347

خلیفہ بلا فصل ۔۔۔علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

مسلمانوں کا یہ اتفاقی واجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  خلیفہ بلا فصل ہیں ، چنانچہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ  رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ ) لکھتے ہیں :
انّھم یؤمنون أنّ الخلیفۃ بعد رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أبو بکر ، ثمّ عمر ، ثمّ عثمان ، ثمّ علیّ ، ومن طعن فی خلافۃ أحد من ھؤلاء ، فھو أضلّ من حمار أھلہ ۔۔۔۔
”یقینا وہ (اہل سنت والجماعت ) یہ ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد خلیفہ سیدناابو بکر ہیں ، پھر سیدنا عمر ، پھر سیدنا عثمان ، پھر سیدنا علی ] ، جو شخص ان میں سے کسی ایک کی خلافت میں بھی طعن کرتا ہے ، وہ گھریلو گدھے سے بھی زیادہ احمق ہے ۔”(العقیدۃ الواسطیۃ لابن تیمیۃ : ١٨٤)
امام یحییٰ بن معین  رحمہ اللہ (م ٢٣٣ھ) فرماتے ہیں :      خیر ھذہ الأمّۃ بعد نبیّھا أبو بکر ، ثمّ عمر ، ثمّ عثمان ، ثمّ علیّ ، ھذا قولنا وھذا مذھبنا ۔۔۔    ”اس امت میں نبی ئ اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد سب سے بہتر شخص ابو بکر ، پھر عمر ، پھر عثمان ، پھر علی ] ہیں ، ہمارا یہی قول اور ہمارا یہی مذہب ہے ۔”
(تاریخ یحیی بن معین : ١٦٢٠)
1    سیدنا عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں :      أجمع أصحاب النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم واستخلفوا أبا بکر رضی اللّٰہ عنہ ۔     ”اللہ کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ] نے اجماع واتفاق کیا اور سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو خلیفہ بنا لیا ۔”(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ٣/٨٠، وسندہ، حسنٌ)
2    امام شافعی  رحمہ اللہ (١٥٠۔٢٠٤ھ)فرماتے ہیں :      وما أجمع المسلمون علیہ من أن یکون الخلیفۃ واحدا ، فاستخلفوا أبا بکر ۔     ”مسلمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خلیفہ ایک ہی ہونا چاہیے تو انہوں نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو خلیفہ بنا لیا ۔”(الاعتقاد للبیہقی : ٥٢٢، وسندہ، صحیحٌ)
3    امام ابو الحسن الاشعری رحمہ اللہ (م ٣٢٤ھ) لکھتے ہیں :     وممّا یدلّ علی امامۃ الصّدیق رضی اللّٰہ عنہ أنّ المسلمین جمیعا بایعوہ وانقادوا لامامتہ ۔۔۔
”سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی امامت (خلافت )کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ تمام مسلمانوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کی اور آپ کی امامت کے لیے مطیع ہو گئے تھے ۔”(الابانۃ عن اصول الدیانۃ : ٢٥١)
نیز فرماتے ہیں :      وقد أجمع ھؤلاء الّذین أثنیٰ علیھم ومدحھم علی امامۃ أبی بکر الصّدّیق رضی اللّٰہ عنہ وسمّوہ خلیفۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وبایعوہ وانقادوا لہ وأقرّوا لہ بالفضل ۔۔۔     ” (بیعت ِ رضوان والے صحابہ) ، جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف ومدح کی ہے ، یہ سب سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی امامت پر متفق ہو گئے تھے ، ان سب نے آپ کا نام خلیفہ ئ رسول اللہ رکھا تھا ، آپ کی بیعت کی تھی اور آپ  رضی اللہ عنہ  کی اطاعت کی تھی ۔”(الابانۃ : ٢٥٠۔٢٥١)
4    الامام ، الحافظ ، الثقۃ ، الرحّال ، ابو محمد عبداللہ بن محمد بن عثمان الواسطی ابن السقاء محدث ِ واسط ( م ٣٧٣ھ) کہتے ہیں :      وأجمع المھاجرون والأنصار علی خلافۃ أبی بکر ۔
”مہاجرین وانصار نے سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر اجماع واتفاق کر لیا تھا ۔”
(تاریخ بغداد : ١٠/١٣١،١٣٢، وسندہ، صحیحٌ)
5    حافظ ابو نعیم الاصبہانی  رحمہ اللہ (٣٣٦۔٤٣٠ھ) لکھتے ہیں :
فیقال للامامیّۃ الطّاعنین علی المھاجرین والأنصار اجتماعھم علی تقدمۃ الصّدّیق رضی اللّٰہ عنہ : أکان اجتماعھم علیہ علی اکراہ منہ لھم بالسّیف ، أو تالیف منہ لھم بمال ، أو غلبۃ بعشیرۃ ، فانّ الاجتماع لا یخلو من ھذہ الوجوہ ، وکلّ ذلک مستحیل منھم ، لأنّھم المدیحۃ والدّین النّصیحۃ ، ولو کان شیء من ھذہ الوجوہ ، أو أرید واحد منھم علی المبایعۃ کارھا لکان ذلک منقولا عنھم ومنتشرا ، فأمّا اذا أجمعت الأمّۃ علی أن لا اکراہ والغلبۃ والتّألیف غیر ممکن منھم وعلیھم ، فقد ثبت أنّ اجتماعھم لما علموا الاستحقاق والتّفضیل والسابقۃ ، وقدّموہ وبایعوہ لما خصّہ اللّٰہ تعالیٰ بہ من المناقب والفضائل ۔۔۔
