525

زیارت قبر نبوی کی فضیلت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


زیارت ِقبر نبوی کی فضیلت و اہمیت!
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی فضیلت و اہمیت پر مبنی بہت سی روایات زبان زدِ عام ہیں۔ان روایات کا اصولِ محدثین کی روشنی میں تحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے:
روایت نمبر 1 : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ زَارَ قَبْرِي، وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِي‘ ۔
’’جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا، اس کے لیے میری سفارش واجب ہو جائے گی۔‘‘
(سنن الدارقطني : 278/2، ح : 2669، شعب الإیمان للبیھقي : 490/3، ح : 5169، مسند البزّار (کشف الأستار) : 57/2، ح : 1197)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس کے بارے میں :
1 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْہُ، أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُھْدَتِہٖ ۔ ’’میرے دل میں اس کے بارے میں خلش ہے۔میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔‘‘ (لسان المیزان لابن حجر : 135/6)
نیز اس روایت کو امام صاحب نے ’’منکر‘‘ بھی قرار دیا ہے۔(أیضًا)
b حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ،امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ساری بحث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وَمَعَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عِبَارَۃِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ، وَکَشْفِہٖ عَنْ عِلَّۃِ ھٰذَا الْخَبَرِ، لَا یَحْسُنُ أَنْ یُّقَالَ : أَخْرَجَہُ ابْنُ خُزَیْمَۃَ فِي صَحِیحِہٖ إِلَّا مَع الْبَیَانِ ۔
’’امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی عبارت بیان ہو چکی ہے،نیز انہوں نے اس روایت کی علت بھی بیان کر دی ہے، اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں کہ اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ہاں! وضاحت کرکے ایسا کہا جا سکتا ہے۔‘‘(أیضًا)
b حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَھُوَ فِي صَحِیحِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ، وَأَشَارَ إِلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔ ’’یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے، لیکن امام صاحب نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔‘‘
(المقاصد الحسنۃ في بیان کثیر من الأحادیث المشتھرۃ علی الألسنۃ : 1125)
2 امام عُقَیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فِیھِا لِینٌ ۔
’’اس میں کمزوری ہے۔‘‘ (الضعفاء الکبیر : 170/4)
3 حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فَھُوَ مُنْکَرٌ ۔
’’یہ روایت منکر ہے۔‘‘(شعب الإیمان : 490/3)
4 حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے۔
(المجموع شرح المھذّب : 272/8)
5 حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَھُوَ حَدِیثٌ مُّنْکَرٌ ۔
’’یہ حدیث منکر ہے۔‘‘(تاریخ الإسلام : 212/11، وفي نسخۃ : 115/11)
6 حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وَھُوَ مَعَ ھٰذَا حَدِیثٌ غَیْرُ صَحِیحٍ وَّلَا ثَابِتٍ، بَلْ ھُوَ حَدِیثٌ مُّنْکَرٌ عِنْدَ أَئِمَّۃِ ھٰذَا الشَّأْنِ، ضَعِیفُ الْإسْنَادِ عِنْدَھُمْ، لَا یَقُومُ بِمِثْلِہٖ حُجَّۃٌ، وَلَا یَعْتَمِدُ عَلٰی مِثْلِہٖ عِنْدَ الِاحْتِجَاجِ إِلَّا الضُّعَفَائُ فِي ھٰذَا الْعِلْمِ ۔
’’یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ ثابت۔یہ تو فن حدیث کے ائمہ کے ہاں منکر اور ضعیف الاسناد روایت ہے۔ایسی روایت دلیل بننے کے لائق نہیں ہوتی۔علم حدیث میں ناپختہ کار لوگ ہی ایسی روایات کو اپنی دلیل بناتے ہیں۔‘‘ (الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص : 30)
7 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَلَا یَصِحُّ فِي ھٰذَا الْبَابِ شَيئٌ ۔ ’’اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں۔‘‘(التلخیص الحبیر : 267/2)
نیز فرماتے ہیں : وَفِیہِ ضُعْفٌ ۔ ’’اس روایت میں کمزوری ہے۔‘‘
(اتّحاف المھرۃ : 124-123/9)
n اس روایت کے راوی موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ محدثین کرام نے اس کو ’’مجہول‘‘اور اس کی بیان کردہ روایات کو ’’منکر‘‘ قرار دیا ہے۔ملاحظہ فرمائیں :
1،2 امام ابوحاتم رازی(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 166/8)اور امام دارقطنی (لسان المیزان لابن حجر : 136/6)H نے اسے ’’مجہول‘‘قرار دیا ہے۔
3 امام عُقَیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَا یَصِحُّ حَدِیثُہٗ، وَلَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ ۔ ’’اس کی حدیث ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔‘‘(الضعفاء الکبیر : 170/4)
4 اس کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ کے قول وَأَرْجُوا أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِہٖ (الکامل في ضعفاء الرجال : 351/6)ذکر کرتے ہوئے حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فَالْحَقُّ فِیہِ أَنَّہٗ لَمْ تَثْبُتْ عَدَالَتُہٗ ۔ ’’حق بات یہ ہے کہ اس راوی کی عدالت ثابت نہیں ہوئی۔‘‘(بیان الوھم والإیھام في کتاب الأحکام : 322/4)
حافظ ابن قطان رحمہ اللہ کی یہ بات بالکل درست ہے۔امام ابن عدی رحمہ اللہ کے اس قول سے موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ جعفر بن میمون نامی راوی کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں : وَأَرْجُوا أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِہٖ، وَیُکْتَبُ حَدِیثُہٗ فِي الضُّعَفَائِ ۔ ’’مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔اس کی حدیث ضعیف راویوں میں لکھی جائے گی۔‘‘ (الکامل : 138/2، وفي نسخۃ : 562)
یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ ’’ضعیف‘‘ راویوں کے بارے میں بھی یہ الفاظ بول دیتے ہیں۔ان کی مراد شاید یہ ہوتی ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔
ہماری بات کی تائید علامہ عبد الرحمن بن یحییٰ یمانی معلمی رحمہ اللہ (1386-1313ھ)کے ایک قول سے بھی ہوتی ہے۔یوسف بن محمد بن منکدر کے بارے میں بھی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے بالکل یہی الفاظ کہے ۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ھٰذِہِ الْکَلِمَۃُ رَأَیْتُ ابْنَ عَدِيٍّ یُطْلِقُھَا فِي مَوَاضِعَ تَقْتَضِي أَنْ یَّکُونَ مَقْصُودُہٗ : أَرْجُوا أَنَّہٗ لَا یَتَعَمَّدُ الْکَذِبَ، وَھٰذَا مِنْھَا، لِأَنَّہٗ قَالَھَا بَعْدَ أَنْ سَاقَ أَحَادِیثَ یُوسُفَ، وَعَامَّتُھَا لَمْ یُتَابَعْ عَلَیْھَا ۔ ’’میں نے کئی ایسے مقامات پر امام ابن عدی کی طرف سے اس کلمے کا اطلاق دیکھا ہے،جہاں ان کے قول کا مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ یوسف(بن محمد بن منکدر)کی بیان کردہ روایات ذکر کرنے کے بعد امام ابن عدی نے ایسا کہا ہے اور ان میں سے اکثر روایات منکر ہیں۔‘‘
(التعلیق علٰی الفوائد المجموعۃ، ص : 51)
ثابت ہوا کہ موسیٰ بن ہلال کو واضح طور پر کسی متقدم امام نے ’’ثقہ‘‘ قرار نہیں دیا۔ اس کی حدیث ’’ضعیف‘‘ اور ’’منکر‘‘ہوتی ہے،جیسا کہ ائمہ کی تصریحات بیان ہو چکی ہیں۔ لہٰذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ (میزان الاعتدال : 225/4)کا اسے ’’صالح الحدیث‘‘ کہنا ان کا علمی تسامح ہے،یہ بات درست نہیں۔ہم نقل کر چکے ہیں کہ خود حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’منکر‘‘ بھی قرار دیا ہے۔اس لیے حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے اس تسامح کو اس حدیث کی صحت کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔متقدمین ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس حدیث کو ’’صحیح‘‘قرار نہیں دیا۔ اعتبار محدثین ہی کی بات کا ہے۔
روایت نمبر 2 : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ جَائَ نِي زَائِرًا لَّا یَعْلَمُہٗ حَاجَۃً إِلَّا زِیَارَتِي، کَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَکُونَ لَہٗ شَفِیعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔
’’جو شخص صرف میری زیارت کی خاطر میرے پاس آئے گا، مجھ پر روز ِقیامت اس کی سفارش کرنا واجب ہو جائے گا۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبراني : 291/12، ح : 13149، المعجم الأوسط للطبراني : 4543، الخلعیات للخلعي : 52، المعجم لابن المقریٔ : 158، تاریخ أصبہان لأبي نعیم الأصبھاني : 190/2، الدرّۃ الثمینۃ في أخبار المدینۃ لابن النجّار : 155)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس کا راوی مسلمہ بن سالم جہنی (مسلم بن سالم جہنی) ’’مجہول‘‘ اور ’’ضعیف‘‘ ہے۔
حافظ ہیثمی(مجمع الزوائد : 2/4) اور حافظ ابن حجر(تقریب التھذیب : 6628) نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔حافظ ابن عبد الہادی(الصارم المنکي، ص : 36)نے اسے موسیٰ بن ہلال عبدی کی طرح کا ’’مجہول الحال‘‘ کہا ہے۔اس کی کوئی توثیق ثابت نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس سند کو ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
(المجموع شرح المھذّب : 272/8)
لہٰذا حافظ عراقی رحمہ اللہ (تخریج أحادیث الإحیاء : 306/1)کا اس کے بارے میں [وَصَحَّحَہُ ابْنُ السَّکَنِ] کہنا اس کی صحت کے لیے مفید نہیں۔
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : إِنَّہٗ حَدِیثٌ ضَعِیفُ الْإِسْنَادِ، لَا یَصْلُحُ الِاحْتِجَاجُ بِہٖ، وَلَا یَجُوزُ الِاعْتِمَادُ عَلٰی مِثْلِہٖ ۔
’’اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔اسے دلیل بنانا اور اس جیسی روایت پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔‘‘(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص : 36)
پھر اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِمبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہے، نہ کہ وفات کے بعد قبر مبارک کی زیارت۔
روایت نمبر 3 : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَنِي فِي مَمَاتِي، کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَیَاتِي، وَمَنْ زَارَنِي حَتّٰی یَنْتَھِيَ إِلٰی قَبْرِي، کُنْتُ لَہٗ شَھِیدًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘، أَوْ قَالَ : ’شَفِیعًا‘ ۔ ’’جو میری موت کے بعد میری زیارت کرے گا،اس نے گویا زندگی میں میری زیارت کی اور جو شخص میری زیارت کو آئے حتی کہ میری قبر تک پہنچ جائے، اس کے لیے میں روزِ قیامت گواہی دوں گا۔‘‘ یا فرمایا : ’’سفارش کروں گا۔‘‘
(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 457/3)
تبصرہ : اس کی سند سخت ’’ضعیف‘‘ اور ’’منکر‘‘ ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748-663ھ)فرماتے ہیں : ھٰذَا مَوْضُوعٌ ۔
’’یہ خود ساختہ روایتہے۔‘‘ (میزان الاعتدال : 349/3، ت : 6709)
امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے ’’غیرمحفوظ‘‘ قرار دیا ہے۔(الضعفاء الکبیر : 457/3)
اس کا راوی فضالہ بن سعید بن زمیل ماربی ’’ضعیف‘‘ ہے۔کسی نے اسے ’’ثقہ‘‘ نہیں کہا۔البتہ اس کے بارے میں امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَحَدِیثُہٗ غَیْرُ مَحْفُوظٍ، وَلَا یُعْرَفُ إِلَّا بِہٖ ۔
’’اس کی حدیث شاذ ہے اور اس سے یہی ایک روایت مشہور ہے۔‘‘
(الضعفاء الکبیر : 457/3)
حافظ ابونعیم فرماتے ہیں : رَوَی الْمَنَاکِیرَ، لَا شَيئَ ۔
’’اس نے منکر روایات بیان کی ہیں۔یہ ناقابل التفات ہے۔‘‘
(لسان المیزان لابن حجر : 436/4)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے [وَاہٍ]،یعنی ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔ (المغني في الضعفاء : 510/2)
حافظ ابن حجر(التلخیص الحبیر : 267/2) اور حافظ ابن ملقن(البدر المنیر : 255/3) نے بھی اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
فائدہ : محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی راوی کو امام دارقطنی(سؤالات البرقاني : 464) اور امام ابن حبان(الثقات : 45/9)H نے ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے،لیکن امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں: مُنْکَرُ الْحَدِیثِ، أَحَادِیثُہٗ مُظْلِمَۃٌ مُّنْکَرَۃٌ ۔
