305

بے گناہ بے خطا معاویہ معاویہ!

بے گناہ،بے خطا؛معاویہ معاویہ رضی اللہ عنہ نعرہ اہل سنت کے عقائد کے خلاف ہے ؟
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی کے حوالے سےمرزا صاحب ہمیشہ سے اعتراض کرتے آئے ہیں ابھی کچھ دن پہلے ہی دعوت اسلامی کی طرف سے ٹی وی پر ایک نعرہ لگایا گیا “بے گناہ،بے خطا؛معاویہ معاویہ رضی اللہ عنہ ” اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انجینئر صاحب کہتے ہیں کہ یہ نعرہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کے 100 فیصد خلاف ہےنعرہ یہ ہونا چاہیے کہ بے گنا ہ،بے خطا؛مصطفیٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اب آپ ان کے اس تبصرے سے مرزا صاحب کی علمی حثییت کا حساب لگا سکتے ہیں کہ بے گناہ کا لفظ دیکھ کر انہوں فورا اس کو توہین مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وسلم تصور کر لیا کہ بے گناہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ۔حالانکہ دیکھنا چاہیےکہ سیاق وسباق کیا ہے، کہنے والی کی مراد کیا ہے اگراسی طرح مرزا صاحب کے فتوے چلتے رہے تو پھر ہر عدالت ہی تو ہین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرتکب قرار پائے گی،عدالت میں کسی مجرم کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ شخص مجرم ہے عدالت قرائن وشواہد کو دیکھ کر اس کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اسے با عزت رہا کر دیتی ہے، تو عدالت جب کسی انسان کو بے گانہ قرار دیتی ہے تو کیا وہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کے 100 فیصد خلاف فیصلہ کر رہے ہوتی ہے؟ لوگوں کو کیوں دھوکہ دیتے ہیں مرزا صاحب ۔؟
بے گناہ کا معنی یہ ہے کہ دعوت اسلامی والے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ معصوم عن الخطا مان رہے ہوتے ہیں ؟وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے معصوم عن الخطا ہونے کے دعویدار نہیں ہیں۔جب ایسا ہےتوپھر اس نعر کا مطلب اور ہے جو آپ کو سمجھ نہیں آیااس کا مطلب یہ تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو گناہ کا الزام لگایاگیا کہ انہوں نے دنیا کی خاطر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی وہ اس گناہ سے پاک ہیں، ان پر یہ جھوٹا الزام لگایاگیا اور اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی یہ خطا اجتہادی تھی اور اجتہادی خطا پر گناہ نہیں ہوتا بلکہ ایک اجر ملتا ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں مذکور ہےتو جس خطا پر گناہ نہ ملے بلکہ اس پر ثواب مل رہا ہو کیا وہ عمل گناہ ہو تا ہے ؟
ہمارے ہاں محمد علی جناح کو “قائد اعظم “کہا جاتا ہے، اب کوئی کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی ہے یہ جملہ ،سب سے بڑے قائد تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،ایسا کو ئی بے وقوف ہی کہ سکتا ہے۔ محمد علی جناح کو کوئی بھی مذہبی قائدورہنما نہیں کہتا وہ ایک سیاسی رہنما تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی تواس لحاظ سے انکو قائد اعظم کہا جاتا ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما ہیں۔اب کوئی “قائد اعظم” محمد علی جناح کہنے سے فوی لگائے گا کہ یہ توہین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟تو یہ عقلی پستی کی دلیل ہے یہ کوئی علمی معرکہ نہیں ہے۔لہذا یہ جو نعرہ ہے کہ “بے گناہ، بے خطا؛ معاویہ معاویہ رضی اللہ عنہ “بلکل درست ہے اور یہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کے بلکل بھی خلاف نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.