248

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ اخوت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


سیدنا علی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے کئی رشتے تھے۔اسلام کا رشتہ سب رشتوں پر بھاری ہوتا ہے۔دیگر صحابہ کرام]کی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلامی اخوت کا رشتہ بھی تھا، اس کے ساتھ ساتھ ایک طرف آپ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی، تو دوسری طرف داماد بھی تھے۔یہ سارے ثابت شدہ رشتے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے باعث ِعزت و اعزاز ہیں اور ان کی فضیلت و منقبت کا باعث بھی ہیں۔
’’ضعیف‘‘و من گھڑت روایات سے کسی کے فضائل کو ثابت کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔تمام صحابہ کرام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلامی رشتہ ٔ اخوت موجود تھا،لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کے بعد رشتۂ اخوت قائم کیا تھا۔ ان لوگوں کے دلائل کا علمی اور تحقیقی جائزہ ملاحظہ ہو ؛
دلیل نمبر 1 : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے منسوب ہے :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے،اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔عرض کیا:اللہ کے رسول ! آپ نے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی ہے اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ‘ ۔
’’آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں۔‘‘
(سنن الترمذي : 3720، وقال : حسنٌ)
تبصرہ :
اس کی سند سخت ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
1 حکیم بن جبیر اسدی راوی ’’ضعیف‘‘اور ’’متروک‘‘ہے۔
b اسے امام احمد بن حنبل ، امام یحییٰ بن معین، امام نسائی اور جمہور محدثین رحمہم اللہ نے ’’ضعیف‘‘کہا ہے۔
b امام دارقطنی رحمہ اللہ اسے ’’ متروک‘‘قرار دیتے ہیں۔(السنن : 122/2)
b حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَہُوَ مَتْرُوکٌ، ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’یہ متروک راوی ہے،جمہور ائمہ محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘
(مجمع الزوائد : 320/5، 299/7)
b علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں : ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’جمہور ائمہ محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(عمدۃ القاري : 95/11)
n مستدرک ِحاکم(14/3)میں حکیم بن جبیر کی متابعت سالم بن ابو حفصہ نے کر رکھی ہے۔لیکن یہ جھوٹی سند ہے،کیونکہ اس میں اسحاق بن بشر کاہلی ’’متروک‘‘، کذاب اور ’’وضاع‘‘ راوی موجود ہے۔
b اس کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَہُوَ فِي عِدَادِ مَنْ یَّضَعُ الْحَدِیثَ ۔
’’اس کا شمار حدیث گھڑنے والوں میں ہوتا ہے۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال : 342/1)
2 جمیع بن عمیر جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہے۔
دلیل نمبر 2 : سیدنازید بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مابین یہ مکالمہ ہوا :
فَقَالَ : ’وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، مَا أَخَّرْتُکَ إِلَّا لِنَفْسِي، فَأَنْتَ عِنْدِي بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُّوسٰی وَوَارِثِي‘، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا أَرِثُ مِنْکَ؟ قَالَ : ’مَا أَوْرَثَتِ الْـأَنْبِیَائُ‘، قَالَ : وَمَا أَوْرَثَتِ الْـأَنْبِیَائُ قَبْلَکَ؟ قَالَ : ’کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ، وَأَنْتَ مَعِيَ، فِي قَصْرِي، فِي الْجَنَّۃِ، مَعَ فَاطِمَۃَ ابْنَتِي، وَرَفِیقِي‘، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْآیَۃَ : {اِخْوَانًا عَلٰی سُرَرٍ مُّتَقَابِلِینَ}(الحجر 15 : 47)، اَلْـأَخِلَّائُ فِي اللّٰہِ، یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم،جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نے آپ کو صرف اپنی ذات کے لئے پیچھے رکھا ہے۔آپ کی میرے نزدیک وہی قدرو منزلت ہے،جو ہارون کی موسیٰ(i)کے نزدیک تھی۔آپ میرے وارث ہیں۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت میں کیا حاصل کروں گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو انبیا کی وراثت میں ہوتاہے؟ عرض کیا:آپ سے پہلے انبیا کی وراثت میں کیا تھا؟ فرمایا:کتاب اللہ اور انبیاء کرام کی سنت۔ آپ جنت میں میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ میرے محل میں ہوں گے۔ آپ میرے رفیق ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اِخْوَانًا عَلٰی سُرَرٍ مُّتَقَابِلِینَ}(الحجر 15 : 47)(وہ بھائیوں کی طرح ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے)۔اللہ تعالیٰ کے لئے دلی دوستی رکھنے والے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘
(تاریخ ابن أبي خیثمۃ : 673/2، ت : 2824، المعجم الکبیر للطبراني : 220/5، تاریخ دمشق لابن عساکر : 52/42)
تبصرہ :
یہ باطل روایت ہے،کیونکہ :
1 عبدالمومن بن عباد عبدی راوی کے بارے میں :
b امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ ۔
’’یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔‘‘(التاریخ الکبیر : 117/6)
b امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے اس پر’’ضعیف‘‘کا حکم لگایا ہے۔
(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 66/6)
b امام عقیلی رحمہ اللہ نے اس کی ایک روایت کو کمزور کہا ہے۔
(الضعفاء الکبیر : 91/3)
b حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَذَکَرَہُ السَّاجِي، وَابْنُ الْجَارُودِ فِي الضُّعَفَائِ ۔
’’اس کو امام ساجی اور امام ابن جارود نے ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے۔‘‘
(لسان المیزان : 75/4)
سوائے امام ابن حبان(الثقات : 417/8)کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
2 یزید بن معن کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
3 اس میں ’’رجل مبہم‘‘ بھی موجود ہے۔
n تاریخ کبیر(386/3)کی سند میں ابراہیم بن بشیر ازدی اور یحییٰ بن معین مدنی دونوں ’’مجہول‘‘ ہیں۔(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 90/2)
نیز سعد بن شرحبیل کی توثیق مطلوب ہے۔
m اس روایت کے بارے میں حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إِنَّ فِي إِسْنَادِہٖ ضُعْفًا ۔ ’’بلاشبہ اس کی سند میں ضعف ہے۔‘‘
(الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب : 159/1)
m حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَقَالَ ابْنُ السَّکَنِ : رُوِي حَدِیثُہٗ مِنْ ثَلاَثِ طُرُقٍ؛ لَیْسَ فِیہَا مَا یَصِحُّ ۔
’’امام ابن سکن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو تین سندوں سے بیان کیا گیا ہے ،مگر ان میں کوئی بھی صحیح نہیں۔‘‘(الإصابۃ في تمییز الصحابۃ : 489/2)
m امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَہٰذَا إِسْنَادٌ مَّجْہُولٌ، لَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ، وَلاَ یُعْرَفُ سَمَاعُ بَعْضِہِمْ مِّنْ بَعْضٍ، رَوَاہُ بَعْضُہُمْ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِي أَوْفٰی، عَنِ النَّبِيِّ، وَلَا أَصْلَ لَہٗ ۔
’’اس سند کے راوی مجہول ہیں ، نیز یہ روایت منکر ہے۔اس کے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع بھی معروف نہیں۔بعض نے اس کو عن اسماعیل بن خالد عن عبداللہ بن ابی اوفی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بیان کیا ہے، مگر یہ بے اصل ہے۔‘‘(التاریخ الصغیر : 250/1، 251)
m حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدِیثٌ مُّشْتَرِکٌ، وَہُوَ مُنْکَرٌ جِدًّا ۔
’’اس حدیث کا متن مشترک ہے ،لیکن یہ سخت منکر ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 141/1)
مزیدلکھتے ہیں : زَیْدٌ؛ لاَ یُعْرَفُ إِلَّا فِي ہٰذَا الْحَدِیثِ الْمَوْضُوعِ، وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیرٍ الطَّبَرِيُّ، عَنْ حُسَیْنٍ الدَّارِعِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، فَسَقَطَ مِنْہُ [عَنْ رَّجُلٍ] ۔
’’زید نامی راوی غیر معروف ہے۔صرف اسی من گھڑت روایت میں اس کا ذکر ہے۔اس کو امام طبری رحمہ اللہ نے حسین دارع سے،عبدالمومن کے واسطے کے ساتھ بیان کیا ہے۔اس سے [عن رجل] کے الفاظ گر گئے ہیں۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 142/1، 143)
m حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِہِمَا مَنْ لَّمْ أَعْرِفْہُمْ ۔
’’اس روایت کو امام طبرانی اور امام بزارنے بیان کیا ہے۔ان دونوں کی سند میں ایسے راوی موجود ہیں،جن کو میں نہیں پہچانتا۔‘‘(مجمع الزوائد : 155/9)
دلیل نمبر 3 : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے منسوب ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
’أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي‘ ۔ ’’آپ میرے بھائی اور ساتھی ہیں۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 230/1)
تبصرہ :
اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ :
1 حجاج بن ارطاۃ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ اور ’’مدلس‘‘ ہے۔
n تاریخ دمشق (53/42)میں حجاج کی متابعت شعبہ نے کر رکھی ہے۔
2 اس میں حکم بن عتیبہ کی ’’تدلیس‘‘بھی موجود ہے۔ حکم نے مقسم سے صرف چار،پانچ حدیثیں سنی ہیں اور یہ روایت ان میں سے نہیں ہے، لہٰذا یہ ’’منقطع‘‘ہے ۔
دلیل نمبر 4 : سیدنا عبداللہ بن عمرrسے منسوب ہے :
بَیْنَمَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي ظِلٍّ بِالْمَدِینَۃِ، وَہُوَ یَطْلُبُ عَلِیًّا رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، إِذِ انْتَہَیْنَا إِلٰی حَائِطٍ، فَنَظَرْنَا فِیہِ، فَنَظَرَ إِلٰی عَلِيٍّ، وَہُوَ نَائِمٌ فِي الْـأَرْضِ، وَقَدْ أَغْبَرَ، فَقَالَ : ’لَا أَلُومُ النَّاسَ یُکَنُّونَکَ أَبَا تُرَابٍ‘، فَلَقَدْ رَأَیْتُ عَلِیًّا تَغَیَّرَ وَجْہُہٗ، وَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلَیْہِ، فَقَالَ : ’أَلَا أُرْضِیکَ یَا عَلِيُّ ؟‘ قَالَ : بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ : ’أَنْتَ أَخِي، وَوَزِیرِي، تَقْضِي دَیْنِي، وَتُنْجِزُ مَوْعِدِي، وَتُبْرِیُٔ ذِمَّتِي، فَمَنْ أَحَبَّکَ فِي حَیَاۃٍ مِّنِّي؛ فَقَدْ قَضٰی نَحْبَہٗ، وَمَنْ أَحَبَّکَ فِي حَیَاۃٍ مِّنْکَ بَعْدِي؛ خَتَمَ اللّٰہُ لَہٗ بِالْـأَمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَمَنْ أَحَبَّکَ بَعْدِي، وَلَمْ یَرَکَ؛ خَتَمَ اللّٰہُ لَہٗ بِالْـأَمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَأَمَّنَہٗ یَوْمَ الْفَزَعِ الْـأَکْبَرِ، وَمَنْ مَّاتَ وَہُوَ یَبْغَضُکَ یَا عَلِيُّ؛ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً، یُحَاسِبُہُ اللّٰہُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَام‘ ۔
’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی ایک سائے والی میں جگہ میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلاش فرما رہے تھے۔اچانک ہم ایک باغ میں رکے،تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ زمین پر سوئے ہوئے تھے۔ان کی حالت غبار آلود تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں ان لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا،جو آپ کو ابو تراب کی کنیت سے پکارتے ہیں۔میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے چہرے کا رنگ بدل چکا تھا۔ان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات بڑی گراں گزری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی!کیا میں تجھ کو خوش نہ کروں؟ کہا : کیوں نہیں اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی!آپ میرے بھائی، وزیر، میرے قرض کو ادا کرنے والے، میرے وعدوں کو پورا کرنے والے اور میری ذمہ داری کو نبھانے والے ہیں۔جو شخص میری زندگی میں آپ سے محبت کرے گا،وہ اپنا مقصد پا لے گا اور جو شخص میرے بعد آپ کی زندگی میں آپ سے محبت کرے گا،اللہ رب العزت اس کے لیے امن و ایمان کے فیصلہ فرمائیں گے۔اسی طرح جو شخص میرے بعد آپ سے محبت کرے گا اور آپ کو دیکھ نہیں سکے گا،اللہ رب العزت اس کے لیے امن و ایمان کا فیصلہ فرما دیں گے اور میدان محشر میں بھی اس کو امن عطا فرمائیں گے۔لیکن جس شخص کو اس حال میں موت آئی کہ وہ آپ سے بغض رکھتا ہو، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے ان اعمال کا حساب لیں گے،جو اس نے حالت ِ اسلام میں کیے ہوں گے۔(المعجم الکبیر للطبراني : 420/12)
تبصرہ :
سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض ہو گئے،یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہے۔
یہ سخت ’’ضعیف‘‘روایت ہے،کیونکہ :
1 لیث بن ابو سلیم جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ اور حافظے کی خرابی میں مبتلا تھا۔
2 عبداللہ بن محمد طہوی راوی ’’مجہول‘‘ ہے۔
m حافظ ہیثمی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :
وَفِیہِ مَنْ لَّمْ أَعْرِفْہُ ۔
’’اس روایت کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کو میں نہیں پہچانتا۔‘‘
(مجمع الزوائد : 121/9)
دلیل نمبر 5 : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
