299

نماز فجر کی سنتیں، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ سنتیں اور نوافل پڑھنا جائز نہیں خواہ صف میں کھڑے ہو کر ادا کیے جائیں یا صف سے پیچھے اور خواہ ادائیگی کے بعد کلام کرے یا نہ کرے ، جیسا کہ :
دلیل نمبر 1: سیدنا ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا : (( إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ )) “جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی (نفلی) نماز نہیں ہوتی۔”(مسند الإمام أحمد : ، صحيح مسلم : ، ح : 710)
یہ حدیث مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح روایت ہوئی ہے، یعنی اس بارے میں رسول اللہکا فرمانِ عالیشان بھی ثابت ہے اور سیدنا ابو ہریرہ کا فتویٰ بھی۔یہ اصول ہے کہ موقوف روایت مرفوع حدیث کے لیے تقویت کا باعث ہوتی ہے۔اس مرفوع حدیث میں واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نماز ، فرض نماز کی اقامت کے بعد پڑھنا ممنوع ہے۔
1 امام ترمذی(209 – 279ھ)اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
والعمل على هذا عند بعض أهل العلم من أصحاب النبي صلّى الله عليه وسلّم وغيرهم إذا أقيمت الصلاة أن لا يصلّي الرجل إلّا المكتوبة، وبه يقول سفيان الثوريّ وابن المبارك والشافعيّ وأحمد وإسحق “بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو آدمی صرف فرضی نماز ہی پڑھ سکتا ہے۔ امام سفیان ثوری ، امام عبد اللہ بن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔”
(سنن الترمذي، تحت الحديث : 421)
2 امام الائمہ ابنِ خزیمہ (223- 311ھ)نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے: باب النهي عن أن يصلّي ركعتي الفجر بعد الإقامة ضدّ قول من زعم أنّهما تصليان و الإمام يصلّي الفريضة “اس بات کا بیان کہ فجر کی دو رکعت سنتیں اقامت کے بعد ادا کرنا منع ہیں برخلاف اس شخص کے جو کہتا ہے کہ امام فرض نماز پڑھا رہا ہو تو یہ دو رکعتیں پڑھ لی جائیں۔”(صحيح ابن خزيمة : 2/169، ح : 1123)
 امام ابن حبان(354ھ) نے یوں تبویب فرمائی ہے :ذکر البیانّ بأنّ حکم صلاۃ الفجر وحکم غیرھا من الصلوات في ھذا الزجر سواء
“اس بات کا بیان کہ اس ڈانٹ میں نماز فجر اور دوسری نمازوں کا حکم ایک ہی ہے۔”
(صحيح ابن حبان ، تحت الحديث : 2193)
4 حافظ ابنِ عبد البر (368-463ھ)اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: والحجّۃ عند التنازع السنّۃ ، فمن أوّل بھا فقد أفلح ، ومن استعملھا فقد نجا “اختلاف کے وقت دلیل سنت ِ نبوی ہوتی ہے۔ جو شخص سنت کی تعمیل کرے وہ کامیاب اور جو اس پر عمل کرے وہ نجات مند ہے۔”
(التمهيد لابن عبد البر : 22/69)
5 حافظ خطابی (319-388ھ) فرماتے ہیں : في ھذا بیان أنہ ممنوع من رکعتي الفجر ومن غیرھا من الصلوات إلّا المکتوبۃ “اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ (فرض نماز کی اقامت کے بعد)فجر کی دو رکعتیں اور دوسری کوئی نماز سوائے فرضی کے ممنوع ہے۔”(معالم السنن للخطابي : 1/274)
6 حافظ ابن الجوزی (508597ھ) فرماتے ہیں : وھذا لأنہ قد صار الحکم لھا، ولا ینبغي أن یتشاغل بالأنقص مع حضور الأکمل، وقد قال أبو حنیفۃ : من کان خارج المسجد ولم یخش فوات الرکوع في الرکعۃ الثانیۃ من الفجر صلّی رکعتین، ثمّ دخل، والحدیث یردّ ھذا “یہ (فرض کی اقامت کے بعد نفلی نماز کی ممانعت) اس لیے ہے کہ اب وقت فرضی نماز کا ہےاور جائز نہیں کہ کامل تر چیز کی موجودگی میں اس سے کم تر چیز (نفلی نماز) کے ساتھ مشغول ہوا جائے ۔ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ جو شخص مسجد سے باہر ہو اور اسے (فجر کی دو رکعت سنت ادا کرتے ہوئے)دوسری رکعت کا رکوع نکل جانے کا خدشہ نہ ہو تو وہ شخص دو رکعتیں ادا کر کے نماز میں داخل ہو جائے حالانکہ یہ حدیث اس بات کا ردّ کرتی ہے۔”
(کشف المشکل من حديث الصحيحين لابن الجوزي : 1/1022)
7 حافظ نووی (631-676ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
فیھا النھي الصریح عن افتتاح نافلۃ بعد إقامۃ الصلاۃ، سواء کانت راتبۃ کسنّۃ الصبح والظھر والعصر أو غیرھا، وھذا مذھب الشافعيّ والجمھور
“اس حدیث میں فرضی نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز کی واضح ممانعت ہے خواہ وہ نفل نماز سنن راتبہ میں سے ہو جیسے صبح ، ظہر اور عصر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نفلی نماز ہو ۔ امام شافعیاور جمہور علمائے کرام کا یہی مذہب ہے۔”
(شرح صحيح مسلم للنووي : 1/247)
8 حافظ ابن قیّم الجوزیہ (691-751ھ) فرماتے ہیں : ردّ السنّۃ الصحیحۃ الصریحۃ أنّہ لا یجوز التنفّل إذا أقیمت صلاۃ الفرض کما في صحیح مسلم “صحیح اور صریح سنت نے فرض نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز کے ناجائز ہونے کا رد کیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔”
(إعلام الموقعين لابن القيم : 2/375)
9 حافظ ابنِ حجر(773-852ھ) فرماتے ہیں : فیہ منع التنفل بعد الشروع في إقامۃ الصلاۃ سواء کانت راتبۃ أم لا “اس حدیث میں فرض نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز شروع کرنے کی ممانعت ہے خواہ نفلی نماز سنن رواتب میں سے ہو یا نہ ہو۔” (فتح الباري : 3/368)