’’یہ منکر الحدیث راوی ہے۔اس کی بیان کردہ روایات سخت ضعیف اور منکر ہیں۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال : 2239/6، وفي نسخۃ : 234/6)
یعنی یہ باوجود ثقہ ہونے کے ’’منکر‘‘ روایات بیان کرتا تھا۔یہ روایت بھی اس کی مناکیر میں سے ہے۔
روایت نمبر 4 : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَنِي بِالْمَدِینَۃِ مُحْتَسِبًا، کُنْتُ لَہٗ شَفِیعًا وَّشَھِیدًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔ ’’جو شخص مدینہ منورہ آ کر ثواب کی نیت سے میری زیارت کرے گا،میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا اور اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا۔‘‘(تاریخ جرجان لحمزۃ بن یوسف السھمي، ص : 434، کتاب القبور لابن أبي الدنیا کما في التلخیص الحبیر لابن حجر : 265/2، شعب الإیمان للبیھقي : 488/3)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ :
1 اس کا راوی ابو مثنی کعبی(سلیمان بن یزید) ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس کے بارے میں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مُنْکَرُ الْحَدِیثِ، لَیْسَ بِقَوِيٍّ ۔
’’یہ منکرالحدیث اور ضعیف راوی ہے۔‘‘ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 149/4)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔(العلل الواردۃ في الأحادیث النبویّۃ : 3823)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یُخَالِفُ الثِّقَاتَ فِي الرِّوَایَاتِ، لَا یَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِہٖ، وَلَا الرِّوَایَۃُ عَنْہُ، إِلَّا لِلِاعْتِبَارِ ۔
’’یہ روایات میں ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے۔نہ اس کی روایات سے دلیل لینا جائز ہے،نہ اس کی روایات کو بیان کرنا۔ہاں، صرف متابعات و شواہد میں اس کی روایات کو بیان کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (کتاب المجروحین : 151/3)
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسے اپنی کتاب ’’الثقات(395/6)‘‘میں بھی ذکر کر دیا ہے۔اصولی طور پر ان کا جمہور کے موافق جرح والا قول لے لیاجائے گا۔
رہا امام ترمذی رحمہ اللہ (الجامع : 1493)کا اس کی ایک حدیث کو ’’حسن‘‘ اور امام حاکم رحمہ اللہ (المستدرک علی الصحیحین : 222/4)کا ’’صحیح الاسناد‘‘ قرار دینا،تو وہ اس کی ثقاہت پر دلیل نہیں بن سکتا،کیونکہ امام ترمذی رحمہ اللہ کا کسی حدیث کو ’’حسن‘‘کہنا ان کی ایک خاص اصطلاح ہے،جس کا اطلاق انہوں نے بہت سے مقامات پر ’’ضعیف‘‘ سند والی روایات پر بھی کیا ہے اور امام حاکم رحمہ اللہ کا مذکورہ حکم ان کے تساہل پر مبنی ہے۔
غرضیکہ ابومثنی جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے،جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘قرار دیا ہے۔(تقریب التھذیب : 3840)
2 یہ ابومثنی راوی تبع تابعی ہے۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہی ثابت نہیں۔یوں اس کی سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ’’منقطع‘‘ بھی ہے۔
فائدہ : اس روایت کی ایک سند مسند اسحاق بن راہویہ میں بھی ہے، لیکن وہ ایک ’’شیخ‘‘ مبہم کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے۔
روایت نمبر 5 : قَالَ یَحْیَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَعْفَرٍ فِي أَخْبَارِ الْمَدِینَۃِ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ’مَنْ أَتَی الْمَدِینَۃَ زَائِرًا لِّي، وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ مَّاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَیْنِ، بُعِثَ آمِنًا‘ ۔
’’عبد اللہ بن وہب ایک آدمی کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبد اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا : جو شخص میری زیارت کے لیے مدینہ آئے گا، اس کے لیے روز قیامت میری شفاعت واجب ہو جائے گی اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک حرم میں فوت ہو گا،وہ امن کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔‘‘ (شفاء السقام للسبکي، ص : 40)
تبصرہ : یہ باطل روایت ہے، کیونکہ :
1 اس میں ’’رجل‘‘ مبہم ہے۔اس کی دیانت و امانت اور حافظہ تو درکنار، اس کا نام بھی معلوم نہیں۔
2 بکر بن عبد اللہ کون ہے؟ اس کا تعارف،تعیین اور توثیق مطلوب ہے۔یہ کوئی تابعی ہے یا تبع تابعی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈائریکٹ اس کی روایت ’’مرسل‘‘ اور ’’منقطع‘‘ ہے۔
3 اس میں عبد اللہ بن وہب مصری کی ’’تدلیس‘‘بھی موجود ہے۔انہوں نے نہ اپنے استاذ کا نام لیا ہے نہ اس سے سماع کی صراحت کی ہے۔
محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ اسی نامعلوم شخص کی کارروائی ہے۔
علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (744-705ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :
وَھُوَ حَدِیثٌ بَاطِلٌ، لَا أَصْلَ لَہٗ، وَخَبَرٌ مُعْضَلٌ، لَا یُعْتَمَدُ عَلٰی مِثْلِہٖ، وَھُوَ مِنْ أَضْعَفِ الْمَرَاسِیلِ وَأَوْھَی الْمُنْقَطِعَاتِ ۔
’’یہ باطل ،بے اصل اور سخت منقطع روایت ہے۔ایسی روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔یہ عام مرسل اور منقطع روایات سے بھی گئی گزری روایت ہے۔‘‘(الصارم المنکي، ص : 243)
پھر اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔اس کا تعلق تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِمبارکہ کے ساتھ تھا۔یا اس سے مراد خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہے۔
روایت نمبر 6 : سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَوْتِي، فَکَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَیَاتِي، وَمَنْ مَّاتَ بِأَحَدِ الْحَرَمَیْنِ، بُعِثَ آمِنًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔
’’جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں فوت ہو گا،قیامت کے روز امن کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔‘‘ (سنن الدارقطني : 277/2، شعب الإیمان للبیہقي : 488/3)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
حافظ عبد الرؤف مناوی رحمہ اللہ نے اسے ’’معلول‘‘ قرار دیا ہے۔
(الفتح السماوي في تخریج أحادیث القاضي البیضاوي : 381/1)
اس روایت میں دو علتیں ہیں :
1 ہارون بن ابوقزعہ راوی ’’منکرالحدیث‘‘ ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ ۔ ’’یہ منکرالحدیث راوی ہے۔‘‘
(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 362/4، وسندہٗ صحیحٌ)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَہَارُونُ أَبُو قَزَعَۃَ لَمْ یُنْسَبْ، وَإِنَّمَا رَوَی الشَيئَ الْیَسِیرَ الَّذِي أَشَارَ إِلَیْہِ الْبُخَارِيُّ ۔
’’ہارون ابوقزعہ غیرمنسوب راوی ہے۔اس نے بہت تھوڑی روایات بیان کی ہیں، جن (کے منکر ہونے)کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے۔ ‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال : 128/7)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَقَدْ ضَعَّفَہٗ یَعْقُوبُ بْنُ شَیْبَۃَ، وَذَکَرَہُ الْعُقَیْلِيُّ وَالسَّاجِيُّ وَابْنُ الْجَارُودِ فِي الضُّعَفَائِ ۔
’’اسے امام یعقوب بن شیبہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام عقیلی،امام ساجی اور امام ابن جارود نے ضعیف راویوں میں شمار کیاہے۔‘‘ (لسان المیزان : 181/6)
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ’’الثقات(580/7)‘‘میں ذکر کیا ہے جو کہ ان کا تساہل ہے۔بات وہی ہے جو جمہور محدثین نے فرمائی ہے۔
2 رجل من آلِ حاطب ’’مجہول‘‘ و ’’مبہم‘‘ ہے۔اسی لیے تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَفِي إِسْنَادِہِ الرَّجُلُ الْمَجْھُولُ ۔
’’اس کی سند میں مجہول راوی ہے۔‘‘(التلخیص الحبیر : 266/2)
لہٰذا اس روایت کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
روایت نمبر 7 : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَ قَبْرِي ـــ أَوْ قَالَ : مَنْ زَارَنِي ـــ کُنْتُ لَہٗ شَفِیعًا أَو شَھِیدًا، وَمَنْ مَّاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَیْنِ، بَعَثَ اللّٰہُ مِنَ الْـآمِنِینَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔
’’جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا،میں اس کے لیے شفارشی اور گواہ بنوں گا اور جو حرمین میں سے کسی حرم میں فوت ہو گا، اسے روز قیامت اللہ تعالیٰ امن والوں میں اٹھائے گا۔‘‘(مسند الطیالسي (منحۃ المعبود : 228/1)، السنن الکبرٰی للبیہقي : 245/5، شعب الإیمان للبیہقي : 488/3)
تبصرہ : اس کی سند باطل ہے ، کیونکہ :
1 سوار بن میمون راوی کا کتب ِرجال میں کوئی ذکر نہیں مل سکا۔
2 رجل من آلِ عمر ’’مجہول‘‘ ہے۔
اسی لیے اس روایت کی سند کے بارے میں امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَھٰذَا إِسْنَادٌ مَّجْھُولٌ ۔ ’’اس کی سند مجہول راویوں پر مشتمل ہے۔‘‘
(السنن الکبرٰی : 245/5)
حافظ منذری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فِي إِسْنَادِہٖ نَظَرٌ ۔ ’’اس کی سند میں نکارت ہے۔‘‘(البدر المنیر لابن الملقّن : 298/6)
فائدہ : شعب الایمان بیہقی(489/3)میں یہ روایت یوں ہے :
۔۔۔۔۔ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مَیْمُونٍ : حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ قَزَعَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ آلِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا، کَانَ فِي جِوَارِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَکَنَ الْمَدِینَۃَ وَصَبَرَ عَلٰی بَلَائِہَا، کُنْتُ لَہٗ شَہِیدًا وَّشَفِیعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ مَّاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بَعَثَہُ اللّٰہُ مِنَ الْآمِنِینَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔
’’جو شخص قصداً میری زیارت کرے گا،وہ روز قیامت میرے پڑوس میں ہو گا۔جو شخص مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کرے گا اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرے گا،میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دوں گا اور شفارش کروں گااور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک حرم میں فوت ہو گا، اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز امن والوں میں سے اٹھائیں گے۔‘‘
اس کی سند بھی باطل ہے، کیونکہ :
1 اس میں وہی سوار بن میمون ’’مجہول‘‘ موجود ہے، جس کا ذکر ابھی ہوا ہے۔
2 اس میں ہارون بن قزعہ بھی ہے، جس کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ وہ جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
3 رجل من آلِ الخطاب ’’مجہول‘‘ اور ’’مبہم‘‘ ہے۔
اس بارے میں امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَالرِّوَایَۃُ فِي ھٰذَا لَیِّنَۃٌ ۔
’’اس بارے میں روایت کمزور ہے۔‘‘ (الضعفاء الکبیر : 362/4)
روایت نمبر 8 : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ حَجَّ، فَزَارَ قَبْرِي بَعْد مَوْتِي، کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَیَاتِي‘ ۔ ’’جو شخص میری وفات کے بعد حج کرے ،پھر میری قبر کی زیارت کرے ، گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبراني : 406/12، سنن الدارقطني : 278/2، الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 790/2، السنن الکبرٰی للبیہقي : 246/5، أخبار مکّۃ للفاکھي : 437/1، مسند أبي یعلٰی کما في المطالب العالیۃ لابن حجر : 372/1)
تبصرہ : یہ سخت ترین ’’ضعیف‘‘ روایت ہے، کیونکہ :
1 حفص بن سلیمان قاری راوی ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔
(تقریب التھذیب لابن حجر : 1404)
حافظ ہیثمی فرماتے ہیں : وَضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 163/10)
حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فَقَدْ ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ ۔
’’اسے جمہور اہل علم نے ضعیف کہا ہے۔‘‘
