604

مردوں کا دیکھنا اور سلام سننا، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

قبر والے نہ زندوں کا سلام سنتے نہ انہیں دیکھتے پہچانتے ہیں۔بعض اہل علم کا یہ کہنا کہ مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں اور زائرین کو دیکھتے و پہچانتے ہیں،کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں۔اس قسم کے دلائل اور ان پر تحقیقی تبصرہ ملاحظہ فرمائیں :
1 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَا مِنْ رَّجُلٍ یَّمُرُّ بِقَبْرٍ، کَانَ یَعْرِفُہٗ فِي الْدُّنْیاَ، فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ، إِلَّا عَرَفَہٗ وَرَدَّ عَلَیْہِ ۔ ’’قبر والا دنیا میں جس شخص کا واقف تھا،وہ اگر اس کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ۔‘‘
(مصنّفات أبي العبّاس الأصمّ : 419 (11)، فوائد أبي القاسم تمّام : 139، المعجم الشیوخ لابن جمیع الصیداوي : 333، تاریخ بغداد : 139/7، تاریخ ابن عساکر : 38/10، 65/27، سیر أعلام النبلاء للذھبي : 590/13)
تبصرہ: یہ مو ضوع ومن گھڑت سند ہے ،اس کاراوی عبدالرحمن بن زیدبن اسلم جمہورکے نزدیک ’’ضعیف‘‘اور ’’متروک‘‘ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ہیثمی فرماتے ہیں :
وَالْـأَکْثَرُ عَلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔ ’’اکثر محدثین اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد : 20/2)
علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلٰی تَضْعِیفِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدٍ ۔ ’’عبد الرحمن بن زید کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اتفاق ہے۔‘‘(العلل المتناہیۃ : 1523)
اس نے اپنے باپ سے جھوٹانسخہ راویت کیاہے۔مذکورہ روایت بھی یہ اپنے باپ سے کر رہا ہے۔
2 اس روایت کا ایک موقوف شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یوں مروی ہے:
قَالَ الْإِمَامُ ابْنُ أَبِي الدُّنْیَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَۃَ الْجَوْہَرِيُّ : نَا مَعْنُ ابْنُ عِیسَی الْقَزَّازُ : أَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ : نَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : [إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرٍ یَّعْرِفُہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ، وَعَرَفَہٗ، وَإِذَا مَرَّ بِقَبْرٍ لَّا یَعْرِفُہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ] ۔
’’جب کوئی شخص کسی جاننے والے کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے اور اسے سلام کہتا ہے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور اسے پہچان بھی لیتا ہے،لیکن جب وہ ایسے شخص کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس سے اس کی جان پہچان نہیں تھی اور اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے سلام کا جواب دیتا ہے۔‘‘(شعب الإیمان للبیہقي : 8857، الصارم المنکي في الردّ علی السبکي لابن عبد الہادي : 224)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
1 اس کا راوی محمد بن قدامہ جوہری ’’ضعیف‘‘ ہے۔اس کے بارے میں علامہ ہیثمی لکھتے ہیں: وَقَدْ ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔ ’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 275/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فِیہِ لِینٌ ۔ ’’اس میں کمزوری ہے۔‘‘
(تقریب التہذیب : 6234)
2 یہ سند ’’منقطع‘‘ہے۔زید بن اسلم کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَا عَلِمْنَا زَیْدًا سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔
’’ہمارے علم میں (ایسی کوئی دلیل نہیں) کہ زید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہو۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 590/12)
3 اس کا ایک اور موقوف شاہد یہ ہے :
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ الْعَلَائِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَیْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، قَالَ : مَرَّ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَصَاحِبٌ لَّہٗ عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : سَلِّمْ ! فَقَالَ الرَّجُلُ : أُسَلِّمُ عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : [إِذَا کَانَ رَاٰکَ فِي الدُّنْیَا یَوْمًا قَطُّ، إِنَّہٗ لَیَعْرِفُکَ الْـآنَ] ۔ ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ایک قبر کے پاس سے گزرے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی سے فرمایا : سلام کہیں۔اس نے عرض کیا : کیا میں قبر پر سلام کہوں؟فرمایا : اگر اس قبر والے نے دنیا میں ایک دن بھی تمہیں دیکھا ہو گا تو وہ اب تمہیں ضرور پہچان لے گا۔‘‘(الصارم المنکي لابن عبد الہادي، ص : 224)
تبصرہ : یہ بھی موضوع(من گھڑت)سند ہے، کیونکہ :
1 اس کا راوی یحییٰ بن علاء ’’کذاب‘‘ اور ’’وضاع‘‘ہے۔
2 اس میں محمد بن عجلان کی ’’تدلیس‘‘بھی ہے۔
3 زید بن اسلم کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
4 اس سلسلہ میں سیدہ عائشہr سے مروی ایک روایت یوں ہے :
قَالَ الْإِمَامُ ابْنُ أَبِي الدُّنْیَا : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَا مِنْ رَّجُلٍ یَّزُورُ قَبْرَ أَخِیہِ، وَیَجْلِسُ عِنْدَہٗ، إِلَّا اسْتَأْنَسَ، وَرَدَّ عَلَیْہِ، حَتّٰی یَقُومَ‘ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی بندہ اپنے(مسلمان)بھائی کی قبر پرجاتا ہے اور وہاں بیٹھ جاتا ہے تو قبر والا اس سے مانوس ہو جاتا ہے اور جب تک وہ بیٹھا رہتا ہے،اس کی باتوں کا جواب بھی دیتا رہتا ہے۔‘‘(الصارم المنکي لابن عبد الہادي، ص : 224)
تبصرہ : یہ من گھڑت روایت ہے، کیونکہ اس کی سند میں عبد اللہ بن زیاد بن سمعان راوی بالاتفاق’’کذاب‘‘ اور ’’متروک‘‘ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : أَحَدُ الْمَتْرُوکِینَ فِي الْحَدِیثِ ۔
’’یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی حدیث چھوڑ دی گئی ہے۔‘‘(الکاشف : 78/2)
5 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’مَا مِنْ أَحَدٍ مَّرَّ بِقَبْرِ أَخِیہِ الْمُؤْمِنِ، کَانَ یَعْرِفُہٗ فِي الدُّنْیَا، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، إِلَّا عَرَفَہٗ، وَرَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ‘ ۔ ’’جو شخص اپنے کسی ایسے مؤمن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے جو دنیا میں اسے جانتا تھا اور اسے سلام کہے تو وہ ضرور اسے پہچان لے گا اور سلام کا جواب دے گا۔‘‘(الاستذکار لابن عبد البرّ : 234/1)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ اس کے دو راویوں،ابو عبد اللہ عبید بن محمد اور فاطمہ بنت ریان کے حالات نہیں مل سکے۔بعض متاخرین کی جانب سے اس روایت کو صحیح قرار دینا باعث ِتعجب ہے۔
