176

ایس ایم ایس اور تبلیغ دین، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہ اور جرم ِ عظیم ہے ۔ دین کے متعلق جب بھی کوئی بات کریں ، وہ ٹھوس اور تحقیق پر مبنی ہونی چاہیے ۔
رسول اللہ کا ارشاد ِ گرامی ہے :
« كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ »
“آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے لگے۔”
(مقدمۃ صحیح مسلم : 5 ، طبع دارالسلام ، وسندہٗ صحیح )
اللہ ربّ العزت پر جھوٹ باندھنا بھی جُرم عظیم ہے ۔ اس کی سزا بھی سن لیں :
ﭽﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻﭼ الزمر: ٦٠
“اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو گا ، قیامت کے روز آپ دیکھیں گے کہ اُن کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ ”
اگر کوئی مسلمان کسی حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فرق نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ بغیر تحقیق کے کوئی حدیث بیان نہ کرے جب تک اہل فن سے اس کا حال معلوم نہ کر لے تاکہ حُزم و احتیاط کا دامن چھوٹنے نہ پائے ۔ یاد رہے کہ تبلیغ صرف اور صرف صحیح احادیث کو آگے پہنچانے کا نام ہے ۔ بعض لوگ تبلیغ کے جوش میں رطب و یابس بیان کرنے کو سعادت ِ دارین خیال کرتے ہیں ۔ یہ ان کی خام خیالی ہے ۔
امام ابنِ حبان کی ایک تبویب یوں ہے : ذكر رحمة الله جل وعلا من بلغ أمة المصطفى صلى الله عليه و سلم حديثا صحيحا عنه. “اس بات کا بیان کہ رسولِ اکرم کا جو اُمتی آپ کی ایک صحیح حدیث آگے پہنچاتا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے ۔”(صحیح ابن حبان : 1/270)
امام موصوف نے اس پر بطور ِ دلیل یہ فرمانِ نبوی پیش کیا ہے : « رحم الله امرءا سمع مني حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره » “اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو میری ایک حدیث سنتا ہے ، پھر اسے یاد کرتا ہے حتی کہ کسی اور تک پہنچا دیتا ہے۔”
(صحیح ابن حبان : 67، وسندہٗ صحیح)
اس کے باوجود بعض لوگ خود ساختہ روایات کے Smsکرتے رہتے ہیں ، یہ باور کرانے کے لیے کہ یہ حدیث ِ رسول ہے ۔ اس کی سنگینی ملاحظہ فرمائیں ۔
رسول اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا حرام ہے :
نبیٔ اکرم نے فرمایا : « إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ » “میری طرف جھوٹ منسوب کرنا کسی عام شخص کی طرف جھوٹ منسوب کرنے جیسا گناہ نہیں ، بلکہ جس شخص نے میری طرف جانتے بُوجھتے جھوٹ منسوب کیا ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سمجھے۔”
(زیادات الفضائل لعبد اللہ بن احمد : 90، مسند البزار : 1275، مسند ابی یعلی: 966، مشکل الآثار للطحاوی : 350، وسندہٗ صحیح)
امام دارقطنی نے اس حدیث کو “صحیح” قرار دیا ہے ۔ (العلل : 4/420)
ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں : « إِنَّ الَّذِى يَكْذِبُ عَلَىَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِى النَّارِ » “یہ بات یقینی ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔”(مسند الامام احمد : 2/144، وسندہٗ صحیح)
سیّدنا واثلہ بن اثقع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :
« إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يَدَّعِىَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ يُرِىَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ ، أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – مَا لَمْ يَقُلْ »
“یقیناً سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب ہو یا وہ کسی چیز کو دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ کرے یا وہ اللہ کے رسول سے ایسی بات منسوب کرے جو آپ  نے نہ فرمائی ہو۔”(صحیح البخاری : 3509)
متواتر حدیث میں بھی اس بات کی شدید وعید آئی ہے ۔ فرمانِ نبوی ہے :
« مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ » “جو شخص مجھ پر جانتےبُوجھتے جھوٹ باندھتا ہے ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔”
(صحیح البخاری : 110، صحیح مسلم : 3)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ(661- 728ھ) فرماتے ہیں : وَكَذَلِكَ مِمَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ عَلَى اللَّهِ مَا لَا يَعْلَمُ مِثْلَ أَنْ يَرْوِيَ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَحَادِيثَ يَجْزِمُ بِهَا وَهُوَ لَا يَعْلَمُ صِحَّتَهَا. “اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بات کہے جس کا اُسے علم نہ ہو ، مثلاً وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باتیں بالجزم بیان کرے حالانکہ وہ اُن کی صحت کے بارے میں نہ جانتا ہو۔”(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : 3/425)
