386

مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنھم کی تعریف؛

مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنھم کی تعریف؛
انجینئر محمد علی مرزا صاحب! آپ کو تو یہ ہی معلوم نہیں ہے کہ “مشاجراتِ صحابہ” کسے کہتے ہیں۔کیا کسی صحابی کا کسی شرعی مسئلے میں دوسرے صحابی سے اختلاف کرنا مشاجراتِ صحابہ کہلاتا ہے؟بلکل نہیں، مشاجراتِ صحابہ توسیاسی اختلافات ہیں جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیا ن اختلاف ہوااور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہااور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مابین جو سیاسی اختلاف ہوااس کو مشاجرات ِ صحابہ کہا جاتاہے۔مرزا صاحب مثال پیش کرتے ہیں کہ” سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے حج تمتع کے حوالےسے اپنے باپ سے مخالفت کرلی تواس کو کسی نے نہیں کہا کہ یہ مشاجراتِ صحابہ بیان ہورہے ہیں۔”
مرز اصاحب! آپ کو تو مشاجراتِ صحابہ کی تعریف ہی نہیں آتی، یہ مشاجراتِ صحابہ کا مسئلہ نہیں ہے، امت میں سے کسی نے کہاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف اگر کسی نے کوئی بات کہی ہوتواس کو ردّ کردینا مشاجراتِ صحابہ کا مسئلہ ہے؟مشاجراتِ صحابہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے باہمی سیاسی اختلافات کو کہتے ہیں جس میں لڑائی جھگڑے ہوگئے اور بات آگے تک چلی گئی، جس کو مرز اصاحب مشاجراتِ صحابہ کا مسئلہ کہہ رہے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر مشاجراتِ صحابہ بہت ہیں، کسی نے اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا تو اس کو مشاجراتِ صحابہ کا مسئلہ کہہ دیا جائےگا۔
مرز اصاحب کہتے ہیں کہ “یہ حدیث تو اہل حدیث بھی بیان کرتے ہیں، سنت کو اگر اسٹیبلش کرنا ہے تو سنت صرف حضرت عمر پر تو اسٹیبلش نہیں ہوئی نا؟ جنگِ جمل اور صفین والوں پر بھی اسٹیبلش ہوگی ۔”
مرز اصاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ابن عمر رضی اللہ عنھما اپنے والد سے اختلاف کرسکتے ہیں اور مرزا صاحب کے بقول یہ مشاجرات صحابہ کا مسئلہ ہےتو جو ہم جنگِ جمل اور صفین والوں کے بارے میں کہتے ہیں وہ بھی تو صحیح ہی کہتے ہیں۔
مرزا صاحب! یہاں آپ بہت بڑاہاتھ کررہے ہیں امت کے ساتھ، ہم آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں اور ہم آپ سے کہتے ہیں کہ اگر آپ کے نزدیک جنگِ جمل اور صفین والوں کا معاملہ اسی طرح تھاتو پھر آپ بھی اتنی ہی بات کریں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اہل اجتہادی غلطی ہوگئی تھی ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے اور آپ اس پر کوئی منفی تبصرہ نہ کریں پھر تو آپ کی حق گوئی واضح ہوگی اور اگر آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ کہیں گے کہ انہوں نے سنت کوبدل دیااور انہوں نے دین کا بیڑاغرق کردیا تو پھر آپ یہی الفاظ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ آپ کے نزدیک جنگ جمل وصفین اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کاحج تمتع کے حوالےسے اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کرنا ایک ہی نوع کا مسئلہ ہے تو پھر آپ منافقت کو چھوڑیں اور جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ زبان چلاتے ہیں اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی چلائیں، خاموش کیوں ہوجاتے ہیں؟یہ آپ کی منافقت ہے، مثالیں آدم علیہ السلام کی دیتے ہیں کہ قرآن نے ان کی غلطی بیان کی ہےا ورتبصرے اپنے مرضی کے کرتے ہیں۔کبھی آپ نے کہا کہ ہمارے دل میں سیدنا آدم علیہ السلام کے لیے رنج ہے انہوں نے انسانیت کا بڑا نقصان کردیا ؟ اگر کبھی ایسا نہیں کہا تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں دوغلی پالیسی کیوں اختیارکرتے ہیں؟ اللہ آپ کو ہدایت دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.