طَلَبَنِي رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا، فَقَالَ : ’قُمْ، مَا أَلُومُ النَّاسَ یُسَمُّونَکَ أَبَا تُرَابٍ‘ ، قَالَ : فَرَأٰی کَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ : ’قُمْ، فَوَاللّٰہِ لَـأُرْضِیَنَّکَ، أَنْتَ أَخِي، وَأَبُو وَلَدَيَّ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي، وَتُبْرِیُٔ ذِمَّتِي، مَنْ مَّاتَ فِي عَہْدِی؛ فَہُوَ کَنْزُ اللّٰہِ، وَمَنْ مَّاتَ فِي عَہْدِکَ؛ فَقَدْ قَضٰی نَحْبَہٗ، وَمَنْ مَّاتَ یُحِبُّکَ بَعْدَ مَوْتِکَ؛ خَتَمَ اللّٰہُ لَہٗ بِالْـأَمْنِ وَالْإِیمَانِ، مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ، وَمَنْ مَّاتَ یُبْغِضُکَ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ‘ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلاش کیا اور مجھے ایک نالے میں سویا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اُٹھیے،میں ان لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا، جو آپ کو ابوتراب کے نام سے پکارتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اُٹھیے، اللہ کی قسم! میں آپ کو ضرور خوش کروں گا۔آپ میرے بھائی ہو، میرے نواسوں کے باپ ہو،میری سنت کیلئے لڑتے ہو،میرے ذمہ کی چیزوں کو ادا کرو گے،جو شخص بھی میری وفا داری پر مرتا ہے،وہ اللہ کے خزانوں میں ہو گا۔ اے علی!جو شخص آپ کی وفاداری میں مرے گا، وہ اپنا مقصد پا لے گااور جو آپ سے محبت کرتے ہوئے مرے گا،اللہ اس کے لیے تاقیامت امن و ایمان کا فیصلہ کرے گا۔جو شخص آپ کے ساتھ بغض کی حالت میں مر گیا،وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔اس کے اسلام میں کیے گئے اعمال کا حساب ہو گا۔‘‘(مسند أبي یعلٰی : 528)
تبصرہ :
یہ سند ’’ضعیف ‘‘ہے،کیونکہ :
1 عبدالمؤمن راوی کون ہے؟ اس کا تعین اور توثیق درکار ہے۔
2 سوید بن سعید حدثانی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
صَدُوقٌ فِي نَفْسِہٖ؛ إِلَّا أَنَّہٗ عَمِيَ، فَصَارَ یَتَلَقَّنُ مَا لَیْسَ مِنْ حَدِیثِہٖ ۔
’’یہ صدوق راوی تھا، مگر جب نابینا ہوا تو تلقین قبول کر لیتا تھا۔‘‘
(تقریب التہذیب : 2690)
دلیل نمبر 6 : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
ؔیَا عَلِيُّ، أَنْتَ أَخِي، وَصَاحِبِي، وَرَفِیقِي، فِي الْجَنَّۃِ‘ ۔
’’علی!آپ میرے بھائی اور ساتھی ہیں ،نیز جنت میں میرے دوست ہیں۔‘‘
(تاریخ بغداد للخطیب : 268/12، تاریخ دمشق لابن عساکر : 61/42)
تبصرہ :
یہ جھوٹی روایت ہے،کیونکہ :
1 عثمان بن عبدالرحمن وقاصی باتفاق محدثین ’’ضعیف‘‘ اور’’ متروک‘‘ہے۔
b حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مُتَّفَقٌ عَلٰی تَرْکِہٖ ۔
’’اس کے متروک الحدیث ہونے پر محدثین کرام کا اتفاق ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 167/1، تاریخ الإسلام : 594/1)
2 عمران بن سوار بغدادی کی توثیق درکار ہے۔
3 علی بن حسین نے اپنے دادا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
دلیل نمبر 7 : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’أَنْتَ أَخِي، وَأَنَا أَخُوکَ‘ ۔
’’آپ میرے بھائی اور میں آپ کا بھائی ہوں۔‘‘
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 18/42)
تبصرہ :
یہ سخت ’’ضعیف‘‘روایت ہے،کیونکہ :
1 حفص بن جمیع کوفی راوی ’’ضعیف‘‘ہے۔
(تقریب التہذیب لابن حجر : 1401)
2 سماک بن حرب راوی کا آخری عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا۔
3 عمر بن عبید اللہ تیمی کی سوائے امام ابن حبان (الثقات : 117/7)کے کسی نے توثیق نہیں کی، لہٰذا یہ ’’مجہول الحال‘‘ہے۔
دلیل نمبر 8 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا :
’أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْیَا وَالْـآخِرَۃِ‘ ۔
’’آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہیں۔‘‘
(تاریخ دمشق للحافظ ابن عساکر : 52/42)
تبصرہ :
یہ باطل سند ہے،کیونکہ :
1 اس کا راوی عمرو بن ابو مقدام بن ثابت ’’ضعیف‘‘اور’’متروک‘‘ ہے۔
b اسے امام عبداللہ بن مبارک، امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام دارقطنی، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی اور امام ابن عدی رحمہم اللہ نے ’’ضعیف‘‘ اور’’ متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
2 حسن بن حسین عرنی راوی مجروح ہے۔
3 عمر بن حسن قاضی بھی نری مصیبت ہے۔
4 حسن بصری ’’مدلس‘‘ہیں۔
دلیل نمبر 9 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے منسوب ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی سے یہ فرماتے ہوئے سنا :