”ان رافضیوں سے کہا جائے گا ، جو مہاجرین وانصار کے سیدنا صدیق  رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر متفق ہو جانے پر معترض ہیں کہ کیا ان صحابہ کا سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر جمع ہوجانا تلوار کے ساتھ ان کو مجبور کرنے کی وجہ سے تھا یا مال کے ساتھ ان کی تالیف ِ قلبی کی وجہ سے تھا یاکنبے قبیلے کے ساتھ غلبہ حاصل کرنے کے ساتھ تھا ؟ کیونکہ اجتماع ان وجوہ سے خالی نہیں ہوتا ، لیکن یہ سب چیزیں ان صحابہ سے محال ہیں ، کیونکہ وہ قابل تعریف لوگ تھے اور دین خیرخواہی کا نام ہے، اگر ان وجوہ میں سے کوئی بھی وجہ ہوتی یا ان صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی مجبور کر کے بیعت لینے کا ارادہ کیا گیا ہوتا تو یہ بات منقول اور مشہور ہوتی ، پس جب امت اس بات پر متفق ہوگئی ہے کہ ان کی طرف سے یا ان پر کسی قسم کی کوئی مجبوری ، کوئی زور اور کوئی تالیف ِ قلبی نہیں تھی تو ثابت ہو گیا کہ ان کا جمع ہونااس لیے تھا کہ وہ خلافت کے لیے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کا استحقاق ، فضیلت اور مسابقت جانتے تھے ، انہوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت ان فضائل ومناقب کی وجہ سے کی تھی ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ خاص کیے ہوئے تھے۔”(الامامۃ والرد علی الرافضۃ لابی نعیم الاصبہانی : ٢١٤۔٢١٥)
6    امام حاکم  رحمہ اللہ لکھتے ہیں :      ذکر الرّوایات الصّحیحۃ عن الصّحابۃ رضی اللّٰہ عنھم باجماعھم فی مخاطبتھم ایّاہ بیا خلیفۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔
”صحابہ کرام ] سے صحیح روایات کا بیان کہ وہ سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کو ‘اے خلیفہئ رسول اللہ ! ‘ کہہ کر مخاطب کرنے پر متفق تھے ۔”(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ٣/٧٩)
7    حافظ بیہقی  رحمہ اللہ (٣٨٤۔ ٤٥٨ھ) یوں باب قائم کرتے ہیں :
باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ أبی بکر الصّدّیق وانقیادھم لامامتہ ۔
”مسلمانوں کے سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی بیعت پر متفق ہوجانے اور ان کے آپ  رضی اللہ عنہ  کی امامت کے لیے مطیع ہو جانے کا بیان ۔”(الاعتقاد للبیہقی : ٤٨٦)
8    شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ  رحمہ اللہ  (٦٦١۔ ٧٢٨ھ) لکھتے ہیں :      لأنّ الأمّۃ اذا ولّتہ طوعا منھا بغیر التزام ، وکان ہو الّذی یرضاہ اللّٰہ ورسولہ کان أفضل للأمّۃ ، ودلّ علی علمھا ودینھا ، فانّھا لو ألزمت بذلک لربّما قیل : انّھا أکرھت علی الحقّ ، وھی لا تختارہ ، کما یجری ذلک لبنی اسرائیل ، ویظنّ الظّانّ أنّہ کان فی الأمّۃ بقایا الجاھلیّۃ من التّقدّم بالأنساب۔۔۔۔۔ فلمّا اتّفقوا علی بیعتہ ، ولم یقل قطّ أحد : انّی أحقّ بھذا الأمر منہ ، لا قرشیّ ولا أنصاریّ ، فانّ من نازع أوّلا من الأنصار لم تکن منازعتہ للصّدّیق ، بل طلبوا أن یکون منھم أمیر ومن قریش أمیر ، وھذہ منازعۃ عامّۃ قریش ، فلمّا تبیّن لھم أنّ ھذا الأمر فی قریش قطعوا المنازعۃ ۔۔۔۔۔ ثمّ بایعوا أبا بکر من غیر طلب منہ ولا رغبۃ بذلت لھم ولا رھبۃ ، فبایعہ الّذین بایعوا الرّسول تحت الشّجرۃ والّذین بایعوہ لیلۃ العقبۃ والّذین بایعوہ لمّا کانوا یھاجرون الیہ والّذین بایعوہ لمّا کانوا یسلمون من غیر ھجرۃ کالطّلقاء وغیرھم ، ولم یقل أحد قطّ : انّی أحقّ بھذا من أبی بکر ، ولا قالہ أحد فی أحد بعینہ : انّ فلانا أحقّ بھذا الأمر من أبی بکر ، وانّما قال من فیہ أثر جاھلیّۃ عربیّۃ أو فارسیّۃ : انّ بیت الرّسول أحقّ بالولایۃ ، لأنّ العرب فی جاھلیّتھا کانت تقدّم أھل الرؤساء ، وکذلک الفرس یقدّمون أھل بیت الملک ، فنقل من نقل منہ کلام یشیر بہ الی ھذا ، کما نقل عن أبی سفیان ، وصاحب ھذا الرأی لم یکن لہ غرض فی علیّ ، بل کان العبّاس عندہ بحکم رأیہ أولی من علیّ ، وان قدّر أنّہ رجّح علیّا فلعلمہ بأنّ الاسلام یقدّم الایمان والتّقویٰ علی النّسب ، فأراد أن یجمع بین حکم الجاھلیّۃ والاسلام ، فأمّا الّذین کانوا لا یحکمون الّا بحکم الاسلام المحض ، وھو التّقدّم بالایمان والتّقوی ، فلم یختلف منھم اثنان فی أبی بکر ، ولا خالف أحد من ھؤلاء ولا ھؤلاء فی أنّہ لیس فی القوم أعظم ایمانا وتقوی من أبی بکر ، فقدّموہ مختارین لہ ، مطیعین ، فدلّ علی کمال ایمانھم وتقواھم واتّباعھم لما بعث اللّٰہ بہ نبیّھم من تقدیم الأتقیٰ فالأتقیٰ ، وکان ما اختارہ اللّٰہ لنبیّہم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ولھم أفضل لھم والحمد للّٰہ علی أن ھدی ھذہ الأمّۃ وعلی أن جعلنا من أتباعھم ۔۔۔
”کیونکہ جب امت ِ مسلمہ نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو خوشی سے بغیر مجبورکیے جانے کے خلافت سونپی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ  کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  پسند کرتے تھے ، آپ  رضی اللہ عنہ  امت میں سے افضل ترین شخص تھے، تو اس سے امت کے علم اور دین کا بھی علم ہوتا ہے ، کیونکہ اگر امت پر یہ کام لازم کیا جاتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ اسے اس حق پر نہ چاہتے ہوئے مجبور کیا گیا ہے ، جیسا کہ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ چلتا رہا ہے اور کوئی خیال کرنے والا یہ خیال کر سکتا تھا کہ امت میں جاہلیت باقی ہے ، یعنی نسب کی وجہ سے مقدم ہونے کا قانون ۔
