433

رقص کی شرعی حیثیت ۔۔ علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

رقص جاہل وبے عقل اوربے دین صوفیوں کی ایجاد کردہ بدعت ہے ۔ یہ بالاجماع ممنوع ہے ۔ سلف صالحین وائمہ دین میں سے کوئی ا س کا قائل وفاعل نہیں رہا ، البتہ اہل علم سے اس کی مذمت اورممانعت ضرور ثابت ہے ۔
b    علامہ عینی حنفی   رحمہ اللہ  نے (م ٨٥٥ھ) نے صوفیوں کی کارستانیوں کے ذکر وردّ میں کیا خوب کہا ہے :     ولا اعتبار لما أبدعتہ الجھلۃ من الصّوفیۃ فی ذلک (أی الغناء وغیرہ ) ، فإنّک إذا تحقّقت أقوالھم فی ذلک ورأیت أفعالھم وقفت علی آثار الزنادقۃ منھم ۔     ”اور( غناء وغیرہ کے نام پر) جاہل صوفیوں نے جو بدعات نکال لی ہیں ، ان کا کوئی اعتبار نہیں ، کیونکہ آپ جب اس بارے میں ان کے اقوال کی تفتیش کریں گے اور ان کے افعال کو دیکھیں گے تو ان میں بے دین وزندیق لوگوں کی علامات پائیں گے ۔”
(عمدۃ القاری : ٢١/٤٠١)
رقص غیر شرعی رسم ہے ، جو دین کے نام پر جاری کردی گئی ہے ، لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ نہیں ہوسکتی ۔
علامہ ابن الجوزی   رحمہ اللہ (م ٥٩٧ھ) لکھتے ہیں :      وقد انعقد اجتماع العلماء أنّ من ادّعی الرّقص قربہ إلی اللّٰہ تعالیٰ فقد کفر ۔     ”اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق واجماع واقع ہوچکا ہے کہ جو شخص رقص کو قرب ِ الٰہی کا ذریعہ قرار دے ، وہ کافر ہے ۔”
(صید الخاطر لابن الجوزی : ص ١٥٤)
علامہ احمد طحطاوی حنفی (م ١٢٣٣ھ) لکھتے ہیں :     وأمّا الرّقص والتّصفیق والصّریخ وضرب الأوتار والضّجّ والبوق الّذی یفعلہ بعض من یدّعی التّصوّف ، فإنّہ حرام بالإجماع ، لأنّھا زیّ الکفّار ۔ ”رہا رقص کرنا ، تالیاں پیٹنا ، شور شرابا ، ہارمونیم بجانا ، چیخ وپکار اور بِگل بجانا ، جو کہ صوفیت کے بعض دعویداروں کا معمول ہے ، یہ بالاجماع حرام ہے ، کیونکہ یہ کفار کا طور طریقہ ہے ۔”(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ١٧٤، صفۃ الاذکار)
حصکفی حنفی لکھتے ہیں :      من یستحلّ الرّقص قالوا بکفرہ ، ولا سیّما بالدّفّ یلھو ویزمر ۔     ”جو رقص کو حلال سمجھتا ہے ، وہ ان (علمائے کرام )کے بقول کافر ہے ، خصوصاً جو ساتھ ساتھ کھیل تماشاکرتا اور ساز بجاتا ہے ۔”(الدر المختار : ٤/٤٤٦)
اس قول کی تشریح میں ابنِ عابدین شامی حنفی (١١٩٨۔١٢٥٢ھ) لکھتے ہیں :
والمراد بہ التّمایل والخفض والرّفع بحرکات موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب إلی التّصوّف ، وقد نقل فی البزازیۃ من القرطبیّ إجماع الأئمّۃ علی حرمۃ الغناء وضرب القضیب والرّقص ۔ ”اس (رقص)سے مراد جھومنا اور موزون حرکات کے ساتھ نیچے اوپر ہونا ہے ، جیسا کہ بعض وہ لوگ کرتے ہیں ، جو تصوف کا دم بھرتے ہیں ۔ بزازیہ میں علامہ قرطبی سے غناء ، ڈھول پیٹنے اور رقص کرنے کی حرمت پر ائمہ کا اجماع واتفاق نقل کیا گیا ہے ۔”
(فتاوی شامی : ٤/٤٤٦)