0 محدث محمد عبد الرحمٰن مبارکپوری(م : 1353ھ/1934ء) فرماتے ہیں: والحدیث یدلّ علیٰ أنّہ لا یجوز الشروع في النافلۃ عند إقامۃ الصلاۃ من غیر فرق بین رکعتي الفجر وغیرھا “یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کی اقامت کے وقت نفل نماز شروع کرنا جائز نہیں ۔ اس حوالے سے فجر کی دو رکعت سنتوں اور دیگر نفل نمازوں میں کوئی فرق نہیں ۔ ”(تحفة الأحوذي : 1/323)
فائدہ : سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :
إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلّا الّتی أقیمت “جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو کوئی نماز نہیں ہوتی سوائے اس نماز کے جس کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہو۔”(المعجم الأوسط للطبراني : 8654، شرح معاني الآثار : 1/371، وسندہٗ حسنٌ)
دلیل نمبر2: سیدنا عبد اللہ بن مالک بن بحینہسے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : إنّ رسول اللـّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم راٰی رجلا وقد أقیمت الصلاۃ یصلّي رکعتین، فلمّا انصرف رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم لاث بہ الناس، فقال رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم : (( آلصبح أربعا ؟ آلصبح أربعا ؟ )) “رسولِ اکرمنے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز کی اقامت کے بعد فجر کی دو رکعت سنت پڑھ رہا تھا ۔ جب رسول اللہنماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اس آدمی کو گھیر لیا ۔ آپ نے اس سے فرمایا : کیا فجر کی (فرض)نماز چار رکعتیں پڑھ رہے ہو ؟ کیا فجر کی (فرض)نماز چار رکعتیں پڑھ رہے ہو؟”
(صحيح البخاري : 1/91، ح : 663، صحيح مسلم : 1/247، ح : 711)
صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : أقیمت صلاۃ الصبح، فراٰی رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم رجلا یصلّی والمؤذّن یقیم، فقال : أتصلّی الصبح أربعا “صبح کی نماز کھڑی ہو گئی تو رسول اللہنے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مؤذن کی اقامت کے دوران نماز پڑھ رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا : کیا تم صبح کی (فرض نماز) چار رکعتیں ادا کر رہےہو؟”
حافظ ابنِ عبد البر (368-463ھ) فرماتے ہیں : قوله صلّى الله عليه وسلّم : (( أصلاتان معا؟))، و قوله لهذا الرجل : (( أيّتهما صلاتك ))، وقوله في حديث ابن بحينة : (( أتصليهما أربعا )) كلّ ذلك إنكار منه صلّى الله عليه وسلّم لذلك الفعل، فلا يجوز لأحد أن يصلّي في المسجد ركعتي الفجر ولا شيئا من النوافل إذا كانت المكتوبة قد قامت “رسول اللہ کا فرمان کہ کیا دو نمازیں اکٹھی پڑھنا چاہتے ہو ، اور اس آدمی کو آپ کا یہ فرمان کہ ان دونوں میں سے تیری (فجر کی فرض ) نماز کون سی ہے؟ نیز سیدنا بحینہکی حدیث میں آپکا یہ فرمان کہ کیا فجر کی نماز دو رکعتیں پڑھنا چاہتے ہو ؟ یہ سب باتیں نبیٔ اکرم کی طرف سے اس کام پر انکار ہے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد مسجد میں فجر کی دو رکعتیں یا کوئی اور نفلی نماز ادا کرے۔”(التمهيد لابن عبد البر : 22/68)
مشہور فقیہ ابو العباس القرطبی (م : 656ھ)فرماتے ہیں : وقولہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم: (( أتصلی الصبح أربعا ؟)) إنکار علی الرجل الذی فعل ذلک، وھذا الإنکار حجّۃ علیٰ من ذھب إلی جواز صلاۃ رکعتي الفجر في المسجد والإمام یصلّی “نبیٔ اکرمکا یہ فرمان کہ کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعت ادا کر رہے ہو؟ یہ اس کام کرنے والے پر انکار ہے اور اس انکار میں اس شخص کا رد ہے جو امام کے نماز پڑھاتے ہوئے فجر کی دو رکعتوں کی ادائیگی کو جائز قرار دیتا ہے۔”
(المفهم لما أشکل من تلخيص کتاب مسلم : باب إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ ۔۔۔)
حافظ نووی(631/676ھ) ((آلصبح أربعا))کے الفاظ کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں: (( أتصلّي الصبح أربعا ؟)) ھو استفھام إنکار، ومعناہ أنّہ لا یشرع بعد الإقامۃ للصبح إلّا الفریضۃ، فإذا صلّی رکعتین نافلۃ بعد الإقامۃ، ثمّ صلّی معھم الفریضۃ، صار في معنی من صلّی الصبح أربعا، لأنّہ صلّی بعد الإقامۃ أربعا
“فرمانِ نبوی : کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعت ادا کرتے ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ صبح کی نماز کی اقامت کے بعد صرف فرضی نماز ہی ادا کی جا سکتی ہے ۔ جب آدمی اقامت کے بعد دو رکعتیں نفل ادا کر ےگا پھر نمازیوں کے ساتھ فرض پڑھے گا تو گویا صبح کی چار رکعت ادا کر رہا ہے کیونکہ اس نے اقامت کے بعد چار رکعتیں ادا کی ہیں۔ ”(شرح صحيح مسلم للنووي : 1/247)
علامہ عینی حنفی(762855ھ)لکھتے ہیں : قوله : آلصبح أربعا حيث أنكر على الرجل الّذي كان يصلّي ركعتين بعد أن أقيمت صلاة الصبح، فقال: آلصبح أربعا، أي الصبح تصلّى أربعا، لأنّه إذا صلّى ركعتين بعد أن أقيمت الصلاة، ثمّ يصلّي مع الإمام ركعتين صلاة الصبح، فيكون في معنى من صلّى الصبح أربعا، فدلّ هذا على أن لا صلاة بعد الإقامة إلّا الصلاة المكتوبة