(القول البدیع في الصلاۃ علی الحبیب الشفیع، ص : 120)
2 لیث بن ابو سلیم راوی جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : فَضَعَّفَہُ الْجَمَاھِیرُ ۔
’’اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘ (شرح صحیح مسلم : 52/1)
حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضَعَّفَہُ الْجُمْھُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(تخریج أحادیث الإحیاء : 1817)
علامہ ہیثمی کہتے ہیں : وَضَعَّفَہُ الْـأَکْثَرُ ۔
’’اسے جمہور اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 90/1، 91، 178/2)
بوصیری لکھتے ہیں : ضَعَّفَہُ الْجُمْھُورُ ۔ ’’اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(زوائد ابن ماجہ : 542)
حافظ ابن ملقن فرماتے ہیں : ضَعِیفٌ عِنْدَ الْجُمْھُورُ ۔
’’یہ راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔‘‘
(البدر المنیر : 104/2، 227/7، تحفۃ المحتاج : 48/2)
علامہ ابو الحسن سندھی حنفی لکھتے ہیں : وَفِي الزَّوَائِدِ : لَیْثُ ابْنُ أَبِي سُلَیْمٍ، ضَعَّفَہُ الْجُمْھُورُ ۔ ’’زوائد میں ہے کہ لیث بن ابو سلیم راوی کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(حاشیۃ السندي علی ابن ماجہ : 1891)
فائدہ : (ا) معجم کبیر طبرانی(406/12) اور معجم اوسط طبرانی(201/1)میں حفص بن سلیمان کی متابعت عائشہ بنت سعد نے کر رکھی ہے۔
لیکن اس کے بارے میں حافظ ہیثمی فرماتے ہیں : وَفِیہِ عَائِشَۃُ بِنْتُ سَعْدٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرَجَّمَھَا ۔ ’’اس سند میں عائشہ بنت سعد ہے۔ مجھے کتب ِرجال میں کہیں اس کے حالات نہیں ملے۔‘‘(مجمع الزوائد : 2/4)
اسی طرح اس سند میں علی بن حسن بن ہارون انصاری اور لیث بن بنت لیث بن ابو سلیم کے حالات ِزندگی بھی نہیں مل سکے۔اس میں چوتھی علت یہ ہے کہ امام طبرانی رحمہ اللہ کے استاذ احمد بن رشدین ’’ضعیف‘‘ ہیں۔بنابریں یہ متابعت بے کار اور بے فائدہ ہے۔
(ب) شفاء السقام سبکی(ص : 27) میں حفص بن سلیمان قاری کی متابعت جعفر بن سلیمان ضبعی نے کی ہے لیکن وہ بھی بے سود اور غیرمفید ہے، کیونکہ اس کی سند میں ابوبکر محمدبن سری بن عثمان تمار موجود ہے جس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یَرْوِي الْمَنَاکِیرَ وَالْبَلَایَا، لَیْسَ بِشَيئٍ ۔
’’یہ منکر اور جھوٹی روایات بیان کرتا ہے۔یوں یہ ناقابل التفات راوی ہے۔‘‘
(میزان الاعتدال في نقد الرجال : 559/3)
اس میں دوسری علت یہ ہے کہ نصر بن شعیب راوی ’’ضعیف‘‘ ہے۔
تنبیہ : سبکی کی شفاء السقام (ص : 27)میں ابوالیمن ابن عساکر کے حوالے سے لکھا ہے کہ مذکورہ سند میں جعفر بن سلیمان نہیں بلکہ حفص بن سلیمان راوی ابوعمراسدی غافری قاری ہے۔اسے جعفر قرار دینا وہم اور تصحیف ہے۔
(اتّحاف الزائر وإطراف المقیم للسائر، ص : 29)
یہ راوی جو بھی ہو، سندبہرحال ’’ضعیف‘‘ ہے۔
روایت نمبر 9 : أَخْرَجَہٗ أَبُو الْفَتْحِ الْـأَزْدِيُّ فِي فَوَائِدِہٖ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ ھَارُونَ بْنِ أَبِي الدِّلْھَاثِ : ثَنَا أَبُو سَھْلٍ بَدْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمِصِّیصِيُّ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُثْمَانَ الزِّیَادِيُّ : ثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ : حَدَّثَنِي خَالِي سُفْیَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاھِیمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَنْ حَجَّ حَجَّۃَ الْإِسْلَامِ، وَزَارَ قَبْرِي، وَغَزَا غَزْوَۃً، وَصَلّٰی فِي بَیْتِ الْمَقْدِسِ، لَمْ یَسْأَلْہُ اللّٰہُ عَمَّا افْتَرَضَ عَلَیْہِ‘ ۔ ’’سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اسلام کی حالت میں حج کرے، میری قبر کی زیارت کرے، اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور بیت المقدس میں نماز پڑھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے فرائض کے بارے میں سوال نہیں کرے گا۔‘‘
(شفاء السقام للسبکي، ص : 34، لسان المیزان لابن حجر : 4/2)
شفاء السقام میں راویٔ حدیث سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے سیدناابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔یہ تصحیف ہے، درست بات وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
دیکھیں(لسان المیزان لابن حجر : 4/2، القول البدیع للسخاوي : 135، وغیرہ)
تبصرہ : یہ جھوٹی روایت ہے ، کیونکہ :
1 صاحب ِکتاب ابوالفتح ازدی خود ’’ضعیف‘‘ اور ’’متکلم فیہ‘‘ راوی ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774-700ھ) لکھتے ہیں :
وَضَعَّفَہٗ کَثِیرٌ مِّنَ الْحُفَّاظِ مِنْ أَھْلِ زَمَانِہٖ، وَاتَّھَمَہٗ بَعْضُھُمْ بِوَضْعِ حَدِیثٍ رَوَاہُ ۔۔۔۔۔۔۔ ’’اسے اس کے بہت سے ہم عصر حفاظ نے ضعیف قرار دیا ہے اور بعض نے تو اس پر ایک حدیث گھڑنے کا الزام بھی لگایا ہے۔‘‘
(البدایۃ والنھایۃ : 303/11، وفي نسخۃ : 344)
ابونجیب عبد الغفار بن عبدالواحد ارموی کہتے ہیں : رَأَیْتُ أَھْلَ الْمَوْصِلِ یُوھِنُونَ أَبَا الْفَتْحِ الْـأَزْدِيَّ جِدًّا، وَلَا یَعُدُّونَہٗ شَیْئًا ۔
’’میں نے موصل کے اہل علم کو دیکھا ہے کہ وہ ابوالفتح ازدی کو بہت زیادہ ضعیف اور ناقابل التفات قرار دیتے تھے۔‘‘ (تاریخ بغداد للخطیب : 244/2)
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکربرقانی سے اس کے بارے میں پوچھا : فَأَشَارَ إِلٰی أَنَّہٗ کَانَ ضَعِیفًا، وَقَالَ : رَأَیْتُہٗ فِي جَامِع الْمَدِینَۃِ، وَأَصْحَابُ الْحَدِیثِ لَا یَرفَعُونَ بِہٖ رَأْسًا، وَیَتَجَنَّبُونَہٗ ۔
’’انہوں نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : میں نے اسے بغداد کی مسجد میں دیکھا۔محدثین اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ اس سے اجتناب کرتے تھے۔‘‘(تاریخ بغداد : 244/2)
خود امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَفِي حَدِیثِہٖ غَرَائِبُ وَمَنَاکِیرُ ۔ ’’اس کی بیان کردہ احادیث میں غریب اور منکر روایات ہیں۔‘‘
(تاریخ بغداد : 244/2)
امام خطیب فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بارے میں محمد بن جعفر بن علان سے پوچھا تو : فَذَکَرَہٗ بِالْحِفْظِ، وَحُسْنِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ، وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ۔
’’انہوں نے اسے ضبط اور حدیث کی اچھی معرفت سے متصف کیا اور اس کی تعریف کی۔‘‘(أیضًا)
بہرحال حافظ محمد بن حسین بن احمد بن حسین ابو الفتح ازدی موصلی کو محدثین نے صراحتاً ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے ، اس کے برعکس اس کے متعلق کوئی واضح توثیق ثابت نہیں۔
2 ابوسہل بدر بن عبد اللہ مصیصی کے بارے میں سبکی کہتے ہیں :
مَا عَلِمْتُ مِنْ حَالِہٖ شَیْئًا ۔ ’’مجھے اس کے حالات کا کچھ علم نہیں۔‘‘
(شفاء السقام، ص : 35-34)
3 اس میں ابراہیم نخعی کی ’’تدلیس‘‘ بھی ہے۔
اس روایت کے بارے میں حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فِي ثُبُوتِہٖ نَظَرٌ ۔ ’’اس کا ثبوت محل نظر ہے۔‘‘(القول البدیع، ص : 135)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے باطل اور جھوٹی قرار دیا ہے۔(میزان الاعتدال : 300/1)
ابن عراق کنانی نے بھی اسے باطل کہا ہے۔(تنزیہ الشریعۃ : 175/2)
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ھٰذَا الْحَدِیثُ مَوْضُوعٌ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلَا شِکٍّ وَّلَا رَیْبٍ عِنْدَ أَھْلِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ ۔ ’’حدیث کی معرفت رکھنے والے اہل علم کے نزدیک اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ حدیث خود گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگائی گئی ہے۔‘‘(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص : 169)
روایت نمبر 0 : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ، وَلَمْ یَزُرْنِي، فَقَدْ جَفَانِي‘
’’جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی،اس نے مجھ سے بے وفائی کی۔‘‘
(الکامل لابن عدي : 2480/7، وفي نسخۃ : 14/7، المجروحین لابن حبان : 73/3، غرائب مالک للدارقطني کما في شفاء السقام، ص : 28، تاریخ جرجان للسھمي، ص : 217)
تبصرہ : یہ جھوٹی روایت ہے ، کیونکہ :
1 اس میں محمدبن محمدبن نعمان راوی ’’ضعیف‘‘ ہے۔جیسا کہ حافظ ابن الجوزی کہتے ہیں : قَالَ الدَّارْقُطْنِيُّ : الطَّعْنُ فِي ھٰذَا الْحَدِیثِ مِنْ مُّحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ۔ ’’امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں خرابی محمدبن محمدبن نعمان کی وجہ سے ہے۔‘‘(الموضوعات : 217/2)
محمدبن محمدبن نعمان راوی ’’متروک‘‘ ہے۔(تقریب التھذیب لابن حجر : 6275)
2 نعمان بن شبل باہلی بصری راوی بھی ’’متروک‘‘ ہے۔اس کے بارے میں امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یَأْتِي مِنَ الثِّقَاتِ بِالطَّامَّاتِ، وَعَنِ الْـأَثْبَاتِ بِالْمَقْلُوبَاتِ ۔ ’’یہ ثقہ راویوں کے ذمے جھوٹی اور حفظ و ضبط والے راویوں کے ذمے مقلوب روایات لگاتاہے۔‘‘(کتاب المجروحین : 73/3)
فائدہ : 1 اس راوی کے بارے میں موسیٰ بن ہارون حمال کہتے ہیں :
کَانَ مُتَّھَمًا ۔ ’’اس (نعمان بن شبل)پر حدیث گھڑنے کا الزام تھا۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 14/7)
لیکن اس قول کی سند کے راوی ابراہیم بن محمد بن عیسیٰ کی توثیق نہیں مل سکی۔
2 عمران بن موسیٰ دجاجی کہتے ہیں : وَکَانَ ثِقَۃً ۔
’’یہ (نعمان بن شبل)ثقہ راوی تھا۔‘‘(الکامل لابن عدي : 14/7)
لیکن یہ قول بھی جھوٹا ہے۔ اس کی سند میں صالح بن احمد بن ابومقاتل قیراطی راوی ہے، جس کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔(سؤالات الحاکم للدارقطني : 113)
خود امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں :
تَجَسَّرَ عَلٰی رَفْعِ أَحَادِیثَ مَوْقُوفَۃٍ، وَعَلٰی وَصْلِ أَحَادِیثَ مُرْسَلَۃٍ، وَعَلٰی أَحَادِیثَ یَسْرِقُھَا مِنْ قَوْمٍ، حَتّٰی لَا یَفُوتُہٗ شَيْئٌ ۔
’’اس نے موقوف احادیث کو مرفوع اور مرسل احادیث کو موصول بنانے کی جسارت کی،نیز اس نے بہت سی احادیث لوگوں سے چوری کیں،حتی کہ اس سے کوئی چیز رَہ نہ گئی۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال : 74/4)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ھٰذَا مَوْضُوعٌ ۔
’’یہ من گھڑت روایت ہے۔‘‘(میزان الاعتدال : 265/4)
حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔(البدر المنیر : 299/6)
حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے اسے[لَا یَصِحُّ] (غیر صحیح)کہا ہے۔(المقاصد الحسنۃ : 1178)
یہ حافظ سخاوی اور حافظ ابن ملقن کا تساہل ہے کہ اس روایت کو صرف ’’ضعیف‘‘ اور غیرصحیح کہا ہے، ورنہ اس طرح کے راویوں کی روایت ’’موضوع‘‘(من گھڑت)درجے سے کم نہیں ہوتی۔
علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے صنعانی،زرکشی اور ابن الجوزی نے ’’موضوع‘‘ (من گھڑت) قرار دیا ہے۔(الفوائد المجموعۃ في الأحادیث الموضوعۃ : 34)
اسی طرح ابن طاہر ہندی(تذکرۃ الموضوعات : 76) اور ابن عراق کنانی (تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنیعۃ الموضوعۃ : 172/2)نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔
روایت نمبر ! : أَخْرَجَ أَبُو الْحَسَنِ یَحْیَی بْنُ الْحَسَنِ ابْنِ جَعْفَرٍ فِي [أَخْبَارِ الْمَدِینَۃِ] مِنْ حَدِیثِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي، فَکَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَیَاتِي، وَمَنْ لَّمْ یَزُرْنِي، فَقَدْ جَفَانِي‘ ۔
’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی اور جس نے میری زیارت نہ کی، اس نے مجھ سے بے وفائی کی۔‘‘(شفاء السقام للسبکي، ص : 39)
تبصرہ : یہ جھوٹی سند ہے، کیونکہ :
1 اس میں وہی نعمان بن شبل ’’متروک‘‘ راوی موجود ہے جس کا تذکرہ ابھی ابھی ہوا ہے۔
2 محمد بن فضل بن عطیہ عبسی،کوفی راوی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : کَذَّبُوہُ ۔ ’’محدثین کرام نے اسے جھوٹا کہا ہے۔‘‘
(تقریب التھذیب : 6225)
3 جابر بن یزید جعفی مشہور رافضی ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضَعِیفٌ رَافِضِيٌّ ۔ ’’یہ ضعیف رافضی راوی ہے۔‘‘(تقریب التھذیب : 878)