مشہور مفسر علامہ قرطبی   رحمہ اللہ  (٦٠٠۔٦٧١ھ)لکھتے ہیں :      استدلّ العلماء بھذہ الآیۃ علی ذمّ الرّقص وتعاطیہ ، قال الإمام أبو الوفاء ابن عقیل : قد نصّ القرآن علی النّھی عن الرّقص ، فقال : ( وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحًا ) وذمّ المختال والرّقص أشدّ المرح والبطر ۔     ”اس آیت ِ کریمہ سے علمائے کرام نے رقص اور اس میں انہماک کی مذمت پر استدلال کیا ہے ۔ امام ابوالوفاء ابنِ عقیل کا فرمان ہے کہ قرآنِ کریم نے رقص کی ممانعت پر نص قائم کرتے ہوئے فرمایا: ( وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحًا ) (اورزمین پر اکڑ کر مت چلو) ، جھومنا (ناچنا) اور رقص کرنا تکبر وغرور سے بھی (گناہ میں) سخت ہے ۔”(تفسیر القرطبی : ١٠/٢٦٣)
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا أُولٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ ) (لقمان : ٣١/٦)
”اور کچھ لوگ بے ہودہ باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کریںاور اسے مذاق بنائیں ۔ یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔”
رقص لہو الحدیث ہے ، لہٰذا ممنوع وحرام ہے ۔
اس کے باوجود بعض گمراہ صوفی اس بدعت ِ قبیحہ اور شنیعہ کو شرعی دلائل سے کشید کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ، جیساکہ:
دلیل نمبر 1 :      سیدنا ایوب   علیہ السلام  کے بارے میںفرمانِ باری تعالیٰ ہے :
( أُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ) (صۤ : ٣٨/٤٢)
”(ہم نے حکم دیا اے ایوب!)اپنا پاؤں ماریں ، (دیکھو)یہ نہانے کے لیے ٹھنڈا اورپینے کو (میٹھاپانی ہے)۔”
علامہ قرطبی   رحمہ اللہ  لکھتے ہیں :      استدلّ بعض الجہّال المتزھّدۃ وطغام المتصوّفۃ بقولہ تعالیٰ لأیّوب : ( أُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ) علیٰ جواز الرّقص ۔۔۔
”بعض زہد وتقویٰ کی ملمع سازی کرنے والے جاہلوں اور صوفی ازم کا نعرہ بلند کرنے والے کمینے لوگوں نے سیدنا ایوب   علیہ السلام  کو جاری کیے گئے فرمانِ باری تعالیٰ ( أُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ) (صۤ : ٣٨/٤٢) سے رقص کے جواز پر استدلال کیا ہے۔”(تفسیر القرطبی : ١٥/٢١٥)
حافظ ابن الجوزی   رحمہ اللہ  گمراہ صوفیوں کے ردّ وجواب میں لکھتے ہیں :
وھذا الاحتجاج بارد ، لأنّہ لو کان أمر بضرب الرّجل فرحا کان لھم فیہ شبھۃ ، وإنّما أمر بضرب الرّجل لینبع الماء ، قال ابن عقیل : أین الدّلالۃ فی مبتلی أمر عند کشف البلاء بأن یضرب برجلہ الأرض لینبع الماء إعجازا من الرّقص ، ولئن جاز أن یکون تحریک رجل قد أنحلھا تحکم الھوام دلالۃ علی جواز الرّقص فی الإسلام جاز أن یجعل قولہ تعالیٰ لموسیٰ : ( اِضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ ) دلالۃ علی ضرب الجماد بالقضبان ، نعوذ باللّٰہ من التّلاعب بالشّرع ۔
”یہ استدلال بالکل بودا ہے ، کیونکہ اگر پاؤں مارنے کا حکم خوشی کے لیے دیا گیا ہوتا تو ان کے لیے اس استدلال کی کوئی گنجائش ہوتی ، سیدنا ایوب   علیہ السلام  کو تو اس لیے پاؤں مارنے کا حکم دیا گیا تھا کہ پانی پھوٹ پڑے ۔ابنِ عقیل کہتے ہیں کہ ایک بیمار آدمی ، جسے بیماری سے نجات پانے کے لیے معجزہ کے طور پر پانی نکالنے کے لیے زمین پرپاؤں مارنے کا حکم دیا گیا ، اس سے رقص کی دلیل کہاں سے آگئی ؟ اگر کیڑوں کے کھائے ہوئے (سیدنا ایوب   علیہ السلام  کے جسم مبارک میں کیڑوں کا پڑنا بے ثبوت بات ہے۔غ۔م)پاؤں کو حرکت دینے سے اسلام میں رقص کی دلیل لینا جائز ہے تویہ بھی جائز ہے کہ سیدنا موسیٰ   علیہ السلام  کو پتھر پر عصا مارنے کے حکم کو جمادات کو ڈنڈے سے پیٹنے کی دلیل بنانا بھی جائز ہونا چاہیے ۔ شریعت کو کھیل تماشا بنانے سے اللہ کی پناہ!”(تلبیس ابلیس لابن الجوزی : ١/٢٣٠)