6 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’سَلِّمُوا عَلٰی إِخْوَانِکُمْ ہٰؤُلَائِ الشُّہَدَائِ، فَإِنَّھُمْ یَرُدُّونَ عَلَیْکُمْ‘ ۔
’’اپنے ان شہید بھائیوں کو سلام کہا کرو،کیونکہ یہ تمہیں جواب دیتے ہیں۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 1582/4، وفي نسخۃ : 270/4)
تبصرہ : یہ جھوٹ کا پلندہ ہے،کیونکہ :
1 اس کا راوی یحییٰ بن عبد الحمید حمانی جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
اس کے بارے میں حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(البدر المنیر : 224/3)
2 عبد الرحمن بن زید بن اسلم بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ اور ’’متروک‘‘ ہے اور اس نے اپنے باپ سے ایک جھوٹا نسخہ بھی روایت کیا ہے،جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے۔یہ روایت بھی وہ اپنے باپ سے بیان کر رہا ہے۔
7 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت اس طرح بھی مروی ہے :
قَالَ أَبُو رَزِینٍ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! إِنَّ طَرِیقِي عَلَی الْمَوْتٰی، فَہَلْ مِنْ کَلَامٍ أَتَکَلَّمُ بِہٖ إِذَا مَرَرْتُ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ : ’قُلْ : السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الْقُبُورِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُؤْمِنِینَ ! أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ، وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّا، إِنَّ شَائَ اللّٰہُ، بِکُمْ لَاحِقُونَ‘، قَالَ أَبُو رَزِینٍ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! یَسْمَعُونَ ؟ قَالَ : ’یَسْمَعُونَ، وَلَکِنْ لَّا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُّجِیبُوا‘، قَالَ : ’یَا أَبَا رَزِینُ ! أَلَا تَرْضٰی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْکَ بِعَدَدِہِمْ مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ ؟‘
’’سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے راستے میں قبریں آتی ہیں۔کیامیں ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے کوئی بات کر سکتا ہوں؟ فرمایا : یہ کہا کرو : ’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الْقُبُورِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُؤْمِنِینَ ! أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ، وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّا، إِنَّ شَائَ اللّٰہُ، بِکُمْ لَاحِقُونَ‘(اہل قبرستان میں سے مسلمانو اور مومنو! تم پر سلامتی ہو۔تم ہمارے پیش رَو ہو اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں،اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمہارے ساتھ آ ملنے والے ہیں)۔سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا وہ سنتے ہیں؟ فرمایا : سنتے تو ہیں،لیکن ان میں جواب دینے کی سکت نہیں۔پھر فرمایا : اے ابورزین! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں اتنے ہی فرشتے تمہیں سلام کا جواب دیں؟‘‘(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 19/4، ت : 1573)
تبصرہ : یہ روایت سخت ترین’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
1 اس کا راوی محمد بن عمار بن عطیہ رازی ’’مجہول‘‘ہے۔کسی محدث نے اس کی توثیق نہیں کی۔
2 نجم بن بشیر راوی بھی ’’مجہول‘‘ہے۔
3 محمد بن اشعث راوی کے بارے میں خود امام عقیلی رحمہ اللہ ،جو اس روایت کو نقل کرنے والے ہیں،فرماتے ہیں: مَجْہُولُ النَّسَبِ وَالرِّوَایَۃِ، وَحَدِیثُہٗ غَیْرُ مَحْفُوظٍ ۔ ’’اس کا نسب بھی مجہول ہے اور روایت بھی۔اس کی حدیث غیرمحفوظ،یعنی شاذ ہے۔‘‘(الضعفاء الکبیر : 18/4)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا یُعْرَفُ ۔ ’’یہ مجہول راوی ہے۔‘‘
(میزان الاعتدال : 486/3، ت : 7248)
8 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک روایت یوں ہے :
’اٰنَسُ مَا یَکُونُ الْمَیِّتُ فِي قَبْرِہٖ، إِذَا زَارَہٗ مَنْ کَانَ یُحِبُّہٗ فِي دَارِ الدُّنْیَا‘ ۔
’’قبر میں میت کو سب سے زیادہ مانوسیت اس وقت ہوتی ہے،جب قبر پر وہ شخص آتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی میں محبت کرتا تھا۔‘‘(الأربعین الطائیّۃ، لأبي الفتوح الطائي، ص : 129)
تبصرہ : یہ موضوع(من گھڑت)روایت ہے،کیونکہ دنیا جہان میں اس کی کوئی سند موجود نہیں۔بے سند روایات پر اعتماد کرنا دین اسلام سے وفاداری نہیں۔
9 عبد اللہ بن ابو فروہ مدنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد کے قبرستان میں تشریف لے گئے اور یوں دُعا فرمائی : ’اَللّٰہُمَّ ! إِنَّ عَبْدَکَ وَنَبِیَّکَ یَشْہَدُ أَنَّ ہٰؤُلَائِ شُہَدَائُ، وَأَنَّہٗ مَنْ زَارَھُمْ وَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، رَدُّوا عَلَیْہِ‘ ۔ ’’اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ شہید ہیں۔قیامت تک جو بھی ان کی قبروں پر آئے گا اور ان کو سلام کہے گا،یہ اس کو جواب دیں گے۔‘‘
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 29/3، ح : 4320، دلائل النبوّۃ للبیہقي : 307/3)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے،کیونکہ اس کے راوی عبد اللہ بن ابو فروہ کی توثیق نہیں مل سکی۔اس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَیْسَ بِمَشْہُورٍ ۔ ’’یہ راوی معروف نہیں ہے۔‘‘
(تعجیل المنفعۃ، ص : 269، ت : 576)
دوسری بات یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابو فروہ ڈائریکٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہا ہے،اس لیے یہ سند ’’مرسل‘‘ ہونے کی بنا پر بھی ’’ضعیف‘‘ہے۔یہی وجہ ہے کہ مستدرک حاکم کی تعلیق میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’مرسل‘‘قرار دیا ہے۔یوں امام حاکم رحمہ اللہ کا اس کی سند کو ’’صحیح‘‘قرار دینا صحیح نہیں۔
0 مذکورہ روایت کے آخری الفاظ یہ ہیں :
قَالَ الْعَطَّافُ : وَحَدَّثَتْنِي خَالَتِي أَنَّہَا زَارَتْ قُبُورَ الشُّہَدَائِ، قَالَتْ : وَلَیْسَ مَعِيَ إِلَّا غُلَامَانِ، یَحْفَظَانِ عَلَيَّ الدَّابَّۃَ، قَالَتْ : فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِمْ، فَسَمِعْتُ رَدَّ السَّلَامِ، قَالُوا : وَاللّٰہِ ! إِنَّا نَعْرِفُکُمْ کَمَا یَعْرِفُ بَعْضُنَا بَعْضًا، قَالَتْ : فَاقْشَعْرَرْتُ، فَقُلْتُ : یَا غُلَامُ ! اُدْنُ بَغْلَتِي، فَرَکِبْتُ ۔
’’عطاف بن خالد کہتے ہیں :مجھے میری خالہ نے بیان کیا کہ وہ شہداء کی قبروں کی زیارت کے لیے گئیں۔وہ بیان کرتی ہیں:میرے ساتھ صرف دو غلام تھے،جو میری سواری کی حفاظت کر رہے تھے۔میں نے شہداء کو سلام کہا تو مجھے سلام کا جواب سنائی دیا اور شہداء کی طرف سے یہ آواز آئی : اللہ کی قسم! ہم تمہیں اس طرح پہچان لیتے ہیں،جیسے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں نے آواز دی : اے غلام! سواری میرے قریب کرو۔پھر میں سوار ہو(کر وہاں سے چلی)گئی۔‘‘