’أَنْتَ أَخِي، وَأَنَا أَخُوکَ‘ ۔ ’’آپ میرے اور میں آپ کا بھائی ہوں۔‘‘(تاریخ دمشق لابن عساکر : 52/42)
تبصرہ :
یہ بھی گھڑنتل ہے،کیونکہ مطر بن میمون محاربی ’’متروک‘‘ اور ’’وضاع‘‘ہے۔
b حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
(تقریب التہذیب : 6703)
b امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یَرْوِي عَنْ أَنَسٍ مَّا لَیْسَ مِنْ حَدِیثِہٖ، فِي فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَّغَیْرِہٖ، لَا تَحِلُّ الرِّوَایَۃُ عَنْہُ ۔
’’یہ راوی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی فضلیت میں وہ روایتیں بیان کرتا تھا، جو انہوں نے بیان ہی نہیں کیں۔اس سے روایت لینا حرام ہے۔‘‘(المجروحین : 5/3)
m اس حدیث کو حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (الموضوعات : 347/1)اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (میزان الاعتدال : 127/4)نے ’’موضوع‘‘(من گھڑت)کہا ہے۔
دلیل نمبر 0 : سیدہ اسما بنت ِعمیسrسے منسوب ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’أَقُولُ کَمَا قَالَ أَخِي مُوسٰی : {رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ}، {وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ} عَلِیًّا أَخِي اشْدُدْ بِہٖ أَزْرِي‘ ۔
’’میں اسی طرح کہتا ہوں،جیسے میرے بھائی موسیٰ( علیہ السلام )نے کہا تھا کہ میرے رب،مجھے شرح صدر عطا فرما،میرے لئے میرا کام آسان فرما، میرے گھر والوں میں سے میرا کوئی وزیر بنا، میرے بھائی علی کے ذریعے مجھے قوت عطا فرما۔‘‘
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 52/42)
تبصرہ :
یہ ’’ضعیف‘‘روایت ہے،کیونکہ :
1 حصین بن یزید ثعلبی کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’فیہ نظر‘‘کہا ہے۔
(التاریخ الکبیر : 7/3)
سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 158/4)کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی، لہٰذا یہ ’’مجہول الحال‘‘ہے۔
2 احمد بن عبدالملک اودی کی توثیق چاہئے۔
دلیل نمبر ! : محدوج بن زید ذہلی سے مروی ہے :
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا اٰخٰی بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ؛ أَخَذَ بِیَدِ عَلِيٍّ، فَوَضَعَہَا عَلٰی صَدْرِہٖ، ثُمَّ قَالَ : ’یَا عَلِيُّ، أَنْتَ أَخِي‘ ۔
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان اخوت قائم کی،تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے مبارک پر رکھا، پھر فرمایا:علی،آپ میرے بھائی ہیں۔‘‘(تاریخ دمشق لابن عساکر : 53/42)
تبصرہ :
یہ جھوٹی روایت ہے،کیونکہ :
1 سعد بن طریف اسکاف ’’متروک‘‘ اور ’’وضاع‘‘راوی ہے۔
2 یحییٰ بن عبدالحمید حمانی جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہے۔
3 قیس بن ربیع جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہے۔
4 عطیہ عوفی جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہے۔
5 محدوج بن زید کے صحابی ہونے میں بھی اختلاف ہے۔
دلیل نمبر @ : سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
لَمَّا اٰخٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ النَّاسِ؛ اٰخٰی بَیْنَہٗ وَبَیْنَ عَلِيٍّ ۔
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے درمیان اخوت قائم کی،تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی بنایا۔‘‘(تاریخ دمشق لابن عساکر : 51/42)
تبصرہ :
یہ صریح جھوٹ ہے،کیونکہ :
1 ایوب بن مدرک حنفی ’’متروک‘‘ اور کذاب راوی ہے۔
b امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رَوٰی أَیُّوبُ بْنُ مُدْرِکٍ عَنْ مَّکْحُولٍ بِنُسْخَۃٍ مَّوْضُوعَۃٍ، وَلَمْ یَرَہٗ ۔
’’ایوب بن مدرک نے امام مکحول سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، حالانکہ ان کو دیکھا تک نہیں۔‘‘
(میزان الاعتدال للذہبي : 293/1، لسان المیزان لابن حجر : 488/1)
اس کے حق میں ادنیٰ کلمہ توثیق ثابت نہیں۔
2 علاء بن عمرو حنفی بھی جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا ماہر تھا۔
3 مکحول کا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سماع بھی نہیں ہے۔
دلیل نمبر # : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا :
وَاللّٰہِ إِنِّي لَـأَخُوہُ وَوَلِیُّہٗ وَابْنُ عَمِّہٖ ۔
’’اللہ کی قسم،میں آپ کا بھائی، وارث اور چچا زاد ہوں۔‘‘
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 56/42)