دلیل نمبر 2 :      سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے :
وکان یوم عید یلعب فیہ السُّودان بالدّرق والحراب ، فإمّا سألت رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وإمّا قال : أتشتھین تنظرین ؟ قلت : نعم ! فأقامنی ورائہ ، خدّی علی خدّہ ، وھو یقول : دونکم یا بنی أرفدۃ ، حتّی إذا مللت ، قال : حسبک ، قلت : نعم ! قال : فاذھبی ۔     ”عید کا دن تھا ، حبشی لوگ ڈھالوں اورنیزوں کے ساتھ (جنگی کھیل)کھیل رہے تھے ۔ یا تو میں نے سوال کیا تھا یا پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود فرمایا تھا ، کیا آپ دیکھنے کی خواہش مند ہیں ؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا ، میرا رخسار آپ کے رخسار ِ مبارک کے اوپر تھا ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرما رہے تھے ، کھیلتے رہو ، اے بنی ارفدہ! جب میں تھک گئی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بس ؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، اچھا جاؤ۔”
(صحیح بخاری : ٩٥٠، صحیح مسلم : ٨٩٢/٢٠)
صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :      جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد ۔    ”ایک بار عید کے دن حبشی لوگ آکر مسجد میں جنگی مشقیں کرنے لگے ۔”
b    سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  سے کی روایت ہے :      کانت الحبشۃ یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ویرقصون ویقولون : محمّد عبد صالح ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : ما یقولون ؟ قالوا : یقولون : محمّد عبد صالح ۔
”حبشی لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے جنگی مشقیں کررہے تھے اور رقص کررہے تھے اور کہہ رہے تھے ، محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  نیک آدمی ہیں ۔ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا ، یہ کیا کہتے ہیں ؟ صحابہ نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  نیک آدمی ہیں۔”
(مسند الامام احمد : ٣/١٥٢، وسندہ، صحیح وصححہ ابن حبان : ٥٨٧٠)
صحیح ابن حبان میں الفاظ ہیں :      ویتکلّمون بکلام لا یفھمہ ۔
”وہ ایسی کلام کررہے تھے ، جسے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سمجھ نہیں پارہے تھے۔”
b    سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے ایک روایت ہے :     وھم یلعبون ویرقصون ۔
”وہ کھیل رہے تھے اور ناچ رہے تھے ۔”(المعجم الاوسط للطبرانی : ١١٣٥٩)
اس کی سند سخت ”ضعیف” ہے ، کیونکہ :     1 امام طبرانی   رحمہ اللہ  کے شیخ ہاشم بن مرثد کی توثیق ثابت نہیں ۔ 2 قرظہ راوی ”مجہول”اورغیرمعروف ہے ۔ اس کو حافظ ذہبی   رحمہ اللہ (المیزان : ٣/٣٨٧) اور حافظ ابنِ حجر  رحمہ اللہ (التقریب : ٥٥٣٥)نے لا یُعرف (غیر معروف )کہا ہے ، لہٰذا سند سخت ”ضعیف” ہے ۔
