441

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کس نے دیا، شیخ الحدیث علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کوزہر کوکس نے دیا؟
غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نواسہئ رسول ، گوشہئ بتول ، نوجوانانِ جنت کے سردار اورگلستانِ رسالت کے پھول ، سیدنا وامامنا ومحبوبنا حسن بن علی  رضی اللہ عنہما  کوزہر دیاگیا تھا، جیسا کہ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں :
دخلت أنا ورجل علی الحسن بن علی نعودہ ، فجعل یقول لذلک الرجل: سلنی قبل أن لا تسألنی ، قال: ما أرید أن أسألک شیأا ، یعافیک اللّٰہ ، قال: فقام فدخل الکنیف ، ثمّ خرج إلینا ، ثمّ قال: ما خرجت إلیکم حتی لفظت طائفۃ من کبدی أقلبہا بہذا العود ، ولقد سقیت السمّ مرارا ، ما شیء أشدّ من ہذہ المرّۃ ، قال: فغدونا علیہ من الغد ، فإذا ہو فی السوق ، قـال : وجاء الحسین فجلس عند رأسہ ، فقال: یا أخی ، من صاحبک ؟ قال : ترید قتلہ ؟ قال: نعم ، قال: لئن کان الذی أظنّ ، للّٰہ أشدّ نقمۃ ، وإن کان بریأا فما أحبّ أن یقتل بریء . ”میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما  پرعیادت کے لیے داخل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہما اس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کرسکنے سے پہلے سوال کرلیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، پھرفرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ)پھینک دیاہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کررہاتھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہما حالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین  رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اورکہا : اے بھائی!آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اوراگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کوقتل نہیں کرنا چاہتا۔”
(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٥/٩٣،٩٤، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ١٣٢، المستدرک للحاکم : ٣/١٧٦، الاستیعاب لابن عبد البر : ٣/١١٥، تاریخ ابن عساکر : ١٣/٢٨٢، وسندہ، حسنٌ)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قاتل کون؟
شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ سیدنا حسن  رضی اللہ عنہ  کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے زہر دیا۔ یہ بے حقیقت اوربے ثبوت بات ہے ۔ شیعہ کے دلائل کا علمی وتحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے:
دلیل نمبر 1 : قال ابن عبد البرّ : ذکر أبو زید عمر بن شبہ وأبو بکر بن أبی خیثمۃ قالا : حدّثنا موسی بن إسماعیل قال : حدّثنا أبو بلال عن قتادۃ قال : دخل الحسین علی الحسن ، فقال : یا أخی ! إنّی سقیت السمّ ثلاث مرّات ، لم أسق مثل ہذہ المرّۃ ، إنّی لأضع کبدی ، فقال الحسین : من سقاک یا أخی ؟ قال : ما سؤالک عن ہذا ، أترید أن تقاتلہم ؟ أکلــہم إلی اللّٰہ ، فلمّا مات ورد البرید بموتہ علی معاویۃ ، فقال : یا عجبا من الحسن شرب شربۃ من عسل بماء رومۃ فقضی نحبہ ۔ ”سیدنا حسین رضی اللہ عنہ  ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورکہا : اے بھائی ! میں نے کئی بار تین بار زہر پیا ہے ، لیکن اس مرتبہ کی طرح کبھی نہیں پلایا گیا ۔ میرا جگر نکلتا جارہا ہے۔ سیدناحسین رضی اللہ عنہ نے کہا : بھائی !آپ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ فرمایا : اس بارے میں آپ کے سوال کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ ان سے لڑائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ میں ان کو اللہ کے سپرد کرتاہوں ۔ جب سیدناحسن رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کی موت کا پیغام پہنچا تو آپ کہنے لگے : افسوس ہے کہ حسن نے رومہ کے پانی کے ساتھ شہد کا ایک جام پیا اور فوت ہوگئے۔”(الاستیعاب لابن عبد البر : ١/١١٥)
تبصرہ : اس کی سند سخت ترین ”ضعیف” ہے ۔ اس کاراوی محمد بن سلیم ابوہلال الراسبی (م١٦٧ھ)جمہور کے نزدیک ”ضعیف” ہے۔
جارحین
1    امام احمد بن حنبل  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : قد احتمل حدیثہ إلّا أنّہ یخالف فی حدیثہ قتادۃ ، وہو مضطرب الحدیث عن قتادۃ ۔
”اس کی حدیث بیان کی گئی ہے ، لیکن یہ قتادہ سے بیان کرنے میں ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے ۔ قتادہ سے اس کی حدیثیں مضطرب ہیں۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٧/٢٧٣)
2    امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ابوہلال راسبی کی قتادہ سے روایات کیسی ہیں؟ فرمایا : اس میں ضعف ہے ، یہ راوی کچھ اچھا ہے۔”
(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٤، وسندہ، صحیحٌ)
3    امام ابنِ عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہذہ الأحادیث لأبی ہلال عن قتادۃ عن أنس کلّ ذلک ، أو عامّتہا غیر محفوظۃ ۔
”یہ ابوہلال کی قتادہ عن انس احادیث ہیں ۔ یہ سب کی سب یا اکثر غیرمحفوظ ہیں۔”
(الکامل لابن عدی : ٦/٢١٤، وفی نسخۃ : ٦/٢٢٢٠)
ان تینوں ائمہ کرام کی جرح مفسر ہے ۔ یہ روایت بھی ابوہلال کی قتادہ سے ہے ، لہٰذا”ضعیف” ہے۔
4    امام ابنِ سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فیہ ضعف ۔ ”اس میں کمزوری ہے۔”(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : ٧/٢٧٥)
5    امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لیس بقویّ ۔ ”یہ قوی راوی نہیں ہے۔”(الضعفاء للنسائی : ٢٠٢)
6    امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لیّن ۔ ”کمزور راوی ہے۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٧/٢٧٤)
7    امام یزید بن زریع کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ۔
(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٣، وسندہ، صحیحٌ)
نیز فرماتے ہیں : عدلت عن أبی ہلال عمدا ۔ ”میں جان بوجھ کر ابوہلال سے دُور ہٹاہوں۔”(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٣، وسندہ، صحیحٌ)
8    امام یحییٰ بن سعید القطان اس سے روایت نہیں لیتے تھے۔
(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٣، وسندہ، صحیحٌ)