جب وہ آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت پر متفق ہوگئے اور ان میں سے کسی قریشی یا کسی انصاری نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں اس معاملے میں آپ  رضی اللہ عنہ  سے زیادہ حق دار ہوں تو جس شخص نے پہلے پہل منازعت کی ، اس کی منازعت بھی صدیق  رضی اللہ عنہ  کے بارے میں نہ تھی ، بلکہ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ ایک امیر ان میں سے ہو اور دوسرا قریش میں سے اور یہ منازعت تمام قریش کی تھی ، جب اس کے لیے یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ خلافت والا معاملہ قریش میں ہی ہے تو انہوں نے منازعت ختم کر دی ۔۔۔ پھر انہوں نے بغیر ترغیب وترہیب کے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کر لی ، آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت ان لوگوں نے کی ، جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھ پربیعت ِ رضوان کی تھی ، ان لوگوں نے بھی ، جنہوں نے عقبہ کی رات آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے بھی ، جنہوں نے ہجرت کرتے وقت آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے بھی مسلمان ہوتے وقت آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور ان لوگوں نے بھی ، جنہوں نے بغیر ہجرت کے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیعت کی تھی ، جیسا کہ آزاد کردہ غلام وغیرہ ، کسی نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں اس معاملے میں ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے زیادہ حق دار ہوں اور نہ یہ بات کسی نے کسی معین شخص کے بارے میں کہی کہ وہ اس معاملے میں ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے زیادہ حق دار ہے ۔ ہاں یہ بات اس شخص نے کہی تھی ، جس میں ابھی عربی یا فارسی جاہلیت موجود تھی کہ رسولِ اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا گھرانہ ولایت کا زیادہ حق رکھتا ہے ، کیونکہ عرب لوگ جاہلیت میں اپنے سرداروں کے گھر والوں کو مقدم کرتے تھے ، اسی طرح فارسی لوگ اپنے بادشاہ کے گھر والوں کو مقدم کرتے تھے ، چنانچہ جس سے ایسی بات منقول ہے ، وہ اسی طرف ہی اشارہ کر رہا تھا ، جیسا کہ ابو سفیان  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے ۔ اس رائے کے حامل شخص کو سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  سے کوئی غرض نہ تھی ، بلکہ اس کے نزدیک عباس  رضی اللہ عنہ  ، علی  رضی اللہ عنہ  سے زیادہ مناسب تھے ۔اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ اس نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کو پسند کیا تھا تو اس کے علم میں یہ بھی تھا کہ اسلام ایمان وتقویٰ کو نسب سے مقدم کرتا ہے ، اس نے چاہا کہ جاہلیت اور اسلام کے حکم کو جمع کر لیا جائے ، لیکن جو لوگ صرف اسلام کے حکم کے ساتھ فیصلے کرتے تھے ، یعنی ایمان وتقوی کی بنیاد پر مقدم کرنا ، ان میں سے کوئی دو بھی ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کے بارے میں مختلف نہیں ہوئے ، نہ ہی ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک نے بھی اس بات میں اختلاف کیا کہ ایمان وتقویٰ کے اعتبار سے ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے بڑا کوئی نہیں ، اس لیے انہوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کو پسند کرتے اور آپ کی اطاعت کرتے ہوئے آپ کو مقدم کیا ، یہ بات ان کے ایمان ، تقویٰ اور اس چیز میں ان کے اتباعِ قرآن وسنت پر دلالت کرتی ہے کہ تقویٰ کی بنیاد پر کسی کو مقدم کیا جائے اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور ان کے لیے پسند کی تھی ، وہ ان کے لیے بہتر وافضل تھی ، اللہ کا شکر ہے اس بات پر کہ اس نے اس امت کو ہدایت دی اور ہمیں ان کے پیروکار بنایا ۔۔۔”(منھاج السنۃ لابن تیمیۃ : ٣/٢٦٦،٢٧٠)
9     حافظ ابنِ کثیر  رحمہ اللہ (٧٠١۔ ٧٧٤ھ) لکھتے ہیں :      ومن تأمّل ما ذکرناہ ظھر لہ اجماع الصّحابۃ المھاجرین منھم والأنصار علی تقدیم أبی بکر وظھر برھان قولہ علیہ السّلام : (( یأبی اللّٰہ والمؤمنون الّا أبا بکر )) ، وظہر لہ أنّ رسول اللّٰہ لم ینصّ علی الخلافۃ عینا لأحد من النّاس لا لأبی بکر ، کما قد زعمہ طائفۃ من أھل السّنّۃ ، ولا لعلیّ ، کما یقولہ طائفۃ من الرّافضۃ ، ولکن أشار اشارۃ قویّۃ یفھمھا کلّ ذی لبّ وعقل الی الصّدّیق ۔۔۔
”جو شخص ہمارے ذکر کردہ دلائل پر غور وفکر کرے گا ، اس کے لیے مہاجرین وانصار صحابہ کرام کا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو مقدم کرنے پر اجماع ظاہر ہو جائے گا ، نیز اس فرمانِ نبوی کی برہان واضح ہو جائے گی کہ ‘ اللہ اور مؤمن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر شخص کا انکار کرتے ہیں ‘ (صحیح بخاری : ٧٢١٧، صحیح مسلم : ٢٣٨٧)، اسی طرح اس کے لیے ظاہر ہو گا کہ اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں میں سے کسی کے لیے بھی صراحتاً خلافت ثابت نہیں کی تھی ، نہ سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کے لیے ، جیسا کہ بعض اہل سنت کا خیال ہے اور نہ سیدناعلی  رضی اللہ عنہ  کے لیے ، جیسا کہ بعض رافضیوں کا دعویٰ ہے ، بلکہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسے واضح اشارے فرمائے ہیں ، جن کو ہر عقل وشعور والا شخص صرف سیدنا صدیق  رضی اللہ عنہ  کے طرف سمجھتا ہے ۔”(البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر : ٥/٢٥٠)
