440

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کی واپسی؟

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کی واپسی؟
حافظ ابو یحییٰ نور پوری
ان الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ،اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
بول ٹی وی پرسیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے حوالےسے پروگرام ہو ااور اس میں ایک روایت کو بڑ ابڑھا چڑھا کربیان کیا گیاگویا کہ وہ قرآن کی آیت ہو،سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک مرتبہ نماز لیٹ ہوگئی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نےسورج کو واپس پلٹادیاتاکہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ عصر کے وقت میں اس کو پڑھ سکیں اور ان کی نماز قضاء نہ ہو۔
ہم یہاں محدثین کے دس حوالے پیش کریں گےجو بتاتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
۔ حافظ محمد بن حاتم زنجویہ بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب” اثبات امامۃ الصدیق ”میں حدیث رد شمس کے بارے میں (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر : 6/8)
فرماتے ہیں :
”یہ حدیث سخت ضعیف اور بے اصل ہے۔”
2۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (البدایۃ والنہایۃ : 6/93) امام ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں، کہ یہ روایت بے اصل ہے۔
3۔حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (تاریخ دمشق : 42/314)فرماتے ہیں :
” یہ منکر حدیث ہے، اس کے کئی راوی مجہول ہیں۔”
4۔امام عقیلی رحمہ اللہ (الضعفاء الکبیر : 3/328)اس روایت پر یوں تبصرہ کرتے ہیں :” اس روا یت میں ضعف ہے۔”
5۔حافظ جورقانی رحمہ اللہ (الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر : 1/308)لکھتے ہیں:”یہ روایت منکر اور مضطرب ہے۔”
6۔حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ )الموضوعات : 1/356(نے اس روایت کو من گھڑت کہا ہے۔
7۔حافظ محمد بن ناصر بغدادی) رحمہ اللہ البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر : 6/87( فرماتے ہیں :” یہ حدیث من گھڑت ہے۔”
8۔حافظ ذہبی ) رحمہ اللہ تلخیص الموضوعات : 118(فرماتے ہیں :” یہ روایت جھوٹی ہے، صحیح نہیں ہے۔”
9۔ حافظ مزی رحمہ اللہ )البدایۃ والنہایۃ : 6/93(فرماتے ہیں :”یہ روایت موضوع ہے۔”
10۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ )المنار المنیف : 1/56(فرماتے ہیں :
“یہ روایت اپنے جمیع طرق سے ضعیف و منکر ہے، اس کی کوئی سند بھی شیعہ، مجہول الحال اور متروک راویوں سے خالی نہیں ہے۔”
لیکن ان تمام تصریحات کے باوجود بھی ٹی وی پر بیٹھ کر انہوں نے اس روایت کو ثابت کرنے کی کوشش کی،اگر اماموں کے نقل کرنے سے کسی روایت کی تصحیح ہوجاتی ہوتو پھر تو جتنی بھی جھوٹی روایات ہیں وہ آپ کو بہت ساری کتابوں میں مل جائیں گی،کیا آپ ان کو بھی ماننے کے لیے تیار ہیں؟یہ کوئی پیمانہ ہے کہ اتنی کتابوں میں یہ روایت آگئی ہے لہذا یہ صحیح ہو گئی؟کسی بھی روایت کو صحیح کہنے کا پیمانہ اس کی سند ہے،اگر اس کی سند صحیح ہے تو وہ روایت ہی قبول کی جائے گی،اس معیار کے مطابق کوئی ایک روایت بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج پلٹنے کی ثابت نہیں ہے، اللہ حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.