n     حافظ ابنِ حجر   رحمہ اللہ  (٧٧٣۔٨٥٢ھ)لکھتے ہیں :      واستدلّ قوم من الصّوفیۃ بحدیث الباب علی جواز الرّقص وسماع آلات الملاھی ، وطعن فیہ الجمھور باختلاف المقصدین ، فإنّ لعب الحبشۃ بحرابھم کان للتّمرین علی الحرب ، فلا یحتجّ بہ للرّقص فی اللّھو ۔     ”صوفیوں کے ایک گروہ نے اس حدیث سے رقص اور آلات ِ موسیقی کے سماع پر استدلال کیا ہے ۔ جمہور علمائے کرام نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے دونوں مقصد مختلف ہیں ،کیونکہ حبشی لوگ تو جنگی مشق کے لیے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، لہٰذا اس سے لہو ولعب میں رقص کرنے پر کوئی دلیل نہیں لی جاسکتی ۔”(فتح الباری لابن حجر : ٦/٥٥٣)
n    حافظ ابن الجوزی   رحمہ اللہ  (م ٥٩٧ھ)لکھتے ہیں :      زفن الحبشۃ نوع من المشی ، یفعل عند اللّقاء للحرب ۔     ” حبشی لوگوں کے رقص سے مراد ایک قسم کی چال ہے ، جو جنگ میں دشمن سے ملاقات کے وقت چلی جاتی ہے ۔”(تلبیس ابلیس لابن الجوزی : ١/٢٣٠)
n    یہی بات علامہ قرطبی مفسر  رحمہ اللہ  نے فرمائی ہے ۔(تفسیر قرطبی : ١٥/٢١٥)
n    حافظ نووی   رحمہ اللہ  یزفنون کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
معناہ یرقصون ، وحملہ العلماء علی التّوثّب بسلاحھم ولعبھم بحرابھم علی قریب من ھیئۃ الرّقص ، لأنّ معظم الرّوایات إنّما فیھا لعبھم بحرابھم ، فتتأوّل ھذہ اللّفظۃ علی موافقۃ سائر الرّوایات ۔     ”اس کا معنیٰ رقص کرنا ہے ، علمائے کرام نے اس سے مراد اسلحہ کے ساتھ ان کا اچھلنا کودنا اور نیزوں کے ساتھ ان کا کھیلنا مراد لیا ہے ، جو کہ رقص کی کیفیت سے قریب قریب ہوتا ہے ۔ چونکہ اکثر روایات میں ان کے نیزوں کے ساتھ کھیلنے کا ذکر ہے ، لہٰذا اس لفظ کی باقی روایات کے مطابق ہی تفسیر کی جائے گی ۔”(شرح صحیح مسلم للنووی : ٦/١٨٦)
b    سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے :      بینما الحبشۃ یلعبون عند رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بحرابھم إذ دخل عمر بن الخطّاب ، فأھوٰی إلی الحصباء یحصبھم بھا ، فقال لہ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : یا عمر ! دعھم ۔
”اس دوران کہ حبشی لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اپنے نیزوں کے ساتھ (جنگی کھیل)کھیل رہے تھے کہ اچانک سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  داخل ہوئے اور وہ کنکریوں کی طرف جھکے کہ ان کو ماریں۔ اس پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، اے عمر ! ان کو چھوڑ دو ۔”
(مسند الامام احمد : ٢/٣٠٨، صحیح بخاری : ٢٩٠١، صحیح مسلم : ٨٩٣)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ حبشی لوگ عید کے دن ، یعنی خوشی کے موقع پر جنگی مشقوں میں مصروف تھے۔ وہ یہ کام نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم واکرام میں نہیں کررہے تھے ۔ تب ہی تو سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  ان کو ڈانٹنے لگے تھے اورکنکریاں مارنے کے لیے تیار ہوگئے تھے ۔ نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے روکنے پر آپ  رضی اللہ عنہ  رک گئے ۔اگر یہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم والا کام تھا تو کیا (نعوذ باللہ!)سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  گستاخِ رسول تھے کہ ان کو یہ کام پسند نہ آیا اور اس کو روکنے کے درپے ہوگئے تھے ؟