0    حافظ ذہبی  رحمہ اللہ  (م ٧٤٨ھ) لکھتے ہیں :      فھذا ما تیسّر من سیرۃ العشرۃ ، وھم أفضل قریش وأفضل السابقین المھاجرین ، وأفضل البدریّین ، وأفضل أصحاب الشّجرۃ ، وسادۃ ھذہ الأمّۃ فی الدّنیا والآخرۃ ، فأبعد اللّٰہ الرّافضۃ ، ما أغواھم وأشدّ ھواھم ، کیف اعترفوا بفضل واحد منھم وبخسوا التّسعۃ حقّھم ، وافتروا علیھم بأنّھم کتموا النّصّ فی علیّ أنّہ الخلیفۃ ؟     فواللّٰہ ما جری من شیء ، وأنّھم زوّروا الأمر عنہ بزعمھم ، وخالفوا نبیّھم ، وبادروا الی بیعۃ رجل من بنی تیم ، یتّجر ویتکسّب ، لا لرغبۃ فی أموالہ ، ولا لرھبۃ من عشیرتہ ورجالہ ، ویحک أیفعل ھذا من لہ مسکۃ عقل ؟ ولو جاز ھذا علی واحد لما جاز علی جماعۃ ، ولو جاز وقوعہ من جماعۃ ، لاستحال وقوعہ والحالۃ ھذہ من ألوف من سادۃ المھاجرین والأنصار ، وفرسان الأمّۃ ، وأبطال الاسلام ، لکن لا حیلۃ فی برء الرّفض ، فانّہ داء مزمن ، والھدی نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب من یشاء ، فلا قوّۃ الّا باللّٰہ ۔۔۔
”یہ عشرہئ مبشرہ صحابہ کرام ] کی سیرت پر میسر مواد ہے ، وہ قریش ، مہاجرین ، بدروالوںاور بیعت ِ رضوان والوںسب صحابہ سے افضل اور دنیا وآخرت میں اس امت کے سردار ہیں ، اللہ تعالیٰ رافضیوں کو تباہ کرے ! وہ کتنے گمراہ اور کتنے خواہش پرست ہیں ! کیسے انہوں نے ان میں سے ایک کی فضیلت کا اعتراف کیا اور باقی نو کے حق میں خیانت کی اور ان پر یہ جھوٹ باندھا کہ انہوں نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کی خلافت کے بارے میں نص کو چھپایا لیا تھا ! اللہ کی قسم ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ انہوں نے اپنے خیال سے آپ  رضی اللہ عنہ  کے بارے میں جھوٹ گھڑ لیا ہو ، اپنے نبی کی مخالفت کی ہواور بنو تیم میں سے ایک ایسے آدمی کی بیعت کی طرف جلدی کی ہو، جو تجارت وکاروبار کرتا تھا ، یہ کام نہ اس کے مال کی طرف رغبت کرتے ہوئے کیا اور نہ اس کے کنبہ وقبیلہ سے ڈرتے ہوئے کیا ، افسوس! کیا کوئی ذرا سی بھی عقل رکھنے والا شخص ایسا کر سکتا ہے ؟ اگر یہ کام ایک شخص سے ممکن ہوتو جماعت سے ممکن نہیں ، اگر جماعت سے بھی ممکن ہوتو اس حالت میں ایسا ہونا مہاجرین وانصار کے ہزاروںسرداروں ، امت کے سربراہوں اور اسلام کے بہادروں سے محال ہے ، لیکن رفض سے رہائی پانے کی کوئی راہ نہیں ، کیونکہ یہ مہلک مرض ہے اور ہدایت ایسا نور ہے ، جو اللہ تعالیٰ جس کے دل میں چاہے ڈالتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہدایت دینے کی قوت ہے ۔۔۔”(سیر اعلام النبلاء للذھبی : ١/١٤٠۔١٤١)
اسی طرح کی فیصلہ کن بات حافظ ابنِ کثیر  رحمہ اللہ نے بھی ذکر کی ہے کہ :
وأمّا ما یفتریہ کثیر من جھلۃ الشّیعۃ والقصّاص الأغبیاء من أنّہ أوصیٰ الی علیّ بالخلافۃ ، فکذب وبھت وافتراء عظیم یلزم منہ خطأ کبیر من تخوین الصّحابۃ وممالاتھم بعدہ علی ترک انفاذ وصیّتہ وایصالھا الی من أوصیٰ الیہ ، وصرفھم ایّاھا الی غیرہ ، لا لمعنی ولا لسبب ، وکلّ مؤمن باللّٰہ ورسولہ یتحقّق أنّ دین الاسلام ھو الحقّ یعلم بطلان ھذا الافتراء ، لأنّ الصّحابۃ کانوا خیر الخلق بعد الأنبیاء ، وھم خیر قرون ھذہ الأمّۃ الّتی ھی أشرف الأمم بنصّ القرآن الکریم واجماع السّلف والخلف ، فی الدّنیا والآخرۃ ، وللّٰہ الحمد ۔۔۔
”اور جو بات اکثر جاہل شیعہ اور بد دماغ واعظین بیان کرتے ہیں کہ نبی ئ کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کی خلافت کے بارے میں وصیت کی تھی ، وہ جھوٹ ، بہتان اور بہت بڑا افترا ہے ، جس سے ایک بہت بڑی غلطی لازم آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ] (معاذ اللہ) خائن تھے ، آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعدانہوں نے آپ کی وصیت کو نافذ کرنے اور اسے وصیت کیے جانے والے شخص تک پہنچانے میں ٹال مٹول سے کام لیا اور اس وصیت کو اس شخص کے غیر کی طرف پھیر دیا، بغیر کسی سبب اور وجہ کے ۔ اللہ ورسول پر ایمان رکھنے والا اور دینِ اسلام کو ہی حق سمجھنے والاہر شخص اس جھوٹ کا گھڑا جانا پہچان جاتا ہے ، کیونکہ صحابہ کرام ] انبیائے کرام o کے بعد سب مخلوق میں سے بہترین لوگ ہیں اور وہی اس امت میں سے سب سے بہتر گروہ ہیں ، جو امت قرآنِ کریم اور اجماعِ سلف وخلف کی رُو سے دنیا وآخرت میں سب سے بہترین امت ہے ۔۔۔”
(البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر : ٧/٢٢٥)
خلافت ِ ابو بکر  رضی اللہ عنہ پر اجماعِ صحابہ
دلیل نمبر 1 :      سیدنا عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ئ اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات ہوئی تو انصار صحابہ نے کہا :     منّا أمیر ومنکم أمیر ، فأتاھم عمر ، فقال : ألستم تعلمون أنّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قد أمر أبا بکر أن یصلّی بالنّاس ، فأیّکم تطیب نفسہ أن یتقدّم أبا بکر ، قالوا : نعوذ باللّٰہ أن نتقدّم أبا بکر !
”ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے ، سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  ان کے پاس آئے اور فرمایا ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا تھا ؟ تم میں سے کون ہے جو ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے مقدم ہونا چاہتا ہے ؟ انہوں نے کہا ، ہم اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے آگے بڑھیں ۔”
(مسند الامام احمد : ١/٢١، ٣٩٦، سنن النسائی : ٧٧٨، مصنف ابن ابی شیبۃ : ٢/٣٣٠، ٣٣١، ١٤/٥٦٧، طبقات ابن سعد : ٢/٢٢٤، ٣/١٧٨۔١٧٩، السنۃ لابن ابی عاصم : ١١٩٣، المعرفۃ والتاریخ لیعقوب بن سفیان الفسوی : ١/٤٥٤، المستدرک للحاکم : ٢/٦٧، السنن الکبرٰی للبیہقی : ٨/١٥٢، التمہید لابن عبد البر : ٢٢/١٢٨۔١٢٩، وسندہ، حسنٌ)
اس حدیث کی سند کو امام حاکم  رحمہ اللہ نے ”صحیح’ کہا ہے ، حافظ ذہبی  رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔
نیز حافظ ابنِ حجر  رحمہ اللہ  نے بھی اس کی سند کو ”حسن” کہا ہے ۔(فتح الباری : ١٢/١٥٣)
دلیل نمبر 2 :      سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں :
سمعت عمر یقول لأبی بکر یومئذ : اصعد علی المنبر ، فلم یزل بہ حتّی صعد المنبر ، فبایعہ النّاس عامّۃ ۔        ”میں نے سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کو اس دن سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے یہ کہتے سناکہ منبر پر چڑھیں ، وہ مسلسل یہ بات کہتے رہے حتی کہ آپ  رضی اللہ عنہ  منبر پر چڑھ گئے ، پھر تمام لوگوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کر لی ۔”(صحیح بخاری : ٢/١٠٧٢، ح : ٧٢١٩)
دلیل نمبر 3 :      سالم بن عبید  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی ئ اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  پر مرضِ موت میں غشی طاری ہو گئی ، افاقہ ہونے پر فرمایا ، کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ صحابہ نے جواب میں عرض کیا ، جی ہاں ! تو نبی ئ کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ، بلال  رضی اللہ عنہ  کو حکم دو کہ اذا ن کہیں اور ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔۔
واجتمع المھاجرون یتشاورون ، فقالوا : انطلقوا بنا الی اخواننا من الأنصار ندخلھم معنا فی ھذا الأمر ، فقالت الأنصار : منّا أمیر ومنکم أمیر ، فقال عمر : من لہ مثل ھذا : ( اِذْ ھُمَا فِیْ الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا )(التوبۃ : ٤٠) ، من ھما ؟ ثمّ بسط یدہ ، فبایعہ وبایعہ النّاس بیعۃ حسنۃ جمیلۃ ۔۔۔ ”اورمہاجرین مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ، انہوں نے کہا ، ہمیں ہمارے انصار بھائیوں کے پاس لے چلو ، ہم ان کو بھی اس معاملہ میں شریک کریں گے ، انصار نے کہا ، ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے ، اس پرسیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، اس جیسی منقبت کس کے لیے ہے ؟ ( اِذْ ھُمَا فِیْ الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا )(التوبۃ : ٤٠) ، (جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ گھبراؤ نہیں ، اللہ ہمارے ساتھ ہے )، وہ دونوں کون ہیں ؟ پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اور بیعت کی اور سب لوگوں نے اچھی اور خوبصورت بیعت کی ۔”(السنن الکبرٰی للنسائی : ٨١٠٩، ١١٢١٩، الشمائل للترمذی : ٣٩٧، سنن ابن ماجہ : ١٢٣٤، مسند عبد بن حمید : ٣٦٥، المعجم الکبیر للطبرانی : ٦٣٦٧، وسندہ، صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابنِ خزیمہ  رحمہ اللہ  (١٥٤١، ١٦٢٤)نے ”صحیح” کہا ہے ، حافظ ہیثمی  رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
رجالہ ثقات ۔     ”اس کے راوی ثقہ ہیں ۔”(مجمع الزوائد : ٥/١٨٣)
بوصیری کہتے ہیں :      ھذا اسناد صحیح ، رجالہ ثقات ۔     ”یہ سند صحیح ہے ، اس کے راوی ثقہ ہیں ۔”(مصباح الزجاجۃ : ١/١٤٦)
اعتراض نمبر 1 : سعد بن عبادہ  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی ۔(صحیح بخاری : ٢/١٠١٠، ح : ٦٨٣٠)
J :      اس کی سند زہری کی تدلیس کی وجہ سے مخدوش ہے ۔یاد رہے کہ یہ روایت صحیح بخاری کے موضوع سے خارج ہے ، کیونکہ صحیح بخاری کی مرفوع متصل احادیث کی صحت پر اجماع ہوا ہے ، جبکہ یہ روایت موقوف ہے ۔جہاں زہری  رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کی ہے ، وہاں یہ واقعہ موجود نہیں ہے ۔
اعتراض نمبر 2 : سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے چھ ماہ کے بعد سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کی تھی ۔(صحیح بخاری : ٢/٦٠٩، ح : ٤٢٤٠، ٤٢٤١، صحیح مسلم : ٢/٩١، ٩٢، ح : ١٧٥٩)
مسند ابی بکر المروزی (٣٩)اور السنن الکبریٰ للبیہقی (٦/٣٠٠)میں ہے :
فقال رجل للزّھریّ : فلم یبایعہ علیّ رضی اللّٰہ عنہ ستّۃ أشھر ، قال : ولا أحد من بنی ھاشم ، حتّی بایعہ علیّ ۔     ”ایک آدمی نے زہری  رحمہ اللہ سے کہا ، علی  رضی اللہ عنہ  نے چھ ماہ آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت نہیں کی تو انہوں نے فرمایا ، نہ ہی بنو ہاشم میں سے کسی نے بیعت کی ، حتی کہ علی  رضی اللہ عنہ  نے بیعت کر لی ۔”