“فرمانِ نبوی : کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھ رہے ہو ؟ اس قول کے ساتھ آپ نے اس شخص پر انکار کیا جو صبح کی نماز کھڑی ہونے کے بعد دو رکعتیں ادا کر رہا تھا۔ یعنی نماز کھڑی ہونے کے بعد جب وہ دو رکعتیں سنت ادا کر کے پھر امام کے ساتھ صبح کی دو رکعت نماز پڑھے گا تو گویا اس نے صبح کی چار رکعتیں ادا کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد کوئی نماز سوائے فرضی نماز کے نہیں ہوتی۔”
(عمدة القاري : 5/181)
دلیل نمبر 3: سیدنا عبد اللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں : دخل رجل المسجد ورسول اللّہ في صلاة الغداة، فصلّی رکعتین في جانب المسجد، ثمّ دخل مع رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم، فلمّا سلّم رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم ، قال : یا فلان ! بأيّ الصلاتین اعتددتّ ؟ بصلاتک وحدک، أم بصلاتک معنا ؟ “ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ نماز فجر ادا فرما رہےتھے ۔ اس نے مسجد کے کونے میں فجر کی دو سنتیں پڑھیں ، پھر نبی ٔ اکرمکے ساتھ نماز میں داخل ہو گیا۔ جب آپنے سلام پھیرا تو فرمایا : اے فلاں! ان دو نمازوں میں سے کون سی نماز تو نے شمار کی ہے ؟ کیا تو نے جو اکیلے نماز پڑھی ہے وہ یا جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟”(صحيح مسلم : 1/247، ح : 712)
حافظ خطابی(319-388) فرماتے ہیں : في ھذا دلیل علی أنہ إذا صادف إمام في الفریضۃ لم یشتغل برکعتي الفجر وترکہما إلی أن یقضیہما بعد الصلاۃ “ اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب امام فرض نماز شروع کر دے تو آدمی فجر کی دو رکعتوں میں مصروف نہیں ہوگا بلکہ ان کو چھوڑ دے گا اور نماز مکمل کرنے کے بعد ان کی قضائی دے دے گا۔”
(معالم السنن للخطابي : 1/274)
حافظ نووی(631-676ھ)اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
فیہ دلیل علی أنّہ لا یصلّي بعد الإقامۃ نافلۃ وإن کان یدرک الصلاۃ مع الإمام، وردّ علی من قال : إن علم أنّہ یدرک الرکعۃ الأولیٰ أو الثانیۃ یصلّی النافلۃ
“اس حدیث میں دلیل موجود ہے کہ فرضی نماز کی اقامت کے بعد نفلی نماز نہیں پڑھی جا سکتی اگرچہ آدمی (نفل پڑھ کر )امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ سکتا ہو۔ اس حدیث میں اس شخص کا ردّ بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر آدمی کو یقین ہو کہ وہ پہلی یا دوسری رکعت میں شامل ہو جائے گا تو (فرض نماز کی اقامت کے بعد)نفل پڑھ سکتا ہے۔”
(شرح صحيح مسلم : 1/247)
یہ حدیث مبارکہ بھی اس بات پر واضح دلیل ہے کہ فجر کی سنتیں تکبیر کے بعد پڑھنا جائز نہیں ، ورنہ رسول اللہاس پر انکار نہ فرماتے ۔
دلیل نمبر 4: سیدنا عبد اللہ بن عمرو  سے روایت ہے :
إنّ النبي صلّی اللّہ علیہ وسلّم راٰی رجلا یصلّي رکعتي الفجر وقد أقیمت الصلاۃ صلاۃ الفجر، فقال النبي صلّی اللّہ علیہ وسلّم : ((ألصبح أربعا ))
“نبی ٔاکرمنے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز فجر کی اقامت کے بعد فجر کی دو رکعت سنت ادا کر رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا : کیا تم صبح کی چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”
(مسند البزار : 3260، وسندہ صحيحٌ)
دلیل نمبر 5 : سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں :
کنت أصلّی وأخذ المؤذّن في الإقامۃ، فجذبني النبي صلّی اللّہ علیہ وسلّم وقال : (( أتصلّی الصــــــــــــــــــــــــــبح أربعا ؟)) “میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مؤذن اقامت کہنے لگا۔ رسول اللہنے مجھے کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی (فرض)نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”
(مسند الطيالسي : 2736، السنن الکبریٰ للبيهقي : 2/482، وسندہ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابنِ خزیمہ (1124)اور امام ابنِ حبان (2469)نے “صحیح” کہا ہے ۔
اس حدیث کا راوی صالح بن رستم ابو عامر الخزّار جمہور محدثین کرام کے نزدیک موثّق ، حسن الحدیث ہے۔
دلیل نمبر6: سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے :
أقیمت صلاۃ الصبح، فقام رجل یصلّی رکعتین، فجذب رسول اللّہ صلّی اللّہ عليہ وسلّم بثوبہ، وقال : (( أتصلّی الصبح أربعا ؟))
“صبح کی نماز کھڑی ہو گئی تو ایک آدمی کھڑا ہو کر دو رکعتیں (نفل) ادا کرنے لگا ۔ رسول اللہنے اس کے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی (فرض)نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو۔”(مسند الإمام أحمد : 1/238، وسندہ حسنٌ)
دلیل نمبر7 : سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں :
أقیمت الصلاۃ فرأی النبي صلّی اللّہ علیہ وسلّم ناسا یصلّون، فقال : ((أصلاتان؟)) “نماز کھڑی ہو گئی تو رسول اللہنے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ (نفل) نماز ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : کیا دو (فرض)نمازیں پڑھ رہے ہو۔”
(التاريخ الصغير للبخاري : 2300، وسندہ حسنٌ)
ان دلائل کے متعلق علامہ ابنِ حزمفرماتے ہیں : فھذہ نصوص منقولۃ نقل المتواتر، لا یحلّ لأحد خلافھا “یہ نصوص متواتر حد تک مروی ہیں ۔ کسی کے لیے ان کے خلاف عمل کرنا جائز نہیں ۔”(المحلی لابن حزم : 3/108، مسئلة : 308)

بعض الناس کا مذہب !
