260

وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔۔علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

صحابی ئ رسول سیدنا سالم بن عبیدالاشجعی  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں :
”رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مرض میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوئی ، پھر افاقہ ہوگیا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت فرمایا کہ کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے ؟ عرض کی گئی ، جی ہاں ! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  نے عرض کی ، میرے والد تو نہایت نرم دل آدمی ہیں ۔ جب وہ اس جگہ (مصلّٰی ئ رسول )پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہ پڑھاسکیں گے ، اگر آپ کسی اور کو حکم دیں تو اچھا ہو گا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر پھر غشی طاری ہوئی ، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا ، بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں ، تم تو یوسف والیاں ہو ۔ پھر سیدنا بلال  رضی اللہ عنہ  کو حکم دیا گیا ، انہوں نے اذان کہی اور سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کو حکم دیا گیا ، انہوں نے نماز پڑھائی ۔پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سکون محسوس کیا تو فرمایا ، میرے سہارا لینے (اور مسجد جانے)کے لیے کسی کو دیکھو ۔ بریرہ اور ایک آدمی آئے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا سہارا لیا (اور مسجد میں آگئے) ، جب سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو (مصلّی ئامامت سے)پیچھے ہٹنے لگے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی جگہ میں رہیں ، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نے نماز پوری کر لی ۔ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فوت ہوگئے ۔ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں کسی کو یہ کہتے نہیں سنوں گا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فوت ہوگئے ہیں ، مگر اپنی اس تلوار سے قتل کردوں گااور کہا ، لوگ ان پڑھ تھے ، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پہلے کوئی نبی نہیں تھا (جہالت ابھی باقی ہے ، پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کیسے فوت ہوسکتے ہیں؟) ۔ لوگ سہم گئے اورانہوں نے کہا ، اے سالم ! تم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھی (سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاؤ اور ان کو بلاؤ ۔ میں سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کے پاس گیا ، آپ  رضی اللہ عنہ  اپنی مسجد میں تھے ، میں آپ رضی اللہ عنہ  کے پاس روتے ہوئے اور دہشت زدہ گیا ۔ جب آپ  رضی اللہ عنہ  نے مجھے دیکھا تو پوچھنے لگے ، کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  وفات پاگئے ہیں ؟ میں نے کہا ، سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کہہ رہے ہیں کہ میں کسی کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنوں گا ، مگر اپنی اس تلوار سے اسے قتل کردوں گا ۔آپ  رضی اللہ عنہ  نے مجھے فرمایا ، چلو ۔ میں آپ  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ چلا ۔ آپ  رضی اللہ عنہ  تشریف لائے تو لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھرمیں داخل ہوچکے تھے ۔ آپ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، لوگو! مجھے راستہ دو ! لوگوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کو راستہ دے دیا ۔ آپ  رضی اللہ عنہ  آئے کررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جھک گئے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو بوسہ دیا ، پھر قرآنِ کریم کی یہ آیت ِ کریمہ تلاوت فرمائی : ( إِنَّکَ مَیِّتٌ وَّإِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ )(الزمر : ٣٩/٣٠)    (اے نبی ! یقینا آپ فوت ہونے والے ہیں اور وہ کافر بھی فوت ہونے والے ہیں) ، پھر لوگوں نے کہا ، اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فوت ہوگئے ہیں ؟ آپ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، ہاں ! لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ  رضی اللہ عنہ  سچ کہہ رہے ہیں ۔لوگوں نے کہا ، اے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھی ! کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا جنازہ پڑھا جائے گا ؟ آپ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، ہاں! انہوں نے کہا ، کیسے ؟ فرمایا ، کچھ لوگ(حجرہئ عائشہ میں) داخل ہوں گے اور اللہ اکبر کہیں گے ، درود وسلام پڑھیں گے اور دعا کریں گے ، پھر وہ نکل آئیں گے ، پھر کچھ لوگ داخل ہوں گے اور اللہ اکبر کہیں گے ، درود وسلام پڑھیں گے اور دعا کرکے نکل آئیں گے ،یہاں تک کہ (تمام )لوگ داخل ہوجائیں گے ۔ لوگوں نے کہا ، اے اللہ کے رسول کے ساتھی ؟ کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جائے گا ؟ فرمایا ، ہاں! انہوں نے کہا ، کہاں ؟ فرمایا ، اسی جگہ میں ، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کی ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح عمدہ جگہ میں ہی قبض فرمائی ہے ۔ انہوں نے جان لیا کہ آپ  رضی اللہ عنہ  نے سچ فرمایا ہے ۔پھر آپ  رضی اللہ عنہ  نے حکم دیا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو آپ کے خاندان والے غسل دیں ۔مہاجرین مشورہ کے لیے جمع ہوئے ، انہوں نے کہا، آپ ہمارے ساتھ ہمارے انصاری بھائیوں کی طرف چلیں تاکہ ہم ان کو بھی اس معاملے میں اپنے ساتھ شامل کر لیں ۔انصار نے کہا ، ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہوگا ۔اس پر سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، کس کے لیے ان تین فضائل جیسی کوئی فضیلت ہے؟ اس جیسی منقبت کس کے لیے ہے ؟ ( ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِیْ الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا )(التوبۃ : ٩/٤٠) ، (آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  دو میں سے دوسرے تھے ،جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ گھبراؤ نہیں ، اللہ ہمارے ساتھ ہے )، وہ دونوں کون ہیں ؟ پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اور بیعت کی اور سب لوگوں نے اچھی اور خوبصورت بیعت کی ۔” (الشمائل للترمذی : ٣٩٦، مسند عبد بن حمید : ٣٦٥، السنن الکبرٰی (کتاب الوفاۃ) للنسائی : ٤٢، المعجم الکبیر للطبرانی : ٧/٦٥، دلائل النبوۃ للبیہقی : ٧/٢٩٩، وسندہ، صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ  (١٥٤١، ١٦٢٤)نے ”صحیح” کہا ہے ۔
حافظ ہیثمی لکھتے ہیں :      ورجالہ، ثقات ۔ ”اس کے راوی ثقہ ہیں۔”(مجمع الزوائد : ٥/١٨٣)
حافظ ابنِ حجر  رحمہ اللہ لکھتے ہیں :      إسنادہ صحیح ، لکنّہ موقوف ۔
”اس روایت کی سند صحیح ہے ، لیکن یہ قولِ صحابی ہے ۔”(فتح الباری لابن حجر : ١/٥٢٩)
بوصیری کہتے ہیں :      ھذا إ سناد صحیح ، رجالہ ثقات ۔     ”یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔”(مصباح الزجاجۃ : ١/١٤٦، ح : ١٢٣٤)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.