397

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کے حکم پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی؟

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کے حکم پرسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی؟
سیدناعلی رضی اللہ عنہ کوحق پر اور ان کے جو مخالفین تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ان کو باطل پر ثابت کرنے کے لیےمرزا صاحب نے وہ روایات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر فِٹ کیں جو خارجیوں کے لیے تھیں، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کے کُتے کہا ہےان کے بارے میں جو روایا ت تھیں ان کوان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر چسپاں کرنا شروع کردیا جو جنگِ جمل والے ہیں ، جو عشرہ مبشرہ ہیں،جن میں مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا بھی شامل ہیں اور جنگ صفین والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جن میں سیدنامعاویہ ، سیدناعمرو بن عاص اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنھم ہیں جو کہ مرزا صاحب کے بقول بھی پکے جنتی ہیں تو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر جہنمی کُتوں والی روایات فِٹ کرنا شروع کردی جائیں یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ ہدایت دے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ مسنداحمد(11307)میں ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جوتا گھانٹنے کے لیے سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو دیا (لمبی روایت ہےاس میں یہ ہے کہ )نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ کہ تم میں سے ایک ایسا شخص ہے کہ جو قرآن کی تاویل کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائے گاتو مرزا صاحب نے اس سے ثابت یہ کرنے کی کوشش کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف جو سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے تلوار اٹھائی وہ قرآن نے حکم دیاتھا۔
مرزا صاحب! یہ آپ کی خیانت ہے، یہ روایت تو خارجیوں کے بارے میں ہے، سب اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ روایت خارجیوں کے بارے میں ہے، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ سنن النسائی(2873)میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ عمرۃ القضاء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے اور کافروں کے خلاف یہ شعر پڑھ رہے تھے کہ؛
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ … الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ
ہم قرآن کے حکم کے مطابق کافروں سے لڑائی کررہے ہیں۔
اسی طرح کئی اور روایات موجود ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم قرآن کے حکم کے مطابق تم سے لڑائی کررہے ہیں اور جس روایت کو مرزا صاحب نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر فٹ کرنے کی کوشش کی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن کے حکم پرصحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف لڑیں گے، مرزا صاحب کے اس موقف کے بارے میں سلف صالحین کیا فرماتے ہیں؟ ملاحظہ فرمائیں؛
امام ابن حبان رحمہ اللہ (صحیح ابن حبان؛6838)میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خارجیوں کے خلاف قتال کرنےکے بارےمیں ذکر کی ہے،امام صاحب باب قائم کرتے ہیں کہ؛
ذِكْرُ وَصْفِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَاتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ
وہ کون لوگ تھے کہ جن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کے حکم کے مطابق لڑائی کی ۔
اور آگے وہ روایت پیش کرتے ہیں کہ؛
ذَكَرَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْخَوَارِجَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کا ذکر کیا اور پھر ساری بات بیان کی کہ قرآن کا حکم مان کر جو لڑائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ لڑے تھے وہ تھی جو خارجیوں کے خلاف لڑی تھی۔
اسی طرح امام طحاوی رحمہ اللہ (شرح مشکل الاثار)میں فرماتے ہیں کہ ؛یہی وہ لوگ تھے کہ جن سے سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے قرآن کے حکم پر قتال کیا تھا ان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔
امام بیھقی رحمہ اللہ (دلائل النبوہ ؛6/426)میں فرماتے ہیں کہ؛
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِخْبَارِهِ بِخُرُوجِهِمْ وَسِيمَاهُمْ وَالْمُخْدَجِ الَّذِي فِيهِمْ وَأَجْرِ مَنْ قَتَلَهُمْ , وَاسْمِ مَنْ قَتَلَ الْمُخْدَجَ مِنْهُمْ وَإِشَارَتِهِ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقِتَالِهِمْ , وَمَا ظَهَرَ بِوُجُودِ الصِّدْقِ فِي إِخْبَارِهِ مِنْ آثَارِ النُّبُوَّةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خوارج کے خلاف نکلنا اور خوارج کی جو نشانیاں ہیں اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت کا خاصہ تھااس کابیان۔
باب قائم کرنے کے بعد انہوں نے یہی مسند احمد کی روایت نقل کی جو مرزا صاحب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے (شرح السنہ؛10/224)میں باب قائم کرتے ہیں۔
بَابُ قِتالِ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِينَ
خوارج اور ملحدین سے قتال کا بیان۔
اور پھر اس کےتحت وہی مسند احمد کی روایت ذکرکرتے ہیں جس کو مرزا صاحب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ (تاریخ الاسلام؛2/366)مسند احمد کی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ؛
فَقَاتَلَ الْخَوَارِجَ الَّذِينَ أَوَّلُوا الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِمْ وَجَهْلِهِمْ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کا حکم مان کر جو قتال کیا تھا یہ خوارج سے کیا تھا۔
سلف صالحین کے اقوال سے یہ معلوم ہواکہ مرزا صاحب جو کہتے ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے قرآن کا حکم مان کر جو لڑائی کی تھی وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کہ تھی، مرزا صاحب کا یہ نظریہ بلکل باطل ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مرزا صاحب کی عداوت کی واضح دلیل ہے۔اللہ مرز اصاحب کو ہدایت نصیب فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.