1,037

کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد

کنت نبیا وآدم بین الروح والجسد!

سیدنا میسرہ الفجر رضی اللہ عنہ  (عبداللہ بن ابی جدعاء تمیمی) فرماتے ہیں :
قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَتٰی کُنْتَ نَبِیًّا؟ قَالَ : کُنْتُ نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ .
”میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ( تقدیر میں) کب سے لکھا گیا تھا آپ نبی ہیں؟ فرمایا : آدمu ابھی روح و جسم کے مراحل میں تھے، میری نبوت لکھی جا چکی تھی۔”
(التاریخ الکبیر للبخاري : ٧/٣٧٤، مسند الإمام أحمد : ٥/٥٩، المعجم الکبیر للطبراني : ٢٠/٣٥٣، القدرللفریابي : ١٧، وسندہ، صحیحٌ)
اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  (٧٧٣۔٨٥٢ھ) فرماتے ہیں:
وَہٰذَا سَنَدٌ قَوِيٌّ .
”یہ سند قوی ہے۔”
(الإصابۃ في تمییز الصحابۃ : ٦/١٨٩)
امام حاکم  رحمہ اللہ  (٢/٦٠٨۔٦٠٩) نے ”صحیح الاسناد” اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ  نے ”صحیح ” کہا ہے۔
ایک صحابی بیان کرتے ہیں :
قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَتٰی جُعِلْتَ نَبِیًّا؟ قَالَ : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ .
”میں نے پوچھا کہ اللہ کے رسول! ( تقدیر میں) کب لکھا گیا کہ آپ نبی ہیں؟ فرمایا : آدمu ابھی روح و جسم کے مراحل میں تھے۔”
(مسند الإمام أحمد : ٤/٦٦، ٥/٣٧٩، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:
وَسَنَدہ، صَحِیحٌ .
”اس کی سند ”صحیح” ہے۔”
(الإصابۃ في تمییز الصحابۃ : ٦/١٨٩)
فائدہ:
امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ  (٢٣٨۔٣٢١ھ) فرماتے ہیں:
فَقَالَ قَائِلٌ : وَکَیْفَ تَقْبَلُونَ مِثْلَ ہٰذَا عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ أَفْصَحُ الْعَرَبِ، وَفِیہِ مَا یُنْکِرُہ، أَہْلُ اللُّغَۃِ جَمِیعًا، لِـأَنَّ ‘بَیْنَ’ عِنْدَہُمْ لَا تَکُونُ إِلَّا لِاثْنَیْنِ، وَلَا یَکُونُ لِوَاحِدٍ؟ فَکَانَ جَوَابُنَا لَہ، فِي ذٰلِکَ : أَنَّ الْـأَمْرَ کَمَا ذَکَرَ، وَلٰکِنَّ الْوَاحِدَ إِذَا وُصِفَ بِوَصْفَیْنِ، دَخَلَ بِذٰلِکَ فِي مَعْنَی الِاثْنَیْنِ، وَجَازَ أَنْ یُّسْتَعْمَلَ فِیہِ مَا فِي الِاثْنَیْنِ، وَمِنْ ذٰلِکَ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ : (وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰہَ یَحُولَ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ) (الأنفال : ٢٤)، وَالْمَرْءُ وَقَلْبُہ، وَاحِدٌ، وَلٰکِنْ لَّمَّا وُصِفَ بِغَیْرِ مَا وُصِفَ بِہٖ قَلْبُہ،، صَارَ فِي مَعْنَی الِاثْنَیْنِ، فَکَذٰلِکَ آدَمُ لَمَّا کَانَ فِي الْبَدْءِ جِسْمًا لَا رُوحَ فِیہِ، ثُمَّ أَعَادَہُ اللّٰہُ جَسَدًا ذَا رُوحٍ، کَانَ مَوْصُوفًا بِّوَجْہَیْنِ مُخْتَلِفَیْنِ، وَجَازَ بِذَالِکَ إِدْخَالُ ‘بَیْنَ’ فِي وَصْفِہٖ، کَمَا جَاء َالْحَدِیثُ الَّذِي ذَکَرْنَاہُ فِي ذَالِکَ .