9    امام ابنِ حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وکان أبو ہلال شیخا صدوقا ، إلّا أنّہ کان یخطیء کثیرا من غیر تعمّد ، حتّی صار یرفع المراسیل ، ولا یعلم ، وأکثر ما کان یحدّث من حفظہ ، فوقع المناکیر فی حدیثہ من سوء حفظہ ۔ ”ابوہلال سچا شیخ تھا ، لیکن بغیرقصد کے بہت زیادہ غلطیاں اس سے سرزد ہوتی تھیں، یہاں تک کہ وہ انجانے میں مرسل روایات کو مرفوع بیان کرنے لگا ۔ وہ اکثر اپنے حافظے سے بیان کرتا تھا ، لہٰذا اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے منکر روایات اس کی حدیث میں داخل ہوگئیں۔”(المجروحین لابن حبان : ٢/٢٩٥۔٢٩٦)
0    امام البزار  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : واحتملوا حدیثہ ، وإن کان غیر حافظ ۔ ”محدثین نے اس کی حدیثیں لی ہیں ، اگرچہ یہ حافظے والا نہیں تھا۔”
(مسند البزار : ١٧٩٦)
!    امام ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : محلّہ الصدق ، لم یکن بذاک المتین ۔ ”اس کا مقام سچ والا ہے ۔ زیادہ مضبوط راوی نہ تھا۔”
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٧/٢٧٤)
@    امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء (٤٨٢۔٤٨٣[٣٢٤])میں ذکرکیا ہے۔
#    امام عقیلی  رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء الکبیر (٤/٧٤)میں ذکرکیاہے۔
معدلین
1    اما م دارقطنی  رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔(سوالات الحاکم : ٤٦٨)
یہ قول امام دارقطنی کے اپنے ہی قول کے معارض ہے ، لہٰذا ساقط ہے۔
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ یہ” ضعیف ”راوی ہے۔
(العلل : ٤/٤٠ بحوالۃ موسوعۃ اقوال الدارقطنی)
2    امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: سلام بن مسکین أحبّ إلیک أم أبو ہلال ؟ قال : أبو ہلال أشبہ بالمحدثین ۔
”سلام بن مسکین آپ کو زیادہ اچھے لگتے ہیں یا ابوہلال ؟ فرمایا : ابوہلال محدثین کے زیادہ قریب ہے۔”(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٧/٢٧٤)
یہ جمہور کی جرح کے معارض ومخالف قول ناقابل قبول ہے۔
3    امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان سلیمان بن حرب جیّد الرأی فی أبی ہلال الراسبیّ ۔ ”سلیمان بن حرب ،ابوہلال الراسبی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔”(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٤، وسندہ، صحیحٌ)
4    امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لیس بصاحب کتاب ، لیس بہ بأس ۔ ”یہ صاحب ِ کتاب نہ تھا ۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔”
(الجرح والتعدیل : ٧/٢٧٤، وسندہ، صحیحٌ)
یہ قول خود امام صاحب کے اپنے قول کے معارض ومخالف ہے ، لہٰذا یہ ناقابل التفات ہے۔امام صاحب خود فرماتے ہیں : لم یکن لہ کتاب ، وہو ضعیف الحدیث ۔ ”اس کے پاس کوئی کتاب نہ تھی ۔ اس کی حدیث ضعیف ہے۔”
(تاریخ ابن ابی خیثمۃ : ٢٢٠٥)
5    امام ابوداؤد  رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔(تہذیب الکمال : ١٦/٣١٩)
یہ قول مردود ہے ، کیونکہ اس کے راوی ابوعبید الآجری کے حالات نہیں مل سکے۔
6    امام عبدالرحمن بن مہدی اس سے روایت لیتے تھے اوروہ غالبا ثقہ سے روایات بیان کرتے تھے۔
7،8،9    امام ابنِ خزیمہ (٢٠٤٤)، امام ابوعوانہ (٤٠١٣)، امام حاکم(٤/٣٣٣) نے اس کی حدیث کی تصحیح کرکے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔
ثابت ہوا کہ ابوہلال الراسبی البصری جمہور کے نزدیک ”ضعیف” ہے ۔ خصوصاً جب یہ قتادہ سے بیان کرے تو ”ضعیف” ہوتا ہے، لہٰذا حافظ علائی  رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ جمہور نے اس کی توثیق کی ہے(فیض القدیر للمناوی: ٦/٣٨١)صحیح نہیں۔
باقی متاخرین ، مثلاً حافظ ذہبی رحمہ اللہ (العبر : ١/٧٧)، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (التلخیص : ٣/٨٥) ، حافظ ہیثمی رحمہ اللہ (مجمع الزوائد : ٥/١٩٧)، بوصیری (مصباح الزجاجہ : ١٥١٨) ، علامہ قرطبی(التذکرۃ : ٣٨٣)وغیرہ کا اسے ثقہ قراردینا متقدمین کے مقابلے میں قابل قبول نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس کی سند میں قتادہ بن دعامہ مدلس ہیں، لہٰذا روایت ”ضعیف” ہے۔ اصول یہ ہے کہ جب ثقہ مدلس بخاری ومسلم کے علاوہ بصیغہئ عن یا قال روایت بیان کرے تو وہ ”ضعیف” ہوتی ہے۔
امام ابنِ عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : قتـادۃ إذا لم یقل : سمعت وخولف فی نقلہ ، ولا تقوم بہ حجّۃ ۔ ”قتادہ جب سماع کی تصریح نہ کریں اور اپنی روایت میں ثقہ راویوں کی طرف سے مخالف کیے جائیں تو ان سے حجت نہیں لی جاسکتی۔”
(التمہید لابن عبد البر : ٣/٣٠٧)
تیسری بات یہ ہے کہ قتادہ بن دعامہ کا حسنین کریمین سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا یہ قول منقطع ہے اورمنقطع روایت حجت نہیں ہوتی۔
دلیل نمبر 2 : وقال الہیثم بن عدیّ : دسّ معاویۃ إلی ابنۃ سہیل بن عمرۃ امرأۃ الحسن مأۃ ألف دینار علی أن تسقیہ شربۃ بعث بہا إلیہا ففعلت ۔ ”ہیثم بن عدی نے کہا ہے کہ معاویہ( رضی اللہ عنہ )نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی سہیل بنت ِ عمرہ کو ایک ہزار دینا کے عوض سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر پلانے پر اُکسایا ۔ اس نے زہر اس کے پاس بھیجی تو اس نے ایسا کردیا۔”
(انساب الاشراف لاحمد بن یحیی البلاذری : ٣/٥٩)
تبصرہ : یہ روایت موضوع(جھوٹ کا پلندا) ہے۔ اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق ”کذاب” اور”متروک الحدیث” ہے۔اس لیے شیعہ شنیعہ اس کی روایات کوسینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔
دلیل نمبر 3 : قال الإمام ابن سعد : أنا محمّد بن عمر : نا عبد اللّٰہ بن جعفر عن عبد اللّٰہ بن حسن قال : کان الحسن بن علیّ رجلا کثیر نکاح النساء ، وکنّ أقلّ ما یحظین عندہ ، وکان قلّ امرأۃ یتزوّجہا إلّا أحبّتہ وضنت بہ ، فیقال : إنّہ کان سقی ، ثم أفلت ، ثم سقی فافلت ، ثمّ کانت الآخرۃ توفّی فیہا ، فلمّا حضرتہ الوفاۃ ، قال الطبیب ، وہو یختلف إلیہ : ہذا رجل قد قطع السم أمعاء ہ ، فقال الحسین : یا أبا محمّد ! خبّرنی من سقاک السمّ ، قال : ولم یا أخی ؟ قال : أقتلہ ، واللّٰہ قبل أن أدفنک ، أو لا أقدر علیہ ، أو یکون بأرض أتکلّف الشخوص إلیہ ، فقال : یا أخی ! إنّما ہذہ الدنیا لیال فانیۃ دعہ ، حتّی ألتقی أنا وہو عند اللّٰہ ، فأبی أن یسمّیہ ، وقد سمعت بعض من یقول : کان معاویۃ قد تلطّف لبعض خدمہ أن یسقیہ سمّا ۔