تبصرہ :
یہ سند ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ سماک بن حرب اگرچہ محدثین کے نزدیک’’حسن الحدیث‘‘ہے،لیکن عکرمہ سے اس کی روایت ’’مضطرب‘‘ہوتی ہے۔
b حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
صَدُوقٌ، وَرِوَایَتُہٗ عَنْ عِکْرِمَۃَ خَاصَّۃً مُّضْطَرِبَۃٌ، وَقَدْ تَّغَیَّرَ بِاٰخِرِہٖ، فَکَانَ رُبَّمَا یُلَقَّنُ ۔
’’یہ سچا راوی تھا، البتہ صرف عکرمہ سے اس کی روایت مضطرب ہوتی ہے۔عمر کے آخری حصے میں اس کے حافظے میں بگاڑ آ گیا تھااور بسااوقات تلقین قبول کر لیتا تھا۔‘‘(تقریب التہذیب : 2624)
دلیل نمبر $ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دس باتیں فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے :
’یَا عَلِيُّ، أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْیَا وَالْـآخِرَۃِ‘ ۔
’’اے علی!آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں۔‘‘(أمالي الشجري : 141/1)
تبصرہ :
یہ جھوٹی روایت ہے،کیونکہ نصر بن مزاحم کوفی ’’متروک‘‘ اور کذاب ہے۔
(دیکھیں: لسان المیزان لابن حجر : 267/8، بتحقیق أبي غدّۃ)
نیز اس میں بہت سارے راویوں کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
دلیل نمبر % : سیدنایعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اٰخٰی بَیْنَ النَّاسِ وَتَرَکَ عَلِیًّا، فَقَالَ عَلِيٌّ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، آخَیْتَ بَیْنَ النَّاسِ وَتَرَکْتَنِي؟ قَالَ : ’وَلِمَ تَرَانِي تَرَکْتُکَ ؟ إِنَّمَا تَرَکْتُکَ لِنَفْسِي، أَنْتَ أَخِي، وَأَنَا أَخُوکَ، فَإِنْ ذَاکَرَکَ أَحَدٌ، فَقُلْ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَأَخُو رَسُولِہٖ، ولاَ یَدَّعِیہَا أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلَّا کَذَّابٌ‘ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے مابین بھائی چارہ قائم کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔انہوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول!آپ نے سب لوگوں کے درمیان اخوت قائم کر دی،مگر مجھے چھوڑ دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آپ نے ایسا کیوں خیال کیا کہ میں نے آپ کو چھوڑ دیا ۔میں نے تو آپ کو اپنی ذات کے لئے چھوڑا تھا، آپ میرے بھائی اور میں آپ کا بھائی ہوں۔اگر کوئی آپ اس بات کا تذکرہ کرے،تو یوں کہا کریں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔آپ کے بعد کوئی جھوٹا ہی اس بات کا دعویٰ کرے گا(کہ وہ اللہ کے رسول کا بھائی ہے)۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 66/6)
تبصرہ :
یہ سخت ’’ضعیف‘‘سند ہے،کیونکہ اس کا راوی عمربن عبداللہ بن یعلیٰ ’’ضعیف‘‘ ہے۔
b نقاد محدثین ،جیسے امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام بخاری، امام نسائی، امام یعقوب بن سفیان فسوی رحمہم اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘ و مجروح قرار دیا ہے۔
b امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ’’متروک‘‘قرار دیا ہے۔
(الضعفاء والمتروکون : 376)
b امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مُنْکَرُ الرِّوَایَۃِ عَنْ أَبِیہِ ۔
’’اس کے باپ سے اس کی روایات منکر ہیں۔‘‘(المجروحین : 91/2)
یہ روایت بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے۔
نیز امام ابن عدی رحمہ اللہ کے استاذ روح بن عبدالمجیب بلدی کے حالات ِزندگی بھی نہیں مل سکے۔
دلیل نمبر ^ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسلَّمَ یُوَاخِي بَیْنَ أَصْحَابِہٖ، فَقَالَ : ’عَلِيٌّ أَخِي، وَأَنَا أَخُوہُ، وَأُحِبُّہٗ‘ ۔
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے مابین اخوت قائم کی، تو فرمایا: علی میرے بھائی ہیںاور ان کا بھائی۔نیز میں ان کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 132/7)
تبصرہ :
یہ سخت ترین ’’ضعیف ‘‘ روایت ہے،کیونکہ اس کا راوی ہیاج بن بسطام ہروی جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہے۔
b اس کو امام یحییٰ بن معین، امام نسائی، امام ابو حاتم رازی، امام ابن حبان اور امام ابن عدی رحمہم اللہ وغیرہ نے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
b حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
ضَعِیفٌ، رَوٰی عَنْہُ ابْنُہٗ خَالِدٌ مُّنْکَرَاتٍ شَدِیدَۃً ۔
’’یہ ضعیف راوی ہے، اس سے اس کے بیٹے خالدنے شدید منکر روایات بیان کی ہیں۔‘‘(تقریب التہذیب : 7300)