ان احادیث مبارکہ کے خلاف بعض الناس کا مذہب ملاحظہ فرمائیں :
إن خشي أن تفوتہ رکعۃ من الفجر في جماعۃ ویدرک رکعۃ من الفجر صلّی رکعتین عند باب المسجد، ثمّ دخل فصلّی مع القوم، وإن خاف أن تفوتہ الرکعتان جمیعا صلّی مع القوم ولم یصلّ رکعتي الفجر ولا یقضیہما “اگر نمازی کو فجر کی ایک رکعت نکل جانے اور ایک رکعت پانے کا خدشہ ہو تو وہ مسجد کے دروازے کے پاس دو رکعتیں پڑھ لے اور پھر نماز میں جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے ۔ اگر اسے دونوں رکعتوں کے نکل جانے کا خدشہ ہو تو وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے اور دو رکعت سنت ادا نہ کرے نہ ان کی قضائی دے۔”(کتاب الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني : 1/166، الأوسط لابن المنذر : 5/233)
ان لوگوں نے مذکورہ احادیث کی باطل تاویلات کر رکھی ہیں ۔ جیسا کہ :
(ا) سیدنا ابو ہریرہ کی بیان کردہ حدیث کے بارے میں امام طحاوی حنفی(238- 321ھ) لکھتے ہیں : فقد يجوز أن يكون أراد بهذا النهي عن أن يصلّي غيرها في موطنها الّذي يصلّي فيه فيكون مصلّيها قد وصلها بتطوّع، فيكون النهي من أجل ذلك لا من أجل أن يصلّي في آخر المسجد، ثمّ يتنحّی الّذي يصلّيها من ذلك المكان فيخالط الصفوف ويدخل في الفريضة
“ممکن ہے کہ آپکی اس ممانعت سے مراد یہ ہو کہ نمازی فجر کی نماز کے علاوہ کوئی نماز اس جگہ نہ پڑھے ، کیونکہ اس طرح نماز پڑھنے والا فجر کی نماز کو نفل کے ساتھ ملا دے گا ۔ لہٰذا ممانعت اس بات سے تھی ، اس بات سے نہیں تھی کہ وہ مسجد کے آخری حصے میں نفل پڑھ لے پھر اس جگہ سے ہٹ کر صفوں میں مل جائے اور فرض نماز میں داخل ہو جائے۔”(شرح معاني الآثار للطحاوي : 1/371)
تبصرہ : یہ تاویل باطل ہے ۔ ائمہ محدثین میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، بلکہ یہ امت ِ مسلمہ کے متفقہ فہم کے خلاف ہے۔ امام ابن ابی العز الحنفی (731 – 792ھ)نے کیا خوب کہا ہے : ومن ظنّ أن یعرف الأحکام من الکتاب والسنّۃ بدون معرفۃ ما قالہ الأئمّۃ وأمثالھم فھو مخطیٔ “جو آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کتاب وسنت کے احکام بغیر ائمہ دین اور اسلاف ِ امت کے اقوال کی معرفت کے بغیر سمجھ لے گا وہ خطاکار ہے۔”(الاتّباع لابن أبي العز الحنفي : ص 43)
اس مسئلہ میں ساری کی ساری احادیث اس تاویل کا ردّ کرتی ہیں۔
(ب) نیزامام طحاوی حنفی سیدنا عبد اللہ بن بحینہ اور ابن سرجس کی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں : إنّه قد يجوز أن يكون قوله : كان خلف الناس أي كان خلف صفوفهم لا فصل بينه وبينهم، فكان شبيه المخالط لهم، فذلك أيضا داخل في معنى ما بان من حديث بن بحينة، وهذا مكروه عندنا، وانّما يجب أن يصلّيهما في مؤخّر المسجد، ثمّ يمشي من ذلك المكان إلى أوّل المسجد، فأمّا أن يصلّيهما مخالطا لمن يصلّي الفريضة فلا “یہ بھی ممکن ہے کہ راوی کا اس آدمی کے بارے میں لوگوں کے پیچھے ہونے کے بیان کا مطلب یہ ہو کہ وہ صفوں کے پیچھے اس طرح تھا کہ اس کے درمیان اور (باجماعت نماز پڑھنے والے) لوگوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا ۔ گویا وہ ان کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ یہ صورت بھی اسی میں داخل ہے جو ابنِ بحینہ کی حدیث میں بیان ہوئی ہے ۔ یہ ہمارے نزدیک بھی مکروہ ہے ۔ ضروری ہے کہ نمازی (جماعت کے دوران فجر کی دو رکعتیں) مسجد کے آخری حصے میں ادا کرے پھر چل کر مسجد کے شروع والے حصے میں آئے ۔ اگر وہ فرض پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نفل پڑھے تو یہ درُست نہیں۔”(شرح معاني الآثار للطحاوي : 1/371)
تبصرہ : یہ انتہائی بعید تاویل ہے جو ائمہ محدثین کے اجماعی فہم کے خلاف ہے۔ سابقہ احادیث بول بول کر اس کا ردّ کرتی ہیں ، جیسا کہ علامہ عبد الحئی لکھنوی حنفی لکھتے ہیں: وحمل الطحاوي ھذہ الأخبار علی أنّھم صلّوا في الصفوف لا فصل بینھم وبین المصلّین بالجماعۃ، فلذلک زجرھم النبي صلّی اللّہ علیہ وسلّم، لکنّہ حمل من غیر دلیل معتدّ بہ، بل سیاق بعض الروایات یخلفہ “امام طحاوی حنفی نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ( فرض کے ہوتے ہوئے نفل ) نماز پڑھنے والوں نے جماعت کی صفوں میں یہ نماز پڑھی تھی ۔ ان کے درمیان اور جماعت کے ساتھ فرض نماز پڑھنے والوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا ۔ اس لیے رسول اللہنے ان کو منع فرمایا ۔ لیکن یہ مطلب و مفہوم کسی قابل اعتماد دلیل کے بغیر اخذ کیا گیا ہے ۔ اس کے برعکس بعض روایات کا سیاق اس معنیٰ کی مخالف کرتا ہے۔”(التعليق الممجّد : ص 86)
علامہ ابنِ حزم (384- 456ھ)اس بارے میں فرماتے ہیں :