”عبداللہ بن حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی  رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت زیادہ نکاح کرتے تھے۔عورتیں ان کے پاس بہت کم عرصہ گزارپاتیں۔تقریباً سب عورتیں ، جن سے آپ شادی کرتے ، وہ آپ سے محبت کرتیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو زہر پلایا گیا ، لیکن وہ جانبر ہوگئے ۔ پھر زہر پلایا گیا ، لیکن وہ پھر جانبر ہوگئے ۔ جب آخری دفعہ تھی تو وہ اس میں فوت ہوگئے۔جب ان کی وفات کاوقت حاضر ہوا تو طبیب نے ان کی طرف آتے ہوئے کہا: یہ ایسا آدمی ہے ، جس کی انتڑیاں زہر نے کاٹ دی ہیں۔حسین  رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابومحمدـ! مجھے بتائیے کہ آپ کوزہر کس نے پلائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیوں اے بھائی؟ حسین  رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں اسے آپ کودفن کرنے سے پہلے قتل کردوں گا یا اس پر قادر نہ ہوسکوں گایا وہ ایسی زمین میں ہوگا ، جہاں میرا داخل ہونا مشکل ہوگا۔اس پر حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! یہ دنیا چند فانی راتوں پرمبنی ہے۔اس شخص کو چھوڑ ، میں اسے اللہ کے ہاں مل لوں گا۔ یہ کہہ کرانہوں نے اس کانام بتانے سے انکار کردیا۔میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے کسی خادم کو زہر پلانے پر ورغلایا تھا۔”(تاریخ ابن عساکر : ١٣/٢٨٢۔٢٨٣)
تبصرہ : یہ روایت سخت ترین ”ضعیف” ہے۔ اس کاراوی محمد بن عمر الواقدی ”کذاب” ہے۔
اس میں ایک اورعلت بھی ہے ۔
دلیل نمبر 4 : ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں :
توفّی الحسن بن علیّ وسعد بن أبی وقّاص فی أیّام بعد ما مضی من إمارۃ معاویۃ عشر سنین ، وکانو یرون أنّہ سقاہما سمّا ۔ ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما  اورسعد بن ابی وقاص  رضی اللہ عنہ ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے دس سال گزرنے کے بعد فوت ہوئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کوزہر پلایا تھا۔”
(مقال الطالبین لابی الفرج علی بن الحسین الاصبہانی : ص ٢٠)
تبصرہ : یہ روایت شیطان لعین نے گھڑی ہے، جورافضیوں کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ انہوں نے اس کو اپنے مذہب وعقیدہ پردلیل بنا لیا ہے۔
1    صاحب ِ کتاب اموی شیعہ ہے۔ اس کے بارے میں توثیق ثابت نہیں۔ اس کے شاگرد محمد بن ابی الفوارس کہتے ہیں :
وکان قبل أن یموت اختلط ۔ ”یہ اپنی موت سے پہلے بدحواس ہوگیا تھا۔”
(تاریخ بغداد للخطیب : ١١/٣٩٨)
2    اس کے راوی احمد بن عبیداللہ بن عمار کے بارے میں امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
وکان یتشیّع ۔ ”یہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔”(تاریخ بغداد : ٤/٢٥٢)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : من رؤوس الشیعۃ ۔ ”یہ شیعہ کے سرداروں میں سے تھا۔”(میزان الاعتدال للذہبی : ١/١١٨)
اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہئ توثیق بھی ثابت نہیں ۔
3    اس کا مرکزی راوی عیسیٰ بن مہران ہے ۔ اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رافضیّ ، کذّاب ۔ ”یہ رافضی اوربہت بڑا جھوٹا تھا۔”(میزان الاعتدال للذہبی : ٣/٣٢٤)
امام ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں کہ یہ کذاب آدمی تھا۔(الجرح والتعدیل : ٦/٢٩٠)
امام ابنِ عدی فرماتے ہیں : حدّث بأحادیث موضوعۃ مناکیر ، محترق فی الرفض ۔ ”اس نے بہت سی من گھڑت اورمنکر روایات بیان کی ہیں۔ یہ کٹر قسم کا رافضی تھا۔”(الکامل لابن عدی : ٥/٢٦٠)
