501

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تلوار کے زور پر لعنت کرواتے تھے؟

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تلوار کے زور پر لعنت کرواتے تھے؟
اس کے بعد مرزا صاحب نےایک اور سنن الکبرٰی للنسائی (8423) روایت پیش کی اور اس سے مرزا صاحب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ گالیاں دلواتے تھے اور لعنت کرواتے تھے۔ہم اس روایت کا ترجمہ وہ کریں گے جو مرزا صاحب نے کیا ہے، مرزا صاحب کہتے ہیں کہ”حضرت سعد نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم علی کو گالیاں دیتے ہو؟تو انہوں نے کہا کہ کیا واقعی ہی آپ نے ایسے سنا ہے؟انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے سنا ہے ایسے،انہوں نے کہا کہ معاذاللہ ، اللہ کی قسم! ہم نے کبھی حضرت علی کو گالیاں نہیں دیں۔”
جب یہ ترجمہ کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں نہیں دی جاتی تھیں،کسی نے افواہ اڑائی تھی تو جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے جا کر پوچھاتو انہوں نے کہا کہ ہم تو گالیاں نہیں دیتے، اس سے تو مسئلہ صاف ہو جاتا ہے کہ حقیقت میں تو گالیاں نہیں دی جاتیں تھیں بلکہ کسی نے افواہ اڑائی تھی لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ جو روایت آپ نے پیش کی ہےاس میں یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میرے سر پر آرا بھی رکھ دیا جائے اور پھر مجھ سے کہا جائے کہ علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہوتومیں پھر بھی برا نہیں کہوں گا۔
مرزا صاحب کہتے ہیں کہ دیکھیں جی! کون مجبور کرتا تھا؟گویا کہ لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا،لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں،کہا جاتا تھا کہ علی کو بر اکہووگرنہ قتل کر دیا جائے گا۔اس لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ اگر میرے سر پر آرا بھی رکھ دیا جائے تو میں پھر بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہیں کہوں گا۔
اس روایت کی سندبھی ضعیف ہے،اس کی سند میں ابوبکربن خالد بن عرفطہ راوی مجہول ہےاس کی توثیق ثابت نہیں ہےلہذا یہ روایت ضعیف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.