226

نماز میں سورت فاتحہ اور امام، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

نماز میں سورہئ فاتحہ کی قراء ت کے حوالے سے بعض مقلدین یہ روایت پیش کرتے ہیں :
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے : إنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لمّا جاء إلی أبی بکر وہو یصلّی بالناس فی مرضہ أخذ من حیث کان بلغ أبوبکر من القراء ۃ ۔
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور وہیں سے قراء ت شروع کر دی جہاں تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچ چکے تھے۔”
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : ٢/٢١١، مسند الامام احمد : ١/٢٣١، سنن ابن ماجہ : ١٢٣٥)
اس کی سند ابواسحاق سبیعی راوی کی ”تدلیس” کی وجہ سے ”ضعیف” ہے۔ انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ ابواسحاق سبیعی کو امام شعبہ (معرفۃ السنن والآثار : ١/٦٥، وسندہ، صحیح)، امام نسائی (طبقات المدلسین : ٤٢) ، حسین کرابیسی ، ابو جعفر طبری (تہذیب التہذیب : ٨/٦٦)، امام ابن خزیمہ (١٠٩٤) ، امام ابن منذر (الاوسط : ٥/٢١٧) ، امام ابن حبان (٥/١٧٧) رحمہم اللہ وغیرہ نے ”مدلس” قرار دیا ہے۔مسلّم اصول ہے کہ ”ثقہ ، مدلس” جب سماع کی تصریح نہ کرے تو بخاری و مسلم کے علاوہ اس کی روایت ”ضعیف” ہوتی ہے۔
مسند احمد (١/٢٠٩) والی روایت کی سند میں قیس بن ربیع راوی ہے جو جمہور محدثین کرام کے نزدیک ”ضعیف” ہے۔ حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعّفہ الجمہور ۔
”اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔”(المغنی عن حمل الاسفار للعراقی : ٤/٧٠)
علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وضعّفہ الأکثرون ۔ ”اسے زیادہ محدثین نے ضعیف کہا ہے۔”(فیض القدیر للمناوی : ٦/٦٩)
مقتدی کو سورت ِ فاتحہ سے منع کرنے والے اب امام کو بھی فاتحہ سے منع کرنے لگے ہیں کیونکہ اس ”ضعیف” روایت میں امام کی بات ہو رہی ہے نہ کہ مقتدی کی۔
bbbbbbb

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.