”کسی نے کہا ہے کہ آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے منسوب ایسی عبارت کیسے قبول کرلیتے ہیں، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تو افصح العر ب ہیں۔ اس حدیث میں ایسا سیاق ہے، جسے تمام اہل لغت جائز نہیں مانتے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک ‘بین’ کا لفظ دو چیزوں کے لیے ہوتا ہے نہ کہ ایک ہی چیز کے لیے۔ ہمارا جواب ہوگا کہ معترض کی بات درست ہے، لیکن جب ایک ہی چیز دو صفات کے ساتھ متصف ہو جائے، تو وہ چیز دو کے حکم میں ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے : (وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰہَ یَحُولَ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ) (الأنفال : ٢٤) (ذہن نشین کر لیں کہ اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔) آدمی اور اس کا دل ایک ہی چیز ہے، لیکن جب دونو ںکو علیحدہ علیحدہ صفات سے متصف کیا، تو دو الگ چیزوں کے حکم میں ہو گئے۔ اسی طرح ابتدا میں آدمu محض بے روح جسم تھے، پھر جسم میں روح پھونک دی گئی، تو آپ دو مختلف اوصاف سے متصف ہو گئے۔ یوں آپ کی صفت میں ‘بین’ کے لفظ کا جواز ثابت ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں استعمال ہوا ہے۔”
(شرح مشکل الآثار : ١٥/٢٣)
اس حدیث کا تعلق تقدیر سے ہے، لوحِ محفوظ میں لکھا جانا مراد ہے۔ جیسا کہ امام فریابی رحمہ اللہ  نے اسے ”کتاب القدر” میں ذکر کیا ہے۔ جب کہ اس کے معنی میں ملحد اور زندیق صوفیوں نے تحریف و تبدیل سے کام لیا ہے۔
حدیث کے معنی میں غلطی:
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث انور شاہ کشمیری صاحب (١٣٥٢ھ) کہتے ہیں:
قَوْلُہ، : (مَتٰی وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃُ؟ قَالَ : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ إلخ) أَيْ کَانَ النَّبِيُّ (ص) نَبِیًّا وَجَرَتْ عَلَیْہِ أَحْکَامُ النُّبُوَّۃِ مِنْ ذٰلِکَ الْحِینِ بِخِلَافِ الْـأَنْبِیَاءِ السَّابِقِینَ، فَإِنَّ الْـأَحْکَامَ جَرَتْ عَلَیْہِمْ بَّعْدَ الْبِعْثَۃِ کَمَا قَالَ مَوْلَانَا الْجَامِيُّ أَنَّہ، کَانَ نَبِیًّا قَبْلَ النَّشْأَۃِ الْعُنْصَرِیَّۃِ .
”حدیث (مَتٰی وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃُ؟ قَالَ : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ إِلَخْ) کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اس وقت سے ہی نبی تھے اور آپ پر نبوت کے احکام جاری تھے۔ دیگر انبیائے کرام یہ شان نہیں ہے، بل کہ ان پر نبوت کے احکام بعثت کے بعد جاری ہوئے۔ جیسا کہ مولانا جامی صاحب نے لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مادہئ عنصریہ کی پیدائش سے قبل ہی نبی تھے۔”
(العرف الشذي شرح سنن الترمذي : ٥/٦، ملفوظات علامہ سید انور شاہ محدث کشمیري از سید احمد رضا بجنوری، ص : ٢٠٣، ٢٠٤)
یہ واضح ضلالت ہے اور قرآن و حدیث اور ائمہ دین کے متفقہ عقیدے کے خلاف ہے۔ گمراہ صوفیوں کا نظریہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  مخلوق میں حقیقتاً موجود تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  مبدء خلق ہیں۔جیسا کہ؛
مشہور گم راہ صوفی،ابن عربی (٦٣٨ھ) نے لکھا ہے۔
فَکُلُّ نَبِيٍّ مِّنْ لَّدُنْ آدَمَ إِلٰی آخِرِ نَبِيٍّ مَّا مِنْھُمْ أَحَدٌ یَّأْخُذُ إِلَّا مِنْ مِّشْکَاۃِ خَاتَمِ النَّبِیِّینِ وَإِنْ تَأَخَّرَ وُجُودُ طِینَتِہٖ فَإِنَّہ، بِحَقِیقَتِہٖ مَوْجُودٌ، ہُوَ قَوْلُہ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ‘کُنْتُ نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ’ وَغَیْرُہ، مِنَ الْـأَنْبِیَاءِ مَاکَانَ نَبِیًّا إِلَّا حِینَ بُعِثَ .