ثمّ لو لم يأت حديث أبي هريرة أصلا لكان في حديث ابن سرجس وابن بحينة وابن عبّاس كفاية لمن نصح نفسه، ولم يتّبع هواه في تقليد من لا يغني عنه من الله شيئا، ونصر الباطل بما أمكن من الكلام الغثّ “پھر اگر سیدنا ابوہریرہ کی حدیث کا سرے سے وجود بھی نہ ہوتا تو سیدنا ابن سرجس ، ابن بحینہ اور ابن عباس کی احادیث اس شخص کے لیے کافی ہیں جو اپنے نفس کی خیرخواہی کرتا ہو ، خواہش نفس کی پیروی میں ایسے لوگوں کی تقلید نہ کرتا ہو جو اللہ کے ہاں اسے کچھ فائدہ نہ دے سکیں گے اور وہ شخص فضول کلام سے جہاں تک ممکن ہو سکے باطل کی تائید نہ کرتا ہو۔”
(المحلّی لابن حزم : 3/109، مسئلة : 308)
نیز ابنِ حزمبعض الناس کی اس تاویل کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
واعترض بعضهم في حديث ابن سرجس وابن بحينة بضحكة أخرى، وهي أن قال : لعلّ رسول الله إنمّا أنكر عليه أن يصلّيهما مختلطا بالناس، وھذا کذب مجرّد ومجاھرۃ بسمجۃ، لإنّ في الحديث نفسه : أنّه لم يصلّهما إلّا خلف الناس في جانب المسجد، كما يأمرون من قلّدهم في باطلهم، فكيف ولو لم يكن هذا لكان مما يوضح كذب هذا القائل قول رسول الله : (( بأيّ الصلاتين اعتددتّ، أبصلاتك وحدك أم بصلاتك معنا))،و (( أتصلّي الصبح أربعا)) لإنّ من الباطل الممتنع أن يقول له النبيّ هذا القول، وهو لم ينكر عليه إلّا صلاته الركعتين مختلطا بالناس ومتّصلا بهم، فيسكت عليه السلام عمّا أنكر من المنكر ويهتف بما لم يذكر من لفظه، وقد أعاذ الله تعالى نبيّه عن هذا التخليط الّذي لا يليق بذي مسكة إلّا بمثل من أطلق هذا. “بعض لوگوں نے سیدنا ابنِ سرجس اور ابنِ بحینہ کی حدیث میں ایک اور مضحکہ خیز اعتراض کیا ہے ۔ وہ یہ کہ اس کے بقول رسول اللہصرف اس (جماعت ہوتے ہوئے نفل پڑھنے والے)شخص کے (باجماعت)لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے پر اعتراض کیا تھا۔یہ صاف جھوٹ اور بے وقوفی کا مظاہرہ ہےکیونکہ اسی حدیث میں یہ بات موجود ہے کہ اس شخص نے یہ دو رکعتیں لوگوں سے پیچھے مسجد کی ایک جانب میں ہی پڑھی تھیں۔بالکل اسی طرح یہ لوگ باطل میں اپنی تقلید کرنے والوں کو حکم دیتے ہیں۔اگر یہ الفاظ نہ بھی ہوتے تو رسول اللہکا یہ فرمان اس جھوٹ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ تم نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز شمار کی ہے، جو اکیلے پڑھی ہے یا جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟اور کیا تم صبح کی نماز چار رکعتیں پڑھ رہے ہو ؟ یہ غلط اور ناممکن بات ہے کہ رسول اللہاسے اتنی باتیں کہیں اور اعتراض صرف اس کے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے پر کریں۔یعنی جس بات پر انکار کرنا تھا اس سے تو آپ خاموش رہیں جبکہ مراد وہ بات ہو جس کا الفاظ میں آپ نے ذکر ہی نہ کیا ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایسی بے عقلی سے محفوظ رکھا تھا جو کسی عقل مند کے لائق نہیں بلکہ صرف ایسی باتیں کرنے والوں کے مناسب ہے۔ ”
(المحلّی لابن حزم : 3/109، 110، مسئلة : 308)
تنبیہ : سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہنے فرمایا : إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلّا المکتوبۃ، إلّا رکعتي الصبح
“جب نماز کی اقامت ہو جائے تو سوائے فرضی نماز کے کوئی نماز نہیں ہوتی ۔ ہاں فجر کی دو رکعت سنت ہو جاتی ہیں۔”(السنن الکبری للبيهقي : 2/483)
تبصرہ : اس کی سند سخت “ضعیف” ہے کیونکہ :
1 اس کا راوی حجاج بن نصیر جمہور محدثین کے نزدیک “ضعیف” ہے۔ حافظ ہیثمی اس کے بارے میں فرماتے ہیں : والأکثرون علی تضعیفہ
“اکثر محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔”(مجمع الزوائد : 8/32)
نیز فرماتے ہیں : وقد ضعّفہ الجمھور “اسے جمہور نے ضعیف کہا ہے۔” (مجمع الزوائد : 8/121)
حافظ ابنِ حجر فرماتے ہیں : ضعیف، کان یقبل التقلقین
“یہ ضعیف روای تھا ، تلقین قبول کرتا تھا۔”(تقريب التهذيب لابن حجر : 1139)
حافظ ذہبینے اسے “متروک” قرار دیا ہے۔(تلخيص المستدرک : 3/179)
2 اس کا دوسرا راوی عباد بن کثیر البصری بھی “متروک” ہے۔(التقريب : 3139)
اگر یہ عباد بن کثیر الرملی ہے تو بھی “ضعیف” ہے۔(التقريب : 3140)
3 اس کا تیسرا راوی لیث بن ابی سلیم بھی جمہور کے نزدیک “ضعیف” اور “مختلط”ہے۔
خود امام بیہقی دونوں راویوں حجاج بن نُصیر اور عبّاد بن کثیر کو “ضعیف” قرار دے کر لکھتے ہیں : وھذہ الزیادۃ لا أصل لھا “یہ زیادت بے اصل ہے۔”
(السنن الکبری للبيهقي : 2/483)
حافظ ابن قیمنے بھی اسے بے اصل قرا ر دیا ہے۔(إعلام الموقعين : 2/375)
بعض الناس کے موقوف دلائل پر تبصرہ
بعض صحابہ کرام سے جماعت ہوتے ہوئے فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بارے میں جو روایات مروی ہیں ، ان کا جائزہ پیشِ خدمت ہے :
