187

کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ کا حمل گرایا؟ علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

علامہ ابو الفتح محمد بن عبد الکریم بن احمد شہرستانی(م : ٥٤٨ھ)ایک رافضی کذاب ابراہیم بن یسار ا بن ہانی النظام کے حالات لکھتے ہوئے اس کی بدعقیدگی کے پول بھی کھولتے ہیں۔ اس کا ایک جھوٹ علامہ شہرستانی نے یوں بیان کیا ہے کہ اس رافضی کذاب نے کہا :
إنّ عمر ضرب بطن فاطمۃ یوم البیعۃ حتّی ألقت الجنین من بطنہا ، وکان یصیح : أحرقوا دارہا بمن فیہا ، وما کان فی الدار غیر عليّ وفاطمۃ والحسن والحسین علیہم السلام ۔ ”(سیدنا) عمر( رضی اللہ عنہ )نے بیعت والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر مارا اور ان کے پیٹ کا بچہ گر گیا۔عمر( رضی اللہ عنہ ) پکار کر کہہ رہے تھے کہ اس (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا )کے گھر کو گھروالوں سمیت جلا دو۔ گھر میں سوائے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدناحسن اور سیدنا حسینyکے کوئی نہ تھا۔”
(الملل والنحل للشہرستاني : ١/٥٧، الوافي بالوفیات للصفدي(م : ٧٦٤ھ) : ٥/٣٤٧)
رافضی شیعہ اس روایت کو بنیاد بنا کر خلیفہ راشد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر تبرابازی کرتے ہیں، لیکن اس روایت کی نہ تو ابراہیم بن یسار تک کوئی سند مذکور ہے نہ ابراہیم سے آگے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک کوئی سند دنیا کی کسی کتاب میں موجود ہے۔یہ روایت دنیا کا سفید جھوٹ اور شیطان لعین کی کارستانی ہے۔ اس طرح کی جھوٹی بے سند اور بے سروپا روایات سے صحابہ کرام]کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا ناعاقبت اندیشی ہے۔
ابراہیم بن یسار ابن ہانی النظام گندے عقیدے کا حامل تھا اور یونانی فلسفے سے بہت متاثر تھا۔ معتزلی مذہب رکھتا تھا اور اس کے نام پر فرقہ نظامیہ نے جنم لیا۔
حافظ ذہبیa(٦٧٣۔٧٤٨ھ) نے احمد بن محمد بن ابی دارم ابو بکر کوفی (م : ٣٥١ھ) کے ترجمہ میں ابو الحسن محمد بن احمد بن حماد بن سفیان کوفی حافظ(م : ٣٨٤ھ) کے حوالے سے اس کے بارے میں لکھا ہے :
کان مستقیم الأمر عامّۃ دہرہ ، ثمّ في آخر أیّامہ کان أکثر ما یقرأ علیہ المثالب ، حضرتہ ورجل یقرأ علیہ : إنّ عمر رفس فاطمۃ حتّی أسقطت بمحسن ۔
”وہ ساری عمر درست نظریے اور عقیدے پر رہا ، لیکن اس کی عمر کے آخری دور میں اس کے پاس عام طور پر صحابہ کرام کے خلاف ہرزہ سرائیاں ہی پڑھی جاتی تھیں۔میں ایک دن اس کے پاس آیا تو ایک آدمی اس کے پاس یہ روایت پڑھ رہا تھا کہ عمر( رضی اللہ عنہ ) نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ پر ظلم کیا حتی کہ ان کے پیٹ کا بچہ محسن گر گیا۔”
(میزان الاعتدال للذہبي : ١/١٣٩، ت : ٥٥٢، أحمد بن محمد بن السري)
یاد رہے کہ حافظ ذہبیaنے اس ابن ابی دارم کے بارے میں لکھا ہے :
الرافضي الکذاب ۔ ”یہ رافضی اور سخت جھوٹا آدمی تھا۔”
(میزان الاعتدال للذہبي : ١/١٣٩)
امام حاکمaاس کے بارے میں فرماتے ہیں : رافضي ، غیر ثقۃ ۔
”یہ شخص رافضی اور غیر معتبر تھا۔”(أیضا)
وہ شخص شیطان ہی ہو سکتا ہے جو اس جھوٹے رافضی کے پاس جھوٹ پڑھ رہا تھا۔ دنیا میں اس کی کوئی سند موجود نہیں ، نہ رافضیوں کی کتب میں نہ اہل سنت کی کتب میں۔رافضی شیعوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹ کی سند پیش کریں، ورنہ توبہ کر لیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے اور اس کا عذاب بہت دردناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.