425

حدیث میں تحریف کر کے صحابی پر حملہ؟

حدیث میں تحریف کرکے صحابی پر حملہ؟
مذکورہ جھوٹی روایت کو آپ نے بنیاد بنا کر کھا کہ “اس سےیہ ثابت ہوا کہ صلح حسن رضی اللہ عنہ کے بعد بھی لعنت ہوتی تھی۔”
پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ روایت ضعیف ہے اور جو آپ نے ترجمہ کرتے ہوئے اس میں تحریف کی ہے پھر اس پر ہی بنیادبنا کر آپ کہہ رہے ہیں کہ ” اس سے یہ ثابت ہوا”۔مرزا صاحب! جھوٹ اور خیانت سے کیا ثابت ہوتا ہے؟مزید کہتے ہیں کہ”بعض ماچے اس وقت کہتے ہیں کہ پہلے لعنت ہوتی تھی ،صلح حسن کےبعد ختم ہوگئی تو پھر ساٹھ سال کے بعد عمر بن عبد العزیز نے کون سی لعنت ختم کروائی تھی؟”
ہم پچھلے لیکچر میں اس جھوٹ کی حقیقت بھی واضح کر چکےہیں کہ یہ جھوٹی روایت ہے۔
مرزا صاحب نے سنن ابی داود(4650)حدیث پیش کی اور کہا کہ” سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مغیرہ بن شعبہ کےسامنے سیدنا علی کے بارے میں کوئی ایسی بات کی گئی لیکن انہوں نے روکا نہیں تو سعید بن زید نے تین فعہ کہا کہ او ئے ظالم مغیرہ، اوئے ظالم مغیرہ، اوئے ظالم مغیرہ۔”
ہمارا مرزا صاحب سے یہ مطالبہ ہے کہ سنن ابی داود کی اس روایت میں تو کجا دنیا کی کسی کتاب میں صحیح سند کے ساتھ آپ یہ الفاظ پیش نہیں کر سکتے کہ سیدنا سعید بن زیدعنہ نے سیدنا مغیرہ کو مخاطب کر کے کہا ہو کہ اوئے ظالم مغیرہ ۔۔
یہ آپ کی انٹرنیشنل نمبرنگ ہے؟یہ آپ کی تحقیق ہے؟اور اس پر آپ نے اپنے سارے مفروضے قائم کیئے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.