661

ضعیف+ضعیف=صحیح، شمارہ 32 غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

متقدمین اور متاخرین کے منہج کا موازنہ
گذشتہ اقساط میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ ائمہ متقدمین میں سے کوئی بھی “ضعیف+ ضعیف =حسن ” کی حجیّت کا قائل نہیں تھا ۔یہ اُصول بعد کی ایجاد ہے۔اس حوالے سے ایک مثال پیش کی جا چُکی ہے ۔ آئیے ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں :
طلب ِ علم کے بارے میں ایک مشہور حدیث :
سیّدنا انس بن مالک  سے اس حدیث کی بیس سے زائد سندیں ہیں جن میں سے کئی ایک کم ضعف والی ہیں ، اِتنی سندوں کے باوجود متقدمین ائمہ دین میں سے کسی نے اس حدیث کو حسن یا صحیح قرار نہیں دیا ۔ جبکہ متاخرین میں سے کئی ایک علمائے کرام نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔اس کے بارے میں متقدمین و متاخرین علمائے کرام کا تبصرہ علامہ سخاوی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں ، وہ اس حدیث کی سب سندوں کے بارے میں لکھتے ہیں :
وفي كلّ منها مقال، ولذا قال ابن عبد البرّ : إنّه يروى عن أنس من وجوه كثيرة كلّها معلولة لا حجّة في شيء منها عند أهل العلم بالحديث من جهة الاسناد، وقال البزّار : إنّه روي عن أنس بأسانيد واهية ۔ ۔ ۔ ۔
بل وفي الباب عن أبي وجابر وحذيفة والحسين بن علي وسلمان وسمرة وابن عباس وابن عمر وابن مسعود وعلي ومعاوية بن حيدة ونبيط بن شريط وأبي سعيد وأبي هريرة وأم المؤمنين عائشة وعائشة بنت قدامة وأم هانئ وآخرين ۔ ۔ ۔ ۔ وبسط الكلام في تخريجها العراقي في تخريجه الكبير للإحياء، ومع هذا كلّه قال البيهقي : متنه مشهور وإسناده ضعيف، وقد روي من أوجه كلّها ضعيفة، وسبقه الإمام أحمد فيما حكاه ابن الجوزي في العلل المتناهية عنه، فقال : إنّه لم يثبت عندنا في هذا الباب شيء ۔ ۔ ۔ ۔
وقال أبو علي النيسابوري الحافظ : إنّه لم يصحّ عن النبي فيه إسناد، ومثّل به ابن الصلاح للمشهور الذي ليس بصحيح، وتبع في ذلك أيضا الحاكم، ولكن قال العراقي : قد صحّح بعض الأئمّة بعض طرقه كما بيّنته في تخريج الإحياء، وقال المزني : إنّ طرقه تبلغ به رتبة الحسن ۔ ۔ ۔ ۔
“اِن سب سندوں میں کلام ہے ۔ اِسی لیے علامہ ابنِ عبد البر(368- 463ھ) نے کہا ہے :یہ حدیث سیّدنا انس سے بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے لیکن وہ سب کی سب معلول ہیں ۔ محدثین کرام کے نزدیک اِن میں سے کوئی بھی سند کے اعتبارسے قابلِ حجت نہیں ۔ امام بزّار(م 292ھ)نے فرمایا ہے :یہ روایت سیّدنا انس سے کمزور سندوں کے ساتھ مروی ہے ۔ ۔۔