حافظ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وَالْجُعْفِيُّ مُتَّفَقٌ عَلٰی ضَعْفِہٖ، وَتَرْکِ حَدِیثِہٖ ۔ ’’جابر جعفی کے ضعیف اور متروک الحدیث ہونے پر (جمہور) محدثین کرام کا اتفاق ہے۔‘‘(خلاصۃ الأحکام : 684/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضَعَّفَہُ الْجُمْھُورُ ۔
’’اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(طبقات المدلّسین : 53)
معلوم ہوا کہ یہ روایت جھوٹ کا پلندا اور رافضیوں کی کارروائی ہے۔
4 محمد بن علی ابوجعفر محمدباقر کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ’’منقطع‘‘ ہوتی ہے۔
روایت نمبر @ : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَ قَبْرِي حَلَّتْ لَہٗ شَفَاعَتِي‘ ۔
’’جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا، اس کے لیے میری سفارش واجب ہو جائے گی۔‘‘(مسند البزّار (کشف الأستار) : 57/2، ح : 1198)
تبصرہ : یہ سفید جھوٹ ہے ، کیونکہ :
1 اس کے راوی عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مَتْرُوکٌ، وَنَسَبَہُ ابْنُ حِبَّانَ إِلَی الْوَضْعِ ۔
’’یہ متروک راوی ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے۔‘‘(تقریب التھذیب : 3199)
2 اس کا استاذ عبدالرحمن بن زید بن اسلم بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عَبْدُ الرَّحْمٰنِ مُتَّفَقٌ عَلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔
’’عبد الرحمن بن زید بن اسلم کے ضعیف ہونے پر(جمہور)اہل علم کا اتفاق ہے۔‘‘
(اتّحاف المھرۃ : 97/12، ح : 15163)
روایت نمبر # : أَخْرَجَ أَبُو الْفُتُوحِ سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعیِلَ الْیَعْقُوبِيُّ فِي [جُزْئِ ہٖ] مِنْ طَرِیقِ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ الْعُمْرِيُّ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدًا الْمَقْبُرِيَّ یَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَوْتِي، فَکَأَنَّمَا زَارَنِي وَأَنَا حَيٌّ‘ ۔ ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی میں مجھے دیکھا۔‘‘(شفاء السقام للسبکي، ص : 35-34)
تبصرہ : یہ بھی جھوٹی اور باطل سند ہے، کیونکہ :
اس کے راوی خالد بن یزید ابوولید عمری کے بارے میں امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ یہ ’’کذاب‘‘ ہے۔(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 360/3، وسندہٗ صحیحٌ)
امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کَانَ کَذَّابًا، أَتَیْتُہٗ بِمَکَّۃَ، وَلَمْ أَکْتُبْ عَنْہُ، وَکَانَ ذَاھِبَ الْحَدِیثِ ۔ ’’یہ سخت جھوٹا راوی تھا۔میں اسے مکہ میں ملا،لیکن اس سے کوئی حدیث نہیں لکھی۔یہ حدیث میں ناقابل اعتبار تھا۔‘‘
(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 307/3)
امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَخَالِدٌ ھٰذَا یُحَدِّثُ بِالْخَطَأِ، وَیَحْکِي عَنِ الثِّقَاتِ مَا لَا أَصْلَ لَہٗ ۔ ’’یہ خالد راوی غلط روایات بیان کرتا ہے اور ثقہ راویوں سے بے اصل روایات نقل کرتا ہے۔‘‘(الضعفاء الکبیر : 18/3)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔(السنن : 226/1)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مُنْکَرُ الْحَدِیثِ جِدًّا، أَکْثَرُ مَنْ کَتَبَ عَنْہُ أَصْحَابُ الرَّأْيِ، لَا یُشْتَغَلُ بِذِکْرِہٖ، لِأَنَّہٗ یَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ عَنِ الْـأَثْبَاتِ ۔
’’یہ سخت منکر احادیث بیان کرتا ہے۔اکثر اصحابِ رائے ہی اس سے روایات لکھتے ہیں۔اس کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ یہ ثقہ راویوں کے ذمے من گھڑت لگاتا ہے۔‘‘(کتاب المجروحین : 285-284/1)
اس کے متعلق ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔
روایت نمبر $ : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ زَارَنِي مَیِّتًا، فَکَأَنَّمَا زَارَنِي حَیًّا، وَمَنْ زَارَ قَبْرِي، وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَا مِنْ أَحَدٍ مِّنْ أُمَّتِي لَہٗ سَعَۃٌ، ثُمَّ لَمْ یَزُرْنِي، فَلَیْسَ لَہٗ عُذْرٌ ‘ ۔ ’’جس نے میرے فوت ہونے کے بعد میری زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی۔جس نے میری قبر کی زیارت کی،اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی اور میرے جس امتی کے پاس فرصت ہوئی ،لیکن اس نے پھر بھی میری زیارت نہ کی، اس کا کوئی عذر قبول نہیں ہو گا۔‘‘
(الدرّۃ الثمینۃ في فضائل المدینۃ لابن النجّار، ص : 144)
تبصرہ : یہ جھوٹی روایت اور گھڑنتل ہے، کیونکہ :
1 سمعان بن مہدی کے بارے میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَیَوَانٌ لَّا یُعْرَفُ، أُلْصِقَتْ بِہٖ نُسْخَۃٌ مَّکْذُوبَۃٌ، رَأَیْتُھَا، قَبَّحَ اللّٰہُ مَنْ وَّضَعَھَا ۔ ’’یہ نامعلوم جاندار ہے۔اس کی طرف ایک جھوٹی کتاب منسوب ہے۔میں نے وہ دیکھی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو گھڑنے والے پر لعنت کرے۔‘‘
(میزان الاعتدال : 234/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فَذَکَرَ النُّسْخَۃَ، وَھِيَ أَکْثَرُ مِنْ ثَلَاتِ مِأَۃِ حَدِیثٍ، أَکْثَرُ مُتُونِھَا مَوْضُوعَۃٌ ۔ ’’اس نے ایک نسخہ ذکر کیا ہے، جس میں تین سو سے زائد احادیث ہیں۔ان میں سے اکثر متون من گھڑت ہیں۔‘‘
(لسان المیزان : 114/3)
2 ابوالعباس جعفر بن ہارون واسطی کے بارے میں حافظ ذہبی فرماتے ہیں :
أَتٰی بِخَبَرٍ مَّوْضُوعٍ ۔ ’’اس نے من گھڑت روایت بیان کی ہے۔‘‘
(میزان الاعتدال : 420/1)
3 محمد بن مقاتل رازی کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تُکُلِّمَ فِیہِ، وَلَمْ یُتْرَکْ ۔ ’’یہ مجروح راوی ہے،لیکن متروک نہیں۔‘‘
(میزان الاعتدال : 47/4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔(تقریب التھذیب : 6319)
روایت نمبر % : ایک روایت میں ہے :
’مَنْ زَارَنِي وَزَارَ أَبِي إِبْرَاھِیمَ فِي عَامٍ وَّاحِدٍ، ضَمَّنْتُ لَہُ الْجَنَّۃَ‘ ۔
’’جس نے میری اور میرے والد ابراہیم علیہ السلام کی ایک ہی سال میں زیارت کی، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘(المجموع شرح المھذّب للنووي : 261/8، وفي نسخۃ : 209/8)
تبصرہ : حافظ نووی رحمہ اللہ اسے ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
وَھٰذَا بَاطِلٌ، لَیْسَ ھُوَ مَرْوِیًّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَا یُعْرَفُ فِي کِتَابٍ صَحِیحٍ وَّلَا ضَعِیفٍ، بَلْ وَضَعَہٗ بَعْضُ الْفَجَرَۃِ ۔
’’یہ باطل روایت ہے۔یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں،نہ ہی کسی صحیح یا ضعیف کتاب میں اس کا ذکر ہے۔اسے تو بعض جھوٹے لوگوں نے خود گھڑ لیا ہے۔‘‘(أیضًا)
روایت نمبر ^ : ایک روایت یوں ہے :
’رَحِمَ اللّٰہُ مَنْ زَارَنِي، وَزِمَامُ نَاقَتِہٖ بِیَدِہٖ‘ ۔ ’’جس شخص نے اپنی اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے میری زیارت کی،اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم فرمائے۔‘‘
(المقاصد الحسنۃ للسخاوي : 363/1، ح : 515)
تبصرہ : حافظ سخاوی رحمہ اللہ یہ روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
قَالَ شَیْخُنَا (ابْنُ حَجَرٍ) : إِنّہٗ لَا أَصْلَ لَہٗ بِھٰذَا اللَّفْظِ ۔
’’ہمارے شیخ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ )نے فرمایا ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت بے اصل و بے سروپاہے۔‘‘
روایت نمبر & : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’مَنْ حَجَّ إِلٰی مَکَّۃَ، ثُمَّ قَصَدَنِي فِي مَسْجِدِي، کُتِبَتْ لَہٗ حَجَّتَانِ مَبْرُورَتَانِ‘ ۔ ’’جو شخص مکہ مکرمہ میں حج کرنے کے بعد میری مسجد میں میری زیارت کو آئے، اس کے لیے دو مقبول حجوںکا ثواب لکھ دیا جائے گا۔‘‘
(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي لابن عبد الھادي، ص : 79)
تبصرہ : یہ موضوع(من گھڑت) روایت ہے ، کیونکہ :
1 اس کا راوی اُسَیدبن زید بن نجیح جمال کوفی ’’متروک‘‘ اور ’’کذاب‘‘ ہے۔
اسے امام یحییٰ بن معین(تاریخ یحیی بن معین بروایۃالعبّاس الدوري : 39/2)نے ’’کذاب‘‘، امام نسائی(کتاب الضعفاء والمتروکین : 285)نے ’’متروک‘‘ اور امام دارقطنی (تاریخ بغداد للخطیب : 48/7، وسندہٗ حسنٌ)نے ’’ضعیف الحدیث‘‘ کہا ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ـ: یَتَبَیَّنُ عَلٰی رِوَایَاتِہٖ ضُعْفٌ، وَعَامَّۃُ مَا یَرْوِیہِ لَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ ۔ ’’اس کی روایات میں کمزوری واضح ہے۔ اس کی بیان کردہ اکثر روایات منکر ہیں۔‘‘(الکامل في ضعفاء الرجال : 401/1)
امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَکَانُوا یَتَکَلَّمُونَ فِیہِ ۔
’’محدثین کرام اس پرجرح کرتے تھے۔‘‘(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 318/2)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یَرْوِي عَنِ الثِّقَاتِ الْمَنَاکِیرَ، وَیَسْرِقُ الْحَدِیثَ، وَیُحَدِّثُ بِہٖ ۔ ’’یہ ثقہ راویوں سے منکر روایات بیان کرتا تھااور حدیث کو چوری کر کے اسے بیان کرتاتھا۔‘‘(کتاب المجروحین : 180/1)
ابونصربن ماکولا کہتے ہیں : ضَعَّفُوہُ ۔
’’محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔‘‘(الإکمال : 56/1)
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَکَانَ غَیْرَ مَرْضِيٍّ فِي الرِّوَایَۃِ ۔
’’یہ روایت ِحدیث میں محدثین کا ناپسندیدہ تھا۔‘‘ (تاریخ بغداد : 47/7)
اس کے علاوہ بھی اس پر بہت سی جروح ثابت ہیں۔ اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔صحیح بخاری میں اس کی روایت مقرون بغیرہ ہے۔
2 عیسیٰ بن بشیر راوی کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لَا یُدْرٰی مَنْ ذَا، وَأَتٰی بِخَبَرٍ بَاطِلٍ ۔ ’’معلوم نہیں کہ یہ کون ہے۔اس نے ایک جھوٹی روایت بیان کی ہے۔‘‘(میزان الاعتدال في نقد الرجال : 310/3)
روایت نمبر * : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت ہے کہ :
’مَنْ سَأَلَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الدَّرَجَۃَ الْوَسِیلَۃَ، حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ زَارَ قَبْرَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ فِي جِوَارِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ۔
’’جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسیلے کے درجے کا سوال کیا،اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت واجب ہو جائے گی اور جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کی زیارت کی،وہ (جنت میں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہے گا۔‘‘
(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي لابن عبد الھادي، ص : 182، وفي نسخۃ : 152-151)
تبصرہ : یہ موضوع و مکذوب روایت ہے۔ اس کو گھڑنے والا راوی عبدالملک بن ہارون بن عنترہ ہے۔یہ باتفاقِ محدثین ’’کذاب‘‘ اور ’’متروک‘‘ ہے۔یہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا ماہر تھا۔
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَھٰذَا مِنَ الْمَکْذُوبَاتِ أَیْضًا عَلٰی عَليٍّ رَضِيَ اللّٰہُ عَنہُ ۔ ’’یہ روایت بھی خود گھڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھوپی گئی ہے۔‘‘(الصارم المنکي : 182)
زیارت ِقبر نبوی کی روایات اور اہل علم کی تحقیق
یہ ساری کی ساری ’’ضعیف‘‘ احادیث ہیں جو ناقابل حجت ہیں۔ دین صحیح احادیث کا نام ہے۔ان احادیث کے بارے میں اہل علم کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں :
1 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں :
اَلْـأَحَادِیثُ الَّتِي رُوِیَتْ فِي زِیَارَۃِ قَبْرہٖ ضَعِیفَۃٌ، بَلْ مَوْضُوعَۃٌ ۔
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کی زیارت کے حوالے سے بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف بلکہ من گھڑت ہیں۔‘‘(الردّ علی البکري : 253)
2 ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (744-705ھ)کہتے ہیں :