بعض لوگ جہالت اورغلو کی بنیاد پر اس اقدام کو نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم میں رقص قرار دیتے ہیں، جبکہ محدثین کرام اس کو جنگی مشق قرار دے رہے ہیں۔
سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ میں یہ مشقیں دیکھ رہی تھی ،یہاں تک کہ میرا جی بھر گیا اور میں خود ہی وہاں سے چلی گئی ۔ (مسند الامام احمد : ٦/٣٣، صحیح بخاری : ٩٤٩، صحیح مسلم : ٨٩٢)
n    حافظ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (٥٧٨۔٦٥٦ھ) لکھتے ہیں:
وأمّا لعب الحبشۃ فی المسجد ، فکان لعبا بالحراب والدّرق تواثبا ورقصا بھما ، وھو من باب التّدریب علی الحرب والتّمرین والتّنشیط علیہ ، وھو من قبیل المندوب ، ولذلک أباحہ النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی المسجد ۔
”رہا حبشی لوگوں کا مسجد میں کھیلنا تو یہ نیزوں اورڈھالوں کے ساتھ اچھل کود تھی ۔ یہ جنگی تربیت ، ٹریننگ اور مشق تھی ۔یہ مستحب کاموں میں سے ہے ، اسی لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسجد میں اس کی اجازت دی تھی ۔”(المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم للقرطبی : کتاب الجمعۃ ، باب ما یقرأ بہ فی صلاۃ العیدین)
حاصل یہ ہے کہ جنگی مشق کے دوران ایک مخصوص حرکت اور انداز کو رقص سے تعبیر کیا گیا ہے ، جیسا کہ محدثین کرام کی تصریحات سے معلوم ہوا ہے ۔
دلیل نمبر 2 :      سیدنا علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے :
أتینا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أنا وجعفر وزید ، فقال لزید : أنت أخونا ومولانا ، فحجل ، وقال لجعفر : أشبھت خَلْقی وخُلُقی ، فحجل وراء حجل زید ، ثمّ قال لی : أنت منّی وأنا منک ، فحجلت وراء حجل جعفر ۔
”میں ، جعفر (بن ابی طالب)اور زید (بن حارثہ) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پا س آئے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے زید  رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، آپ ہمارے بھائی اوردوست ہیں ، وہ ناچے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جعفر  رضی اللہ عنہ  سے فرمایا ، آپ شکل وصورت اور اخلاق میں میرے مشابہ ہیں تو وہ زید کے ناچنے کے پیچھے ناچے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے فرمایا ، آپ مجھ سے اور میں آپ سے ہوں ، ا س پر میں جعفر  رضی اللہ عنہ  کے ناچنے کے پیچھے ناچا ۔”(مسند الامام احمد : ١/١٠٨، السنن الکبرٰی للبیہقی : ٨/٦، ١٠/٢٢٦)
تبصرہ :      اس کی تین سندیں ہیں ، ایک مسند احمد میں اور دو بیہقی میں ، لیکن یہ سب کی سب ”ضعیف” ہیں ۔
امام احمد  رحمہ اللہ  والی سند ابواسحاق السبیعی کی ”تدلیس” کی بنا پر ”ضعیف” ہے ۔ امام بیہقی  رحمہ اللہ نے اس کی دوسندیں پیش کی ہیں ۔ پہلی سند(٨/٥۔٦)میں اگرچہ ابواسحاق السبیعی نے سماع کی تصریح کی ہے ، مگر اس سند کا ایک راوی عبد اللہ بن محمد (بن سعید)بن ابی مریم سخت ”ضعیف” ہے ۔
امام ابنِ عدی   رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :     عبد اللّٰہ بن محمّد بن سعید بن أبی مریم مصریّ ، یحدّث عن الفریابیّ وغیرہ بالبواطیل ۔۔۔
”عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابی مریم مصری ہے ۔ یہ فریابی وغیرہ سے باطل روایات بیان کرتا ہے۔”