” آدمu سے آخر الزماں پیغمبر تک سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چراغ سے ہی روشن ہوئے ہیں۔گو آپ کے جسم کا وجود سب سے آخر میں ہے، آپ درحقیقت پہلے سے ہی موجو دہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان ‘کُنْتُ نَبِّیًا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ’ کا یہی مفہوم ہے۔جب کہ دیگر انبیائے کرام کو نبوت تب ہی ملی جب انہیں مبعوث کیا گیا۔”
(فصوص الحکم، ص : ٦٣، ٦٤)
جناب حسین احمد مدنی دیوبندی صاحب (م : ١٣٧٧ھ) لکھتے ہیں:
”آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کوسب سے پہلے نبوت ملی۔” (نقشِ حیات : ١/١٣٠)
ایسا کہنا انتہائی باطل ہے کہ حقیقت محمد ی انبیائے کرام اور اولیائے عظام میں علمِ باطنی کے ذریعے منتقل ہوتی آئی ہے۔ یہ صریح کفر اور واضح ضلالت ہے۔ یہ وحی اور نبوت و رسالت کی نفی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں کا انکار ہے۔ جب کہ انہیں اپنی اپنی شریعت کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا۔ جیسا کہ انبیائے بنی اسرائیل کو تورات کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا۔ دیکھیے (سورۃ المائدۃ ، آیت نمبر ٤٤)
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(وَإِذْ أَخَذَ اللّٰہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ، قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوا وَأَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشَّاہِدِینَ) (سورۃ آل عمران : ٨١)
” یاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے پختہ عہد لیا کہ تمہیں کتاب و حکمت دے دینے کے بعد میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لے آئیں، تو ان پر ایمان ضرور لائیے گا اور ان کی نصرت کیجئے گا۔ کیا آپ یہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے کہا جی ہم یہ وعدہ کرتے ہیں۔ پختہ وعدہ؟ جی ہاں، پختہ وعدہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے ساتھ آپ بھی گواہ رہنا۔”
ابن عربی کی طرح ابو الحسن علی بن عبد الکافی سبکی بھی اس حدیث کی غلط تعبیر یوں کرتے ہیں:
فَإِنْ قُلْتَ : أُرِیدُ أَنْ أَفْہَمَ ذٰلِکَ الْقَدْرَ الزَّائِدَ فَإِنَّ النُّبُوَّۃَ وَصْفٌ لَّا بُدَّ أَنْ یَّکُونَ الْمَوْصُوفُ بِہٖ مَوْجُودًا وَّإِنَّمَا یَکُونُ بَعْدَ بُلُوغِ أَرْبَعِینَ سَنَۃً أَیْضًا . فَکَیْفَ یُوصَفُ بِہٖ قَبْلَ وُجُودِہٖ وَقَبْلَ إرْسَالِہٖ فَإِنْ صَحَّ ذٰلِکَ فَغَیْرُہ، کَذٰلِکَ . قُلْتُ قَدْ جَاءَ أَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْـأَرْوَاحَ قَبْلَ الْـأَجْسَادِ فَقَدْ تَکُونُ الْإِشَارَۃُ بِقَوْلِہٖ : کُنْتُ نَبِیًّا إلٰی رُوحِہِ الشَّرِیفَۃِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِلٰی حَقِیقَتِہٖ وَالْحَقَائِقُ تَقْصُرُ عُقُولُنَا عَنْ مَّعْرِفَتِہَا وَإِنَّمَا یَعْلَمُہَا خَالِقُہَا، وَمَنْ أَمَدَّہ، بِنُورٍ إِلٰہِيٍّ . ثُمَّ إنَّ تِلْکَ الْحَقَائِقَ یُؤْتِي اللّٰہُ کُلَّ حَقِیقَۃٍ مِّنْہَا مَا یَشَاءُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي یَشَائُ، فَحَقِیقَۃُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ تَّکُونُ مِنْ قَبْلِ خَلْقِ آدَمَ آتَاہَا اللّٰہُ ذٰلِکَ الْوَصْفَ بِأَنْ یَّکُونَ خَلَقَہَا مُتَہَیِّئَۃً لِّذٰلِکَ وَأَفَاضَہ، عَلَیْہَا مِنْ ذٰلِکَ الْوَقْتِ، فَصَارَ نَبِیًّا .
”اگر میں کہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان اس وجہ سے بلند ہے کہ وصف ِ نبوت موصوف (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وجود کو مستلزم ہے، پھر نبوت چالیس برس بعد ملنے کا مطلب؟ اگر نبوت چالیس برس بعد ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ابتداء سے شرف ِ نبوت کے ساتھ متصف کیسے کیا جاسکتا ہے، جب کہ آپ ابھی پیدا ہوئے، نہ مبعوث ہوئے، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے یہ ممکن ہے ، تو دیگر انبیاء کے لئے بھی ممکن ہے۔؟عرض ہے کہ یہ بات تو طے ہے کہ ارواح کو اجساد سے پہلے پیدا کیا گیا تھا۔ لہٰذا (کنت نبیا) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی روح اور حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ حقائق تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہے، انہیں اللہ ہی جانتا ہے یا وہ جسے نورِ الٰہی کی تائید حاصل ہو، دوسرے یہ کہ اللہ جس حقیقت کو جب چاہتا ہے، ظاہر کر دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی حقیقت سیدنا آدمu کی تخلیق سے بھی پہلے موجود تھی۔ یہ حقیقت جسم کی صورت میں ظاہر ہو ئی، تو اسے وصف نبوت عطا کر دیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نبی بن گئے۔”
(فتاویٰ السبکي : ١/٣٩، الحاوي للفتاویٰ للسیوطي : ٢/١٢١، وفي نسخۃ ٢/١٠٠)
گمراہ صوفیوں کی پیروی کرتے ہوئے علامہ عبد الرؤف مناوی (٩٥٢۔١٠٣١ ھ) نے اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
(کُنْتُ نَبِیًّا) لَمْ یَقُلْ : کُنْتُ إِنْسَانًا وَّلَا کُنْتُ مَوْجُودًا إِشَارَۃٌ إِلٰی أَنَّ نُبُوَّتَہ، کَانَتْ مَوْجُودَۃً فِي أَوَّلِ خَلْقِ الزَّمَانِ فِي عَالَمِ الْغَیْبِ دُونَ عَالَمِ الشَّہَادَۃِ فَلَمَّا انْتَہَی الزَّمَانُ بِالِاسْمِ الْبَاطِنِ إِلٰی وُجُودِ جِسْمِہٖ وَارْتِبَاطِ الرُّوحِ بِہِ انْتَقَلَ حُکْمُ الزَّمَانِ فِي جَرَیَانِہٖ إِلَی الِاسْمِ الظَّاہِرِ فَظَہَرَ بِذَاتِہٖ جِسْمًا وَّرُوحًا فَکَانَ الْحُکْمُ لَہ، بَاطِنًا أَوْفِي کُلِّ مَا ظَہَرَ مِنَ الشَّرَائِعِ عَلٰی أَیْدِي الْـأَنْبِیَاءِ وَالرُّسُلِ ثُمَّ صَارَ الْحُکْمُ لَہ، ظَاہِرًا فَنُسِخَ کُلُّ شَرْعٍ أَبْرَزَہُ الِاسْمُ الْبَاطِنُ بِحُکْمِ الِاسْمِ الظَّاہِرِ لِبَیَانِ اخْتِلَافِ حُکْمِ الِاسْمَیْنِ وَإِنْ کَانَ الشَّرْعُ وَاحِدًا .