دلیل نمبر & : سیدناابو طفیل رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
لَمَّا احْتُضِرَ عُمَرُ؛ جَعَلَہَا شُورٰی بَیْنَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانَ، وَطَلْحَۃَ، وَالزُّبَیْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدٍ، فَقَالَ لَہُمْ عَلِيٌّ : أُنْشِدُکُمُ اللّٰہَ، ہَلْ فِیکُمْ أَحَدٌ اٰخٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہٗ، إِذْ اٰخٰی بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، غَیْرِي، قَالُوا : اللّٰہُمَّ، لاَ ۔
’’جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے قریب خلیفہ نامزد کرنے کے لیے سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعدy پر مشتمل افراد کی مجلس شوریٰ قائم کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارکانِ شوریٰ سے فرمایا:میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، تو کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی ایسا ہے،جس سے رسول اللہ نے اخوت قائم کی ہو؟ ان سب سے جواب دیا : اللہ گواہ ہے، آپ کے علاوہ کوئی ایسا نہیں۔‘‘
(الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب لابن عبد البرّ : 338/1)
تبصرہ :
یہ جھوٹی کہانی ہے،کیونکہ :
1ابو جارود زیاد بن منذر کذاب، ’’متروک‘‘ اور رافضی ہے۔
b امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
کَذَّابٌ، عَدُوُّ اللّٰہِ، لَیْسَ یُسَاوِي فَلْسًا ۔
’’یہ اللہ کا دشمن جھوٹا ہے، کھوٹے سِکّے کے برابر بھی نہیں ہے۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عديّ : 189/3، وسندہٗ حسنٌ)
2 سعید بن محمد ازدی کی توثیق درکار ہے۔
3 اسحاق بن ابراہیم ازدی کی محدثین سے توثیق ثابت کی جائے۔
دلیل نمبر * : سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ’أَنْتَ أَخِي‘ ۔
’’آپ میرے بھائی ہیں۔‘‘(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 179/2)
تبصرہ :
یہ باطل روایت ہے،کیونکہ :
1 مالک بن عطیہ جہنی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
2 حسن بن محبوب بن وہب زراد کی محدثین سے توثیق ثابت کی جائے۔
3 امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَأَبُو جَعْفَرٍ مُّحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ؛ لَا یَتَّصِلُ بِأَبِي سَعِیدٍ الْخُدْرِيِّ ۔
’’ابو جعفر محمد بن علی کی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت متصل نہیں ہوتی۔‘‘
(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 179/2)
اس روایت میں ایک اور خرابی بھی ہے۔
دلیل نمبر ( : سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائے فرمارہے تھے :
أَیُّہَا النَّاسُ، اسْتَوُوا، أُحَدِّثُکُمْ مِّمَّا سَمِعْتُ مِنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ کَلِمَاتٍ؛ لَوْ تَکُونُ لِي إِحْدَاہُنَّ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ یَقُولُ : ’اللّٰہُمَّ أَعِنْہُ۔۔۔، فَإِنَّہٗ عَبْدُکَ وَأَخُو رَسُولِکَ‘ ۔
’’لوگو!سیدھے ہو جائو ،میں تمہیں وہ حدیث بیان کرتا ہوں ،جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چند کلمات فرما رہے تھے، ان میں سے ایک کا بھی میرے حصے میں آ جانا میرے لئے دینا و مافیہا سے بہتر ہوتا۔میں نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:اے اللہ!ان کی نصرت فرما۔۔۔، یقینا یہ تیرے بندے اور تیرے رسول کے بھائی ہیں۔ ‘‘
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 54/42)
تبصرہ :
یہ ضعیف اور غیرثابت اثر ہے،کیونکہ :
1 امام جعفر صادق رحمہ اللہ کا کسی صحابی سے سماع نہیں ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کو طبقہ سادسہ میں ذکر کیا ہے۔اس طبقے کے راویوں کی کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہیں ہوتی۔
2 جعفر بن ابراہیم جعفری ’’مجہول الحال‘‘راوی کے بارے میں امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یُعْتَبَرُ بِحَدِیثِہٖ مِنْ غَیْرِ رِوَایَتِہٖ عَنْ أَبِیہِ ۔
’’اس کی اس حدیث کو متابعات و شواہد میں ذکر کیا جائے گا،جو اس نے اپنے والد سے بیان نہ کی ہو۔‘‘
(لسان المیزان لابن حجر : 106/2، الثقات لابن حبّان : 160/8)
3 اس سند میں بہت سارے راویوں کی توثیق نہیں مل سکی۔
n شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ أَحَادِیثَ الْمُوَاخَاۃِ بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ بَعْضِہِمْ مَّعَ بَعْضٍ، وَالْـأَنْصَارِ بَعْضِہِمْ مَّعَ بَعْضٍ، کُلُّہَا کَذِبٌ، وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُوَاخِ عَلِیًّا، وَلَا اٰخٰی بَیْنَ أَبِي بَکْرٍ وَّعُمَرَ، وَلَا بَیْنَ مُہَاجِرِيٍّ وَّمُہَاجِرِيٍّ، لٰکِنْ اٰخٰی بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْـأَنْصَارِ، کَمَا اٰخٰی بَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَّسَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ، وَبَیْنَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَأَبِي الدَّرْدَائِ، وَبَیْنَ عَلِيٍّ وَّسَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ۔
’’مہاجرین کی آپس میں اور انصار کی آپس میں مؤاخات کے متعلق تمام احادیث جھوٹی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤاخات قائم کی، نہ سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہاجر کا مہاجر سے بھائی چارہ قائم نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات قائم کی تھی، جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہما کے مابین، سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہما کے مابین اور سیدنا علی اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔‘‘
(منہاج السنّۃ النبویّۃ : 279/7)
خلاصۃ التحقیق :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام ] سے اسلامی اخوت کا رشتہ تھا۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص اخوت کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں۔رہیں وہ احادیث جن میں ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مؤاخات کرنے کا ذکر ہے، تو وہ ساری کی ساری ’’ضعیف‘‘اور ناقابل حجت ہیں۔اگر کسی کے پاس ایسی کوئی ایک روایت بھی ’’حسن‘‘یا ’’صحیح‘‘ سند کے ساتھ موجود ہو ،تو وہ پیش کرے، ہم اس کا اصولِ محدثین کے مطابق جائزہ لیں گے۔ہمارے علم کے مطابق اس حوالے سے ایک بھی روایت اصولِ محدثین کی روشنی میں پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔
البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی کہا ہے ، جیسا کہ :
b سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِّنْ أُمَّتِي خَلِیلًا، لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ، وَلٰکِنْ أَخِي وَصَاحِبِي‘ ۔
’’اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا،تو ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن وہ میرے بھائی اوردوست ہیں۔‘‘
(صحیح البخاري : 3656، صحیح مسلم : 2383، عن عبد اللّٰہ بن مسعود)
b سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِہٖ وَمَالِہٖ أَبَا بَکْرٍ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا غَیْرَ رَبِّي؛ لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ، وَلٰکِنْ أُخُوَّۃُ الْإِسْلاَمِ وَمَوَدَّتُہٗ‘ ۔
’’لوگوں میں سے مجھ پر صحبت اورمال میں سب سے زیادہ احسان کرنے والے شخص ابوبکر ہیں۔اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو خلیل بناتا،تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور محبت ومودّت ہی کافی ہے۔‘‘
(صحیح البخاري : 3654، صحیح مسلم : 2382)
b سیدہ خولہ بنت ِحکیم نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدہ عائشہ rکا رشتہ مانگا ،تو سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہ عائشہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ابوبکر کی بیٹی ہے۔ رشتہ کیسے ہوگا؟اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خولہ سے کہا کہ ابوبکر کوکہیں :
’أَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنَا أَخُوکَ، وَابْنَتُکَ تَصْلُحُ لِي‘ ۔
’’آپ میرے اسلامی بھائی ہیںاور میں آپ کا ،لیکن آپ کی بیٹی میرے (نکاح کے)لیے جائز ہے۔ ‘‘
تب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ کا نکاح کردیا۔
(المعجم الکبیر للطبراني : 23/23، ح : 57، وسندہٗ حسنٌ)
b حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَرِجَالُہٗ رِجَالُ الصَّحِیحِ؛ غَیْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ، وَہُوَ حَسَنُ الْحَدِیثِ ۔
’’اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، سوائے محمد بن عمرو بن علقمہ کے اوروہ حسن الحدیث ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد : 225/9)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.