تبصرہ : اس کی سند بھی ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ عطاف بن خالد کی خالہ ایک نامعلوم خاتون ہے۔اس کا کردار و عمل کیسا تھا؟کچھ معلوم نہیں،لہٰذا اس کی بیان کردہ کہانی کا کوئی اعتبار نہیں۔
! عطاف بن خالد کی خالہ کی بیان کردہ کہانی اس طرح بھی مروی ہے :
رَکِبْتُ یَوْمًا إِلٰی قُبُورِ الشُّہَدَائِ، وَکَانَتْ لَا تَزَالُ تَأْتِیہِمْ، قَالَتْ : فَنَزَلْتُ عِنْدَ قَبْرِ حَمْزَۃَ، فَصَلَّیْتُ مَا شَائَ اللّٰہ أَنْ أُصَلِّيَ، وَمَا فِي الْوَادِي دَاعٍ وَّلَا مُجِیبٌ، إِلَّا غُلَامٌ قَائِمٌ آخِذٌ بِرَأْسِ دَابَّتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي، قُلْتُ ہَکَذَا بِیَدِي : السَّلَامُ عَلَیْکُمْ، فَسَمِعْتُ رَدَّ السَّلَامِ عَلَيَّ، یَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الْـأَرْضِ، أَعْرِفُہٗ کَمَا أَعْرِفُ أَنَّ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَنِي، وَکَمَا أَعْرِفُ اللَّیْلَ مِنَ النَّہَارِ، فَاقْشَعَرَّتْ کُلُّ شَعْرَۃٍ مِنِّي ۔ ’’ایک دن میں شہداء کی قبروں پر گئی اور یہ میرا ہمیشہ کا معمول تھا۔میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس گئی اور جتنی مقدر میں تھی، نماز پڑھی،وہاں قریب قریب کوئی پکارنے والا اور کوئی جواب دینے والا نہ تھا،صرف ایک لڑکا تھا جو میری سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھا۔جب میں اپنی نماز سے فارغ ہوئی تو میں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کہا۔پھر زمین کے نیچے سے میں نے سلام کا جواب سنا اور میں اس جواب کو یوں پہچان رہی تھی جیسے یہ جانتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا ہے اور جیسے دن رات کو پہچانتی ہوں۔اس کے بعد میرے تمام رونگٹے کھڑے ہو گئے۔‘‘
(من عاش بعد الموت لابن أبي الدنیا : 41، دلائل النبوۃ للبیہقي : 308/3، والسیاق لہٗ، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر : 45/4)
تبصرہ : اس کی سند بھی ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ عطاف بن خالد کی خالہ نامعلوم عورت ہے،جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔
@ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ::
’أَشْہَدُ أَنَّ ہٰؤُلَائِ شُہَدَائُ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَأْتُوہُمْ وَزُورُوہُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ، لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ أَحَدٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا رُدُّوا عَلَیْہِ‘ ۔
’’میں گواہی دیتاہوں کہ یہ لوگ روز ِقیامت اللہ کے ہاں شہید شمار ہوں گے۔تم ان کے پاس آیا کرو اور ان کی قبروں کی زیارت کیا کرو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن تک جو بھی ان کو سلام کہے گا،یہ اس کا جواب دیں گے۔‘‘
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 271/2، الرقم : 2977)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ امام حاکم رحمہ اللہ کے استاذ ابوالحسین،عبیداللہ/عبد اللہ بن محمد،قطیعی کو ہم نہیں جان سکے۔
معجم کبیر طبرانی(364/20)میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی روایت سخت ترین ’’ضعیف‘‘ہے،اس میں یحییٰ بن علاء راوی ’’متروک‘‘ہے۔نیز اس کے ایک راوی ابوبلال اشعری کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘کہا ہے۔(سنن الدارقطني : 220/1)
اس روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر وہم یا تصحیف ہے،کیونکہ طبرانی کی سند سے یہی روایت حلیۃ الاولیائ(108/1)میں موجود ہے، جسے عبید بن عمیر ’’مرسل‘‘بیان کرتے ہیں،سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔اسی طرح طبقات ابن سعد(121/3)میں بھی عبید بن عمیر یہ روایت ’’مرسل‘‘ہی بیان کرتے ہیں۔
# ہاشم بن محمد عمری کا بیان ہے : مجھے میرے والد مدینہ منورہ سے شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کو لے گئے،یہ جمعہ کا دن تھا،ابھی سورج نہیں نکلا تھا،میں اپنے والد کے پیچھے پیچھے تھا،جب ہم قبرستان کے پاس پہنچے تو میرے والد نے بآواز بلند کہا :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ، فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔
’’تم نے جو صبر کیا،اس کے بدلے تم پر سلامتی ہے،آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔‘‘
اس پر جواب آیا : وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ !
’’ابو عبد اللہ! آپ پر بھی سلامتی ہو۔‘‘
میرے والد نے میری طرف دیکھا اور پوچھا : بیٹا ! آپ نے جواب دیا ہے؟ میں نے کہا : نہیں، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا اور دوبارہ اسی طرح سلام کہا تو دوبارہ بھی ایسا ہی ہوا۔تیسری مرتبہ بھی اسی طرح مکالمہ ہوا۔اس پر میرے والد اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدۂ شکر میں پڑ گئے۔(دلائل النبوۃ للبیہقي : 125/3، 308)
تبصرہ : اس کی سند ’’مجہول‘‘ راویوں کی ساختہ پرداختہ ہے۔
1 ابو یعلیٰ حمزہ بن محمد بن حمزہ علوی کی توثیق نہیں مل سکی۔
2 ہاشم بن محمد عمری کون ہے؟ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا۔
$ محمد بن واسع تابعی(م : 123ھ)سے منقول ہے:
بَلَغَنِي أَنَّ الْمَوْتٰی یَعْلَمُونَ بِزُوَّارِہِمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَیَوْمًا قَبْلَہٗ، وَیَوْمًا بَعْدَہٗ ۔
’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مردے ان لوگوں کو جانتے ہیں جو جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کو ان کی قبروں پر آتے ہیں۔‘‘(شعب الإیمان للبیہقي : 375/11، ح : 8862)
تبصرہ : یہ قول بھی باطل ہے ،کیونکہ :
1 اس کی سند میں جبیر قصاب نامی راوی ’’مجہول‘‘ہے۔
2 محمد بن واسع کو یہ بات پہنچانے والا شخص بھی نامعلوم ہے۔
% سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’اَلْمَیِّتُ یَعْرِفُ مَنْ یَّغْسِلُہٗ، وَیَحْمِلُہٗ، وَیُکَفِّنُہٗ، وَمَنْ یُّدَلِّیہِ فِي حُفْرَتِہٖ‘ ۔
’’میت اپنے غسل دینے والے،کفن دینے والے اور قبر میں اتارنے والے کو پہچان رہی ہوتی ہے۔‘‘(مسند الإمام أحمد : 3/3، المنامات لابن أبي الدنیا : 6، تاریخ بغداد للخطیب : 212/12)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے،کیونکہ اس میں ایک ’’مبہم‘‘ و ’’مجہول‘‘ راوی موجود ہے۔حافظ ہیثمی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :
وَفِیہِ رَجُلٌ لَّمْ أَجِدْ مَنْ تَرَجَّمَہٗ ۔ ’’اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کے حالات درج کرنے والا کوئی بھی میرے علم میں نہیں۔‘‘(مجمع الزوائد : 21/3)
