کے شعر بھی بڑےمشہور ہیں؛
سنن النسائی(2873)میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ عمرۃ القضاء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے اور کافروں کے خلاف یہ شعر پڑھ رہے تھے کہ؛
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ … الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ … وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
ہم قرآن کے حکم کے مطابق کافروں سے لڑائی کررہے ہیں۔
اسی طرح کئی اور روایات موجود ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم قرآن کے حکم کے مطابق تم سے لڑائی کررہے ہیں،یہ شاعر ِاسلام بھی ہیں اورمسلمانوں کے سپاہ سالار بھی ہیں،جب کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جو شاعر ہوتاہے وہ کفار کے بھی مقابلے میں جہاد نہیں کرسکتا۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے جو غلط کمنٹس ہیں ان سے آپ رجوع کریں ،اللہ آپ کو توفیق عطافرمائے۔
سیدنا ابوسفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،صحیح مسلم(1775) میں ان کاواقعہ موجود ہے کہ جب غزوہ حنین کے موقع پر جب کفار کی طرف سے اچانک حملہ ہوا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بکھر گئے تھےتو اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور یہ کمال بہادری کی مثال ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پریشانی میں تھوڑی دیرکے لیے بکھر گئے تویہ دونوں اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجودتھے۔
اور سیدنا ابو سفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ بھی نمایاں شعرائے اسلام میں شامل ہیں جب کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جو شاعر ہوتاہے وہ کفار کے بھی مقابلے میں جہاد نہیں کرسکتا۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے جو غلط کمنٹس ہیں ان سے آپ رجوع کریں ،اللہ آپ کو توفیق عطافرمائے۔

3 تبصرے “مرزا صاحب کی طرف سے صحابہ کرام اور شعرائے اسلام کی توہین؛

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.