408

صحیح مسلم کی حدیث میں تحریف اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹاالزام :

صحیح مسلم کی حدیث میں معنوی تحریف اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام
مرزا صاحب نے صحیح مسلم (2409)پیش کی، مرزا صاحب کہتے ہیں کہ”آل مروان کے بارے میں آتا ہےکہ وہ باقاعدہ آکر صحابہ کو کہتے تھے کہ منبروں پہ آکےسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرو۔”
صحیح مسلم دنیا کے پاس موجود ہےاس میں یہ حدیث(2409)بھی موجود ہےوہاں سے یہ روایت دیکھیں کہ کیا وہاں “آل مروان” کے الفاظ ہیں،کیا وہ صحابہ سے کہتے تھے؟ کیاوہ یہ کہتے تھے کہ منبروں پہ آکے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرو؟یہ تین باتیں مرزا صاحب کے مقلدین صحیح مسلم میں دیکھیں کہ کیا وہاں یہ باتیں موجود ہیں یا نہیں؟اگر نہیں موجود، بات کسی اور طرح ہےتو آپ کو حق اپناتے ہوئے مرزا صاحب سے یہ کہناچاہیے کہ آپ جھوٹ نہ بولیں۔
ہم اس روایت کے الفاظ پڑھ کر سناتے ہیں:
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ پر آل مروان کا ایک شخص گورنر مقرر کیا گیا،اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شتم کرنے کا حکم دیا
مرزا صاحب!ایک شخص کی بات ہے اور آپ نے کہا کہ آل مروان ایسا کرتے تھے،تو آل مروان میں سے ایک شخص نے یہ گندی حرکت کی ،اگر یہاں یہ مراد ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دے تو ہم تو اس کو صحیح نہیں کہتے، ہم تو اس کو بکواس کہتے ہیں کہ آل مروان میں سے ایک شخص نے یہ بکواس کی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دولیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آل مروان ساری کی ساری یہ کام کرتی تھی؟کیا وہ ساری آل مروان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آکے کہتے تھے کہ منبروں پہ آکے لعنت کریں؟ صحیح مسلم کی اس حدیث میں ایسا کچھ نہیں ہے،ایک شخص کا ذکر ہےا ور اس نے بھی صرف ایک صحابی سے ایسا کرنے کا حکم دیا،کیا یہ واقعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا ہے یا ان کے دور کے بعد کا؟اگر ان کے دور کی بات ہے تو اس کی آپ کے پاس دلیل کیا ہے؟ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایسا کروایا کرتے تھےا ور آپ نے جھوٹ بول کر کہا کہ آل مروان سارے ہی ایسا کرتے تھے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایسے مجبور کیا جاتا تھا۔نہ ہی آل مروان کی بات ہے، نہ ہی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بات ہےا ور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ منبروں پر لعنت کرنے کاحکم دیا جاتا تھا۔
مرزا صاحب! آپ اپنے موقف کو ثابت کرنےکے لیے اتنے زیادہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟حق گوئی سے آپ کام کیوں نہیں لیتے؟ آپ لوگوں کوسچی بات کیوں نہیں بتاتے؟پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ضعیف روایات پیش کرتے ہیں اگر کوئی صحیح روایت ہو تو اس کا ترجمہ میں تحریف کرتے ہوئے اسے اپنے موقف کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرزاصاحب سنن الکبرٰی للنسائی والی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ “اس کی سپورٹ میں سنن ابن ماجہ کی ایک ضعیف روایت موجود ہے۔”
یعنی مرزا صاحب کسی صحیح حدیث سے تو اپنا مقدمہ ثابت نہیں کر سکے اور اس کی سپورٹ میں ضعیف روایت بیان کر رہے ہیں، مرزا صاحب بھی کہتے ہیں کہ وہ روایت علامہ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک تو صحیح ہے لیکن شیخ زبیر صاحب رحمہ اللہ اس کو ضعیف کہتے تھے اور ہم بھی پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ وہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔لہذا آپ کی سپورٹ جس میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا غصے ہونا ثابت ہوتا تھا وہ تو گئی بھاڑ میں۔

مرزا صاحب کی صحیح مسلم کی ایک حدیث میں معنوی تحریف اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام:
مرزا صاحب نے صحیح مسلم (2409)پیش کی، مرزا صاحب کہتے ہیں کہ”آل مروان کے بارے میں آتا ہےکہ وہ باقاعدہ آکر صحابہ کو کہتے تھے کہ منبروں پہ آکےسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرو۔”
صحیح مسلم دنیا کے پاس موجود ہےاس میں یہ حدیث(2409)بھی موجود ہےوہاں سے یہ روایت دیکھیں کہ کیا وہاں “آل مروان” کے الفاظ ہیں،کیا وہ صحابہ سے کہتے تھے؟ کیاوہ یہ کہتے تھے کہ منبروں پہ آکے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرو؟یہ تین باتیں مرزا صاحب کے مقلدین صحیح مسلم میں دیکھیں کہ کیا وہاں یہ باتیں موجود ہیں یا نہیں؟اگر نہیں موجود، بات کسی اور طرح ہےتو آپ کو حق اپناتے ہوئے مرزا صاحب سے یہ کہناچاہیے کہ آپ جھوٹ نہ بولیں۔
ہم اس روایت کے الفاظ پڑھ کر سناتے ہیں:
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ پر آل مروان کا ایک شخص گورنر مقرر کیا گیا،اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شتم کرنے کا حکم دیا
مرزا صاحب!ایک شخص کی بات ہے اور آپ نے کہا کہ آل مروان ایسا کرتے تھے،تو آل مروان میں سے ایک شخص نے یہ گندی حرکت کی ،اگر یہاں یہ مراد ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دے تو ہم تو اس کو صحیح نہیں کہتے، ہم تو اس کو بکواس کہتے ہیں کہ آل مروان میں سے ایک شخص نے یہ بکواس کی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دولیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آل مروان ساری کی ساری یہ کام کرتی تھی؟کیا وہ ساری آل مروان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آکے کہتے تھے کہ منبروں پہ آکے لعنت کریں؟ صحیح مسلم کی اس حدیث میں ایسا کچھ نہیں ہے،ایک شخص کا ذکر ہےا ور اس نے بھی صرف ایک صحابی سے ایسا کرنے کا حکم دیا،کیا یہ واقعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا ہے یا ان کے دور کے بعد کا؟اگر ان کے دور کی بات ہے تو اس کی آپ کے پاس دلیل کیا ہے؟ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایسا کروایا کرتے تھےا ور آپ نے جھوٹ بول کر کہا کہ آل مروان سارے ہی ایسا کرتے تھے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایسے مجبور کیا جاتا تھا۔نہ ہی آل مروان کی بات ہے، نہ ہی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بات ہےا ور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ منبروں پر لعنت کرنے کاحکم دیا جاتا تھا۔
مرزا صاحب! آپ اپنے موقف کو ثابت کرنےکے لیے اتنے زیادہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟حق گوئی سے آپ کام کیوں نہیں لیتے؟ آپ لوگوں کوسچی بات کیوں نہیں بتاتے؟پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ضعیف روایات پیش کرتے ہیں اگر کوئی صحیح روایت ہو تو اس کا ترجمہ میں تحریف کرتے ہوئے اسے اپنے موقف کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرزاصاحب سنن الکبرٰی للنسائی والی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ “اس کی سپورٹ میں سنن ابن ماجہ کی ایک ضعیف روایت موجود ہے۔”
یعنی مرزا صاحب کسی صحیح حدیث سے تو اپنا مقدمہ ثابت نہیں کر سکے اور اس کی سپورٹ میں ضعیف روایت بیان کر رہے ہیں، مرزا صاحب بھی کہتے ہیں کہ وہ روایت علامہ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک تو صحیح ہے لیکن شیخ زبیر صاحب رحمہ اللہ اس کو ضعیف کہتے تھے اور ہم بھی پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ وہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔لہذا آپ کی سپورٹ جس میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا غصے ہونا ثابت ہوتا تھا وہ تو گئی بھاڑ میں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.