J :      حافظ بیہقی  رحمہ اللہ  اس کے رد وجواب میں لکھتے ہیں :
والّذی روی أنّ علیّا لم یبایع أبا بکر ستّۃ أشھر ، لیس من قول عائشۃ ، انّما ھو من قول الزّھریّ ، فأدرجہ بعض الرّواۃ فی الحدیث عن عائشۃ فی قصّۃ فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہم ، وحفظہ معمر بن راشد ، فرواہ مفصّلا ، وجعلہ من قول الزّھریّ منقطعا من الحدیث ، وقد روینا فی الحدیث الموصول عن أبی سعید الخدریّ ومن تابعہ من أھل المغازی أنّ علیّا بایعہ فی بیعۃ العامّۃ بعد الّتی جرت فی السّقیفۃ ، ویحتمل أنّ علیّا بایعہ بیعۃ العامّۃ ۔۔۔
”یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی بیعت چھ ماہ بعد کی ہے ، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کا قول نہیں ، بلکہ یہ تو زہری  رحمہ اللہ  کا قول ہے ، کسی راوی نے اسے سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا  کی فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کے قصے والی حدیث میں داخل کر دیا ہے ، معمر بن راشد نے اسے یاد رکھا ہے اور مفصل طور پر بیان کر کے اسے زہری  رحمہ اللہ  کا قول ہی قرار دیا ہے ، جو کہ حدیث سے جدا ہے ، اور ہم نے سیدنا ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  سے ایک موصول حدیث بیان کی ہے ، ان کے بعد والے اہل مغازی بھی یہی کہتے ہیں کہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے سقیفہ میں ہونے والی عام بیعت میں ہی بیعت کر لی تھی ، یہ بھی ممکن ہے کہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے اس کے بعد عام بیعت کی ہو ۔”
(الاعتقاد : ص ١٨٠، ونسخۃ اخرٰی : ص ٤٩٤)
یعنی یہ امام زہری کا ”منقطع ”قول ہے ، جو ”صحیح” حدیث کے خلاف بھی ہے ، لہٰذا ناقابل حجت ہے ۔
دلیل نمبر : 4 سیدنا ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں :      لمّا توفّی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قام خطباء الأنصار ، فجعل الرّجل منھم یقول : یا معشر المھاجرین ! انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کان اذا استعمل رجلا منکم قرن معہ رجلا منّا ، فنرٰی أن یلی ھذا الأمر رجلان ، أحدھما منکم والآخر منّا ، قال : فتتابعت خطباء الأنصار علی ذلک ، فقام زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ ، فقال : انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کان من المھاجرین ، وانّ الامام انّما یکون من المھاجرین ، ونحن أنصارہ کما کنّا أنصار رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فقام أبو بکر رضی اللّٰہ عنہ ، فقال: جزاکم اللّٰہ خیرا من حیّ یا معشر الأنصار ، وثبت قائلکم ، ثمّ قال : واللّٰہ لو فعلتم غیر ذلک لما صالحناکم ، ثمّ أخذ زید بن ثابت بید أبی بکر ، فقال : ھذا صاحبکم ، فبایعوہ ، ثمّ انطلقوا ، فلمّا قعد أبو بکر رضی اللّٰہ عنہ علی المنبر نظر فی وجوہ القوم ، فلم یر علیّا رضی اللّٰہ عنہ ، فسأل عنہ ، فقام ناس من الأنصار ، فأتو بہ ، فقال أبو بکر رضی اللّٰہ عنہ : ابن عمّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وختنہ ! أردتّ أن تشقّ عصا المسلمین ، فقال : لا تثریب یا خلیفۃ رسول اللّٰہ ! فبایعہ ، ثمّ لم یر الزّبیر بن العوّام رضی اللّٰہ عنہ ، فسأل عنہ ، حتّی جاء وا بہ ، فقال : ابن عمّۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وحواریّہ ! أردتّ أن تشقّ عصا المسلمین ، فقال مثل قولہ : لا تثریب یا خلیفۃ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ! فبایعاہ ۔
جب رسولِ کریم   صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوگئے ، ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا ، اے مہاجرین کی جماعت ! رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تمہارے آدمی کو عامل مقرر کرتے تو ہم میں سے ایک آدمی کو بھی ساتھ ملاتے ، لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ اس (خلافت والے) معاملے کے بھی دو آدمی والی بنیں ، ایک تم میں سے اور دوسرا ہم میں سے ، انصار کے خطباء لگا تار یہ بات کہنے لگے توسیدنا زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ  کھڑے ہوئے اور فرمایا ، رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہی ہونا چاہیے ، ہم اس کے معاون ہوں گے ، جس طرح کے ہم رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے معاون تھے ، سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کھڑے ہوئے اور فرمایا ، اللہ تمہیں اچھا بدلہ دے ! اے انصار کی جماعت !