نیز لکھتے ہیں :     وعبد اللّٰہ بن محمّد بن سعید بن أبی مریم ھذا إمّا أن یکون مغفّلا لا یدری ما یخرج من رأسہ أو یتعمّد ، فإنّی رأیت لہ غیر حدیث ممّا لم أذکرہ أیضا ھاھنا غیر محفوظ ۔     ”یہ عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابی مریم راوی یاتو اتنا غیر حاضر دماغ تھا کہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کے سر سے کیا نکل رہا ہے یا پھر یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا تھا ، کیونکہ میں نے جو احادیث یہاں ذکرنہیں کیں، ان میں بھی اس کی کئی غیر محفوظ احادیث دیکھی ہیں۔”
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٤/٢٥٥)
علامہ ہیثمی   رحمہ اللہ لکھتے ہیں :      وھو ضعیف جدّا ۔ ”یہ سخت ضعیف راوی ہے۔”(مجمع الزوائد : ٢/٣٨٩)
اس میں دوسری علت یہ ہے کہ ابواسحاق السبیعی ”مختلط” ہیں ،ان سے بیان کرنے والے راوی زکریا بن ابی زائدہ ہیں ، جو کہ ان سے اختلاط کے بعد بیان کرتے ہیں ۔
اوردوسری سند(١٠/٢٦٦) میںان سے اختلاط سے پہلے بیان کرنے والے راوی اسرائیل بن یونس بیان کرتے ہیں ، لیکن وہاں ابواسحاق ”عن” سے بیان کررہے ہیں اور وہ ”مدلس” بھی ہیں، لہٰذا یہ واقعہ تمام سندوں سے مردود ہے ۔        والحمد للّٰہ !
حافظ بیہقی   رحمہ اللہ  (م٤٥٨ھ) لکھتے ہیں :      وفی ھذا إن صحّ دلالۃ علی جواز الحجل ، وھو أن یرفع رجلا ویقفز علی الأخری من الفرح ، فالرّقص الّذی یکون علی مثالہ یکون مثلہ فی الجواز ۔     ”اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو اس میں حجل کی اجازت ہے ، وہ یہ ہے کہ آدمی خوشی سے ایک ٹانگ اٹھائے اور دوسری پر ناچے ، چنانچہ جو رقص اس طرح کا ہوگا ، وہ جواز میں اسی کی طرح ہوگا ۔”(السنن الکبرٰی للبیہقی : ١٠/٢٢٦)
جب یہ روایت ہی بلحاظ ِ سند ثابت نہیں ہوسکی تو اس کی دلالت بھی خود بخود ختم ہوگئی ۔ دوسری بات یہ بھی ثابت ہوئی کہ حافظ بیہقی   رحمہ اللہ بھی اسے صحیح نہ سمجھتے تھے ، ورنہ تردّد کا اظہار نہ کرتے ۔
دلیل نمبر 4 :      محمد بن علی بن الحسین الباقر   رحمہ اللہ (٥٦۔١١٨ھ) فرماتے ہیں:
إنّ ابنۃ حمزۃ لتطوف بین الرّجال إذ أخذ علیّ بیدھا ، فألقاھا إلی فاطمۃ فی ھودجھا ، قال : فاختصم فیھا علیّ وجعفر وزید بن حارثۃ ، حتّی ارتفعت أصواتھم ، فأیقظوا النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم من نومہ ، قال : ھلمّوا ، أقض بینکم فیھا وفی غیرھا ، فقال علیّ : ابنۃ عمّی ، وأنا أخرجتھا ، وأنا أحقّ بھا ، وقال : جعفر : ابنۃ عمّی وخالتھا عندی ، وقال زید : ابنۃ أخی ، فقال فی کلّ واحد قولا رضیہ ، فقضی بھا لجعفر وقال : الخالۃ الوالدۃ ، فقام جعفر ، فحجل حول النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، دار علیہ ، فقال النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : ما ھذا ؟ قال : شیء رأیت الحبشۃ یصنعونہ بملوکھم ۔     ”حمزہ  رضی اللہ عنہ  کی بیٹی مردوں کے درمیان گھوم رہی تھی کہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے اس کا ہاتھ پکڑ ااور اسے سیدہ فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کے ساتھ ہودج میں ڈال دیا ۔