وَجَمِیعُ الْـأَحَادِیثِ الَّتِي ذَکَرَھَا الْمُعْتَرِضُ (أَيِ السُّبْکِيُّ) فِي ھٰذَا الْبَابِ، وَزَعَمَ : إِنَّھَا بِضْعَۃَ عَشَرَ حَدِیثًا، لَیْسَ فِیھَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ، بَلْ کُلُّھَا ضَعِیفَۃٌ وَّاھِیَۃٌ، وَقَدْ بَلَغَ الضُّعْفُ بِبَعْضِھَا إِلَی أَنْ حَکَمَ عَلَیْہِ الْـأَئِمَّۃُ الْحُفَّاظُ بِالْوَضْعِ، کَمَا أَشَارِ إِلَیْہِ شَیْخُ الْإِسْلَامِ (ابْنُ تَیْمِیَّۃَ) ۔
’’معترض(سبکی)نے اس بارے میں جتنی بھی روایات ذکر کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ دس سے زائد حدیثیں ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث صحیح نہیں،بلکہ یہ ساری کی ساری ضعیف اور کمزور ہیں،بلکہ بعض کا ضعف تو اتنا شدید ہے کہ ان پر ائمہ دین و حفاظ نے من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے۔اسی طرف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے۔‘‘(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي : 21)
3 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852-773ھ) فرماتے ہیں :
طُرُقُ ھٰذَا الْحَدِیثِ کُلُّھَا ضَعِیفَۃٌ ۔ ’’اس حدیث کی ساری سندیں ضعیف ہیں۔‘‘(التلخیص الحبیر : 267/2)
فائدہ : حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748-673ھ)لکھتے ہیں : وَفِي الْبَابِ الْـأَخْبَارُ اللَّیِّنَۃُ، مِمَّا یُقَوِّي بَعْضُہٗ بَعْضًا، لِأَنَّ مَا فِي رُوَاتِھَا مُتَّھَمٌ بِالْکِذْبِ ۔
’’اس بارے میں روایات کمزور ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں،کیونکہ ان کے راویوں میں سے کسی پر جھوٹ بولنے کا الزام نہیں ہے۔‘‘(تاریخ الإسلام : 213/11)
اسی طرح حافظ سخاوی رحمہ اللہ (902-831ھ) فرماتے ہیں :
وَکَذَا قَالَ الذَّھْبِيُّ : طُرُقُہٗ کُلُّھَا لَیِّنَۃٌ، لٰکِنْ یَّتَقَوّٰی بَعْضُھَا بِبَعْضٍ، لِأَنَّ مَا فِي رِوَایَتِھَا مُتَّھَمٌ بِالْکَذِبِ ۔ ’’اسی طرح ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سندیں تو ساری کی ساری ضعیف ہیں،لیکن وہ ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرتی ہیں،کیونکہ ان کی سند میں کوئی متہم بالکذب راوی موجود نہیں۔‘‘(المقاصد الحسنۃ : 647/1)
یعنی حافظ ذہبی و سخاوی کے نزدیک بھی اس حدیث کی ساری سندیں ’’ضعیف‘‘ ہیں اور اس کی کوئی ایک بھی سند حسن یا صحیح نہیں۔البتہ وہ ان ساری ’’ضعیف‘‘ سندوں کے مل کر قابل حجت ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ بات ان کے تساہل پر مبنی ہے اور کئی اعتبار سے محل نظر ہے :
1 اس حدیث کی کئی سندوں میں ’’کذاب‘‘ اور ’’متہم بالکذب‘‘راوی موجود ہیں، جیسا کہ قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ خود حافظ ذہبی نے بھی اسی حدیث کی بعض سندوں کے راویوں کو ’’کذاب‘‘ اور ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
2 کئی ’’ضعیف‘‘ سندوں کے باہم مل کر قابل حجت بننے کا نظریہ متقدمین ائمہ دین کے ہاں رائج نہیں تھا۔یہ بعد کے ادوار میں متاخرین نے بنایا اور اپنایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس تساہل پسندانہ قاعدے کے نفاذ میں متاخرین بھی اختلاف کا شکار ہیں۔اسی حدیث کا معاملہ دیکھ لیں کہ ’’ضعیف+ضعیف=قابل حجت‘‘کے قاعدے کو تسلیم کرنے والے اہل علم ہی اس کے حکم میں مختلف ہیں، بعض اسے ’’ضعیف‘‘ بلکہ من گھڑت قرار دیتے ہیں تو بعض اسے قابل حجت بتا رہے ہیں۔
الحاصل : قبر نبوی کی زیارت کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں بیان کی جانے والی تمام روایات ’’ضعیف‘‘ اور ناقابل حجت ہیں۔ان میں سے کوئی بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچ پائی۔دین صحیح سند کے ساتھ ہم تک پہنچے والی احادیث کا نام ہے۔ حدیث کے ’’ضعیف‘‘ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو،وہ کسی مسلمان کا دین ہرگز نہیں بن سکتی۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کچھ روایات کی تحقیق
ابو عبد اللہ صارم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے کچھ روایات عام طور پر سنی سنائی جاتی ہیں،ان کی تحقیق پیشِ خدمت ہے:
روایت نمبر 1 :
سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللّٰہَ وَکَّلَ بِقَبْرِي مَلَکًا أَعْطَاہُ أَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ، فَلَا یُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا بَلَّغَنِي بِاسْمِہٖ وَاسْمِ أَبِیہِ ؛ ھٰذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَدْ صَلّٰی عَلَیْکَ .
’’اللہ تعالیٰ میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر فرمائے گا جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا کی گئی ہو گی۔روز قیامت تک جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ درود پڑھنے والے اور اس کے والد کانام مجھ تک پہنچائے گا اور عرض کرے گا:اللہ کے رسول! فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔‘‘
(مسند البزّار : 254/4، ح : 1425، التاریخ الکبیر للبخاري : 416/6، مسند الحارث : 962/2، ح : 1063، الترغیب لابي القاسم التیمي : 319/2، ح : 1671)
ابوالشیخ ابن حیان اصبہانی(العظمۃ : 263/2)اور امام طبرانی(المعجم الکبیر، جلاء الافھام لابن القیّم، ص : 84، مجمع الزوائد للہیثمي : 162/10، الضعفاء الکبیر للعقیلي : 249/3)کے بیان کردہ الفاظ یہ ہیں :
إِنَّ لِلّٰہِ مَلَکًا أَعْطَاہُ أَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ کُلِّہَا، وَہُوَ قَائِمٌ عَلٰی قَبْرِي إِذَا مِتُّ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَلَیْسَ اَحَدٌ مِّنْ اُمَّتِي یُصَلِّي عَليَّ صَلَاۃً، إِلَّا سَمَّاہُ بِاسْمِہٖ وَاسْمِ أَبِیہِ، قَالَ : یَا مُحَمَّدُ ! صَلّٰی عَلَیْکَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ کَذَا وَکَذَا، فَیُصَلِّي الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ الرَّجُلِ بِکُلِّ وَاحِدَۃٍ عَشْرًا ۔
اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ایسا ہے جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عنایت کی گئی ہے۔وہ میری موت کے بعد قیامت تک میری قبر پر کھڑا رہے گا۔ میرا جو بھی امتی مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود کو پڑھنے والے اور اس کے والد کے نام سمیت مجھ تک پہنچاتے ہوئے عرض کرے گا:اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )!فلاں بن فلاں نے آپ پر اتنا اتنا درود بھیجا ہے۔اللہ رب العزت اس شخص پر ایک درود پڑھنے کے عوض دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘
تبصرہ : یہ روایت سخت ضعیف ہے ،کیونکہ :
1 اس کا راوی عمران بن حمیری جعفی ’’مجہول الحال‘‘ ہے۔سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 223/5)کے کسی نے اس کی توثیق نہیںکی۔
اس کے بارے میںامام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَا یُتَابَعُ عَلَیْہِ ۔
’’یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔‘‘(التاریخ الکبیر 416/6:)
امام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میںکوئی جرح و تعدیل ذکر نہیں کی۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میںفرماتے ہیں: لَا یُعْرَفُ ۔
’’یہ مجہول راوی ہے۔‘‘(میزان الاعتدال : 236/3)
حافظ منذری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔(القول البدیع للسخاوي، ص : 119)
حافظ ہیثمی،حافظ ذہبی پر اعتماد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَقَالَ صَاحِبُ الْمِیزَانِ : لَا یُعْرَفُ ۔
’’صاحب ِمیزان الاعتدال(علامہ ذہبی رحمہ اللہ )کا کہنا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے۔‘‘
(مجمع الزوائد : 162/10)
علامہ عبد الروف مناوی ،علامہ ہیثمی کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
لَمْ اَعْرِفْہُ ۔ ’’میں اسے پہچان نہیں پایا۔‘‘(فیض القدیر : 612/2)
2 اس کا راوی نعیم بن ضمضم ضعیف ہے۔اس کے بارے میں:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔
(المغني في الضعفاء : 701/2)
علامہ ہیثمی لکھتے ہیں: نَعِیمُ بْنُ ضَمْضَمَ ضَعِیفٌ ۔
نعیم بن ضمضم ضعیف راوی ہے۔(مجمع الزوائد : 162/10)
اس کے بارے میںادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔
روایت نمبر 2 :
قَالَ (شِیرْوَیْہِ بْنُ شَھْردَارَ) الدَّیْلَمِيُّ : أَنْبَأَنَا وَالِدِي (شَھْردَارُ بْنُ شِیرْوَیْہِ) : أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْکَرَابِیسِيُّ (مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَمْدَوَیْہِ) : أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ تُرْکَانَ (الْفَرْضِيُّ) : حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سَعِیدٍ (لَعَلَّہُ ابْنُ مُوسَی بْنِ سَعِیدٍ أَبُو عِمْرَانَ الْھَمْدَانِيُّ) : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ سُفْیَانَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ : حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ خِرَاشٍ عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِیفَۃَ، عَنْ أَبِي الطُّفَیْلِ، عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) : ’أَکْثِرُوا الصَّلَاۃَ عَلَيَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ وَکَّلَ بِي مَلَکًا عِنْدَ قَبْرِي، فَإِذَا صَلّٰی عَلَيَّ رَجُلٌ مِّنْ اُمَّتِي، قَالَ لِي ذٰلِکَ الْمَلَکُ : یَا مُحَمَّدُ ! إِنَّ فُلانَ ابْنَ فُلانٍ صَلّٰی عَلَیْکَ السَّاعَۃَ‘ ۔
’’سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود پڑھا کرنا۔اللہ تعالیٰ میری قبر کے پاس ایک فرشتے کو مامور کرے گا۔جب میری امت میں سے کوئی فرد مجھ پر درود بھیجے گا تو یہ فرشتہ میری جناب میںعرض کرے گا :اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )!فلاں بن فلاں نے ابھی آپ پر درود بھیجا ہے۔‘‘
(اللآلي المصنوعۃ في الأحادیث الموضوعۃ للسیوطي : 259/1، الصحیحۃ للألباني : 1530)
تبصرہ: اس کی سند ضعیف ہے ،کیونکہ :
1 اس کا راوی بکر بن خداش ’’مجہول الحال‘‘ ہے۔سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 148/8)کے کسی نے اس کی توثیق نہیںکی۔
2 محمد بن عبد اللہ بن صالح مروزی کے حالات ِزندگی نہیںمل سکے۔
3 ابوالفضل کرابیسی کے حالات اور توثیق بھی نہیںملی۔
حافظ سخاوی لکھتے ہیں : وَفِي سَنَدِہٖ ضَعْفٌ ۔
’’اس کی سند میںکمزوری ہے۔‘‘(القول البدیع في الصلاۃ علی الحبیب الشفیع، ص : 161)
یوں یہ دونوں روایات بلحاظ ِسند ضعیف ہیں۔
روایت نمبر 3 :
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِینَ، یُبَلِّغُونِّي عَنْ اُمَّتِي السَّلَامَ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’حَیَاتِي خَیْرٌ لَّکُمْ، تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَکُمْ، وَوَفَاتِي خَیْرٌ لَّکُمْ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُکُمْ، فَمَا رَأَیْتُ مِنْ خَیْرٍ حَمِدْتُّ اللّٰہَ عَلَیْہِ، وَمَا رَأَیْتُ مِنْ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللّٰہَ لَکُمْ‘ ۔
’’زمین میںاللہ تعالیٰ کے فرشتے گشت کر رہے ہیں جو میری امت کی طرف سے پیش کیا گیا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔میری زندگی بھی تمہارے لیے بہتر ہے کہ ہم آپس میںہم کلام ہوتے رہتے ہیںاور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہو گی کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے رہیں گے۔میں جو بھلائی دیکھوں گا،اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کروں گا اور جو بُرائی دیکھوں گا ،تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کروں گا۔‘‘
(مسند البزّار : 308/5، ح : 1925)
تبصرہ : اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ :
1 امام سفیان ثوری رحمہ اللہ بصیغہ عن روایت کر رہے ہیں۔مسلّم اصول ہے کہ ثقہ مدلس جب بخاری و مسلم کے علاوہ محتمل الفاظ سے حدیث بیان کرے تو جب تک سماع کی تصریح نہ ملے،وہ ضعیف ہی ہوتی ہے۔
2 اس میں عبد المجید بن ابی رواد بھی ’’مدلس‘‘ ہے۔ سماع کی تصریح موجود نہیں۔ نیز عبد المجید بن ابی رواد جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ضعیف‘‘اور مجروح بھی ہے۔اس پر امام حمیدی(الضعفاء الکبیر للبخاري :307)،امام ابوحاتم رازی(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 65/6)،امام ابن حبان(کتاب المجروحین : 160/2)، امام دارقطنی(سوالات البرقاني : 317)، امام محمدبن یحییٰ بن ابی عمر(الضعفاء الکبیر للعقیلي : 96/3، وسندہٗ صحیحٌ)، امام ابن سعد(الطبقات الکبرٰی : 500/5)، امام ابن عدی(الکامل في ضعفاء الرجال : 346/5)، امام ابوزرعہ(أسامي الضعفاء :637)وغیرہم نے سخت جروح کر رکھی ہیں۔
حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فَقَدْ ضَعَّفَہٗ کَثِیرُونَ ۔
’’یقینا اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘
(المغني عن حمل الأسفار في تخریج الإحیاء : 144/4)
لہٰذا حافظ بوصیری کا اسے کے بارے میں [وَثَّقَہُ الْجُمْہُورُ] کہنا ’’صحیح‘‘ نہیں۔
روایت نمبر 4 : داود بن ابی صالح حجازی کا بیان ہے :
أَقْبَلَ مَرْوَانُ یَوْمًا، فَوَجَدَ رَجُلًا وَّاضِعًا وَجْہَہٗ عَلَی الْقَبْرِ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَاَقْبَلَ عَلَیْہِ، فَإِذَا ہُوَ أَبُو اَیُّوبَ، فَقَالَ : نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : ’لَا تَبْکُوا عَلَی الدِّینِ إِذَا وَلِیَہٗ اَہْلُہٗ، وَلٰکِنِ ابْکُوا عَلَیْہِ إِذَا وَلِیَہٗ غَیْرُ أَہْلِہٖ‘ .
’’ایک دن مروان آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے تھا۔ مروان نے کہا:تمہیں معلوم ہے کہ کیا کر رہے ہو؟ اس شخص نے مروان کی طرف چہرہ موڑا تو وہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ تھے۔انہوں نے فرمایا:ہاں ،مجھے خوب معلوم ہے،میںآج حجر اسود کے پاس نہیں گیا،بلکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دین کا والی کوئی دین دار شخص بن جائے تو اس پر نہ رونا۔ اس پر اس وقت روناجب اس کے والی نااہل لوگ بن جائیں۔
(مسند الإمام أحمد : 422/5، المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 515/4)
تبصرہ : اس روایت کی سند ’’ضعیف‘‘ہے۔اس کے راوی داؤد بن صالح حجازی کے بارے میںحافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : لَا یُعْرَفُ ۔
’’یہ مجہول راوی ہے۔‘‘(میزان الاعتدال : 9/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے بارے میںفرماتے ہیں : مَقْبُولٌ ۔
’’یہ مجہول الحال شخص ہے۔‘‘(تقریب التہذیب : 1792)
لہٰذا امام حاکم رحمہ اللہ کا اس کی بیان کردہ اس روایت کی سند کو ’’صحیح‘‘کہنا اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا ان کی موافقت کرنا صحیح نہیں۔
دین کی باتیں ثقہ لوگوں سے قبول کی جائیں گی نہ کہ مجہول اور لاپتہ افراد سے ۔
فائدہ : یہ روایت قبر کے ذکر کے بغیر معجم کبیر طبرانی(189/4، ح : 3999)اور معجم اوسط طبرانی (94/1، ح : 284)میں بھی موجود ہے،لیکن اس کی سند درجِ ذیل وجوہ سے ضعیف ہے :
1 سفیان بن بشر کوفی راوی نامعلوم اور غیرمعروف ہے۔
حافظ ہیثمی اس کے بارے میںفرماتے ہیں : وَلَمْ أَعْرِفْہُ ۔
’’میںاسے نہیں پہچانتا۔‘‘(مجمع الزوائد : 130/9)
2 مطلب بن عبد اللہ بن حنطب راوی ’’مدلس‘‘ ہے اور وہ بصیغہ عن روایت کر رہا ہے۔اس کے سماع کی تصریح نہیںملی۔
3 مطلب بن عبد اللہ کا سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے سماع بھی ثابت نہیں۔
4 اس روایت میںامام طبرانی رحمہ اللہ کے دو استاذ ہیں۔ایک ہارون بن سلیمان ابوذر ہے اور وہ مجہول ہے،جبکہ دوسرا احمدبن محمدبن حجاج بن رشدین ہے اور وہ ’’ضعیف‘‘ ہے۔اس کے بارے میںامام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سَمِعْتُ مِنْہُ بِمِصْرَ، وَلَمْ اُحَدِّثْ عَنْہُ، لِمَا تَکَلَّمُوا فِیہِ .
’’میںنے اس سے مصر میںاحادیث سنی تھیں،لیکن میں وہ احادیث بیان نہیںکرتا کیونکہ محدثین کرام نے اس پر جرح کی ہے۔‘‘(الجرح والتعدیل : 75/2)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : صَاحِبُ حَدِیثٍ کَثِیرٍ، أُنْکِرَتْ عَلَیْہِ أَشْیَائُ، وَھُوَ مِمَّنْ یُّکْتَبُ حَدِیثُہٗ مَعَ ضُعْفِہٖ ۔
’’اس کے پاس بہت سی احادیث تھیں۔ ان میںسے کئی ایک روایات کو محدثین کرام نے منکر قرار دیا ہے۔اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث(متابعات و شواہد میں) لکھی جائے گی۔‘‘(الکامل في ضعفاء الرجال : 198/1)
حافظ ہیثمی نے بھی احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین کو ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
(مجمع الزوائد : 25/5، 694/6)
روایت نمبر 5 :
قَالَ ابْنُ عَسَاکِرٍ : أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْـأَکْفَانِيِّ : نَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَحْمَدَ : أَنَا تَمَّامُ بْنُ مُحَمَّدٍ : نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَیْضِ : نَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَائِ : حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ ابْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیہِ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ اُمِّ الدَّرْدَائِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ، قَالَ : إِنَّ بِلَالًا رَاٰی فِي مَنَامِہِ النَّبِيَّ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)، وَہُوَ یَقُولُ لَہٗ : ’مَا ہٰذِہِ الْجَفْوَۃُ یَا بِلَالُ ! أَمَا اٰنَ لَکَ أَنْ تَزُورَنِي یَا بِلَالُ؟‘ فَانْتَبَہَ حَزِینًا وَّجِلًا خَائِفًا، فَرَکِبَ رَاحِلَتَہٗ وَقَصَدَ الْمَدِینَۃَ، فَاَتٰی قَبْرَ النَّبِيِّ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)، فَجَعَلَ یَبْکِي عِنْدَہٗ، وَیُمَرِّغُ وَجْہَہٗ عَلَیْہِ، وَاَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ، فَجَعَلَ یَضُمُّہُمَا وَیُقَبِّلُہُمَا، فَقَالَا لَہٗ : یَا بِلَالُ ! نَشْتَہِي نَسْمَعُ أَذَانَکَ الَّذِي کُنْتَ تُؤَذِّنُہٗ لِرَسُولِ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) فِي السَّحَرِ، فَفَعَلَ، فَعَلَا سَطْحَ الْمَسْجِدِ، فَوَقَفَ مَوْقِفَہُ الَّذِي کَانَ یَقِفُ فِیہِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ : اللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ، ارْتَجَّتِ الْمَدِینَۃُ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، زَادَ تَعَاجِیجُہَا، فَلَمَّا أَنْ قَالَ : أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنْ خُدُورِہِنَّ، فَقَالُوا : أَبُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)، فَمَا رُئِيَ یَوْمٌ أَکْثَرَ بَاکِیًا وَّلَا بَاکِیَۃً بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) مِنْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ ۔
سیدنا ابوالدردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خواب میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:اے بلال!یہ کیا زیادتی ہے؟کیا تمہارے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کرو؟اس پر بلال رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے۔ انہوں نے اپنی سواری کا رخ مدینہ منورہ کی طرف کرلیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر پہنچے اور اس کے پاس رونا شروع کر دیا۔ اپنا چہرہ اس پر ملنے لگے۔سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما ادھر آئے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے معانقہ کیا اور ان کو بوسہ دیا۔ان دونوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا:ہم آپ کی وہ اذان سننا چاہتے ہیںجو آپ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کہا کرتے تھے۔ انہوںنے ہاںکر دی۔مسجد کی چھت پر چڑھے اور اپنی اس جگہ کھڑے ہو گئے جہاں دورِ نبوی میں کھڑے ہوتے تھے۔ جب انہوں نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ ،اللّٰہُ أَکْبَرُ کہا تو مدینہ (رونے کی آواز سے )گونج اٹھا۔پھر جب انہوںنے أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا تو آوازیں اور زیادہ ہو گئیں۔جب وہ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ پر پہنچے تو دوشیزائیں اپنے پردوںسے نکل آئیں اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے :کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نے مدینہ میں مَردوں اور عورتوں کے رونے والا اس سے بڑا دن کوئی نہیں دیکھا۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 137/7)
تبصرہ : یہ گھڑنتل ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَھِيَ قِصَّۃٌ بَیِّنَۃُ الْوَضْعِ ۔ ’’یہ داستان واضح طور پر کسی کی گھڑنت ہے۔‘‘
(لسان المیزان : 108/1)
علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ھٰذَا الْـأَثَرُ الْمَذْکُورُ عَنْ بِلَالٍ لَیْسَ بِصَحِیحٍ ۔ ’’سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب مذکورہ روایت ثابت نہیں۔‘‘
(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص : 314)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِسْنَادُہٗ لَیِّنٌ، وَھُوَ مُنْکَرٌ ۔
اس کی سند کمزور ہے اور یہ روایت منکر ہے۔(سیر أعلام النبلاء : 358/1)
ابن عراق کنانی کہتے ہیں : وَھِيَ قِصَّۃٌ بِیِّنَۃُ الْوَضْعِ ۔
’’یہ قصہ مبینہ طور پر گھڑا ہواہے۔‘‘(تنزیہ الشریعۃ : 59)
اس روایت کی سند میںکئی خرابیاںہیں۔تفصیل یہ ہے :
1 ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سلیمان بن بلال کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ مجہول ہے۔(تاریخ الإسلام : 67/17)
نیز فرماتے ہیں : فِیہِ جَھَالَۃٌ ۔ ’’یہ نامعلوم راوی ہے۔‘‘
(میزان الاعتدال : 64/1، ت : 205)
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ھٰذَا شَیْخٌ لَّمْ یُعْرَفْ بِثِقَۃٍ وَّأَمَانَۃٍ، وَلَا ضَبْطٍ وَّعَدَالَۃٍ، بَلْ ھُوَ مَجْھُولٌ غَیْرُ مَعْرُوفٍ بِالنَّقْلِ، وَلَا مَشْھُورٍ بِالرِّوَایَۃِ، وَلَمْ یَرْوِ عَنْہُ غَیْرُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَیْضِ، رَوٰی عَنْہُ ھٰذَا الْاَثَرَ الْمُنْکَرَ ۔
’’یہ ایسا راوی ہے جس کی امانت و دیانت اور ضبط و عدالت معلوم نہیں۔یہ مجہول ہے اور نقل روایت میں غیرمعروف ہے۔اس سے محمدبن فیض کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور اس نے بھی یہ منکر قصہ اس سے روایت کیا ہے۔‘‘(الصارم المنکي، ص : 314)
2 اس روایت کے دوسرے راوی سلیمان بن بلال بن ابو درداء کے بارے میں حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بَلْ ھُوَ مَجْھُولُ الْحَالِ، وَلَمْ یُوَثِّقْہُ أَحَدٌ مِّنَ الْعُلَمَائِ، فِیمَا عَلِمْنَاہُ ۔ ’’یہ مجہول الحال شخص ہے۔ہمارے علم کے مطابق اسے کسی ایک بھی عالم نے معتبرقرار نہیں دیا۔‘‘
(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص : 314)
3 سلیمان بن بلال کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی ثابت نہیں، یوںیہ روایت منقطع بھی ہے۔حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَلَا یُعْرَفُ لَہٗ سَمَاعٌ مِّنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ ۔ ’’اس کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی معلوم نہیں ہو سکا۔‘‘(أیضًا)
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے آخری فیصلہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں : وَھُوَ أَثَرٌ غَرِیبٌ مُّنْکَرٌ، وَإِسْنَادُہٗ مَجْھُولٌ، وَفِیہِ انْقِطَاعٌ ۔
’’یہ روایت غریب اور منکر ہے۔ اس کی سند مجہول ہے اور اس میں انقطاع بھی ہے۔‘‘
(أیضًا)
تنبیہ : حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إِسْنَادُہٗ جَیِّدٌ، مَا فِیہِ ضَعِیفٌ، لٰکِنْ إِبْرَاھِیمُ ھٰذَا مَجْھُولٌ ۔
’’اس کی سند عمدہ ہے۔ اس میں کوئی ضعیف راوی نہیں، البتہ یہ ابراہیم نامی راوی مجہول ہے۔‘‘(تاریخ الإسلام : 373/5، بتحقیق بشّار، وفي نسخۃ : 67/17)
یہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ کا علمی تسامح ہے۔ جس روایت کی سند میں دو راوی ’’مجہول‘‘ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ انقطاع بھی ہو، وہ عمدہ کیسے ہو سکتی ہے؟ پھر خود انہوں نے اپنی دوسری کتاب (سیر أعلام النبلاء : 358/1)میں اس کی سند کو کمزور اور اس روایت کو ’’منکر‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔
اس بارے میں حافظ ابن حجر وغیرہ کی بات درست ہے کہ یہ قصہ جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ یہ ان ’’مجہول‘‘ راویوں میں سے کسی کی کارروائی ہے۔ واللہ اعلم!
