234

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا کلمہ مشکوک اور رافضیوں کا معتبر؟ نعوذ باللہ.

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا کلمہ مشکوک اوررافضیوں کا معتبر؛ نعوذ باللہ۔
اس کے بعد آپ نے شیعوں کے تقیہ کے بارے میں کہا کہ” ہم تو ظاہر پر حکم لگائیں گےاگر کوئی موت کے وقت کلمہ پڑھے تو آپ نے اس کے کلمے کا احترام ہی کرنا ہے یہ نہیں کہنا کہ وہ موت کے ڈر سے کلمہ پڑھ رہا ہے، جیسا کہ حضرت خالد بن ولید نے جنگ میں ایک شخص کو قتل کر دیا تھا جب اس نے موت کے وقت کلمہ پڑھ لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سخت تردید فرمائی۔”
جب شیعہ کی تقیہ کی بات آئی تو آپ نے کہا کہ ہم تو ظاہر پر حکم لگائیں گے، شیعوں کے بارے میں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،وہ جو کچھ بھی اوپر اوپر سے کہتے ہیں ہمیں ماننا چاہیے، ایک رافضی جو سیدنا ابو بکر ،سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنھم کا دشمن ہے اس کے بارے میں آپ نے یہ حسن ظن لیا لیکن مرز اصاحب! آپ نے سیدنا معاویہ، سیدنا ابو سفیان اور دیگر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں جو فتح مکہ کے موقعہ پر مسلمان ہوئے ان کے بارے میں آپ نے کہا تھا کہ”آپ ان صحابہ کی بات کرتے ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلما ن ہوئے، پوری زندگی اسلام کی پیٹھ میں گھونپتے رہے اور بعد میں موت کے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا۔”جب کہ شیعہ کے بارے میں آپ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں آپ کہتے ہیں کہ وہ زبانی طور پر جو کہتے ہیں ہمیں وہ مانناچاہیے ورنہ ہم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہو جائیں گے۔لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں آپ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے موت کے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا تھا، ہم نے پہلے بھی آپ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ روزِقیامت آپ اللہ کو کیاجواب دیں گے؟آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ انہوں نے تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا؟اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو ہدایت نصیب فرمائے۔
مرزا صاحب نے اہل حدیث پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بڑے لوگوں کی غلطیاں بیان کرنا اللہ کی سنت ہے ،قرآن میں اللہ نے قصہ آدم وابلیس بیان کیا،
سیدنا آدم علیہ السلام کی غلطی بیان کی لیکن کیا مرزا صاحب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدنا آدم نے اتنے بڑی غلطی کرکےانسانیت کا بیڑا غرق کر دیا جیسا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں؟صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی غلطیاں بیان کرنے کی دلیل آپ سیدناآدم علیہ السلام کی غلطی کو قرار دیتے ہیں لیکن انداز آپ بلکل ہی جد اکر لیتے ہیں؟قرآن کا انداز آپ نے نہیں دیکھا؟ مسلمانوں کا سیدنا آدم کی اس غلطی کے باوجود بھی ان کے بارے میں عقیدہ کیا ہے؟کیا کوئی مسلمان یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ کہے کہ سیدنا آدم نے یہ غلطی کر کے امت کا بیڑا غرق کر دیا؟اگر آپ اس طرح کی بات سیدنا آدم کے بارے میں اپنے ایمان کے منافی سمجھتے ہیں تو پھر ا س کی مثال دے کر آپ سیدنا معاویہ اور دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں کیوں کہتے ہیں کہ”انہوں نے امت نال کم پایا”؟اس پر ہم تفصیلی بات کر چکے ہیں کہ آپ اس طرح کے مغالطے لوگوں کو نہ دیا کریں، اللہ آپ کو ہدایت نصیب فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.