1 سیدنا عبد اللہ بن عمر (ا) (شرح معانی الآثار للطحاوی : 1/355): اس کی سند یحییٰ بن ابی کثیر کی تدلیس کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔
(ب) (مصنف ابن ابی شیبہ : 2/250) اس کی سند بھی “ضعیف”ہے کیونکہ اس میں دلہم بن صالح نامی راوی “ضعیف” ہے۔(تقريب التهذيب : 1830)
2 سیدنا ابو الدرداء  : (شرح معانی الآثار للطحاوی : 1/375) اس کی سند ابو معاویہ الضریر کی تدلیس کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔
3 سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری : (مصنف ابن ابی شیبہ : 2/251) اس کی سند ابو اسحاق السبیعی کی تدلیس کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن مسعود  کی روایت : (شرح معانی الآثار للطحاوی: 1/374)میں امام سفیان ثوری اور ابو اسحاق سبیعی دونوں “مدلس” ہیں۔
4 سیدنا ابو موسیٰ اشعری ، سیدنا حذیفہ اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود : (ایضاً)
اس میں ابو اسحاق سبیعی مختلط ہیں ۔ زہیر نے ان سے اختلاط کے بعد سماع کیا ہےلہٰذا یہ روایت بھی “ضعیف” ہے۔
سیدنا ابنِ عباس  (شرح معانی الآثار : 1/374،وسندہٗ صحیح) ،مسروق تابعی(شرح معانی الآثار : 1/376، وسندہٗ صحیح) اور امام حسن بصری(شرح معانی الآثار : 1/376)سے جماعت کے ہوتے ہوئے فجر کی سنتیں پڑھنا ثابت ہے ۔ ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آتے۔ وہ نماز میں ہوتے تھے ۔ ہم نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھی ہوتی تھیں ۔ ہم مسجد کے آخری حصے میں نفل ادا کرتے ، پھر جماعت کے ساتھ شامل ہو جاتے۔(شرح معاني الآثار للطحاوي : 1/375،وسنده صحيحٌ)
سیدنا عبد اللہ بن عمر کے بارے میں نافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ کو جگایا۔ جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔آپ نے کھڑے ہو کر فجر کی سنتیں ادا کر لیں۔
(شرح معاني الآثار للطحاوي : 1/375، وسنده صحيحٌ)
اسی طرح نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر گھر سے نکلے ۔ صبح کی نماز کھڑی ہو چکی تھی ۔ آپ نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی راستے میں فجر کی سنتیں ادا کیں پھر مسجد میں داخل ہو کر جماعت میں شامل ہو گئے ۔
(شرح معاني الآثار للطحاوي : 1/375، وسندہ صحيحٌ)
مسجد کے اندر جماعت کے ہوتے ہوئے فجر کی سنتیں پڑھنا سیدنا ابنِ عمر سےثابت نہیں۔بلکہ وہ اس سے ناراض ہوتے تھے جیسا کہ ان کے بارے میں روایت ہے :
إنّہ أبصر رجلا یصلّی الرکعتین والمؤذّن یقیم، فحصبہ وقال : أتصلّی الصبح أربعا؟
“آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دو رکعتیں پڑھ رہا تھا اور ادھر مؤذّن اقامت کہہ رہا تھا۔ آپ نے اسے کنکری ماری اور فرمایا : کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھتا ہے ؟”
(السنن الکبریٰ للبيهقي : 2/483، وسنده صحيحٌ)
دلیل نمبر 8 : راویٔ حدیث سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں :
إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلّا المکتوبۃ “جب فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرضی نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔”
(مصنف ابن أبي شيبة : 2/76، وسندہ صحيحٌ)
دلیل نمبر9: سیدنا ابوہریرہ کے شاگرد امام عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں : إذا کنت في المسجد وأقیمت الصلاۃ فلا ترکع
“جب تم مسجد میں ہو اور نماز کھڑی کر دی جائے تو (نفلی) نماز نہ پڑھو۔”
(مصنف ابن أبي شيبة : 2/77، وسندہ صحيحٌ)
دلیل نمبر 0 : سیدنا عمر بن خطاب کے شاگرد امام میمون بن مہران فرماتے ہیں : إذا کبّر المؤذّن بالإقامۃ فلا تصلّینّ شیئا حتّی تصلّي المکتوبۃ “جب مؤذّن اقامت کی تکبیر کہہ دے تو فرض نماز پڑھنے تک کوئی نماز نہ پڑھو۔” (مصنف ابن أبي شيبة : 2/76، وسندہ صحيحٌ)
دلیل نمبر  : سیدنا ابنِ عباس کے شاگرد امام سعید بن جبیر فرماتے ہیں : إن کان في مکان صلّاھما، وإن کان في المسجد لم یصلّھما “اگر آدمی اپنے گھر میں ہو تو یہ (جماعت کے ہوتے ہوئے)دو رکعتیں ادا کر لے اور اگر وہ مسجد میں ہوتو ایسا نہ کرے۔”(مصنف ابن أبي شيبة : 2/251، وسندہ صحيحٌ)
نیز آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا ، ادھر نماز عصر کی اقامت ہو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا : یسرّک أن یقال : صلّی ابن فلانۃ ستّا ؟
“کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ یہ کہہ دیا جائے : فلاں کے بیٹے نے (عصر کی)چھ رکعتیں ادا کی ہیں؟”(مصنف ابن أبي شيبة : 2/76، وسندہ صحيحٌ)
دلیل نمبر  : امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں :
کانوا یکرھون الصلاۃ إذا أخذ المؤذّن في الإقامۃ “جب مؤذّن اقامت شروع کر دیتا تو (خیر القرون کے)لوگ (نفلی)نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے۔”