اللہ تمہارے قائل کو ثابت رکھے ، پھر فرمایا ، اگر تم اس کے علاوہ کوئی کام کرتے تو ہم تمہارے ساتھ صلح نہ کرتے ، پھر زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، یہ ہے تمہارا خلیفہ ، اس کی بیعت کرو ، پھر وہ چلے، جب سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں کے چہروں میں نظر دوڑائی تو سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کو نہ دیکھا ، ان کے بارے میں پوچھا ، کچھ انصاری کھڑے ہوئے اور آپ  رضی اللہ عنہ  کو لے آئے ، سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ، اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ! کیا آپ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ، اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلیفہ ! کوئی ملامت نہیں ، پھر انہوں نے آپ  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کی ، پھر آپ  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا زبیر بن عوام  رضی اللہ عنہ کو نہ دیکھا تو ان کے بارے میں سوال کیا ، یہاں تک کہ لوگ ان کو لے آئے ، آپ نے فرمایا ، اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ! کیا آپ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنا چاہتے ہیں ؟ تو انہوں نے بھی اسی طرح (سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کی طرح ہی) کہا کہ اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلیفہ ! کوئی ملامت نہیں ، پھر انہوں نے بیعت کر لی۔”(مسند الامام احمد : ٥/١٨٥۔١٨٦، مسند الطیالسی : ٦٠٣، المعجم الکبر للطبرانی : ٤٧٨٥، المستدرک للحاکم : ٣/٧٦، السنن الکبری للبیہقی : ٨/١٤٣، واللفظ لہ ، وسندہ، صحیحٌ)
امام ابنِ خزیمہ  رحمہ اللہ  کہتے ہیں :      جاء نی مسلم بن الحجّاج ، فسألنی عن ھذا الحدیث ، فکتبتہ لہ فی رقعۃ ، وقرأت علیہ ، فقال : ھذا حدیث یسوی بدنۃ ، فقلت : یسوی بدنۃ ، بل ھو یسوی بدرۃ ۔     ”میرے پاس امام مسلم بن حجاج آئے اور اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ، میں نے ان کو یہ حدیث ایک رقعہ میں لکھ دی اور ان پر پڑھی توانہوں نے کہا ، یہ حدیث اونٹ کے برابر ہے ، میں نے کہا اونٹ کے برابر ، بلکہ یہ تواشرفیوں کی تھیلی کے برابر ہے ۔”
(السنن الکبرٰی للبیہقی : ٨/١٤٣، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ حاکم  رحمہ اللہ نے اسے بخاری ومسلم کی شرط پر ”صحیح” قرار دیا ہے ، حافظ ذہبی  رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح” کہا ہے ۔(سیر اعلام النبلاء : ٢/٤٣٣)
حافظ ہیثمی  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :      رواہ الطّبرانیّ وأحمد ورجالہ رجال الصّحیح ۔
”اس حدیث کو امام طبرانی اور امام احمد نے بیان کیا ہے اور اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔”
(مجمع الزوائد : ٥/١٨٣)
حافظ ابنِ کثیر  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :      وھذا اسناد صحیح محفوظ من حدیث أبی نضرۃ المنذر بن مالک بن قطعۃ عن أبی سعید سعد بن مالک بن سنان الخدریّ ، وفیہ فائدۃ جلیلۃ ، وھی مبایعۃ علیّ بن أبی طالب : امّا فی أوّل یوم أو فی الیوم الثّانی من الوفاۃ ، وھذا حقّ ، فانّ علیّ بن أبی طالب لم یفارق الصّدّیق فی وقت من الأوقات ، ولم ینقطع فی صلاۃ من الصّلوات خلفہ ۔۔۔۔     ”ابو نضرہ منذر بن مالک بن قطعہ کی ابوسعید سعد بن مالک بن سنان الخدری سے روایت کی یہ سند صحیح اور محفوظ ہے ، اس میں ایک عظیم فائدہ بھی ہے اور وہ ہے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے پہلے یا دوسرے دن سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  کا بیعت کرنا ، یہ حق ہے ، کیونکہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ  نے سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کو کسی بھی وقت نہیں چھوڑا اور آپ  رضی اللہ عنہ  کے پیچھے نمازوں میں سے ایک نماز بھی نہیں چھوڑی ۔”(البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر : ٥/٢١٠۔٢١١)
دلیل نمبر 5 :     سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں :      لمّا بویع أبو بکر فی السّقیفۃ ، وکان الغد جلس أبو بکر علی المنبر ، فقام عمر ، فتکلّم قبل أبی بکر ، فحمد اللّٰہ وأثنیٰ علیہ ، ثمّ قال : انّ اللّٰہ قد جمع أمرکم علی خیرکم صاحب رسول اللّٰہ وثانی اثنین اذھما فی الغار ، فقوموا ، فبایعوہ ، فبایع النّاس أبا بکر بیعۃ العامّۃ بعد بیعۃ السّقیفۃ ۔۔۔
”جب سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی سقیفہ میں بیعت کی گئی ، اگلے دن سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  منبر پر بیٹھے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  سے پہلے بات کی ، آپ نے اللہ کی حمدوثناء کی ، پھر فرمایا ، یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملہ کو تم میں سے سب سے بہتر شخص اور رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی ساتھی پر جمع کر دیا ہے ، جو کہ غار میں دوسرا تھا ، لہٰذا تم کھڑے ہو کر ان کی بیعت کرو ، لوگوں نے بیعت ِ سقیفہ کے بعد سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی عام بیعت کی ۔۔۔”(السیرۃ لابن ھشام : ٦/٨٢، وسندہ، حسنٌ)