نیز فرماتے ہیں : والضعف بیّن علی حدیثہ ۔ ”اس کی حدیث پر ضعف واضح ہے۔”(الکامل لابن عدی : ٥/٢٦١)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رجل سوء ، ومذہب سوء ۔
”آدمی بھی بُرا تھا اوراس کا مذہب بھی بُراتھا۔”(الضعفاء والمتروکون للدارقطنی : ٤١٨)
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کان عیسیٰ بن مہران من شیاطین الرافضۃ ومردتہم ، ووقع إلیّ کتاب من تصنیفہ فی الطعن علی الصحابۃ وتضلیلہم وإکفارہم وتفسیقہم ، فواللّٰہ لقد قف شعری عند نظری فیہ ، وعظم تعجّبی ممّا أودع ذلک الکتاب من الأحادیث الموضوعۃ ۔۔۔
”عیسیٰ بن مہران شیاطین اور لعین قسم کے رافضیوں میں سے تھا ۔ مجھے اس کی تصنیفات میں سے ایک کتاب ملی ، جو کہ صحابہ کرام پرطعن ، ان کوگمراہ قراردینے ، ان کو فاسق کہنے اور ان کی تکفیر پر مبنی تھی ۔ اللہ کی قسم ! اس کتاب کودیکھتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور اس کتاب میں اس نے جو من گھڑت احادیث ذکر کی تھیں ، ان سے میں بڑا متعجب ہوا۔۔۔”
(تاریخ بغداد للخطیب : ١١/١٦٧)
تنبیہ : لسان المیزان (٤/٤٠٧)میں اس کے حالات لکھتے ہوئے کسی ناسخ نے غلطی سے ولحقہ ابن جریر (ابنِ جریر اس کو ملے تھے)کی بجائے وثّقہ ابن جریر (ابنِ جریر نے اسے ثقہ قراردیا ہے) لکھ دیا ہے۔
اس کذاب کی روایت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کرنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ یہ لوگ یوم ِ حساب سے غافل ہیں۔کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے خلاف ان کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی تحریروں اورزبان سے نکلی ہوئی باتوں کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی؟
دلیل نمبر 5 : عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں :
کنت مع الحسن والحسین فی الدار ، فدخل الحسن المخرج ، ثمّ خرج ، فقال : لقد سقیت السمّ ۔۔۔۔ ”میں حسن اورحسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھر میں تھا ۔ سیدناحسن رضی اللہ عنہ دروازے میں داخل ہوئے ، پھر باہر آئے اورفرمایا : میں نے زہر پیا ہے۔۔۔”
(مقال الطالبین لابی الفرج الاصبہانی الشیعی الاموی : ص ٢٠)
اس من گھڑت روایت کا معنیٰ ومفہوم وہی ہے اور اس میں علتیں بھی بعینہٖ وہی ہیں ، جو اس سے پہلے والی روایت میں ہیں۔
دلیل نمبر 6 : ابنِ جعدۃ کہتے ہیں :
کانت جعدۃ بنت الأشعب بن قیس تحت الحسن بن علیّ ، فدسّ إلیہا یزید أن سمی حسنا ، إنّی مزوّجک ، ففعلت ، فلمّا مات الحسن بعثت إلیہ الجعدۃ ، تسأل یزید الوفاء بما وعدہا ، فقال : إنّا واللّٰہ لم نرضک للحسن ، فنرضاک لأنفسنا ۔ ”جعدہ بنت الاشعت بن قیس سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ یزید نے اسے بہلایا کہ تُو حسن کو زہر دے دے تو میں تجھ سے نکاح کرلوں گا۔ اس نے ایسا کردیا۔جب حسن  رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو جعدہ نے یزید سے اپنے وعدے کو وفا کرنے کا مطالبہ کیا۔اس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تجھے حسن کے لیے پسند نہیں کیا تھا ، اپنے لیے کیسے کریں۔”
(تاریخ ابن عساکر : ١٣/٢٨٤، المنتظم لابن الجوزی : ٥/٢٢٦)
تبصرہ : یہ جھوٹا قصہ ہے ۔