روایت نمبر 6 : محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں :
رَأَیْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَھُوَ یَبْکِي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَھُوَ یَقُولُ : ھٰھُنَا تُسْکَبُ الْعَبَرَاتُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : ’مَا بَیْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ‘ ۔
’’میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس روتے دیکھا۔وہ فرما رہے تھے : آنسو بہانے کی جگہ یہی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : میری قبر اور میرے منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔‘‘ (شعب الإیمان للبیہقي : 3866)
تبصرہ : اس کی سند سخت ترین ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ :
1 امام بیہقی رحمہ اللہ کا استاذ محمد بن حسین ابوعبد الرحمن سلمی ’’ضعیف‘‘ ہے۔
اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تَکَلَّمُوا فِیہِ، وَلَیْسَ بِعُمْدَۃٍ ۔ ’’محدثین کرام نے اس پر جرح کی ہے، یہ اچھا شخص نہیں تھا۔‘‘
(میزان الاعتدال في نقد الرجال : 523/3)
انہوں نے اسے ’’ضعیف‘‘بھی کہا ہے۔(تذکرۃ الحفّاظ : 166/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس پر جرح کی ہے۔(الإصابۃ في تمییز الصحابۃ : 252/2)
محمد بن یوسف قطان نیشاپوری فرماتے ہیں : غَیْرُ ثِقَۃٍ، وَکَانَ یَضَعُ لِلصُّوفِیَۃِ الْـأَحَادِیثَ ۔ ’’یہ قابل اعتبار شخص نہیں تھا۔۔۔یہ صوفیوں کے لیے روایات گھڑتا تھا۔‘‘(تاریخ بغداد للخطیب : 247/2، وسندہٗ صحیحٌ)
2 اس کے مرکزی راوی محمدبن یونس بن موسیٰ کُدَیمی کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اُتُّھِمَ بِوَضْعِ الْحَدِیثِ وَبِسَرِقَتِہٖ ۔
’’اس پر حدیث گھڑنے اور چوری کرنے کا الزام ہے۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرجال : 292/6)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَکَانَ یَضَعُ عَلَی الثِّقَاتِ الْحَدِیثَ وَضْعًا، وَلَعَلَّہٗ قَدْ وَضَعَ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفِ حَدِیثٍ ۔
’’یہ شخص ثقہ راویوں سے منسوب کر کے خود حدیث گھڑ لیتا تھا۔ شاید اس نے ایک ہزار سے زائد احادیث گھڑی ہیں۔‘‘(کتاب المجروحین : 313/2)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔ (سؤالات الحاکم : 173)
ایک مقام پر فرماتے ہیں : کَانَ الْکُدَیْمِيُّ یُتَّھَمُ بِوَضْعِ الْحَدِیثِ ۔
’’کُدَیمی پر حدیث گھڑنے کا الزام تھا۔‘‘ (سؤالات السھمي : 74)
امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کے سامنے اس کی ایک روایت پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا:
لَیْسَ ھٰذَا حَدِیثٌ مِّنْ أَھْلِ الصِّدْقِ ۔ ’’یہ سچے شخص کی بیان کردہ حدیث نہیں۔‘‘ (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 122/8)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : أَحَدُ الْمَتْرُوکِینَ ۔
’’یہ ایک متروک راوی ہے۔‘‘ (میزان الاعتدال في نقد الرجال : 74/4، ت : 8353)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔(تقریب التھذیب : 6419)
فائدہ : نافع تابعی رحمہ اللہ اپنے استاذ،صحابی ٔ جلیل کے بارے میں بیان کرتے ہیں :
إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَکْرَہُ مَسَّ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو چھونا مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘
(جزء محمد بن عاصم الثقفي، ص : 106، ح : 27، سیر أعلام النبلاء للذھبي : 378/12، وسندہٗ صحیحٌ)
ابو حامد محمد بن محمد طوسی المعروف بہ علامہ غزالی(505-450ھ) قبروں کو چھونے اور ان کو بوسہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں :
إِنَّہٗ عَادَۃُ النَّصَارٰی وَالْیَھُودِ ۔ ’’ایسا کرنا یہود و نصاریٰ کی عادت ہے۔‘‘
(إحیاء علوم الدین : 244/1)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676-631ھ)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کو چومنے اور اس پر ماتھا وغیرہ ٹیکنے کے بارے میں فرماتے ہیں : لاَ یَجُوزُ أَنْ یُّطَافَ بِقَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَیُکْرَہُ إِلْصَاقُ الْبَطْنِ وَالظَّہْرِ بِجِدَارِ الْقَبْرِ، قَالَہُ الْحَلِیميُّ وَغَیْرُہٗ، وَیُکْرَہُ مَسْحُہٗ بِالْیَدِ وَتَقْبِیلُہٗ، بَلِ الْـأَدَبُ أَنْ یَّبْعُدَ مِنْہُ کَمَا یَبْعُدُ مِنْہُ لَوْ حَضَرَ فِي حَیَاتِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ہٰذَا ہُوَ الصَّوَابُ، وَہُوَ الَّذِي قَالَہُ الْعُلَمَائُ وَأَطْبَقُوا عَلَیْہِ، وَیَنْبَغِي أَنْ لاَّ یَغْتَرَّ بِکَثِیرٍ مِّنَ الْعَوَامُّ فِي مُخَالَفَتِہِمْ ذٰلِکَ فَإِنَّ الِاقْتِدَائَ وَالْعَمَلَ إِنَّمَا یَکُونُ بِأَقْوَالِ الْعُلمائِ، وَلاَ یُلْتَفَتُ إِلٰی مُحْدَثَاتِ العَوَامِّ وَجَہَالَاتِہِمْ، وَلَقَدْ أَحْسَنَ السَّیِّدُ الْجَلِیلُ أَبُو عَلِيٍّ الْفُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِي قَوْلہٖ مَا مَعْنَاہُ : اتَّبِعْ طُرُقَ الْہُدٰی وَلاَ یَضُرُّکَ قِلَّۃُ السَّالِکِینَ، وَإِیَّاکَ وَطُرُقَ الضَّلاَلَۃِ، وَلاَ تَغْتَرَّ بِکَثْرَۃِ الْہَالِکِینَ، وَمَنْ خَطَرَ بِبَالِہٖ أَنَّ الْمَسْحَ بِالْیَدِ وَنَحْوِہٖ أَبْلَغُ فِي الْبَرَکَۃِ، فَہُوَ مِنْ جَہَالَتِہٖ وَغَفْلَتِہٖ، لِأَنَّ الْبَرَکَۃَ إِنَّمَا ہِيَ فِیمَا وَافَقَ الشَّرْعَ وَأَقْوَالَ الْعُلَمَائِ، وَکَیْفَ یَبْتَغِي الْفَضْلَ فِي مُخَالَفَۃِ الصَّوَابِ ۔
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کا طواف کرنا جائز نہیں۔اسی طرح قبر مبارک کی دیوار سے اپنا پیٹ اور اپنی پشت چمٹانا بھی مکروہ ہے۔علامہ حلیمی وغیرہ نے یہ بات فرمائی ہے۔ قبر کو (تبرک کی نیت سے)ہاتھ لگانااور اسے بوسہ دینا بھی مکروہ عمل ہے۔قبر مبارک کا اصل ادب تو یہ ہے کہ اس سے دور رہا جائے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِمبارکہ میں آپ کے پاس حاضر ہونے والے کے لیے ادب دور رہنا ہی تھا۔ یہی بات درست ہے اور علمائے کرام نے اسی بات کی صراحت کی ہے اور اس پر اتفاق بھی کیا ہے۔کوئی مسلمان عام لوگوں کے ان ہدایات کے برعکس عمل کرنے سے دھوکا نہ کھا جائے،کیونکہ اقتدا تو علمائے کرام کے (اتفاقی) اقوال کی ہوتی ہے ،نہ کہ عوام کی بدعات اور جہالتوں کی۔سید جلیل ابوعلی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا ہے : [راہِ ہدایت کی پیروی کرو، اس راہ پر چلنے والوں کی قلت نقصان دہ نہیں۔ گمراہیوں سے بچواور گمراہوں کی کثرت ِافراد سے دھوکا نہ کھاؤ](ہم اس قول کی سند پر مطلع نہیں ہو سکے)۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ قبرمبارک کو ہاتھ لگانے اور اس طرح کے دوسرے بدعی کاموں سے زیادہ برکت حاصل ہوتی ہے، وہ اپنی جہالت اور کم علمی کی بنا پر ایسا سوچتا ہے، کیونکہ برکت تو شریعت کی موافقت اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں ملتی ہے۔ خلاف ِشریعت کاموں میں برکت کا حصول کیسے ممکن ہے؟‘‘
(الإیضاح في مناسک الحجّ والعمرۃ، ص : 456)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ)فرماتے ہیں :
وَأَمَّا التَّمَسُّحُ بِالْقَبْرِ أَوِ الصَّلَاۃُ عِنْدَہٗ، أَوْ قَصْدُہٗ لِأَجْلِ الدُّعَائِ عِنْدَہٗ، مُعْتَقِدًا أَنَّ الدُّعَائَ ہُنَاکَ أَفْضَلُ مِنَ الدُّعَائِ فِي غَیْرِہٖ، أَوِ النَّذْرُ لَہٗ وَنَحْوُ ذٰلِکَ، فَلَیْسَ ہٰذَا مِنْ دِینِ الْمُسْلِمِینَ، بَلْ ہُوَ مِمَّا أُحْدِثَ مِنَ الْبِدَعِ الْقَبِیحَۃِ الَّتِي ہِيَ مِنْ شُعَبِ الشِّرْکِ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَأَحْکَمُ .
’’قبر کو (تبرک کی نیت سے)ہاتھ لگانا،اس کے پاس نماز پڑھنا،دُعا مانگنے کے لیے قبر کے پاس جانا،یہ اعتقاد رکھنا کہ وہاں دُعا عام جگہوں سے افضل ہے اور قبر پر نذر و نیاز کا اہتمام کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ کام تو ان قبیح بدعات میں سے ہیں جو شرک کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم واحکم!‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 321/24، )
نیز فرماتے ہیں : وَأَمَّا التَّمَسُّحُ بِالْقَبْرِ، أَيَّ قَبْرٍ کَانَ، وَتَقْبِیلُہٗ وَتَمْرِیغُ الْخَدِّ عَلَیْہِ، فَمَنْہِيٌّ عَنْہُ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِینَ، وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ مِنْ قُبُورِ الْـأَنْبِیَائِ، وَلَمْ یَفْعَلْ ہٰذَا أَحَدٌ مِّنْ سَلَفِ الْـأُمَّۃِ وَأَئِمَّتِہَا، بَلْ ہٰذَا مِنَ الشِّرْکِ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی : {وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَاسُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا ٭ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا} (نوح71: 24-23)، وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ ہٰؤُلَائِ أَسْمَائُ قَوْمٍ صَالِحِینَ، کَانُوا مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، وَأَنَّہُمْ عَکَفُوا عَلٰی قُبُورِہِمْ مُدَّۃً، ثُمَّ طَالَ عَلَیْہِمُ الْـأَمَدُ، فَصَوَّرُوا تَمَاثِیلَہُمْ، لَاسِیَّمَا إِذَا اقْتَرَنَ بِذٰلِکَ دُعَائُ الْمَیِّتِ وَالِاسْتِغَاثَۃُ بِہٖ ۔۔۔۔
’’قبر کسی کی بھی ہو، اس کو (تبرک کی نیت سے)چھونا، اس کو بوسہ دینا اور اس پر اپنے رخسار ملنا منع ہے اور اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔یہ کام انبیائے کرام کی قبور مبارکہ کے ساتھ بھی کیا جائے تو اس کا یہی حکم ہے۔اسلاف ِامت اور ائمہ دین میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا،بلکہ یہ کام شرک ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : {وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَاسُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا ٭ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا}(نوح71: 24-23)[وہ (قوم نوح کے مشرکین)کہنے لگے:ہم کسی بھی صورت وَد’، سُوَاع، یَغُوث، یَعُوق اور نَسْر کو نہیں چھوڑیں گے۔(یوں) انہوں نے بے شمار لوگوں کو گمراہ کر دیا]۔ یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ یہ سب قوم نوح میں کے نیک لوگوں کے نام تھے۔ایک عرصہ تک یہ لوگ ان کی قبروں پر ماتھے ٹیکتے رہے،پھر جب صدیاں بیت گئیں تو انہوں نے ان نیک ہستیوں کی مورتیاں گھڑ لیں۔قبروں کی یہ تعظیم اس وقت خصوصاً شرک بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ ساتھ میت کو پکارا جانے لگے اور اس سے مدد طلب کی جانے لگے۔۔۔‘‘ (مجموع الفتاوٰی : 92-91/27)
شیخ موصوف ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : اِتَّفَقَ السَّلَفُ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَسْتَلِمُ قَبْرًا مِّنْ قُبُورِ الْـأَنْبِیَائِ وَغَیْرِہِمْ، وَلَا یَتَمَسَّحُ بِہٖ، وَلَا یُسْتَحَبُّ الصَّلَاۃُ عِنْدَہٗ، وَلَا قَصْدُہٗ لِلدُّعَائِ عِنْدَہٗ أَوْ بِہٖ؛ لِأَنَّ ہٰذِہِ الْـأُمُورَ کَانَتْ مِنْ أَسْبَابِ الشِّرْکِ وَعِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ ۔ ’’سلف صالحین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبریں انبیائے کرام کی ہوں یا عام لوگوں کی، ان کو نہ بوسہ دینا جائز ہے ،نہ اس کو (تبرک کی نیت سے)چھونا۔قبروں کے پاس نماز کی ادائیگی اور دعا کی قبولیت کی غرض سے قبروں کے پاس جانا یا ان قبروں کے وسیلے سے دُعا کرنامستحسن نہیں۔یہ سارے کام شرک اور بت پرستی کا سبب بنتے ہیں۔‘‘(مجموع الفتاوٰی : 31/27)
علامہ ابن الحاج(م:737ھ)قبرنبوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
فَتَرٰی مَنْ لَّا عِلْمَ عِنْدَہٗ یَطُوفُ بِالْقَبْرِ الشَّرِیفِ، کَمَا یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ الْحَرَامِ، وَیَتَمَسَّحُ بِہٖ وَیُقَبِّلُہٗ، وَیُلْقُونَ عَلَیْہِ مَنَادِیلَہُمْ وَثِیَابَہُمْ، یَقْصِدُونَ بِہِ التَّبَرُّکَ، وَذٰلِکَ کُلُّہٗ مِنَ الْبِدَعِ، لِأَنَّ التَّبَرُّکَ إِنَّمَا یَکُونُ بِالِاتِّبَاعِ لَہٗ ـــ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ ــــ وَمَا کَانَ سَبَبُ عِبَادَۃِ الْجَاہِلِیَّۃِ لِلْـأَصْنَامِ إِلَّا مِنْ ہٰذَا الْبَابِ ۔ ’’آپ جاہلوں کو دیکھیں گے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کا کعبہ کی طرح طواف کرتے ہیں، اور تبرک کی نیت سے اس کو چھوتے ہیں ،بوسہ دیتے ہیں، اس پر اپنے رومال اور کپڑے ڈالتے ہیں۔یہ سارے کام بدعت ہیں،کیونکہ برکت تو صرف اور صرف آپ علیہ السلام کے اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔دور جاہلیت میں بتوں کی عبادت کا سبب یہی چیزیں بنی تھیں۔‘‘ (المدخل : 263/1)
احمدونشریسی(م : 914ھ)لکھتے ہیں: وَمِنْھَا تَقْبِیلُ قَبْرِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ أَوِ الْعَالِمِ، فِإِنَّ ھٰذَا کُلَّہٗ بِدْعَۃٌ ۔ ’’ان کاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی نیک شخص یا عالم کی قبر کو چوما جائے۔ یہ سب کام بدعت ہیں۔‘‘(المعیار المعرب : 490/2)
روایت نمبر 7 : حاتم بن وردان کا بیان ہے :
کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یُوَجِّہُ بِالْبَرِیدِ قَاصِدًا إِلَی الْمَدِینَۃِ، لِیُقْرِیَٔ عَنْہُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ’’امام عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ ایک قاصد کو ڈاک دے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ کرتے کہ وہ ان کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرے۔‘‘(شعب الإیمان للبیھقي : 3869)
تبصرہ : اس روایت کی سند ’’ضعیف‘‘ اور باطل ہے، کیونکہ :
1 اس کے راوی ابراہیم بن فراس کی توثیق نہیں ملی۔
2 اس کا استاذ احمد بن صالح رازی بھی ’’مجہول‘‘ ہے۔
روایت نمبر 8 : یزید بن ابوسعید مقبری بیان کرتے ہیں :
قَدِمْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ، إِذْ کَانَ خَلِیفَۃً، بِالشَّامِ، فَلَمَّا وَدَّعْتُہٗ قَالَ : إِنَّ لِي إِلَیْکَ حَاجَۃً، إِذَا أَتَیْتَ الْمَدِینَۃَ فَتَرٰی قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاقْرَئْہُ مِنِّي السَّلَامَ ۔
’’میں امام عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کے زمانے میں ان کے پاس شام میں گیا۔جب میں واپس ہونے لگا تو انہوں نے فرمایا: مجھے تم سے ایک کام ہے، وہ یہ کہ جب مدینہ منورہ میں جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرو تو میری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرنا۔‘‘
(شعب الإیمان للبیھقي : 3870، تاریخ دمشق لابن عساکر : 203/65)
تبصرہ : اس قول کی سند ’’ضعیف‘‘ہے۔ اس کا راوی رباح بن بشیر ’’مجہول‘‘ ہے۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اسے ’’مجہول‘‘ قرار دیا ہے۔
(الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم : 490/3)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 242/8)کے سوائے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
روایت نمبر 9 : ابو اسحاق قرشی کہتے ہیں :
کَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ بِالْمَدِینَۃِ، إِذْ رَاٰی مُنْکَرًا لَّا یُمْکِنُہٗ أَنْ یُّغَیِّرَہٗ، أَتَی الْقَبْرَ، فَقَالَ :
أَیَا قَبْرَ النَّبِيِّ وَصَاحِبَیْہِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَلَا یَا غَوْثَنَا، لَوْ تَعْلَمُونَا ۔
’’مدینہ میں ہمارے قریب ایک آدمی رہتا تھا۔جب وہ کسی ایسی برائی کو دیکھتا جس کو ختم کرنے کی اس میں طاقت نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوتا اور کہتا : اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دو ساتھیوں (سیدنا ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما )کی قبر! اگر آپ ہمیں جانتے ہیں تو ہماری مدد کیجیے!‘‘ (شعب الإیمان للبیھقي : 3879)
تبصرہ : اس روایت کی سند میں ابو اسحاق قرشی کون ہے؟ اس کا تعین درکار ہے، نیز اس کی توثیق بھی مطلوب ہے۔
روایت نمبر 0 : سلیمان بن سُحَیْم بیان کرتے ہیں :
رَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! ھٰؤُلَائِ الَّذِینَ یَأْتُونَکَ، فَیُسَلِّمُونَ عَلَیْکَ، أَتَفْقَہُ سَلَامَھُمْ ؟ قَالَ : ’نَعَمْ، وَأَرُدُّ عَلَیْھِمْ‘ ۔ ’’میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول! یہ لوگ جو آپ کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر سلام پڑھتے ہیں، کیا آپ ان کے سلام کو سمجھتے ہیں؟ فرمایا : ہاں، میں ان کو جواب بھی دیتا ہوں۔‘‘
(شعب الإیمان للبیھقي : 3868)
تبصرہ : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ ابن ابو رجال کا سلیمان بن سُحَیم سے سماع ثابت نہیں ہو سکا۔
روایت نمبر ! : نُبَیْہ بن وہب سے روایت ہے کہ کعب احبار رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضرہوئے۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ۔کعب کہنے لگے : جب بھی دن طلوع ہوتا ہے،ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں اور قبر پر اپنے پَر لگاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہیں۔‘‘
(الزھد للإمام عبد اللّٰہ بن المبارک : 1600، مسند الدارمي : 47/1، ح : 94، فضل الصلاۃ علی النبي لإسماعیل بن إسحاق القاضي : 102، حلیۃ الأولیاء لأبي نعیم الأصبھاني : 390/5)
تبصرہ : اس روایت میں نُبَیْہ بن وہب ،کعب احبار سے بیان کر رہے ہیں، جبکہ ان کا کعب احبار سے سماع و لقاء ثابت نہیں۔یوں یہ سند ’’منقطع‘‘ ہے۔
امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ (321-238ھ) ایک ’’منقطع‘‘ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
فَدَخَلَ ھٰذَا الْحَدِیثُ فِي الْـأَحَادِیثِ الْمُنْقَطِعَۃِ الَّتِي لَا یَحْتَجُّ أَھْلُ الْإِسْنَادِ بِمِثْلِھَا ۔
’’یہ حدیث منقطع روایات میں سے ہے ،جنہیں محدثین کرام قابل حجت نہیں سمجھتے۔‘‘
(شرح مشکل الآثار للطحاوي : 326/10، ح : 4140)
دین قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے ثابت شدہ تعلیمات کانام ہے۔سند امت ِمحمدیہqکا امتیازی وصف اور خاص شناخت ہے۔مسلمانوں کا پورا دین صحیح احادیث میں موجود ہے۔دین اسلام کو ’’ضعیف‘‘ اور من گھڑت روایات کی کوئی ضرورت نہیں۔ایسی روایات کو اپناناکسی مسلمان کو زیبا نہیں۔اہل حق کو صرف وہی احادیث کافی ہیں، جو محدثین کے اجماعی اصولوں کے مطابق صحیح ہیں۔
دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح احادیث ہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین!
nnnnnnn

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.