شیخ الاسلام ثانی ، عالم ربانی ، علامہ ابن القیم(691- 751ھ)فرماتے ہیں :
وهكذا لا يسوغ أن يقول قال رسول الله لما لا يعلم صحته ولا ثقة رواته بل إذا رأى أي حديث كان في أي كتاب يقول لقوله صلی الله عليه وسلم أو لنا قوله صلی الله عليه وسلم، وهذا خطر عظيم وشهادة على الرسول بما لا يعلم الشاهد . “اسی طرح کسی حدیث کی صحت اور اس کے راویوں کی ثقاہت جانے بغیر یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ کے رسول  نے یوں فرمایا ۔ ہوتا یہ ہے جب کسی کتاب سے کوئی حدیث پڑھ لی جاتی ہے تو آدمی کہنے لگتا ہے کہ (میرا یہ مذہب) رسول اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے یا ہماری دلیل رسول اللہکا یہ فرمان ہے۔یہ بہت بڑا خطرہ ہے اور رسول اللہ کے بارے میں ایسی گواہی ہے جس کے بارے میں گواہ کو علم نہیں ہوتا۔”(احکام اہل الذمۃ لابن القیم : 1/20، وفی نسخۃ : 1/23)
سیّدنا عمر بن خطّاب  اور تحقیق حدیث :
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری نے سیّدنا عمر بن خطاب سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ، اجازت نہیں ملی ، ہو سکتا ہے کہ سیّدنا عمر مشغول ہوں ۔ سیّدنا ابوموسیٰ اشعری واپس لوٹ آئے ۔ سیّدنا عمر فارغ ہوئے تو فرمانے لگے :کیا ابوموسیٰ اشعری کو آواز نہیں سُنی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو ۔ کہا گیا کہ وہ تو واپس لوٹ گئے ہیں ۔ آپ نے اُنہیں بلایا ۔ انہوں نے کہا :ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے (کہ تین دفعہ اجازت نہ ملے تو لوٹ جاؤ)۔ سیّدنا عمر نے فرمایا : تم اس بات پر گواہ لاؤ ۔ سیّدنا ابو موسیٰ انصار کی ایک مجلس میں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا ۔ انہوں نے کہا : آپ کے اس موقف پر ہم میں سے کم سن گواہی دے سکتا ہے ۔ سیّدنا ابو سعید خدری کو لایا گیا (اور انہوں نے گواہی دی)۔ سیّدنا عمر نے فرمایا : یہ فرمانِ رسول مجھ پر مخفی رہا ۔ تجارتی زندگی کی مشغولیت کے باعث میں اس حدیث سے واقف نہیں ہو سکا ۔
(صحیح البخاری : 2063، صحیح مسلم : 2153)
صحیح مسلم کی ایک روایت(2154) میں ہے : إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ. “میں نے ایک بات سُنی تو چاہا کہ اس کی تحقیق کروں۔”
یہ سیّدنا عمرکی حدیث کے حوالے سے احتیاط کا عالم تھا ۔ جو مبلغین اور واعظین منبر پر بیٹھ کر بے سند اور بے سرو پا روایات بیان کرتے رہتے ہیں ، ان کے لیے دعوت ِ فکر ہے ۔
حافظ سیوطی لکھتے ہیں : إنّ من أقدم على رواية الأحاديث الباطلة يستحقّ الضرب بالسياط، ويهدّد بما هو أكثر من ذلك، ويزجر ويهجر، ولا يسلّم عليه، ويغتاب في الله، ويستعدى عليه عند الحاكم، ويحكم عليه بالمنع من رواية ذلك ويشهد عليه . “جو شخص جھوٹی روایات بیان کرنے کا اقدام کرتا ہے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اسے کوڑے ماریں جائیں ، اس سے بھی سخت سزا سے اُسے دھمکایا جائے ، اُسے ڈانٹا جائے اور اس کا بائیکاٹ کیا جائے ، اس کو سلام نہ کہا جائے ، اللہ کی رضا کی خاطر اس کی بُرائی سے دوسروں کو آگاہ کیا جائے ، اُسے حاکمِ وقت کے پاس لے جایا جائےاور حاکم اُسے جھوٹی روایات بیان کرنے سے منع کرے اور اس پر گواہ قائم کرے۔”(تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص للسیوطی : ص 167)
امام یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں : الإسناد من الدين .
“سند دین کا حصہ ہے۔”(التمھید لابن عبد البر : 1/57 ، وسندہٗ حسن)
امام شعبہ فرماتے ہیں : إنّما يعلم صحّة الحديث بصحّة الإسناد .
“حدیث کی صحت اُس کی سند کی صحت سے معلوم ہوتی ہے۔”
(التمھید لابن عبد البر : 1/57، وسندہٗ حسن)
سند ہی وہ معیار ہے جس سے علم کی تنقیح کا کام لیا جا سکتا ہے ۔ سند ہی اسلام کی شان و شوکت ہے اور اہل حدیث کی کرامت ہے ۔
ہمارا اپنا مَیلان یہ ہے کہ Smsکے ذریعے آیات ِ قرآنی اور احادیث ِ نبویہ بھیجنا اتنا مستحسن اقدام نہیں کیونکہ اس سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں رسول اللہکی طرف جھوٹی باتیں منسوب ہو جاتی ہیں ۔ اہل بدعت اس سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں ، لہٰذا یہ دروازہ بند ہونا چاہیے ۔
اگر ضرور ہی ایسا کرنا ہو تو اس میں احتیاط کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے ، مثلاً آپ کو ایسا Sms موصول ہو تو تحقیق کیے بغیر تسلیم نہ کریں ۔ اس سے پہلے کہ آپ اُسے آگے پہنچائیں ، اس Sms کرنے والے سے اس کے ثبوت اور سند کا مطالبہ کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں