299

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بمقابلہ عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ ؟

.

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بمقابلہ عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ ؟

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اشارے وکنایوں میں کی جاتی ہیں اور وہ بڑی خطرناک باتیں ہوتی ہیں انجینئر محمد علی مرزا صاحب کہتے ہیں کہ “ہم مولانا طارق جمیل صاحب کو دیوبند میں ایسے سمجھتے ہیں جیسے آل امیہ میں عمر بن عبد العزیز کو سمجھتے ہیں “،مطلب یہ ہے کہ اگر دیوبند میں کوئی کام کابندہ ہے تو وہ مولاناطارق جمیل صاحب ہیں اور آل امیہ میں کوئی کام کے بندے تھے تو وہ سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تھے ، نعوذ باللہ ۔
یہ بات بہت ہی زیادہ خطرناک ہے اور یہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کے سو فیصد خلاف ہے،شعوری طور پر ایسا کہنے والاتو وہ اہل سنت سے بلکل خارج ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ آل امیہ میں بہت بعدآئے ہیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو تیسرے خلیفہ راشد ہیں،اسلام میں آل امیہ میں سے جو نمایاں شخصیات ہیں ان میں ان کا شمار ہوتا ہے،یاد رکھیں کہ آل امیہ قریشی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریشی تھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے؛
“عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ القرشی الاموی”
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل بے شمار ہیں یہاں ان کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔ان کے بعد آل امیہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے؛
“معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ القرشی الاموی”
اور آل امیہ میں نمایاں شخصیات میں سے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بھی ہیں، ان کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے؛
“ابو سفیان صخر بن حرب بن امیہ القرشی الاموی”
تو یہ تین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آل امیہ میں نمایاں شخصیات ہیں اور مرز اصاحب نے جو کہا ہے کہ” ہم مولانا طارق جمیل صاحب کو دیوبند میں ایسے سمجھتے ہیں جیسے آل امیہ میں عمر بن عبد العزیز کو سمجھتے ہیں “یہ اتنا خطرناک جملہ ہےکہ اس جملے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بھی توہین کی گئی،سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھی توہین کی گئی اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بھی توہین کی گئی، اگر مرزا صاحب ان کو آل امیہ میں اچھا سمجھتے ہوتے تو وہ پہلے ان کا تذکرہ کرتے چونکہ مرزا صاحب کے دل میں صحابہ کرام کے لیے میل اور رنج ہے اس لیے مرزا صاحب نے ان تین جلیل القدر صحابہ کی توہین کی،عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ صحابی نہیں ہیں جب کہ آ ل امیہ میں یہ جلیل القدر تین صحابہ موجود ہیں بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو خلیفہ ثالث ہیں ان سے بھی زیادہ ایک غیر صحابی کو فضیلت دینا توہین نہیں تواور کیا ہے؟سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےسسر ہیں اور سسر باپ کے مقام پر ہوتا ہے اگرچہ امتی ہونے کہ وجہ سے ان کو یہ مقام زیادہ نہیں ملا لیکن رشتے داری تو ختم نہیں ہوسکتی،سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتے داری ہے تو ہم اس کا احترام کرتے ہیں حالانکہ وہ نیچے کی طرف رشتے داری ہے لیکن ہم دل وجان سے اہل بیت سے محبت کرتے ہیں تو جو رشتے داری اوپر کی طرف ہے اہل بیت علیھم السلام کا نام پیٹنےو الے ان کو سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتے داری کیوں نہیں دیکھتی؟”زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،مومنوں کی ماں،سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما”، آپ اندازہ لگائیں کہ مرزا صاحب کا ایک جملہ کہاں تک جاتا ہے؟اس رشتے داری کا کوئی احترام نہیں ہے؟اس رشتے داری کےبارے میں تم لوگ کہتے ہوکہ وہ بد نیت تھے؟تو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سیدنا عثمان، سیدنا معاویہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنھم ان سب کے مقابلے میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو فوقیت دیناا ور کہنا کہ”آل امیہ میں کام کے بندے تو صرف سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہی ہیں”یہ بہت بڑی خیانت ہےاور یہ اہل سنت کے بنیادی عقائد سے صاف صاف انحراف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.