پھر اس کے بارے میں سیدنا علی ، جعفر اور زید بن حارثہ y جھگڑ پڑے ، یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہوگئیں اور انہوں نے (اپنے شور سے)نبی ئاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو بیدار کردیا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، آؤ میں تمہارے درمیان اس بارے میں اور دوسرے معاملات میں فیصلہ کروں ۔ سیدناعلی  رضی اللہ عنہ  عرض کرنے لگے کہ یہ میری چچا زاد ہے اور میں نے اسے ساتھ لیا ہے اور میں ہی اس کا زیادہ حق دار ہوں ۔سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  کہنے لگے ، یہ میری چچازاد ہے اور اس کی خالہ میرے عقد میں ہے ۔ سیدنا زید  رضی اللہ عنہ  نے عرض کی ، یہ میری بھتیجی ہے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سب کے لیے ایسی بات کہی ، جس نے ان سب کو راضی کر دیا ، پھر فیصلہ سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  کے حق میں کرکے فرمایا ، خالہ والدہ ہی ہے ۔اس پر سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  اٹھے اور نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گرد ناچنے لگے اور چکر لگانے لگے ۔ نبی ئ اکرم  علیہ السلام  نے فرمایا ، یہ کیا ہے ؟ سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  نے عرض کی ، یہ ایسا کام ہے ، جو میں نے حبشی لوگوں کو اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے دیکھا تھا ۔”
(طبقات ابن سعد : ٤/٣٥۔٣٦، مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٠/١٧٠، مختصراً)
تبصرہ :      اس کی سند ”ضعیف” ہے ، کیونکہ :
1    محمد بن علی الباقر   رحمہ اللہ  تابعی ہیں اور وہ ڈائریکٹ نبی ئاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے حدیث بیان کررہے ہیں ، لہٰذا یہ روایت ”مرسل” ہونے کی وجہ سے ”ضعیف” ہے ۔
2    حفص بن غیاث ”مدلس’ ‘ہیں ۔ ثقہ مدلس بخاری ومسلم کے علاوہ ”عن” سے روایت کرے تو وہ ”ضعیف” ہوتی ہے ۔ اس میں سماع کی تصریح نہیں ہے ۔
دلیل نمبر 5 :      قال محمّد بن عمر الواقدیّ : حدّثنی ابن أبی حبیبۃ عن داو،د بن الحصین عن عکرمۃ عن ابن عبّاس ، قال : فلمّا قضیٰ بھا لجعفر قام جعفر ، فحجل حول رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : ما ھذا یا جعفر ! قال : یا رسول اللّٰہ ! کان النّجاشیّ إذا أرضیٰ أحدًا قام ، فحجل حولہ ۔    ”سیدنا ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا حمزہ کی بیٹی کا فیصلہ سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  کے حق میں کردیا تو وہ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ناچنے لگے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، اے جعفر ! یہ کیا ؟ عرض کی ، اے اللہ کے رسول ! نجاشی جب کسی کو خوش کرتا تو وہ شخص کھڑا ہوتا اور نجاشی کے گرد ناچتا (اسی لیے میں نے ایسا کیا ہے)۔”
(المغازی لمحمد بن عمر الواقدی : ٢/٧٣٨، تاریخ دمشق لابن عساکر : ١٩/٣٦١، کنز العمال : ١٤٠٣٣)
تبصرہ :      یہ روایت موضوع(من گھڑت ) ہے ، کیونکہ :
1    اس کا راوی محمد بن عمر الواقدی جمہور کے نزدیک ”ضعیف ، متروک اور کذاب” ہے ۔
حافظ ابنِ ملقن   رحمہ اللہ لکھتے ہیں :      وقد ضعّفہ الجمہور ۔ ”اسے جمہور نے ضعیف قرار دیاہوا ہے۔”(البدر المنیر لابن الملقن : ٥/٣٢٤)
حافظ ابنِ حجر   رحمہ اللہ  نے اسے ”متروک” کہاہے ۔(تقریب التھذیب : ٦١٧٥)