یہی روایت امام طبرانی رحمہ اللہ کی معجم اوسط(257/7، ح : 7438)اور امام ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ کی تاریخ اصبہان(208/1)میں بھی مذکور ہے،لیکن اس کی سند بھی ’’ضعیف‘‘ ہے،کیونکہ اس میں :
1 عطیہ عوفی راوی موجود ہے،جو جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے،نیز یہ ’’مدلس‘‘ بھی ہے۔
2 اسماعیل بن عمرو بَجَلِی راوی بھی ’’ضعیف‘‘ہے۔
اس کے بارے میں حافظ ہیثمی فرماتے ہیں: ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 248/1، ح : 1782)
^ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795-736ھ)نقل کرتے ہیں:
خَرَّجَ ابْنُ الْبَرَائِ، فِي کِتَابِ الرَّوْضَۃِ، مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ، وَہُوَ ضَعِیفٌ جِدًّا، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ حَذْلَکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَا مِنْ مَّیِّتٍ یَّمُوتُ، إِلَّا وَہُوَ یَعْرِفُ غَاسِلَہٗ، وَیُنَاشِدُ حَامِلَہٗ، إِنْ بُشِّرَ بِرَوْحٍ وَّرَیْحَانٍ وَّجَنَّۃِ نَعِیمٍ، أَنْ یُّعَجِّلَہٗ، وَإِنْ بُشِّرَ بِنُزُلٍ مِّنْ حَمِیمٍ وَّتَصْلِیَۃِ جَحِیمٍ، أَنْ یَّحْبِسَہٗ‘ ۔
’’ابن البراء نے اپنی کتاب [الروضہ]میں عمرو بن شمر،جو کہ سخت ضعیف راوی ہے، سے جابر جعفی اور تمیم بن حذلک کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر مرنے والا انسان اپنے غسل دینے والے کو پہچان رہا ہوتا ہے اور کندھوں پر اٹھانے والے کو پکار رہا ہوتا ہے۔اگر تو اسے رحمت،پاکیزہ رزق اور نعمتوں والی جنت کی خوشخبری سنا دی گئی ہو تو کہتا ہے کہ کندھا دینے والے اسے جلدی لے جائیں اور اگر اسے گرم پانی کی مہمانی اور جہنم میں ڈالنے کی بشارت دی گئی ہو تو وہ کہتا ہے کہ اسے نہ لے کر جائیں۔‘‘(أھوال القبور وأحوال أہلہا إلی النشور، ص : 45,44)
تبصرہ : یہ جھوٹی روایت ہے ، کیونکہ :
1 اس کو بیان کرنے والا ایک راوی عمرو بن شمر ’’متروک‘‘ اور ’’کذاب‘‘ہے۔
2 جابر جعفی بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘اور ’’متروک‘‘راوی ہے۔ یہ دونوں راوی رافضی ہیں۔
3 تمیم بن حذلک راوی کون ہے؟ اس کا تعارف نہیں ہو سکا۔
حافظ سیوطی(شرح الصدور : 100)اور ان کے استاذ سفیری(شرح صحیح البخاری : 75/2)کا اس کی سند کو ’’ضعیف‘‘کہنا استاذ و شاگرد کے تساہل پر مبنی ہے۔عمرو بن شمر اور جابر جعفی جیسے دو رافضی راویوں کی بیان کردہ سند کو صرف ’’ضعیف‘‘کہنا انصاف نہیں،بلکہ یہ یقینی طور پر جھوٹی اور باطل روایت ہے۔
& حبان بن ابو جبلہ تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے :
بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’إِنَّ الشُّہَدَائَ إِذَا اسْتُشْہِدُوا، أَنْزَلَ اللّٰہُ جَسَدًا، کَأَحْسَنِ جَسَدٍ، ثُمَّ یُقَالُ لِرُوحِہِ : ادْخُلِي فِیہِ، فَیَنْظُرُ إِلٰی جَسَدِہِ الْـأَوَّلِ مَا یُفْعَلُ بِہٖ، وَیَتَکَلَّمُ فَیَظُنُّ أَنَّہُمْ یَسْمَعُونَ کَلَامَہٗ، وَیَنْظُرُ فَیَظُنُّ أَنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ، حَتّٰی تَأْتِیَہٗ أَزْوَاجُہٗ، یَعْنِي الْحُورَ الْعِینَ، فَیَذْہَبْنَ بِہٖ‘ ۔ ’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ جب شہداء کو شہید کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک خوبصورت ترین جسم نازل کرتا ہے ،پھر اس کی روح کو اس میں داخل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔روح اپنے پہلے جسم کو دیکھ رہی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،وہ باتیں بھی کرتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ لوگ اس کی باتیں سن رہے ہیں اور وہ دیکھ بھی رہی ہوتی ہے اور سمجھ رہی ہوتی ہے کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔اسی اثنا میں اس کی بیویاں،یعنی موٹی آنکھوں والی حوریں،آ جاتی ہیں اور اسے لے جاتی ہیں۔‘‘(أخرجہ ابن مندۃ کما في أہوال القبور لابن رجب : 98، الجہاد للإمام عبد اللّٰہ بن المبارک : 63)
تبصرہ : اس کی سند سخت ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
1 اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی راوی ہے،جو جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔اس کے بارے میں :
b علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَہُوَ ضَعِیفٌ بِالِاتِّفَاقِ ۔
’’یہ راوی باتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔‘‘(خلاصۃ الأحکام : 449/1)
b حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(تخریج أحادیث الإحیاء : 1901)
b علامہ ہیثمی لکھتے ہیں: وَالْجُمْہُورُ عَلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔
’’جمہور محدثین اسے ضعیف کہتے ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد : 250/1)
b علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْأَکْثَرُ عَلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔
’’اکثر محدثین کرام اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔‘‘(تنقیح التحقیق : 381/2، ح : 1008)
2 حبان بن ابو جبلہ تابعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے۔ پہنچانے والا کوئی نامعلوم و مجہول شخص ہے،لہٰذا یہ روایت اس شخص کی جہالت کی بنا پر بھی ’’ضعیف‘‘ہے۔
* عاصم جحدری(م : 129ھ)کی اولاد میں سے ایک شخص کا بیان ہے :
رَأَیْتُ عَاصِمًا الْجَحْدَرِيَّ فِي مَنَامِي، بَعْدَ مَوْتِہٖ بِسَنَتَیْنِ، فَقُلْتُ : أَلَسْتَ قَدْ مُتَّ ؟ قَالَ : بَلٰی، قُلْتُ : فَأَیْنَ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا، وَاللّٰہِ ! فِي رَوْضَۃٍ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ، أَنَا وَنَفَرٌ مِّنْ أَصْحَابِي نَجْتَمِعُ کُلَّ لَیْلَۃِ جُمُعَۃٍ وَّصَبِیحَتِہَا إِلٰی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِيِّ، فَنَتَلَقّٰی أَخْبَارَکُمْ، قَالَ : قُلْتُ : أَجْسَادُکُمْ أَمْ أَرْوَاحَکُمْ ؟ قَالَ : ہَیْہَاتَ، بَلِیَتِ الْـأَجْسَادُ، وَإِنَّمَا تَتَلَاقَی الْـأَرْوَاحُ ۔
’’میں نے عاصم جحدری کو ان کی وفات کے دو سال بعد خواب میں دیکھا۔میں نے پوچھا : کیا آپ فوت نہیں ہو گئے تھے؟انہوں نے کہا : جی ہاں! میں نے کہا : تو اب آپ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! میں جنت کے ایک باغ میں ہوں۔میں اور میرے ساتھی ہرجمعہ کی رات اور صبح کو بکر بن عبد اللہ مزنی کے پاس جمع ہوتے ہیں اور تمہاری خبریں سنتے ہیں۔میں نے کہا : تمہارے جسم یا تمہاری روحیں؟ انہوں نے کہا : جسم تو بوسیدہ ہو چکے ہیں، صرف روحیں ملاقات کرتی ہیں۔‘‘(المنامات لابن أبي الدنیا : 58، المنتظم لابن الجوزي : 74/7، تفسیر ابن کثیر : 95/5 بتحقیق عبد الرزّاق المہدي، أہوال القبور لابن رجب : 130)
تبصرہ : یہ خود ساختہ خواب ہے، کیونکہ :
1 یحییٰ بن بسطام راوی غیر معتبر اور غیرثقہ ہے۔