1     اس کا گھڑنے والا یزید بن عیاض بن جعدۃ اللیثی ہے۔ امام یحییٰ بن معین ، امام علی بن المدینی ، امام بخاری ، امام مسلم ، امام نسائی ، امام ابنِ عدی ، امام ابوزرعہ الرازی ، امام ابوحاتم الرازی ، امام ساجی ، امام جوزجانی ، امام عمروبن علی الفلاس وغیرہم  رحمہم اللہ نے اسے ”ضعیف، منکرالحدیث ” اور”متروک الحدیث” کے الفاظ کے ساتھ مجروح کیا ہے۔ اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہئ توثیق بھی ثابت نہیںہے۔
2    اس کے دوسرا راوی محمد بن خلف بن المرزبان الآجری کے بارے میں متقدمین ائمہ محدثین میں سے کسی نے توثیق کا کوئی کلمہ استعمال نہیں کیا، بلکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ہو أخباریّ ، لیّن ۔ ”یہ تاریخ دان تھااورکمزور راوی تھا۔”(سوالات السہمی : ١٠٤)
لہٰذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ (سیر اعلام النبلاء : ١٤/٢٦٤)کا اسے صدوق قراردینا صحیح نہیں ۔
دلیل نمبر 7 :         عن أمّ موسی أنّ جعدۃ بنت الأشعث ابن قیس سقت الحسن السمّ ، فاشتکی منہ شکاۃ ، قال : فکان یوضع تحتہ طست وترفع أخری نحوا من أربعین یوما ۔
”ام موسیٰ بیان کرتی ہیں کہ جعدۃ بنت الاشعث بن قیس نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کوزہر پلایا ۔ اس سے آپ بیمار ہوگئے ۔ آپ کے نیچے ایک برتن رکھا جاتا اوردوسرا اُٹھایا جاتا ۔ تقریباً چالیس دن تک یہ معاملہ رہا۔”(تاریخ ابن عساکر : ١٣/٢٨٤)
تبصرہ : اس کی سند”ضعیف” ہے ۔ یعقوب نامی راوی کا تعین درکار ہے، نیز ام ِ موسیٰ سے اس کاسماع مطلوب ہے۔
وہ روایات جن میں سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ  یا یزید کے بارے میں ہے کہ انہوں نے سیدنا حسن ابن علی رضی اللہ عنہما کوزہر دیا تھا ، ان کا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا ہے ۔ ان سندوں کے علاوہ اگر کسی کے پاس کوئی سند ہے تو وہ ہمیں پیش کرے۔ ہم اس کا تجزیہ کریںگے۔
سنددین ہے ۔ بے سند اور ”ضعیف” روایات پیش کرنا اوران پر اپنے عقیدہ وعمل کی بنیاد ڈالنا اہل حق کا وطیرہ نہیں۔ نیز ”ضعیف” اور بے سروپا روایات صحابہ کرام کے خلاف پیش کرنا صحیح نہیں، کیونکہ یہ بد گمانی کے زمرہ میں آئے گا ۔بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ جھوٹی روایات رافضی شیعوں کے عقیدہ کے منافی بھی ہیں ، کیونکہ شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے:
إنّ الأئمّۃ یعلمون متی یموتون ، وإنّہم لا یموتون إلّا باختیارہم ۔
”ائمہ جانتے ہوتے ہیں کہ کب مریں گے اور وہ اپنے اختیار ہی سے مرتے ہیں۔”
(اصول الکافی الکلینی : ١/٢٥٨، الفصول المہمۃ للجرالعاملی : ص ١٥٥)
ملا باقر مجلسی صاحب لکھتے ہیں :
لم یکن إمام إلّا مات مقتولا أو مسموما ۔
”کوئی امام نہیں ، مگر وہ قتل یازہر کے ذریعے مرا ہے۔”
(بحار الانوار للمجلسی : ٤٣/٣٦٤)
جب ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ عالم الغیب ہوتے ہیں تو سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہما  کو علم کیوں نہ ہوسکا کہ اس کھانے میں زہر ہے؟
الحاصل : یہ کہنا کہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا ہے، بہت بڑا جھوٹ اوراتہام ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں جمیع روایات من گھڑت اورخود ساختہ ہیں۔
واللّٰہ أعلم ، وعلمہ أحکم !

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.