(مصنف ابن أبي شيبة : 2/76، وسندہ صحيحٌ)
یہ ایک درجن دلائل ہیں جو اس بات کا پتا دیتے ہیں کہ فرض نماز کی جماعت کے ہوتے ہوئے سنتیں ادا کرنا جائز نہیں ۔ وہ صحابہ و تابعین جو فرض جماعت کی موجودگی میں سنتیں پڑھتے تھے شاید ان تک یہ ممانعت نہ پہنچی ہو ، ورنہ اس سلسلے میں فجر کی سنتوں کی کوئی استثناء ثابت نہیں ہوسکی ۔
امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں : لأن أدرک ما فاتنی من المکتوبۃ أحبّ إليّ من أن أصلّیھما “اگر میں نکل جانے والی فرضی نماز پا لوں تو مجھے دو رکعت سنت ادا کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔”(مصنف ابن أبي شيبة : 2/252، وسندہ صحيحٌ)
امام محمد بن سیرین تابعی فرماتے ہیں : ما یفوتہ من صلاۃ الإمام أفضل ممّا یطلب في تیک الرکعتین “ایسے آدمی سے جو امام کے ساتھ والی نماز رہ جاتی ہے وہ اس کے ان دو رکعتوں کے ثواب سے افضل ہوتی ہے۔”
(مصنف ابن أبي شيبة : 2/151، وسندہ صحيحٌ)
تنبیہ : جو شخص سنتیں ادا کر رہا ہو ، اسی اثناء میں اقامت شروع ہو جائے تو راجح یہی ہے کہ وہ سنتیں توڑ کر باجماعت نماز میں شامل ہو جائے ۔ امام سعید بن جبیر (مصنف ابن ابي شیبہ: 2/78، وسندہ صحیح) ، امام میمون بن مہران (مصنف ابن ابي شیبہ: 2/78، وسندہ صحیح) اور قیس بن ابی حازم(مصنف ابن ابي شیبہ: 2/78، وسندہ صحیح) اسی کے قائل ہیں ۔
فجر کی سنتیں نماز کے بعد کب ادا کی جائیں؟
1 جب کوئی مسجد میں آئے اور جماعت کھڑی ہو تو جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے۔ فرض نماز ادا کرنے کے بعد کھڑے ہو کر دو رکعت فجر کی سنتیں ادا کرلے ، جیسا کہ سیدنا قیس بن عمرو بن سہل سے روایت ہے : إنّہ صلّی مع رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم الصبح، ولم یکن رکع رکعتي الفجر، فلمّا سلّم رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم قام فرکع رکعتي الفجر، ورسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم ینظر إلیہ، فلم ینکر ذلک علیہ “انہوں نے رسول اللہکے ساتھ صبح کی نماز ادا کی ۔ انہوں نے فجر کی دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں ۔ جب آپنے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں ادا کر لیں ۔ رسول اللہانہیں دیکھ رہے تھے ۔ آپ نے کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔”(صحيح ابن خزيمة : 1116، صحيح ابن حبان : 1563، المستدرک للحاکم : 1/375، وسندہ صحيحٌ)
امام حاکمفرماتے ہیں : إسنادہ صحيح، وقیس بن قھد الأنصاريّ صحابيّ، والطریق إلیہ صحيح علیٰ شرطھما “اس کی سند صحیح ہے ۔ قیس بن قہد انصاری صحابی ہیں۔ ان تک سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔”
حافظ ذہبینے ان کی موافقت کی ہے۔
اس کی سند کا مختصر حال ملاحظہ فرمائیں :
1 صحابی ٔ رسول سیدناقیس بن عمرو یا قیس بن قہد ۔ اکثر محدثین کا کہنا ہے کہ صحیح قیس بن عمرو ہے۔ جمہور و اکثر کی بات ہی راجح ہے۔
2 اسد بن موسیٰ اس کو موصول بیان کرنے میں منفرد ہیں ۔ دوسرے راوی اسے “مرسل” بیان کرتے ہیں ۔ ثقہ کی زیادت مقبول ہوتی ہے ۔ اسد السنۃ امام اسد بن موسیٰ ثقہ ہیں۔
3 سعید بن قیس کی اس حدیث کو امام ابنِ خزیمہ ، امام ابنِ حبان اور امام حاکمنے “صحیح” قرار دے کر اس کی توثیق کی ہے ۔ کسی نے اسے “مجہول” نہیں کہا۔
4 امام ابنِ عبدالبر فرماتے ہیں : یقولون : إنّ سعیدا والد یحیی بن سعید لم یسمع من أبیہ قیس شیئا “لوگ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کے والد سعید نے اپنے والد قیس سے کچھ بھی سماع نہیں کیا۔”(الإستيعاب لابن عبد البر : 9/186)
حافظ مزی فرماتے ہیں : وقیل : لم یسمع منہ “کہا گیا ہے کہ اس سعید نے اپنے والد قیس سے سماع نہیں کیا۔”(تهذيب الکمال للمزي : 15/332)
نامعلوم و مجہول لوگوں کی بات کا کوئی اعتبار نہیں جیسا کہ علامہ شوکانیلکھتے ہیں :
لم یعرف القائل لذلک “اس بات کا قائل معلوم نہیں ہوسکا۔”
(نيل الأوطار للشوکاني : 3/25 )
اس کے برعکس محدثین کا اس کی سند کو صحیح قرار دینا اتصالِ سند کی دلیل ہے۔پھر یہ اجماعی اصول ہے کہ جب راویوں کی ملاقات ممکن ہو تو سند متصل ہوتی ہے جب تک کسی ثقہ امام کی طرف سے اس کے خلاف کوئی واضح نقد معلوم نہ ہو جائے۔
یہ حدیث واضح نص ہے کہ جس شخص کی فجر کی سنتیں رہ جائیں وہ فرضوں کے متصل بعد ادا کر سکتا ہے ۔
وہ احادیث جن میں نماز ِ فجر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، ان کا تعلق طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہے جیسا کہ دو صحابی نماز ِ فجر گھر میں ادا کرنے کے بعد مسجد میں آئے ۔ ان کے سامنے جماعت ہو رہی تھی لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوئے ۔پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ہم نے نماز ِ فجر گھر میں ادا کر لی تھی ۔ اس پر نبیٔ اکرمنے فرمایا :