2 مسمع بن عاصم راوی کو اگرچہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے [الثقات : 198/9] میں ذکر کیا ہے،لیکن امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَلَا یُتَابَعُ عَلٰی حَدِیثِہٖ، وَلَیْسَ بِمَشْہُورٍ بِالنَّقْلِ ۔ ’’اس کی حدیث منکر ہوتی ہے اور یہ روایت کرنے میں معروف بھی نہیں۔‘‘(الضعفاء الکبیر : 264/4)
لہٰذا یہ راوی ’’مجہول‘‘ہے۔
3 عاصم جحدری کی اولاد میں سے جو شخص یہ قصہ بیان کر رہا ہے، وہ ’’مبہم‘‘ (جس کا نام تک معلوم نہ ہو)ہے۔
ایک تو ان تین علتوں کی بنا پر یہ قصہ ہی ثابت نہیں ہو سکا،دوسری بات یہ ہے کہ کسی نامعلوم و مجہول شخص کا خواب دین میں کیسے دلیل بن سکتا ہے؟
( جلیل القدر امام، سفیان ثوری رحمہ اللہ (161-97ھ)سے منقول ہے :
بَلَغَنِي عَنِ الضَّحَّاکِ، أَنَّہٗ قَالَ : مَنْ زَارَ قَبْرًا یَوْمَ السَّبْتِ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، عَلِمَ الْمَیِّتُ بِزِیَارَتِہٖ، قِیلَ لَہٗ : وَکَیْفَ ذَاکَ ؟ قَالَ : لِمَکَانِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ۔ ’’مجھے ضحاک رحمہ اللہ سے ان کا یہ قول پہنچا ہے کہ اگر کوئی ہفتے کے دن طلوعِ آفتاب سے پہلے کسی قبر پر جائے تو میت کو اس کے آنے کا علم ہو جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ فرمایا : جمعہ کے دن کی برکت سے۔‘‘
(شعب الإیمان للبیہقي : 476/11، ح : 8863)
تبصرہ : یہ جھوٹ کا پلندا ہے،کیونکہ اس کا راوی عبد العزیز بن ابان ’’کذاب‘‘ اور خبیث ہے۔اس کے بارے میں :
b امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں : وَضَعَ أَحَادِیثَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِيَّ، لَمْ تَکُنْ ۔ ’’اس نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منسوب کر کے ایسی احادیث گھڑ لی ہیں،جن کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔‘‘(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 377/5)
b امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کُلُّ مَنْ حَدَّثَ بِہٖ عَنْ سُفْیَانَ، فَہُوَ کِذْبٌ ۔ ’’جس نے بھی اس کے واسطے سے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی روایت بیان کی ہیں،وہ جھوٹا ہے۔‘‘(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 377/5)
دوسری بات یہ ہے کہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو یہ بات پہنچانے والا نامعلوم ہے، کسی جھوٹے شخص کی نامعلوم شخص سے بیان کردہ بات کا کیا اعتبار ؟
) امام مجاہد بن جبر تابعی رحمہ اللہ (م : 104-101ھ)سے منقول ہے :
إِذَا مَاتَ الْمَیِّتُ، فَمَلَکٌ قَابِضٌ نَفْسَہٗ، فَمَا مِنْ شَيْئٍ إِلَّا وَہُوَ یَرَاہُ عِنْدَ غُسْلِہِ، وَعِنْدَ حَمْلِہٖ، حَتّٰی یَصِیرَ إِلٰی قَبْرِہٖ ۔
’’جب مرنے والا مرتا ہے اور فرشتہ اس کی جان قبض کرلیتا ہے تو وہ اپنے غسل اور اپنے اٹھا کر قبر تک لے جائے جانے تک ہر چیز کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘
(المنامات لابن أبي الدنیا : 9)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ اس کے راوی محمد بن عثمان بن صفوان جُمَحِی کے بارے میں :
b امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ہُوَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ، ضَعِیفُ الْحَدِیثِ ۔
’’اس کی بیان کردہ حدیث منکر اور ضعیف ہوتی ہے۔‘‘(الجرح والتعدیل : 24/8)
b امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَیْسَ بِالْقَوِيِّ ۔
’’یہ قوی نہیں ہے۔‘‘(أسئلۃ البرقاني للدارقطني : 473)
لہٰذا امام ابن حبان رحمہ اللہ کا اسے [الثقات(424/7)]میں ذکر کرنا صحیح نہیں۔
` بکر بن عبد اللہ بن عمرو مزنی(م : 106ھ)کا بیان ہے :
بَلَغَنِي أَنَّہٗ مَا مِنْ مَیِّتٍ إِلَّا وَرُوحُہٗ بِیَدِ مَلَکِ الْمَوْتِ، فَہُمْ یُغَسِّلُونَہٗ، وَیُکَفِّنُونَہٗ، وَہُوَ یَرٰی مَا یَصْنَعُ أَہْلُہٗ، فَلَوْ أَنَّہٗ یَقْدِرُ عَلَی الْکَلَامِ، لَنَہَاہُمْ عَنِ الرَّنَّۃِ، وَالْعَوِیلِ ۔ ’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو بھی مرنے والا مرتا ہے تو اس کی روح ملک الموت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔گھر والے اسے نہلا رہے ہوتے ہیں اور کفن دے رہے ہوتے ہیں تو وہ انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔اگر وہ بولنے پر قادر ہو تو ضرور انہیں شور اور چیخ وپکار سے منع کرے۔‘‘(المنامات لابن أبي الدنیا : 10)
تبصرہ : بکر بن عبد اللہ مزنی کو یہ بات کس نے پہنچائی اور کس کی طرف سے پہنچائی،کچھ بھی معلوم نہیں،لہٰذا یہ ناقابل التفات ہے۔
~ عمرو بن دینار رحمہ اللہ (م : 126ھ) سے منقول ہے :
مَا مِنْ مَّیِّتٍ، إِلَّا وَہُوَ یَعْلَمُ مَا یَکُونُ فِي أَہْلِہٖ بَعْدَہٗ، وَإِنَّہُمْ لَیُغَسِّلُونَہٗ، وَیَکَفِّنُونَہٗ، وَإِنَّہٗ لَیَنْظُرُ إِلَیْہِمْ ۔ ’’ہر مرنے والے کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے گھروالوں پر کیا بیتے گی؟گھر والے اسے غسل و کفن دے رہے ہوتے ہیں تو وہ ان کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘(إحیاء علوم الدین للغزالي : 497/4، أہوال القبور لابن رجب، ص : 149، شرح الصدور بشرح حال الموتٰی والقبور للسوطي، ص : 103)
تبصرہ : کسی بھی کتاب میں اس کی کوئی سند مذکور نہیں۔ایسے بے سروپا اقوال کا کوئی اعتبار نہیں۔
– جلیل القدر تابعی،امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے :
إِنَّ الْمَیِّتَ لَیَعْرِفُ کُلَّ شَيْئٍ، حَتّٰی إِنَّہٗ لَیُنَاشَدُ بِاللّٰہِ غَاسَلَہٗ : إِلَّا خَفَّفْتَ عَلَيَّ، قَالَ : وَیُقَالُ لَہٗ، وَہُوَ عَلٰی سَرِیرِہٖ، : اسْمَعْ ثَنَائَ النَّاسِ عَلَیْکَ ۔
’’بے شک مردہ ہر چیز کو جانتا ہے،یہاں تک کہ اپنے نہلانے والے کو بھی جانتا ہے، اللہ کی قسم دے کر کہتا ہے کہ مجھے بآسانی نہلانا۔(امام سفیان نے فرمایا:)کہ اس کے جنازے پر کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے متعلق لوگوں کی تعریف سنیں۔‘‘
(روحوں کی دنیا از احمد رضا خان بریلوی، ص : 44)
تبصرہ : اس کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا،البتہ اس کے آخری الفاظ [حلیۃ الاولیاء (54/7)]میں موجود ہیں اور ان کی سند ’’ضعیف‘‘ہے۔سہل بن مغیرہ،ابوعلی،بزار کی توثیق نہیں مل سکی۔حافظ ابو نعیم اصبہانی کے استاذ محمد بن علی کا تعین اور توثیق بھی مطلوب ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ (204-150ھ)فرماتے ہیں : وَلَمْ یُکَلِّفِ اللّٰہُ أَحَدًا أَنْ یَّأْخُذَ عَمَّنْ لَّا یُعْرَفُ ۔ ’’اللہ تعالیٰ نے کسی کو مجہول راویوں کی روایات لینے کا مکلف نہیں بنایا۔‘‘(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 116/1، وفي نسخۃ : 270/1، وسندہٗ صحیحٌ)
_ عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ(م : 83ھ)کی طرف یہ قول منسوب ہے :