امام شافعی   رحمہ اللہ فرماتے ہیں :     کتب الوقدیّ کذب ۔    ”واقدی کی کتابیں جھوٹ کا پلندا ہیں۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٨/٢١ ، وسندہ، صحیح)
امام اسحاق بن راہویہ   رحمہ اللہ فرماتے ہیں :      لأنّہ عندی ممن یضع الحدیث ۔
”میرے نزدیک یہ جھوٹی احادیث گھڑنے والا ہے ۔”(الجرح والتعدیل : ٨/٢١)
امام احمد   رحمہ اللہ نے اسے ”کذاب” قرار دیا ہے ۔(الکامل لابن عدی : ٦/٢٤١ ، وسندہ، حسن)
امام بخاری ، امام ابو زرعہ ، امام نسائی اور امام عقیلی Sنے اسے ”متروک الحدیث ” کہا ہے ، اما م یحییٰ بن معین اور جمہور نے ”ضعیف” کہاہے ۔
امام ابنِ عدی   رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یروی أحادیث غیر محفوظۃ والبلاء منہ ، ومتون أخبار الواقدیّ غیر محفوظۃ ، وھو بیّن الضّعف ۔ ”یہ غیر محفوظ احادیث بیان کرتا ہے اور یہ مصیبت اسی کی طرف سے ہے ، واقدی کی احادیث کے متون غیر محفوظ ہیں ، وہ واضح ضعیف راوی ہے ۔”(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی : ٦/٢٤٣)
2    داؤد بن الحصین کی عکرمہ سے روایت کے متعلق امام علی بن المدینی   رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:
ما روی عن عکرمۃ فمنکر الحدیث ۔ ”جو احادیث یہ عکرمہ سے بیان کرتا ہے ، ان میں منکرالحدیث ہوتا ہے ۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٣/٤٠٩، وسندہ، صحیحٌ)
علامہ ابن الجوزی   رحمہ اللہ لکھتے ہیں :      وأمّا الحجل فھو نوع من المشی یفعل عند الفرح ، فأین ھو من الرّقص ؟     ”حجل ایک قسم کی چال ہے ، جو خوشی کے وقت چلی جاتی ہے ، اس کا رقص سے کیا تعلق ؟ ”(تلبیس ابلیس لابن الجوزی : ١/٢٣٠)
دلیل نمبر 6 :      سیدنا جابر بن عبداللہ  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے :
”جب سیدنا جعفر بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  حبشہ سے واپس آئے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کا استقبال کیا ۔ جب سیدنا جعفر  رضی اللہ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ناچنے لگے ، یعنی اپنی طرف سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم میں ایک ٹانگ پر چلنے لگے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔”
(دلائل النبوۃ للبیہقی : ٤/٢٤٦، ح : ١٥٩٦)
تبصرہ :      یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے ، کیونکہ :
1    امام بیہقی   رحمہ اللہ  اس کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :     فی إسنادہ إلی الثّوریّ من لا یعرف ۔     ”اس حدیث کی سفیان ثوری کی طرف سند میں ایک مجہول راوی ہے ۔”
2    امام سفیان ثوری ”مدلس” ہیں اور سماع کی صراحت نہیںکی ۔
3    ابوالزبیر بھی ”مدلس” ہیں اور ”عن” کے ساتھ بیان کررہے ہیں ، جو کہ ”مدلس” سے بخاری ومسلم کے علاوہ قبول نہیں ہوتا ۔
نوٹ :      بنت ِ حمزہ کا واقعہ صحیح بخاری(٢٦٩٩ وغیرہ) میں بھی موجود ہے ، لیکن وہاں صحابہ کرام ] کے ناچنے کا کوئی ذکر نہیں ، لہٰذا ان روایات پر ضعف کا جو حکم لگایا گیا ہے ، وہ ناچ والے سیاق کے متعلق ہے۔
الحاصل :      رقص ممنوع وحرام ہے ، اس کے جواز پر کوئی دلیلِ شرعی نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.