دلیل نمبر 6 :     قال سعد بن ابراہیم : حدّثنی أبی أنّ أباہ عبد الرّحمن بن عوف کان مع عمر ، وأنّ محمد بن مسلمۃ کسر سیف الزّبیر ، ثمّ خطب أبو بکر واعتذر الی النّاس ، وقال : ما کنت حریصا علی الامارۃ یوما ولا لیلۃ ، ولا سألتھا فی سرّ ولا علانیۃ ، فقبل المھاجرون مقالتہ وقال علیّ والزّبیر : ما غضبنا الّا لأنّا أخّرنا عن المشورۃ ، وانّا نرٰی أبا بکر أحقّ النّاس بھا ، انّہ صاحب الغار ، وانّا لنعرف شرفہ وخبرہ ، ولقد أمرہ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أن یصلّی النّاس وھو حیّ ۔۔۔۔۔      ”سید بن ابراہیم نے کہا ، مجھے میرے والد نے بتایا کہ ان کے والد عبدالرحمن بن عوف  رضی اللہ عنہ  عمر  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ تھے ، محمد بن مسلمہ  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا زبیر بن عوام  رضی اللہ عنہ  کی تلوار توڑ دی ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  نے خطبہ دیا اور لوگوں سے معذرت کی ، فرمایا ، میں امارت کے لیے ایک دن یا ایک رات بھی حریص نہیں ہوں ، نہ ہی میں نے خفیہ یا علانیہ اس کا مطالبہ کیا ہے ، مہاجرین نے آپ  رضی اللہ عنہ  کی بات کو قبول کر لیا ، سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  اور سیدنا زبیر  رضی اللہ عنہ  نے کہا ، ہمیں غصہ صرف اس بات نے دلایا تھا کہ ہمیں مشورہ سے پیچھے رکھا گیا تھا ، بلاشبہ ہماری یہی رائے ہے کہ سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  خلافت کے ہم سے زیادہ مستحق ہیں ، ہم آپ کے شرف وعزت کو جانتے ہیں ، اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی زندگی میں ہی آپ  رضی اللہ عنہ  کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دے دیا تھا ۔”(المغازی لموسی بن عقبۃ بحوالہ البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر : ٥/٢١١، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ ابنِ کثیر  رحمہ اللہ  نے اس کی سند کو ”جید” کہا ہے ۔(البدایۃ والنھایۃ : ٥/٢١١)
دلیل نمبر 7 :     قال الامام ابن أبی شیبۃ : حدّثنا محمّد بن بشر ، نا عبید اللّٰہ بن عمر ، حدّثنا زید بن أسلم عن أبیہ أسلم أنّہ حین بویع لأبی بکر بعد رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، کان علیّ والزّبیر یدخلان علی فاطمۃ بنت رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فیشاورونھا ویرتجعون فی أمرھم ، فلمّا بلغ ذلک عمر بن الخطّاب ، خرج حتّی دخل علی فاطمۃ ، فقال : یا بنت رسول اللّٰہ ! واللّٰہ ما من الخلق أحد أحب الینا من أبیک ، وما من أحد أحبّ الینا بعد أبیک منک ، وأیم اللّٰہ ! ما ذاک بمانعی ان اجتمع ھؤلاء النّفر عندک ان أمرتھم أن یحرّق علیھم البیت ، قال : فلمّا خرج عمر جاء وھا ، فقالت : تعلمون أنّ عمر قد جاء نی ، وقد حلف باللّٰہ لئن عدتّم لیحرقنّ علیکم البیت ، وأیم اللّٰہ ! لیمضینّ ما حلف علیہ ، فانصرفوا راشدین ، فروا رأیکم ولا ترجعوا الیّ ، فانصرفوا عنھا ، فلم یرجعوا الیھا حتّی بایعوا لأبی بکر ۔ ”زید بن اسلم اپنے والد اسلم سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کی گئی تو سیدنا علی اور سیدنا زبیر  رضی اللہ عنہما  سیدہ فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کے پاس مشورہ کے لیے آتے تھے اور پھر اپنے کام میں واپس چلے جاتے تھے ، جب یہ بات سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  تک پہنچی تو وہ آئے ، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ  رضی اللہ عنہا  پر داخل ہوئے اور کہا ، اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ! اللہ کی قسم ! مخلوق میں سے آپ کے والد سے بڑھ کر ہمیں کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں اور آپ کے والد کے بعد ہمیں آپ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں ،اللہ کی قسم ! اگر اب یہ لوگ آپ کے پاس جمع ہوئے تو مجھے یہ بات اس سے نہیں روکے گی کہ میں ان پر اس گھر کو آگ لگا دوں ، جب عمر  رضی اللہ عنہ نکل گئے تو وہ لوگ سیدہ فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کے پاس آئے ، انہوں نے کہا ، تم جانتے ہو کہ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی ہے کہ اگر تم دوبارہ آئے تو وہ تم پر گھر کو آگ لگا دیں گے ؟ اللہ کی قسم ! جو انہوں نے قسم اٹھائی ہے ، اسے کر گزریں گے ، لہٰذا بھلے طریقے سے واپس چلے جاؤ ، اپنی رائے سوچو ، دوبارہ میرے پاس نہ آؤ ، وہ لوٹ گئے اور سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کرکے واپس لوٹے۔”(مصنف ابن ابی شیبۃ : ١٤/٥٦٦۔٥٦٧، وسندہ، صحیحٌ)
یہ روایت نص ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر بیعت کی تھی ، سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام اجتہادی اور جذباتی تھا ، دراصل سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے تھے کہ ان لوگوں کا اکٹھ کسی پریشانی کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو ،جس پر سیدہ فاطمہ نے کوئی ردّ ِ عمل ظاہر نہیں کیا ۔
اس سے کوئی ہرگز یہ بات کشید نہ کر لے کہ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کو اہل بیت سے بغض تھا ، وہ ان کا گھر تک جلانے کے درپے تھے ، کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ، وہ تو فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد اہل بیت ہمیں محبوب ہیں ۔    ہم نے قوی اور ٹھوس ثبوت پیش کر دئیے ہیںکہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی تھی ، ہمارا دعویٰ ہے کہ اس کے خلاف کچھ ثابت نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.