اَلرُّوحُ بِیَدِ مَلَکٍ، یَمْشِي مَعَ الْجَنَازَۃِ، یَقُولُ : اسْمَعْ مَا یُقَالُ لَکَ، فَإِذَا بَلَغَ حُفْرَتَہٗ، دَفَنَہٗ مَعَہٗ ۔ ’’روح فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ جنازے کے ساتھ چل رہا ہوتا ہے اور روح سے کہہ رہا ہوتا ہے : جو کچھ تیرے بارے میں کہا جا رہا ہے، اسے سن! جب قبر تک پہنچتا ہے تو اسے جسم کے ساتھ ہی دفن کر دیتا ہے۔‘‘
(المنامات لابن أبي الدنیا : 8)
تبصرہ : اس قول کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ امام سفیان ثوری اور اعمش دونوں ’’مدلس‘‘ہیں اور بصیغۂ عن روایت بیان کر رہے ہیں،لہٰذا اصولِ حدیث کے مطابق یہ روایت ناقابل اعتماد و اعتبار ہے۔
= ابن ابو نجیح(م : 131ھ) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
مَا مِنْ مَّیِّتٍ یَّمُوتُ، إِلَّا وَرُوحُہٗ فِي یَدِ مَلِکٍ، یَنْظُرُ إِلٰی جَسَدِہٖ، کَیْفَ یُغْسَلُ، وَکَیْفَ یُکَفَّنُ، وَکَیْفَ یُمْشٰی بِہٖ إِلٰی قَبْرِہٖ ۔
’’جو بھی مرنے والا مرتا ہے ،اس کی روح فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اپنے جسم کو نہلائے جانے ،کفن دئیے جانے اور قبرکی طرف لے جانے کے مناظر دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘
(أہوال القبور لابن رجب، ص : 149، شرح الصدور للسیوطي، ص : 104)
تبصرہ : اس روایت کی کوئی سند نہیں مل سکی،لہٰذا مردود ہے۔
+ ابو عبد اللہ،بکر،مزنی سے منقول ہے :
حُدِّثْتُ أَنَّ الْمَیِّتَ لَیَسْتَبْشِرُ بِتَعْجِیلِہٖ إِلَی الْمَقَابِرِ ۔
’’مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ میت جلد قبرستان کی طرف لے جانے پر خوش ہوتی ہے۔‘‘
تبصرہ : اس کی بھی کوئی سند نہیں مل سکی،لہٰذا باطل ہے۔
q عظیم تابعی،امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ (م بعد : 90ھ)سے منقول ہے :
إِنَّ سَلْمَانَ، وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ، الْتَقَیَا، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہٖ : إِنْ لَّقِیتَ رَبَّکَ قَبْلِي، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا لَقِیتَ مِنْہُ ؟ فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہٖ : أَیَلْقَی الْـأَحْیَائَ الْـأَمْوَاتُ، قَالَ : نَعَمْ، أَمَّا الْمُؤْمِنُونَ، فَإِنَّ أَرْوَاحَہُمْ فِي الْجَنَّۃِ، وَہِيَ تَذْہَبُ حَیْثُ شَائَ تْ، قَالَ : فَتُوُفِّيَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ صَاحِبِہٖ، فَلَقِیَہٗ الْحَيُّ فِي الْمَنَامِ، فَکَأَنَّہٗ سَأَلَہٗ، فَقَالَ الْمَیِّتُ : تَوَکَّلْ وَأَبْشِرْ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ مِثْلَ التَّوَکُّلِ قَطُّ ۔ ’’سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اگر آپ مجھ سے پہلے اپنے رب سے جا ملیں تو مجھے بتانا کہ ملاقات کیسی رہی؟ اس پر دوسرے نے کہا : کیا مردے زندہ لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں؟ پہلے نے کہا : جی ہاں، مؤمنوں کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں اور وہ جہاں چاہیں جا سکتی ہیں۔ان میں سے ایک پہلے فوت ہو گیا اور زندہ خواب میں اس کو ملا اور پوچھا تو مرنے والے نے کہا : توکل کریں اور مطمئن رہیں،کیونکہ میں نے توکل جیسی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔‘‘(مصنف ابن أبي شیبۃ : 120/7، الزہد لعبد اللّٰہ بن المبارک : 428، الزہد لأبي داوٗد : 258، التاریخ الأوسط للبخاري : 276، المنامات لابن أبي الدنیا : 21، شعب الإیمان للبیہقي : 489/2، ح : 1293، والسیاق لہٗ، تاریخ دمشق لابن عساکر : 460/21)
تبصرہ : اس کی سند ’’منقطع‘‘ہونے کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ہے۔
سعید بن مسیب تابعی کا سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہو سکا۔
حلیۃ الاولیاء (205/1)میں اس کی ایک اور سند مذکور ہے، اس میں ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن ’’ضعیف‘‘ اور ’’مختلط‘‘ہے۔اس کے بارے میں :
حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : أَبُو مَعْشَرٍ ہٰذَا، مَنْ ضَعَّفَہٗ أَکْثَرُ مِمَّنْ وَّثَّقَہٗ ۔ ’’ابو معشر کو ضعیف کہنے والے اس کی توثیق کرنے والوں سے زیادہ ہیں۔‘‘(بیان الوہم والإیہام : 234/3، الرقم : 964)
حافظ ابن العراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وَہُوَ ضَعِیفٌ عِنْدَ الْجُمْہُورِ ۔ ’’یہ راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔‘‘
(طرح التثریب : 4/3)
حافظ بوصیری کہتے ہیں: وَقَدْ ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(اتّحاف المہرۃ : 511/6)
رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہrسے مروی ہے : إِنَّہَا کَانَتْ تَّسْمَعَ صَوْتَ الْوَتَدِ یُوتَدُ، وَالْمِسْمَارِ یُضْرَبُ، فِي بَعْضِ الدُّورِ الْمُطِیفَۃِ بِمَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ، فَتُرْسِلُ إِلَیْہِمْ : لَا تُؤْذُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے ساتھ ملحق گھروں میں کیل یا میخ ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو ان اہل خانہ کے پاس پیغام بھیجتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دو۔‘‘
(الدرّۃ الثمینۃ في أخبار المدینۃ لابن النجّار : 197)
تبصرہ : یہ انتہائی جھوٹی روایت ہے، اس کا راوی محمد بن حسن بن زبالہ مخزومی ’’کذاب‘‘ اور جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا شیدائی تھا۔
اس کے بارے میں :
1 امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لَیْسَ بِثِقَۃٍ، کَانَ یَسْرِقُ الْحَدِیثَ، کَانَ کَذَّابًا، وَلَمْ یَکُنْ بِشَيئٍ ۔
’’یہ قابل اعتماد نہیں تھا،حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا،جھوٹا اور فضول شخص تھا۔‘‘
(تاریخ ابن معین بروایۃ العباس الدوري : 511,510/2)
2 امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَاہِي الْحَدِیثِ، ضَعِیفُ الْحَدِیثِ، مُنْکَرُ الْحَدِیثِ، عِنْدَہٗ مَنَاکِیرُ، وَلَیْسَ بِمَتْرُوکِ الْحَدِیثِ ۔
’’اس کی بیان کردہ حدیث کمزور،ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔اس کے پاس عجیب و غریب قسم کی روایات ہیں،البتہ یہ متروک الحدیث نہیں ۔‘‘ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 228/7)
3 امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ ۔
’’محدثین نے اس کی روایات چھوڑ دی ہیں۔‘‘(کتاب الضعفاء والمتروکین : 535)
4 امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَہُوَ وَاہِي الْحَدِیثِ ۔
’’اس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہوتی ہے۔‘‘(الجرح والتعدیل : 228/7)
5 امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
(سؤالات البرقاني للدارقطني : 427)
6 امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کَانَ یَسْرِقُ الْحَدِیثَ، وَیَرْوِي عَنِ الثِّقَاتِ مَا لَمْ یَسْمَعْ مِنْہُمْ، مِنْ غَیْرِ تَدْلِیسٍ مِّنْہُمْ ۔