” ‘کُنْتُ نَبِیًّا’ ‘میں نبی بن گیا تھا۔’ یہ نہیں کہا کہ میں انسانی وجود میں ڈھل گیا تھا، بل کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی نبوت عالم ِ غیب میں زندگی کی تخلیق سے قبل ہی موجود تھی۔ جب زمانے کو عالم ِ باطن سے عالم ِ جسم میں لایا گیا اور روح کو جسم سے منسلک کر دیا گیا، تو زمانے کا باطن سے ظاہر کے نام سے تبادلہ ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جسم و روح کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ اس سے قبل آپ کے لیے نبوت کا حکم باطنی تھا یا انبیاء کرام اور رسل عظام کی شریعتوں میں آپ کا حکم ظاہر تھا۔ پھر جب آپ کا حکم ظاہری ہوا، سابقہ تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔؟؟؟؟” ترجمہ چیک
(فیض القدیر في شرح الجامع الصغیر : ٥/٥٣، ح : ٦٤٢٤)
علم الغیب اور علم الشھادۃ کی اصطلاحات جاہل و گمراہ صوفیوں کی اصطلاحات مثلا رموز و اشارات اور اعتبار وغیرہ کی قبیل سے ہیں۔
یہ بدعی الفاظ ہیں جنہیںزندیق اور ملحد فلاسفہ نے ایجاد کیا ہے۔ ائمہ دین ان سے نا واقف تھے۔
حدیث کا درست معنی و مفہوم:
اس حدیث کا صحیح معنی و مطلب امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ  (٢٣٨۔٣٢١ھ) نے یوں بیان کیا ہے :
وَأَمَّا قَوْلُہ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ‘کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ’ فَإِنَّہ،، وَإِنْ کَانَ حِینَئِذٍ نَّبِیًّا، فَقَدْ کَانَ اللّٰہُ تَعَالٰی کَتَبَہ، فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ نَبِیًّا، ثُمَّ أَعَادَ اکْتِتَابَہ، إِیَّاہُ فِي الْوَقْتِ الْمَذْکُورِ فِي ہٰذَا الْحَدِیثِ، کَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ : (وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَّعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْـأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَاديَ الصَّالِحُونَ'(الأنبیاء : ١٠٥)، وَکَانَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ کَتَبَ ذَالِکَ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ، ثُمَّ أَعَادَ اکْتِتَابَہ، فِي الزَّبُورِ الْمُحَزَّبَۃِ بَعْدَ ذَالِکَ، فَمِثْلُ ذَالِکَ اکْتِتَابُہ، عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيَّ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ، بَعْدَ اکْتِتَابِہٖ إِیَّاہُ قَبْلَ ذَالِکَ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ أَنَّہ، کَذَالِکَ .
” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ‘کُنْتُ نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ’کا معنی یہ ہے کہ گو آپ اس وقت نبی تھے، اللہ نے لوح محفوظ میں آپ کو نبی لکھ دیا تھا، پھر دوبارہ اس وقت لکھا، جو وقت اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : ‘وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَّعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْـأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ'(الأنبیاء : ١٠٥) (ہم نے ایک بار ذکر کرنے بعد پھر دوبارہ زبور میں لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔) اللہ تعالیٰ نے یہ حکم لوحِ محفوظ میں لکھا، بعد میں یہی حکم زبور میں بھی لکھ دیا۔ ایسے ہی لوح ِ محفوظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت لکھ دینے کے بعد دوبارہ اس وقت لکھ دیا، جب آدمu روح اور جسم کے مرحلے میںتھے۔”
(شرح مشکل الآثار : ١٥/٢٣١)
شیخ الاسلام، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  (٦٦١۔٧٢٨ھ) نے کیا خوب لکھا ہے:
وَلِہٰذَا یَغْلَطُ کَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ الَّذِي رَوَاہُ مَیْسَرَۃُ قَالَ : (قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَتٰی کَنْتَ نَبِیًّا؟ وَفِي رِوَایَۃٍ (مَتٰی کُتِبْتَ نَبِیًّا؟ قَالَ : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ) . فَیَظُنُّونَ أَنَّ ذَاتَہ، وَنُبُوَّتَہ، وُجِدَتْ حِینَئِذٍ وَّہٰذَا جَہْلٌ فَإِنَّ اللّٰہَ إنَّمَا نَبَّأَہ، عَلٰی رَأْسِ أَرْبَعِینَ مِنْ عُمُرِہٖ وَقَدْ قَالَ لَہ، : (بِمَا أَوْحَیْنَا إلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغَافِلِینَ) وَقَالَ : (وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی) وَفِي الصَّحِیحَیْنِ (أَنَّ الْمَلَکَ قَالَ لَہ، حِینَ جَاءَ ہ، : اِقْرَأْ فَقَالَ : (لَسْتُ بِقَارِيئٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) وَمَنْ قَالَ : إنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ نَبِیًّا قَبْلَ أَنْ یُّوحٰی إلَیْہِ فَہُوَ کَافِرٌ بِّاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِینَ وَإِنَّمَا الْمَعْنٰی أَنَّ اللّٰہَ کَتَبَ نُبُوَّتَہ، فَأَظْہَرَہَا وَأَعْلَنَہَا بَعْدَ خَلْقِ جَسَدِ آدَمَ وَقَبْلَ نَفْخِ الرُّوحِ فِیہِ کَمَا أَخْبَرَ أَنَّہ، یَکْتُبُ رِزْقَ الْمَوْلُودِ وَأَجَلَہ، وَعَمَلَہ، وَشَقَاوَتَہ، وَسَعَادَتَہ، بَعْدَ خَلْقِ جَسَدِہٖ وَقَبْلَ نَفْخِ الرُّوحِ فِیہِ کَمَا فِي حَدِیثِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ الَّذِي رَوَاہُ أَحْمَدُ وَغَیْرُہ، عَنِْ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہ، قَالَ : (إِنِّي عَبْدُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ) وَفِي رِوَایَۃٍ (إنِّي عَنْدَ اللّٰہِ لَمَکْتُوبٌ خَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُجَنْدَلٌ فِي طِینَتِہٖ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِأَوَّلِ ذٰلِکَ دَعْوَۃُ أَبِي إبْرَاہِیمَ وَبُشْرٰی عِیسٰی وَرُؤْیَا أُمِّي رَأَتْ حِینَ وَلَدَتْنِي أَنَّہ، خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاء َتْ لَہ، قُصُورُ الشَّامِ) . وَکَثِیرٌ مِّنَ الْجُہَّالِ الْمُصَنِّفِینَ وَغَیْرِہِمْ یَرْوِیہِ (کُنْت نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ) (وَآدَمُ لَا مَاءَ وَلَا طِینَ) وَیَجْعَلُونَ ذٰلِکَ وُجُودَہ، بِعَیْنِہٖ وَآدَمُ لَمْ یَکُنْ بَّیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ بَلِ الْمَاءُ بَعْضُ الطِّینِ لَا مُقَابِلُہ، .
”اکثر لوگوں کو سیدنامیسرہ  رضی اللہ عنہ  کی صحیح حدیث کے فہم میں غلطی لگی، جس میں ہے کہ : (قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَتٰی کَنْتَ نَبِیًّا؟ وَفِي رِوَایَۃٍ مَتٰی کُتِبْتَ نَبِیًّا؟ قَالَ : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ) ‘میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! (تقدیر میں) کب سے لکھا گیا کہ آپ نبی ہیں؟’ ایک روایت میں ہے کہ آپ کو (تقدیر میں) نبی کب لکھا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ‘سیدنا آدمu ابھی روح و جسم کے مراحل میں تھے، میں نبی لکھ دیاگیا تھا۔’ کہتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا وجود اور نبوت موجود تھی، یہ جہالت ہے، کیوں کہ اللہ نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو چالیس برس کی عمر میں نبی بنایا،۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے : (بِمَا أَوْحَیْنَا إلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغَافِلِینَ) (ہم نے آپ پر یہ قرآن وحی کیا، آپ اس سے پہلے نا آشنا تھے۔) نیز فرمان باری تعالیٰ ہے : (وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی) (اللہ نے آپ کو بے راہ پا کر سیدھے راستے کی راہنمائی فرمائی۔) صحیحین (صحیح البخاري : ٣، صحیح مسلم : ١٦٠) میں ہے : غار ِ حرا میں فرشتے نے آپ سے پڑھنے کو کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین بار فرمایا : میں پڑھ نہیں سکتا۔ لہٰذا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نزول وحی سے پہلے ہی نبی تھے، وہ کافر ہے اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس حدیث کا درست مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت لکھی، پھر سیدنا آدمu کے جسد کی تخلیق کے بعد اور روح پھونکنے سے پہلے اس نبوت کا اظہار و اعلان فرما دیا۔ جیسا کہ (صحیح البخاري : ٣١٨، صحیح مسلم : ٢٦٤٥) میں ہے کہ بچہ کی تخلیق کے بعد اور روح پھونکنے سے پہلے اس کا رزق، موت، عمل، سعادت اور شقاوت لکھ دی جاتی ہے۔ نیز سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ  سے مروی حدیث (مسند احمد : ٢٨/٣٧٩) میں ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ‘میں اللہ کے ہاں ‘خاتم النبیین’ لکھ دیا گیا تھا۔’ دوسری روایت میں ہے : ‘میں اللہ کے حضور ‘خاتم النبیین’ لکھ دیا گیا تھا، جب کہ آدم u ابھی مٹی میں لیٹے ہوئے تھے۔ میں آپ کو ابتدا کی خبر دیتا ہوں، جو کہ دعوتِ ابراہیم، بشارتِ عیسیi اور میری والدہ ماجدہ کی خواب کی روشن تعبیر تھی کہ جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا۔ ان سے ایک روشنی خارج ہوئی، جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا ۔’ کئی جاہلوں کا وطیرہ ہے کہ وہ (کُنْت نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ) (وَآدَمُ لَا مَاء َ وَلَا طِینَ) بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا شخصی وجود اس وقت بھی موجود تھا، جب کہ آدمu ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے، بل کہ پانی گارے کا کچھ حصہ ہے۔ لیکن گارے کا پانی سے کوئی تقابل نہیں۔”
(مجموع الفتاوٰی : ٨/٢٨٢، ٢٨٣)
تنبیہ نمبر1 :
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
إِنِّي عِنْدَ اللّٰہِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ، وَإِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِینَتِہٖ، وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِّأَوَّلِ ذٰلِکَ دَعْوَۃُ أَبِي إِبْرَاہِیمَ، وَبِشَارَۃُ عِیسٰی بِي، وَرُؤْیَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ، وَکَذٰلِکَ أُمَّہَاتُ النَّبِیِّینَ تَرَیْنَ .
”میں تقدیر الٰہی میں خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا، جب کہ آدمu ابھی مٹی میں گوندھے جا رہے تھے۔ میں آپ کو بتاوں کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا، عیسیi کی بشارت اور اپنی والدہ کے خواب کی تعبیر ہوں، نبیوں کی مائیں ایسے ہی خواب دیکھتی ہیں۔”
(مسند الإمام أحمد : ٤/١٢٧، التاریخ الکبیر للبخاري : ٦/٦٨، وسندہ، حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ  (٦٤٠٤) نے ”صحیح” امام حاکم رحمہ اللہ  (٢/٤١٨) نے ”صحیح الاسناد” اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ  نے ”صحیح ” کہا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ  (٣٨٤۔٤٥٨ھ) اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَنَّہ، کَذَالِکَ فِي قَضَاءِ اللّٰہِ وَتَقْدِیرِہٖ قَبْلَ أَنْ یَّکُونَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامِ .
”اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کی تقدیر میں آدمu سے پہلے نبی لکھ دیے گئے تھے۔”
(شعب الإیمان : ٢/٥١٠، تحت حدیث : ١٣٢٢)
تنبیہ نمبر2 :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
کُنْتُ أَوَّلَ النَّبِیِّینَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَہُمْ فِي الْبَعْثِ، فَبُدِءَ بِي قَبْلَہُمْ .
”انبیائے کرام میں سے سب سے پہلے میری تخلیق ہوئی، لیکن مبعوث سب سے آخرمیں ہوا ہوں، لہٰذا ان سے پہلے ابتدا مجھ سے کی گئی ۔”
(تفسیر ابن أبي حاتم : ٩/٣١١٦، ح : ١٧٥٩٤، دلائل النبوۃ لأبي نعیم الأصبھاني : ٣، الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : ٣/٣٧٣، الفوائد لتمام : ١٠٠٣، تفسیر ابن أبي کثیر : ٦/٣٨٢، سلامۃ)
تبصرہ:
سنددو وجہ سے ”ضعیف” ہے۔
1     قتادہ ”مدلس” ہیں۔ سماع کی تصریح نہیں کی۔
2     امام حسن بصری  رحمہ اللہ  بھی ”مدلس” ہیں۔ ان کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے سماع نہیں ہے۔ جیسا کہ علامہ عینی حنفی(٧٦٢۔٨٥٥ھ) لکھتے ہیں:
إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ عِنْدِ الْجُمْہُورِ .
”جمہور کے نزدیک حسن بصری رحمہ اللہ  کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے سماع نہیں ہے۔”
(عمدۃ القاري : ١/٢٧١، البنایۃ : ١/١٨٢)
حافظ ابن ملقن  رحمہ اللہ (٧٢٣۔٨٠٤ھ)فرماتے ہیں :
أَلْحَسَنُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ، کَمَا قَالَہُ الْجُمْہُورُ .
”جمہور کے مطابق حسن بصری رحمہ اللہ  کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے سماع نہیں ہے۔”
(البدر المنیر : ٢/٤٤٥)
علامہ سیوطی رحمہ اللہ  (٩١١ھ) فرماتے ہیں:
وَلَمْ یَسْمَعْ عِنْدَ الْـأَکْثَرِینَ .
”جمہور کے نزدیک سماع ثابت نہیں۔”
(اللآلي المصنوعۃ : ١/٢٧)
تنبیہ نمبر 3 :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں:
قَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَتٰی وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃُ؟ قَال : وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ .
”صحابہ کرام] نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی نبوت کب لکھی گئی؟ فرمایا : ابھی آدمu روح اور جسم کے مراحل میں تھے۔”
(سنن الترمذي : ٣٦٠٩، المستدرک للحاکم : ٢/٦٠٩، دلائل النبوۃ للبیھقي : ٢/٢٢٦)
تبصرہ:
سند ”ضعیف” ہے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے ”حسن صحیح غریب” کہا ہے۔ حافظ مزی رحمہ اللہ  (تحفۃ الاشراف : ١١/٧٤) اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ  (البدایہ و النہایہ : ٢/٣٢) نے امام ترمذی رحمہ اللہ  سے فقط ”حسن غریب” ذکر کیا ہے۔
اس سند کے بارے میںامام احمد بن حنبل (٢٤١ھ) لکھتے ہیں:
ہٰذَا مُنْکَرٌ، ہٰذَا مِنْ خَطَأِ الْـأَوْزَاعِيِّ، یُخْطِيءُ کَثِیرًا عَلٰی یَحْیَی بْنِ أَبِي کَثِیرٍ .
” ‘منکر ‘حدیث ہے۔ یہ امام اوزاعی رحمہ اللہ  کی غلطی ہے۔ آپ یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت میں بہت زیادہ غلطیوںکا شکار ہو ئے ۔”
(المنتخب من علل الخلال لابن قدامۃ المقدسي، ص : ١٧٣، ح : ٩٣)
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ  زبردست ”مدلس” بھی ہیں۔ سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا سند ”ضعیف” ہے۔
تنبیہ نمبر 4:
قتادہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
کُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَہُمْ فِي الْبَعْثِ .
”میں تخلیق میں سب سے اول ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں۔”
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد : ١/١٤٩)
تبصرہ:
یہ قول ”مرسل” ہونے کی وجہ سے ”ضعیف” ہے۔ کیوں کہ قتادہ تابعی براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کررہے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسی سند میں سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ  ”مدلس” ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ جب کہ دوسری سند میں محمد بن سلیم ابو ہلال راسبی بصری جمہور ائمہ کرام کے نزدیک ”ضعیف” ہے۔
تنبیہ نمبر 5 :
کُنْتُ نَبِیًّا وَّ آدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطَّینِ .
”آدمu ابھی پانی اور گارے کے درمیان تھے کہ میں نبی بن چکا تھا۔”
تبصرہ:
یہ اڑی ہوئی ہوا اور جھوٹ ہے۔ علامہ سخاوی رحمہ اللہ  (٨٣١۔٩٠٢ھ) فرماتے ہیں:
فَلَمْ نَقِفْ عَلَیْہِ بِہٰذَا اللَّفْظِ، فَضْلًا عَنْ زِیَادَۃِ : وَکُنْتُ نَبِیًّا وَّلَا آدَمُ وَّلَا مَاءَ وَلَا طِینَ .
” ‘وَکُنْتُ نَبِیًّا وَلَا آدَمَ وَلَا مَاءَ وَلَا طِیْنَ”’کی زیادتی تو کجا، ہمیں تو ان الفاظ سے مروی حدیث بھی نہیں ملی۔”
(المقاصد الحسنۃ في بیان کثیر من الأحادیث المشتھرۃ علی الألسنۃ، ص : ٥٢١)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ  (٨٤٩۔٩١١ھ) لکھتے ہیں:
لَا أَصْلَ لَہ، بِہٰذَا اللَّفْظِ… وَزَادَ الْعَوَّامُ فِیہِ : وَکُنْتُ نَبِیًّا وَلاَ أَرْضَ وَلاَ مَاءَ وَلاَ طِینَ . وَلَا أَصْلَ لَہ، أَیْضاً .
”ان الفاظ سے کوئی حدیث نہیں ہے۔ …..عوام نے اس میں ”’وَکُنْتُ نَبِیّاً وَّلَا أَرْضَ وَلاَ مَاءَ وَلَا طِینَ”’کے الفاظ کی بھی زیادتی کی ہے۔ یہ بھی بے اصل روایت ہے۔”
(الدُّرَر المنتثرۃ من الأحادیث المشتھرۃ، ص : ١٦٣)
ملا علی قاری حنفی معتزلی صاحب (م : ١٠١٤ھ) لکھتے ہیں:
قَالَ الزَّرْکَشِيُّ : لَاأَصْلَ لَہ، بِھٰذَا اللَّفْظِ .
”علامہ زرکشی کہتے ہیں کہ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ‘بے اصل’ ہے۔”
(الموضوعات الصغریٰ، ص : ١٤٢)
محمد طاہر پٹنی صاحب (٩١٠۔٩٨٦ھ) لکھتے ہیں:
قَالَ ابْنُ تَیْمِیَّۃَ : مَوْضُوعٌ، وَھُوَ کَمَا قَالَ .
”علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  اسے ‘موضوع’ کہتے ہیں۔ بات ایسے ہی ہے۔”
(تذکرۃ الموضوعات : ٨٦)
شیخ الاسلام، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں:
وَأَمَّا قَوْلُہ، : (کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ) فَلَا أَصْلَ لَہ، لَمْ یَرْوِہِ أَحَدٌ مِّنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ بِہٰذَا اللَّفْظِ وَہُوَ بَاطِلٌ فَإِنَّہ، لَمْ یَکُنْ بَّیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ إذِ الطِّینُ مَاءٌ وَّتُرَابٌ وَّلٰکِنْ لَّمَّا خَلَقَ اللّٰہُ جَسَدَ آدَمَ قَبْلَ نَفْخِ الرُّوحِ فِیہِ : کَتَبَ نُبُوَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدَّرَہَا .
” ‘کُنْتُ نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ’ والے الفاظ ‘بے اصل’ ہیں۔ محدثین میں سے کسی نے بھی یہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ یہ ‘باطل’ حدیث ہے۔ سیدنا آدمu پانی اور گارے کے مرحلہ سے نہیں گزرے۔ کیوں کہ گاراپانی اور مٹی کے مجموعے کا نام ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا آدمu کے جسم کی تخلیق فرمالی، تو ان میں روح پھونکنے سے پہلے ہی تقدیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت لکھ دی۔”
(مجموع الفتاویٰ : ٢/٢٣٨)
مزید فرماتے ہیں:
وَأَمَّا مَا یَرْوِیہِ کَثِیرٌ مِّنَ الْجُہَّالِ وَالْـإِتِّحَادِیَّۃِ وَغَیْرِہِمْ مِنْ أَنَّہ، قَالَ : ‘کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الْمَاءُ وَالطِّینِ وَآدَمُ لَا مَاءَ وَلَا طِینَ’ فَہٰذَا مِمَّا لَا أَصْلَ لَہ، لَا مِنْ نَقْلٍ وَّلَا مِنْ عَقْلٍ فَإِنَّ أَحَدًا مِّنَ الْمُحَدِّثِینَ لَمْ یَذْکُرْہُ وَمَعْنَاہُ بَاطِلٌ فَإِنَّ آدَمَ لَمْ یَکُنْ بَّیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ قَطُّ فَإِنَّ الطِّینَ مَاءٌ وَّتُرَابٌ وَّإِنَّمَا کَانَ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ .
”’کنت نبیا وآدم بین الماء والطین وآدم لا ماء ولا طین’ کو جاہل اور عقیدہ وحدۃ الوجود کے حاملین نے بیان کیا ہے۔ یہ بے اصل ہے۔ عقل و نقل میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ محدثین میںسے کسی نے اسے ذکر نہیں کیا۔ اس کا معنی باطل ہے، کیوں کہ آدمu پانی اور گارے کے مرحلے سے تو کبھی گزرے ہی نہیں، گارہ تو پانی اور مٹی کے مجموعے کا نام ہے۔ جب کہ آپu تو روح و جسم کے مرحلے سے گزرے ہیں۔”
(الرد علی البکري، ص : ٩، طبعۃ السلفیۃ، ١٣٤٦ئ)
تنبیہ نمبر 6 :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں:
إِنَّہ، عَلَیْہِ السَّلَامُ سَأَلَ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ : یَا جِبْرِیلُ کَمْ عُمُرُکَ مِنَ السِّنِینَ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَسْتُ أَعْلَمُ غَیْرَ أَنَّ فِي الْحِجَابِ الرَّابِعِ نَجْمًا یَّطْلُعُ فِي کّلِّ سَبْعِینَ أَلْفَ سَنَۃٍ مَرَّۃً رَّأَیْتُہُ اثْنَیْنِ وَسَبْعِینَ أَلْفَ مَرَّۃٍ فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ : یَا جِبْرِیلُ وَعِزَّۃِ رَبِّي أَنَا ذٰلِکَ الْکَوْکَبُ .
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا جبرائیلu سے پوچھا : جبرائیل! آپ کی عمر کیاہے؟ کہنے لگے : پتہ نہیں، اتنا جانتاہوں کہ چوتھے آسمان میں ایک ستارہ ہے۔ جو ستر ہزار سال بعد ایک دفعہ طلوع ہوتا ہے۔ میں نے اسے بہتر (٧٢) ہزار مرتبہ دیکھا ہے۔ فرمایا : میرے رب کی عزت کی قسم! وہ ستارہ میں ہی ہوں۔”
(تفسیر روح البیان : ٣/٥٤٣، سورۃ التوبۃ تحت آیت : ١٢٨)
تبصرہ:
یہ روایت باطل ہے۔ اسے گھڑنے والا اسماعیل حقی حنفی (١١٢٧ھ) ملحد، زندیق اور دجال ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی پر جھوٹ بولا ہے۔ اس جھوٹی و بے سرو پا روایت کو ائمہ محدثین نے کتابو ں میں ذکر تک نہ کیا۔ بعض بدعتی اللہ رب العزت کی گرفت اور عذاب سے بے خوف و خطر ہو کر اسے بر سرِ منبر بیان کرتے ہیں۔ انہیںیہ بھی معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والے کا انجام کیا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.