بلکہ اس حدیث کے شواہد سیّدنا اُبَیْ ، جابر ، حذیفہ ، حسین بن علی ، سلمان ، سَمُرہ ، ابنِ عباس ، ابنِ عمر ، ابنِ مسعود ، علی ، معاویہ بن حیدہ ، نُبَیْط بن شُرَیْط ، ابو سعید ، ابو ہریرہ ، ام المومنین سیّدہ عائشہ ، عائشہ بنت ِ قدامہ ، امّ ہانی ، وغیرہم  سے بھی مروی ہیں ۔ ۔۔ اس حدیث کی تخریج کرتے ہوئے حافظ عراقینے تخریج إحیاء علوم الدین میں بڑی تفصیل کی ہے ۔ اس سب کے باوجود امام بیہقی(384- 458ھ)نے فرمایا ہے کہ اس کا متن تو مشہور ہے لیکن سند ضعیف ہے ۔ یہ بہت ساری سندوں سے مروی ہے لیکن سب کی سب ضعیف ہیں ۔اُن سے پہلے امام احمد(164- 241ھ)نے یہ بات فرمائی تھی ، جیسا کہ علامہ ابن الجوزی  نے اُن سے العلل المتناھية میں نقل کیا ہے، امام احمد نے فرمایا ہے :ہمارے نزدیک اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ۔۔۔
ابو علی النیسابوری الحافظ کہتے ہیں :اس بارے میں نبی ٔ اکرم سے ایک سند بھی ثابت نہیں ہے ۔ حافظ ابن الصلاح  نے بھی اس حدیث کو اس مشہور کی مثال میں ذکر کیا ہے جو کہ صحیح ثابت نہیں ۔ امام ِ حاکمنے بھی اس حوالےسے اُن کی پیروی کی ہے ۔ اس کے برعکس علامہ عراقی کا کہنا ہے :بعض ائمہ کرام نے اس کی بعض سندوں کو صحیح کہا ہے جیسا کہ میں نے إحیاء علوم الدین کی تخریج میں بیان کیا ہے ۔ مُزَنی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کی سندیں اسے حسن کے درجے تک پہنچا دیتی ہیں۔”(المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرۃ علی الالسنۃ للسخاوی : 1/441، 442)
اسی سلسلے میں محدث العصر علامہ البانیلکھتے ہیں : فيحتمل أن يرتقي إلى درجة الحسن كما قال المزّي، فإنّ له طرقا كثيرة جدّا عن أنس، وقد جمعت أنا منها حتّى الآن ثمانية طرق، وروى عن جماعة من الصحابة غير أنس، منهم ابن عمر وأبو سعيد وابن عباس وابن مسعود وعلي، وأنا في صدد جمع بقيّة طرقه لدراستها والنظر فيها حتّى أتمكّن من الحكم عليه بما يستحق من صحّة أو حسن أو ضعف. ثمّ درستها وأوصلتها إلى نحو العشرين في ” تخريج مشكلة الفقر ” وجزمت بحسنه . “ممکن ہے کہ یہ حدیث حسن کے درجے تک پہنچ جائے جیسا کہ حافظ مزّی  نے فرمایا ہے کیونکہ اس کی سیّدنا انس سے بہت سی سندیں مروی ہیں ۔ میں نے ان میں سے ابھی تک آٹھ سندیں جمع کی ہیں ۔ یہ حدیث سیّدنا انس کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ کرام سے مروی ہے ، ان میں سے سیّدنا ابنِ عمر ، ابوسعید ، ابنِ عباس ، ابنِ مسعود اور علی ہیں ۔ میں نے ابھی اس کی باقی سندوں کو جمع کرنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے تاکہ اس پر اس کے مناسب صحیح ، حسن یا ضعیف ہونے کا حکم لگا سکوں ۔۔۔ پھر میں نے اس کی مکمل تحقیق کرکے اس کی تقریباً بیس سندیں مشکلۃ الفقر کی تخریج میں ذکر کر دی ہیں اور اس حدیث پر حسن ہونے کا حکم لگا دیا ہے۔”
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی : 1/604)
دیکھا قارئین کرام آپ نے کہ متقدمین ائمہ کرام اتنی زیادہ سندوں کے باوجود اسے “ضعیف” ہی قرار دیتے رہے ہیں،لیکن متاخرین زیادہ سندوں کی وجہ سے اسے حسن قرار دینے لگے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.