’’یہ حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا اور ثقہ راویوں سے بغیر تدلیس کے وہ روایات بیان کرتا تھا،جو اس نے ان سے نہیں سنی ہوتی تھیں۔‘‘(المجروحین : 275/2)
7 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کَذَّبُوہُ ۔
’’محدثین کے نزدیک یہ شخص جھوٹا تھا۔‘‘(تقریب التہذیب : 8515)
نیز فرماتے ہیں: مُتَّفَقٌ عَلٰی ضَعْفِہٖ ۔
’’اس کے ضعیف ہونے پر سب محدثین کا اتفاق ہے۔‘‘(فتح الباري : 298/11)
یہ جروح میں لتھڑا ہوا راوی ہے،اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔
اس روایت میں ’’انقطاع‘‘بھی ہے،عبد العزیز بن ابو حازم کا سیدہ عائشہrسے لقاء و سماع نہیں ہے۔اس کے متابع راوی نوفل بن عمارہ کا کتب ِرجال میں کہیں ذکر نہیں۔
صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہrسے مروی ہے : لَمَّا مَرِضَ أَبِي أَوْصٰی أَنْ یُّؤْتٰی بِہٖ إِلٰی قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَیُسْتَأْذَنَ لَہٗ، وَیُقَالَ : ہٰذَا أَبُو بَکْرٍ یُّدْفَنُ عِنْدَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! فَإِنْ أَذِنَ لَکُمْ فَادْفَعُونِي، وَإِنْ لَّم یُؤْذَنْ لَّکُمْ فَاذْہَبُوا بِي إِلَی الْبَقِیعِ، فَأُتِيَ بِہٖ إِلَی الْبَابِ، فَقِیلَ : ہٰذَا أَبُو بَکْرٍ قَدِ اشْتَہٰی أَنْ یُّدْفَنَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَوْصَانَا، فَإِنْ أُذِنَ لَنَا دَخَلْنَا، وَإِنْ لَّمْ یُؤْذَنْ لَّنَا انْصَرَفْنَا، فَنُودِینَا أَنِ ادْخُلُوا وَکَرَامَۃً، وَسَمِعْنَا کَلَامًا وَّلَمْ نَرَ أَحَدًا ۔ ’’جب میرے والد بیمار ہوئے تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ انہیں(وفات کے بعد)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر لے جایا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتے ہوئے کہا جائے : اللہ کے رسول! یہ ابو بکر ہیں اور انہیں آپ کے قریب دفن کیا جا رہا ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا اور اگر تمہیں اجازت نہ ملے تو مجھے بقیع میں لے جانا۔(جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو)انہیں دروازے پر لایا گیا اور کہا گیا : یہ ابوبکر ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش رکھتے تھے اور اس حوالے سے ہمیں وصیت کر چکے ہیں۔اگر ہمیں اجازت ملے گی تو ہم داخل ہوں گے،ورنہ لوٹ جائیں گے۔ہمیں آواز آئی کہ عزت کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ ہمیں آواز دینے والا سنائی نہیں دیا۔‘‘(الخصائص الکبرٰی للسیوطي : 492/2)
تبصرہ : یہ بے سند اور باطل روایت ہے۔علامہ سیوطی نے اسے امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی کتاب [رُوَاۃ مالک]کے حوالے سے ذکر کیا ہے،جو کہ مفقود ہو چکی ہے،نیز علامہ سیوطی نے خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی طرف سے اس روایت کو ’’غریب جدا‘‘ کہنا بھی نقل کیا ہے۔
امام ابن عساکر رحمہ اللہ (تاریخ دمشق : 436/30)نے اس سے ملتی جلتی ایک روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ذکر کی ہے،اس میں یہ الفاظ ہیں :
وَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ یُّؤْذَنُ إِلَی الْبَابِ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! ہٰذَا أَبُو بَکْرٍ مُّسْتَأْذِنٌ، فَرَأَیْتُ الْبَابَ قَدْ تُفْتَحُ، وَسَمِعْتُ قَائِلاً یَّقُولُ : أَدْخِلُوا الْحَبِیبَ إِلٰی حَبِیبِہٖ، فَإِنَّ الْحَبِیبَ إِلَی الْحَبِیبِ مُشْتَاقٌ ۔
’’میں سب سے پہلا شخص تھا،جس نے دروازے سے اندر جانے کی اجازت ملی۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! یہ ابو بکر ہیں اور اجازت طلب کر رہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلا اور میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : حبیب کو حبیب کے پاس لے آؤ،کیونکہ حبیب اپنے حبیب سے ملاقات کا مشتاق ہے۔‘‘
لیکن یہ روایت بھی باطل ہے۔اسے ذکر کرنے کے بعد امام ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ہٰذَا مُنْکَرٌ، وَرَاوِیہِ أَبُو الطَّاہِرِ مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَائٍ الْمَقْدِسِيُّ [کَذَّابٌ]، وَعَبْدُ الْجَلِیلِ مَجْہُولٌ ۔ ’’یہ منکر روایت ہے۔اس کا راوی ابو طاہر موسیٰ بن محمد بن عطاء مقدسی کذاب ہے اور عبد الجلیل مجہول ہے۔‘‘
نیز دیکھیں (لسان المیزان لابن حجر : 391/3، الخصائص الکبرٰی للسیوطي : 492/2)
اس کے راوی ابو طاہر مقدسی کے بارے میں امام ابوحاتم رازی،موسیٰ بن سہل رملی اور ابو زرعہ رازی رحمہم اللہ فرماتے ہیں : وَکَانَ یَکْذِبُ ۔
’’یہ جھوٹ بولتا تھا۔‘‘(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 161/8)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مُنْکَرُ الْحَدِیثِ، وَیَسْرِقُ الْحَدِیثَ ۔
’’یہ منکر الحدیث ہے اور یہ حدیث کا سرقہ کرتا تھا۔‘‘(الکامل في ضعفاء الرجال : 347/6)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَیَضَعُ الْحَدِیثَ عَلَی الثِّقَاتِ ۔
’’یہ ثقہ راویوں سے منسوب کر کے حدیثیں گھڑتا تھا۔‘‘(کتاب المجروحین : 243/2)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ ۔
’’یہ متروک الحدیث راوی ہے۔‘‘(العلل : 179/1)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ اسے ’’کذاب‘‘ اور ’’متہم‘‘ قرار دیا ہے۔(المغني في الضعفاء : 686/2)
نیز اس میں حبہ عرنی راوی جمہور محدثین کرام کے نزدیک’’ضعیف‘‘ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کو باطل قرار دیا ہے۔(لسان المیزان : 391/3)
تنبیہ نمبر 1 : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’اِشْہَدُوا لِہٰؤُلَائِ الشُّہَدَائِ، عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَأْتُوہُمْ، وَزُورُوہُمْ، وَسَلِّمُوا عَلَیْہِمْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ ! لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ أَحَدٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا رَجَوْتُ لَہٗ، أَوْ قَالَ : إِلَّا رَدُّوا عَلَیْہِ‘ ۔
’’تم قیامت کے روز اللہ کے ہاں ان شہداء کے لیے گواہ بن جانا۔ان(کی قبروں) کے پاس آیا کرو،ان کی زیارت کیا کرو اور ان کو سلام کہا کرو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کہے گا،میں اس کے لیے (مغفرت کی)امید رکھتا ہوں۔یا فرمایا کہ وہ سلام کا جواب دیں گے۔‘‘
(مسند عليّ بن الجعد، ص : 433، ح : 2945، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث میں شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دئیے جانے کی بات راوی نے بطور ِشک بیان کی ہے۔جن سندوں میں بطور ِجزم جواب دینے کا ذکر ہے،وہ ساری کی ساری ’’ضعیف‘‘ ہیں۔شک کے طور پر بیان کی گئی بات قابل حجت نہیں ہو سکتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں مردوں کے سننے اور دیکھنے کا کوئی ذکر نہیں۔ بصورت ِصحت ِحدیث اللہ تعالیٰ ان کو باخبر کر دیتا ہو گا۔
تنبیہ نمبر 2 : سیدہ عائشہ r فرماتی ہیں :
کُنْتُ أَدْخُلُ بَیْتِيَ الَّذِي دُفِنَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي، فَأَضَعُ ثَوْبِي، وَأَقُولُ : إِنَّمَا ہُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَہُمْ، فَوَاللّٰہِ ! مَا دَخَلْتُہٗ، إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَۃٌ عَلَيَّ ثِیَابِي، حَیَائً مِّنْ عُمَرَ ۔
’’میں اپنے اس حجرے میں،جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد(سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ )مدفون تھے،داخل ہوتی تو(سر کا)کپڑا اتار دیا کرتی تھی اور (دل میں)یہ کہتی کہ یہاں میرے خاوند اور میرے والد ہی تو ہیں۔لیکن جب ان کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی دفن ہو گئے تو اللہ کی قسم! میں اس حجرے میں صرف اسی حالت میں داخل ہوئی کہ میں اپنا(سر کا) کپڑا سختی سے باندھ لیتی تھی۔میں یہ کام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کرتے ہوئے کرتی تھی۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 202/6، المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 62/3، ح : 4402، 8/4، ح : 6721، وسندہٗ صحیحٌ)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح بخاری و مسلم کی شرط پر ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
حافظ ہیثمی لکھتے ہیں : وَرِجَالُہٗ رِجَالُ الصَّحِیحِ ۔
’’اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد : 26/8)
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : مَا زِلْتُ أَضَعُ خِمَارِي، وَأَتَفَضَّلُ فِي ثِیَابِي فِي بَیْتِي، حَتّٰی دُفِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیہِ، فَلَمْ أَزَلْ مُتَحَفِّظَۃً فِي ثِیَابِي، حَتّٰی بَنَیْتُ بَیْنِي وَبَیْنِ الْقُبُورِ جِدَارًا، فَتَفَضَّلْتُ بَعْدُ ۔
’’میں ہمیشہ اپنے حجرے میں اپنا دوپٹہ اتار دیتی اور کام کاج کے معمولی کپڑے پہن لیتی تھی،حتی کہ اس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دفن کر دئیے گئے۔اس وقت سے میں اپنے کپڑوں میں لپٹی ہوئی رہتی تھی،یہاں تک کہ میں نے قبروں کے سامنے ایک دیوار بنا دی، اس کے بعد میں نے گھر میں کام کاج کے معمولی کپڑے پہننا شروع کر دئیے۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 277/3، تاریخ مدینۃ لابن شبۃ : 945/3، وسندہٗ حسنٌ)
کچھ کام انسان طبعی طور پر بے ساختہ کرتا ہے اور ان کے پیچھے کوئی عقیدہ و نظریہ کارفرما نہیں ہوتا،جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چومتے ہوئے سنت کی محبت میں بے ساختہ اسے مخاطب کیا اور فرمایا :
’أَمَا وَاللّٰہِ، إِنِّي لَـأَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ، لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَلَمَکَ مَا اسْتَلَمْتُکَ‘ ۔
’’اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تُو ایک پتھر ہے،تُو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتاتو تجھے نہ چومتا۔‘‘
(صحیح البخاري : 1605، صحیح مسلم : 1270)
سیدہ عائشہr کے اس عمل کو بھی اسی پر محمول کیا جائے گا، ورنہ سیدہ عائشہr یا کسی بھی صحابی سے مردوں کے زندوں کو دیکھنے یا ان کی باتیں سننے کا عقیدہ و نظریہ ثابت نہیں، نہ خیرالقرون یا بعد کے ائمہ اہل سنت نے اس روایت سے یہ مسئلہ اخذ ہی کیا۔مردوں سے پردہ کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔
تنبیہ نمبر 3 : سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی :
ثُمَّ أَقِیمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدَرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَیُقْسَمُ لَحْمُہَا، حَتّٰی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِہٖ رُسُلَ رَبِّي ۔
’’تم میری قبر پر اتنی دیر ٹھہرنا جتنی دیر میں ایک اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔یوں میں تمہاری(دُعا کی وجہ سے)وجہ سے وحشت سے بچ جاؤں گا اور مجھے اپنے ربّ کے بھیجے ہو ئے فرشتوں کے سوالات کے جوابات یاد آ جائیں گے۔‘‘
(صحیح مسلم : 121)
اس روایت میں مردے کے سننے یا دیکھنے کا کوئی ذکر نہیں۔سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ قبر پر کھڑے ہو کر دُعا کرنے سے مُردہ وحشت اور سوال و جواب میں پریشانی سے بچ جاتا ہے۔
ویسے بھی یہ بات تو مسلم ہے کہ مردہ دفن کر کے واپس جانے والوں کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے(صحیح بخاری : 178/1، ح : 1378، صحیح مسلم : 379/2، ح : 2870)اور اس سے مردے کو وحشت ہوتی ہے،لہٰذا جب تک لوگ واپس نہیں لوٹتے مردے کو ایک قسم کی مانوسیت رہتی ہے۔سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا ارادہ غالباً یہی تھا کہ لوگ زیادہ دیر تک کھڑے دُعا و استغفار کرتے رہیں اور سوال و جواب کا مرحلہ طَے ہو جائے۔
حافظ،عبد الرحمن بن علی،ابن الجوزی(597-508ھ)فرماتے ہیں:
وَقَدْ سَبَقَ فِي مُسْنَدِ أَنَسٍ وَّغَیْرِہٖ أَنَّ الْمَیِّتَ یَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ إِذَا وَلَّوْا، وَإِذَا کَانَ کَذٰلِکَ، حَسَنٌ أَنْ یَّقُولَ : حَتّٰی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ ۔
’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ کی مسند میں یہ بات گزر چکی ہے کہ دفن کر کے واپس جاتے وقت مردہ لوگوں کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔جب ایسا ہے تو یہ کہنا درست ہے کہ (تم میری قبر پرٹھہرے رہنا)تاکہ میں تمہاری وجہ سے مانوس رہوں۔‘‘
(کشف المشکل من حدیث الصحیحین : 111/4)
تنبیہ نمبر 4 : عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:
مَا مِنْ مَّیِّتٍ یَّمُوتُ، إِلَّا وَرُوحُہٗ فِي یَدِ مَلِکٍ، یَّنْظُرُ إِلٰی جَسَدِہٖ، کَیْفَ یُغَسَّلُ، وَکَیْفَ یُکَفَّنُ، وَکَیْفَ یُمْشٰی بِہٖ، فَیُجْلَسُ فِي قَبْرِہٖ، یُقَالُ لَہٗ، وَہُوَ عَلٰی سَرِیرِہِ، : اسْمَعْ ثَنَائَ النَّاسِ عَلَیْکَ ۔
’’جو بھی بندہ مرتا ہے،اس کی روح فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے،وہ اپنے جسم کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اسے کیسے غسل و کفن دیا جا رہا ہے اور کیسے قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔پھر اسے قبر میں بٹھا دیا جاتا ہے۔جب وہ چارپائی پر ہوتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے : اپنے بارے میں لوگوں کی تعریف سن۔‘‘
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء لأبي نعیم الأصبہاني : 349/3، وسندہٗ صحیحٌ)
عمرو بن دینار رحمہ اللہ کی اس رائے کا تعلق عالمِ برزخ سے ہے، ہماری نظر میں اس پر قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.