فلا تفعلا ، إذا صلّیتما في رحالکما، ثمّ أتیتما مسجد جماعۃ، فصلّیا معھم، فإنّھا لکما نافلۃ “تم آیندہ ایسا نہ کرنا ۔ جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو پھر کسی جماعت والی مسجد میں آؤ تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو ۔ وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔”(مسند الإمام أحمد : 4/160، 161، سنن أبي داود : 575، 576، سنن النسائي : 858، سنن الترمذي : 219، وقال : حسن صحيحٌ، وسندہ صحيحٌ)
اس حدیث کو امام ابنِ خزیمہ ( 1279)اور امام ابنِ حبان ( 1565)نے بھی “صحیح” قرار دیاہے۔
معلوم ہوا کہ نماز فجر کے بعد نوافل بھی ادا کیے جا سکتے ہیں۔ فجر کی سنتیں تو بالاولیٰ ادا ہو سکتی ہیں کیونکہ نبیٔ اکرم کی موجودگی میں ایسا ہوا ہے اور اس پر آپ نے رضامندی ظاہر کی ہے۔
2 فجر کی چھوڑی ہوئی سنتیں اگر فرضوں کے فوراً بعد ادا نہ ہو سکیں تو طلوعِ آفتاب کے بعد بھی ادا ہو سکتی ہیں جیسا کہ امام نافع ، سیدنا ابنِ عمر کے بارے میں بیان کرتے ہیں: إنّہ جاء إلی القوم وھم فی الصلاۃ، ولم یکن صلّی رکعتین، فدخل معھم، ثمّ جلس في مصلّاہ، فلمّا أضحیٰ قام فصلّاھما “آپ آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ آپ نے فجر کی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ جماعت میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ پھر اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھے رہے۔ جب چاشت کا وقت ہوا تو کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں ادا کر لیں۔”(مصنف ابن أبي شيبة : 2/254، وسندہ صحيحٌ)
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : لولم أصلّھما حتّی أصلّی الفجر صلّیتھما بعد طلوع الشمس “اگر میں ان دونوں رکعتوں کو فجر کی نماز تک ادا نہ کر سکوں تو پھر سورج طلوع ہونے کے بعد ادا کرتا ہوں۔”
(مصنف ابن أبي شيبة : 2/254، وسندہ صحيحٌ)
اما م ترمذیفرماتے ہیں : وبہ یقول سفیان الثوريّ، وابن المبارک، والشافعيّ، وأحمد، وإسحاق “امام سفیان ثوری ، امام عبدا للہ بن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہیہی کہتے ہیں۔”
(سنن الترمذي ، تحت الحديث : 423)
فائدہ : حدیث : ((من لم یصلّ رکعتي الفجر فلیصلّھما بعد ما تطلع الشمس))(سنن الترمذي : 423) اس کی سند قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے “ضعیف”ہے۔
تنبیہ : فجر کی سنتوں کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔ صحیح مسلم ( 725) وغیرہ کی حدیث اس پر شاہد ہے لیکن بعض لوگ اس سلسلے میں ایک “ضعیف” حدیث بھی پیش کرتے ہیں، سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہنے فرمایا :
لا تدعوا رکعتي الفجر، ولو طردتّکم الخیل “فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑو اگرچہ تمہیں دشمن کے گھوڑے کچل جائیں۔”
(مسند الإمام أحمد : 2/405، سنن أبي داود : 1258)
تبصرہ : اس کی سند “ضعیف” ہے ۔ اس کا راوی ابن سیلان “مجہول” ہے۔ حافظ ابن القطان فرماتے ہیں : وعلّتہ الجھل بحال ابن سیلان
“اس حدیث میں علت یہ ہے کہ ابنِ سیلان کے حالات نامعلوم ہیں۔”
(نصب الراية للزيلعي : 2/161)
حافظ ذہبیاس کے بارے میں فرماتے ہیں : لا یعرف “یہ نامعلوم راوی ہے۔”(ميزان الاعتدال : 2/547، ترجمة عبد الرحمن بن إسحاق المدني)
حافظ عبد الحق اشبیلی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :
ولیس إسنادہ بالقوي “اس کی سند مضبوط نہیں۔”(نصب الراية : 2/161)
بہرحال فجر کی سنتوں کی فضیلت ثابت ہے ۔ اس کے باوجود امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور نماز کھڑی ہو تو ایک رکعت پالینے کی امید کی صورت میں پیچھے کھڑا ہو کر سنتیں ادا کر لے پھر جماعت میں شامل ہو جائے ۔ اگر پوری نماز نکل جانے کا خدشہ ہو تو پھر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے ۔ پھر سنتیں نہ پڑھے ۔ نہ فرضوں کے متصل بعد نہ طلوعِ آفتاب کے بعد ۔(کتاب الأصل لمحمد بن الحسن : 1/166، الهداية : 1/152)
قارئین کرام ! یہ ہے فجر کی سنتوں کی فضیلت اور یہ ہے حنفی مذہب ۔ “یوسفی” مذہب بھی یہی ہے۔جبکہ اہل الحدیث کا مسلک یہ ہے کہ سنت کی پیروی کرتے ہوئے نہ پہلے سنتیں چھوڑی جائیں نہ بعد میں۔البتہ فرضوں کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ترک کر کے جماعت میں شامل ہوا جائے پھر بعد میں سنتیں ادا کی جائیں خواہ فوراً بعد خواہ طلوعِ آفتاب کے بعد ۔ اس سے تمام احادیث پر عمل ہو جاتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل الحدیث ہی عامل بالحدیث ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں