524

حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے، حافظ ابویحیی نور پوری حفظہ اللہ

اسی ماہنامہ کے شمارہ نمبر35تا 39 میں قارئین کرام حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے کے شرعی دلائل،ان دلائل پر باطل اعتراضات کے جوابات اور اسے نجس کہنے والوں کے مزعومہ دلائل کی حقیقت ملاحظہ فرما چکے ہیں۔اس سلسلے میںکچھ باتیں ابھی قابل ذکر تھیں۔ وہ پیش خدمت ہیں۔

ایک صحابی ئرسول کے بارے میں احناف کی بلادلیل زبان درازی:
ہٹ دھرمی بھی کتنی خطرناک بیماری ہے کہ یہ انسان کو ایسے ایسے کاموں پر اُکسا دیتی ہے جس کے کرنے پر اس کا ضمیر اسے مسلسل ملامت بھی کرتا رہتا ہے اور بتاتا بھی رہتا ہے کہ یہ مناسب نہیں لیکن ہٹ دھرمی آخر غالب آ ہی جاتی ہے اور انسان وہ کام کر ہی بیٹھتا ہے۔ پھر صدیوں تک اس انسان کا یہ ”کارنامہ” اس کے چاہنے والوں کے ماتھے پر بدنامی کا ایک داغ بن کر ”چمکتا”رہتا ہے۔کچھ ایسا ہی ہوا ہے احناف کی ایک معتبر شخصیت صاحب ِ نورا لانوار کے ساتھ۔انہوں نے احادیث ِ نبویہ اور سلف صالحین کی مخالفت میں حلال جانوروں کے پیشاب کو ناپاک قرار دینے کے لیے ایک صحابی ئ رسول(سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ) اور ایک محدثِ کبیر(امام حاکم رحمہ اللہ ) پر جھوٹ باندھا۔پہلے صحابی ئ رسول کے خلاف زہر اگلا ،پھر اس کی جھوٹی نسبت ایک امام کی طرف کر دی۔افسوس صد افسوس اس بات پر کہ آج تک احناف تعصب در تعصب کی وجہ سے اپنے ایک بڑے کے اس جھوٹ کو جانتے بوجھتے بھی اس سے برأت اور صحابی ئ رسول سے محبت کا اظہار نہیں کر سکے۔یہ سارا معاملہ کیسے ہوا؟ آئیے تفصیل کے ساتھ ملاحظہ کیجیے اور فیصلہ خود فرمائیے کہ حق کن لوگوں کے پاس ہے :
جناب انوار خورشید صاحب دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
[رُوِيَ أَنَّہ، عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ صَحَابِيٍّ صَالِحٍ اُبْتُلِيَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ جَاءَ إِلَی امْرَأَتِہٖ، فَسَأَلَھَا عَنْ أَعْمَالِہٖ، فَقَالَتْ : یَرْعَی الْغَنَمَ، وَلاَ یَتَنَزَّہُ مِنْ بَوْلِہٖ، فَحِینَئِذٍ قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ : ‘اِسْتَنْزِھُوا مِنَ الْبَوْلِ، فَإِنَّ عَامَّۃَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْہُ’ (نور الأنوار : 68، وعزاہ في حاشیتہ إلی الحاکم)
”مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام ایک نیک و صالح صحابی کی تدفین سے فارغ ہوئے توآپ کو کچھ احساس ہوا کہ وہ عذاب قبر میں مبتلا ہوئے ہیں۔ آپ ان کی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور ان صحابی کے اعمال کے متعلق دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ بکریاں چرایا کرتے تھے اور ان کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے۔اس موقع پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : پیشاب سے بچو کیونکہ قبر کا عذاب عام طور پر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔”](حدیث اور اہلحدیث، ص : 169,168)
نیز دیکھیں اعلاء السنن از ظفر احمد تھانوی(440/1) اور درس ترمذی از تقی (290/1)
تبصرہ :
یہ بے سند اور من گھڑت واقعہ ان لوگوں کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔دیوبندی بھائیوں کو آج تک اس کا حوالہ اور مخرج بھی معلوم نہیں ہو سکا لیکن ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ اسے پیش کرنے سے باز نہیںآتے۔اب جناب انوار صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ اپنی بیان کردہ احادیث پر جرح کرنے کے لئے جو خود ساختہ شرائط عائد کرتے ہیں،اس بے سند و بے مصدر روایت پر وہ کیسے صادق آئیں گی؟
محدثین کرام سند کو دین کا دارومدار قرار دیتے تھے۔اہل حق آج بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی ہر بات کی سند پیش بھی کرتے ہیں اور دوسروں کی ہر بات کی سند طلب بھی کرتے ہیں۔ان لوگوںکے منہجِ محدثین سے ہٹے ہونے کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ یہ سند کا ذرا بھی اعتبار نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کا کھوٹا مال اپنی کتابوں میں بھرتے ہیں، چاہے اس سے کسی صحابی ئ رسول کی گستاخی بھی ہوتی رہے۔اب ہم انہی لوگوں کی زبانی اس واقعے کی حقیقت آپ کے سامنے رکھتے ہیں:
n جناب یوسف بنوری دیوبندی صاحب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب سے نقل کرتے ہیںکہ وہ اپنی بے کسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :
وَمَا ذَکَرَہُ الشَّیْخُ أَحْمَدُ الْجَوْنْفُورِيُّ فِي نُورِ الْـأَنْوَارِ مِنْ قِصَّۃِ ھٰذَا الْحَدِیثِ أَنَّہ، عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ صَحَابِيٍّ صَالِحٍ اُبْتُلِيَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ جَاءَ إِلَی امْرَأَتِہٖ، فَسَأَلَھَا عَنْ أَعْمَالِہٖ، فَقَالَتْ : کَانَ یَرْعَی الْغَنَمَ، وَلاَ یَتَنَزَّہُ مِنْ بَوْلِہٖ، فَحِینَئِذٍ قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ : ‘اِسْتَنْزِھُوا مِنَ الْبَوْلِ، فَإِنَّ عَامَّۃَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْہُ’، فَلَمْ أَرَہ،، وَلَوْ ثَبَتَ ھٰذَا لَکَانَ فَصْلًا فِي الْبَابَ، وَحُجَّۃً فِي مَوْرِدِ النَّزَاعِ . ”شیخ احمد جونپوری نے اپنی کتاب نور الانوارمیںاس حدیث کے تحت جو قصہ ذکر کیا ہے کہ آپe جب ایک صالح صحابی کی تدفین سے فارغ ہوئے تو وہ عذاب قبر میں مبتلا ہو گئے۔آپeاس کی بیوی کے پاس تشریف لائے اور اس سے صحابی کے اعمال کے متعلق دریافت فرمایا۔اس نے عرض کیا کہ وہ بکریاں چرایا کرتے تھے اور ان کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے۔اس موقع پر آپ نے فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ عمومی عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے۔مجھے یہ واقع نہیں ملا اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو اس مسئلے میں فیصلہ کن ہو گا اور مورد نزاع میں دلیل کی حیثیت رکھے گا۔”
(معارف السنن از بنوري : 276/1)
یہ حالت کر دیتا ہے تعصب کسی انسان کی۔ایک صحابی ئ رسول کے خلاف بے ثبوت الزام کو بے سند اور بے سروپا تسلیم کرتے ہوئے بھی کشمیری صاحب اس بات کے خواہش مند ہیں کہ یہ ثابت ہو جائے تاکہ ہمارے موقف کی دلیل بن جائے۔اس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ حنفی حضرات کے پاس حلال جانوروں کے پیشاب کو ناپاک قرار دینے کی کوئی بھی صریح دلیل نہیں تھی ، ورنہ وہ اس بے سند و بے اصل روایت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھتے رہتے۔اس بحث سے ہماری تو فقط یہی کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ راہِ حق کی متلاشیوں کو ہدایت عطا فرمائے!
n جناب محمد تقی عثمانی دیوبندی صاحب اسی سلسلے میںلکھتے ہیں :
”حضرت گنگوہی نے الکوکب الدري میں اس مقام پر فرمایا کہ اس حدیث کے بعض طرق میں یہ تصریح ہے کہ جب ان کی اہلیہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ مویشی چرایا کرتے تھے اور ان کے ابوال سے خاطر خواہ تحرز نہیں کرتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ کی وفات کے واقعہ میں اہلیہ سے پوچھنے کا یہ قصہ احقر کو کسی کتاب میں نہیں ملا، لیکن حضرت گنگوہی نے اسے بڑے وثوق کے ساتھ نقل کیا ہے۔اگر یہ واقعہ ثابت ہو تو زیر بحث مسئلہ میں نص صریح کا درجہ رکھتا ہے ۔” (درس ترمذی از تقی عثمانی : 290/1)
n جناب ظفر احمد تھانوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
لَمْ أَقِفْ عَلَیْہِ فِي أَحَادِیثِ الْمُسْتَدْرَکِ، وَرُبَمَا أَخْرَجَہ، فِي مَصْدَرٍ آخَرَ .
”مجھے مستدرک میں یہ قصہ نہیں ملا۔ شاید امام حاکم نے کسی اور کتاب میں اسے بیان کیا ہو۔” (تعلیق إعلاء السنن : 440/1)
جناب انوار خورشید صاحب نے نور الانوار کے حوالہ سے نقل کر کے یہ لکھ دیا ہے کہ صاحب نور الانوار نے اسے امام حاکم کی طرف منسوب کیا ہے لیکن اتنی جراء ت نہیں ہوئی کہ تلاش کر کے حوالہ دے دیں۔بھلا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ان کے جناب انور شاہ کشمیری ،جناب یوسف بنوری اور جناب تقی عثمانی جیسے اکابر اتنی ہمت نہیں کر سکے بلکہ اپنی عاجزی اور بے کسی کا اظہار کرتے رہ گئے ہیں۔
دیوبندی بھائیوں کا ابھی تک اس قصے کو نقل کرنا ایک بات کے خدشے کو قوی ضرور کرتا ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح بریلویوں نے پچھلے دنوں الجزء المفقود من مصنّف عبدالرزاق کے نام سے اپنی طرف سے گھڑ کر حدیث ِنور ”دریافت”کی ہے،اسی طرح کسی دن دیوبندی حضرات بھی اپنی خفت مٹانے کے لئے مستدرک حاکم کے ساتھ ایسا ہاتھ نہ کر دیں۔ ان کے علماء کو چاہیے تھا کہ ایسی بے سند و بے اصل روایات کو اپنے مذہب کی دلیل بنانے کی بجائے محدثین کرام کی طرح ان کی سختی سے تردید کرتے۔
دُعا ہے کہ اللہ تعالی دین میں تحریفات سے بچائے اور اس کی طرف جانے والے راستوں کو بند کرنے توفیق عطا فرمائے۔
فائدہ : اس من گھڑت قصے میں بھی وَلَا یَتَنَزَّہُ مِنْ بَوْلِہٖ کے الفاظ بکریوں کے پیشاب پر صریح نہیں ہیں کیونکہ ضمیر قریبی چیز کی طرف لوٹتی ہے۔اصولی طور پر اس ضمیر کو خود چرواہے کی طرف لوٹانا چاہیے ، یعنی بکریاں چرواتے وقت اسے پیشاب کی حاجت ہوتی تو وہ اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔اس لئے بھی کہ غنم جمع ہے۔اگرچہ اس کی طرف بھی واحد مذکر کی ضمیر لوٹنے کی تھوڑی سی گنجائش ہے لیکن جب اس ضمیر کا مرجع ہمیں واحد مذکر اسی قریب ترین جگہ میں مل رہا ہے تو پھر تکلف میں پڑ کر دُور کی کوڑی لانا اصولاً غلط ہے۔
لو ! دیوبندی حضرات نے بڑی مشکل سے ایک من گھڑت واقعہ پیش کر کے اسے صریح اور فیصلہ کن دلیل بنانے کا شوق پورا کرنا چاہا ،لیکن وہ بھی ادھورا ہی رہ گیا۔ کیا فائدہ ہوا ان کو ایک جھوٹے قصے کو ایک صحابی ئ رسول اور ایک محدث ِ کبیر کی طرف منسوب کرنے کا؟
ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
دیوبندی بھائی نہ حدیث کی حیثیت، صحابی ئ رسول کی ناموس اور محدثین کی عزت برقرار رکھ سکے ، نہ اپنا مدعا ثابت کر سکے ۔
جلالہ والی حدیث سے تقی عثمانی صاحب کاانوکھا استنباط :
جناب محمد تقی عثمانی دیوبندی صاحب اپنی آخری دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
”حنفیہ کی تیسری دلیل ترمذی کتاب الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل لحوم الجلّالۃ وألبانھا میں حضرت ابن عمر کی حدیث ہے کہ : نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْجَلَّالَۃِ وَأَلْبَانِھَا .
نبی اکرم eنے جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔
جلالہ اس حیوان کو کہتے ہیں جو بعرہ اور گندگی کھاتا ہو۔گو یا بعرہ وغیرہ کا کھانا نہی کا سبب ہے۔اس سے دلالۃ النص کے طور پر ما یؤکل لحمہ کے بول ، روث اور بعرہ کی نجاست مستفاد ہوتی ہے ۔”(درس ترمذی از تقی : 291/1)
تبصرہ :
1 سب سے پہلے تو ”جلالہ” کا اصل معنیٰ سمجھنا چاہیے۔ جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں جو گندگی کھاتا رہے حتی کہ اس گندگی کا اثر اس کے جسم میں سرایت کر جائے اور اس کے گوشت سے اس کی بو آنے لگے۔ اگر بو نہ آئے تو وہ جانور ”جلالہ” نہیں کہلائے گا،بلکہ اس گندگی کا استحالہ ہو جاتا ہے۔ علامہ نووی رحمہ اللہ (م : 646ھ) جو کہ مشہور لغوی امام ہیں، لکھتے ہیں:
وَالْجَلَّالَۃُ : ہِيَ الَّتِي تَأْکُلُ الْعُذْرَۃَ وَالنَّجَاسَاتِ، وَسَوَائً کَانَتْ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ أَوِ الدَّجَاجِ، ثُمَّ قِیلَ : إِنْ کَانَ أَکْثَرُ عَلَفِہَا النَّجَاسَۃَ، فَہِيَ جَلَّالَۃٌ، وَإِنْ کَانَ الطَّاہِرُ أَکْثَرَ فَلَا، وَالصَّحِیحُ : أَنَّہ، لَا اعْتِبَارَ بِالْکَثْرَۃِ، بَلْ بِالرَّائِحَۃِ وَالنَّتِنِ، فَإِنْ وُجِدَ فِي عَرَقِہَا وَغَیْرِہٖ رِیحُ النَّجَاسَۃِ، فَجَلَّالَۃٌ، وَإِلَّا فَلَا . ”جلالہ وہ جانور ہے جو گندگی اور نجاست کھاتا ہے۔خواہ وہ اونٹ ہو ، گائے ہو ، بکری ہو یا مرغی۔پھر کہا گیا ہے کہ اگر اس کی اکثر خوراک نجاست ہو تو وہ جلالہ ہے ، اور اگر اس کی اکثر خوراک پاک ہو تو وہ جلالہ نہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ کثرت کا نہیں بلکہ بدبو اور تعفن کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر اس کی رگوں وغیرہ میں نجاست کی بدبو پائی جائے تو وہ جلالہ ہے ، ورنہ نہیں۔”(روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین : 278/3)
یعنی جو جانور نجاست کھائے اور نجاست کی بو اس کے گوشت وغیرہ سے آئے، وہ جلالہ ہے جس کے کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔اگر حلال جانوروں کی بعرہ(مینگنیوں) کے کھانے سے جانور جلالہ بنتے ہیں تو کوئی دیوبندی بھائی ہی بتائے کہ اس نے کس حلال جانور ، یعنی بھیڑ،بکری، گائے ، اونٹ وغیرہ کو کس حلال جانور کی مینگنیاں کھاتے دیکھا ہے؟ اگر اس کی کوئی مثال ہی آپ پیش نہیں کر سکتے اور فطرتی طور پر ایسا ہوتا ہی نہیں تو اسے دلیل کے طور پر پیش کر کے حلال جانوروں کی مینگنیوں کو نجس کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
2 حدیث میں جو اصل بات بیان کی گئی تھی ،یعنی عبارۃ النص سے جو بات سمجھ میں آ رہی تھی ، اس پر تو عثمانی صاحب نے عمل کی کوشش نہیں کی۔ خود ان کا کہنا ہے کہ جو جانور نجاست کھاتا ہے، وہ جلالہ ہے اور اسے کھانا منع آیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسی چیز کھا لینے سے آپ کے نزدیک جانور جلالہ بنتا ہے جس کو نہ رسول اللہeنے نجس کہا، نہ کسی صحابی نے، نہ جمہور اسلاف ِ امت نے ، تو بھیڑیں جو اکثر ایسی گندگی کھاتی رہتی ہیں جو سارے مسلمانوں کے ہاں بالاتفاق نجس ہے ،ان کو تو کھانا بالاولیٰ منع ہونا چاہیے لیکن پھر بھی ہمارے دیوبندی بھائی بڑے شوق سے ان کا گوشت کھالیتے ہیں۔ انہیں کبھی اس بات کا خیال نہیں آیا کہ اس نے تو نجس العین چیز کھا لی ہے لیکن حلال جانوروں کی مینگنیاں جو حلال جانور کھاتے ہی نہیں، انہیں دلیل بنا کر اپنا مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے!!!
3 بعرہ میں حلال اور حرام سب جانوروں کی لید وغیرہ شامل ہے۔ حلال جانوروں کی گوبر وغیرہ کا نجس نہ ہونا ہم رسولِ اکرمeکی احادیث ِ مبارکہ سے ثابت کر چکے ہیں ، لہٰذا جلالہ صرف حرام جانوروں کی لید کھانے سے بنتا ہے۔
ایک اور انوکھی دلیل:
جناب محمد یوسف بنوری دیوبندی صاحب اپنے دلائل میں لکھتے ہیں :
وَمِنْھَا مَا أَخْرَجَہ، أَبُو دَاو،دَ فِي بَابِ الصَّلَاۃِ فِي النَّعْلِ ۔ وَاللَّفْظُ لَہ، ــــ وَغَیْرُہ، مِنْ حَدِیثِ أَبِي سَعِیدٍ الْخُدْرِيِّ مَرْفُوعًا : ‘إِذَا جَاءَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ، فَإِنْ رَاٰی فِي نَعْلَیْہِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْیَمْسَحْہُ، وَلْیُصَلِّ فِیھِمَا’، فَالْقَذَرُ وَ الْـأَذٰی عَامٌّ، وَقَصْرُہ، عَلٰی رَجِیعِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُذْرَۃِ غَیْرِ مَأْکُولِ اللَّحْمِ مُسْتَبْعِدٌ، بَلْ ھُوَ تَعَسُّفٌ وَّتَکَلُّفٌ .
”ہماری ایک دلیل وہ روایت ہے جو ابو داؤد باب الصلاۃ فی النعل میں موجود ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرمeکا فرمان روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو دیکھ لے ،اگر اس کے جوتوں میں گندگی یا نجاست لگی ہو تو اسے زمین پر رگڑ لے اور جوتوں میں ہی نماز پڑھ لے۔یہاں گندگی اور نجاست کے لفظ عام ہیں،ان کو صرف انسان کے پاخانہ یا غیر ما کول اللحم جانوروں کے گوبر پر منطبق کرنا مشکل ہے ،بلکہ محض دھاندلی اور تکلف ہے ۔” (معارف السنن : 275/1)
تبصرہ : 1 یہ وہی بات ہے جو ہم بار بار سمجھاتے آ رہے ہیں کہ یہاں عموم کی تخصیص ہو چکی ہے۔ صحیح و صریح احادیث،اقوال تابعین اور فہم محدثین کے ذریعے وضاحت ہو جانے کے بعد بھی عموم کی رٹ لگانا کوئی عقلمندی نہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ رسول اللہeنے بکریوں کے باڑے میں نماز کیوں پڑھی؟بعض لوگ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت مسجد نہیں بنی تھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ان کا پیشاب اور مینگنیاں نجس تھیں تو ان کا باڑہ بھی نجس تھا۔ اگر مسجد نہیں تھی تو پورے علاقے میں بکریوں کے باڑے کے علاوہ بھی تو جگہ موجود تھی۔باقی ساری زمین چھوڑ کر آپeنے وہاں ہی نماز پڑھی اور ثابت کیا کہ حلال جانوروں کا پیشاب اور ان کی مینگنیاں نجس نہیں۔
2 یہاں عموم سے مراد وہ عموم ہے جو نبی اکرمeاور صحابہ کرام کے نزدیک عموم تھا۔ مقلدین کا مزعومہعموم چنداں قابل اعتبار نہیں۔ صحابہ کرام ، نبی اکرمeکی تصریحات کے ذریعے جان چکے تھے کہ حلال جانوروں کا بول و روث طاہر ہے ، لہٰذا قذر اور اذی کو عام بھی رکھا جائے تو حلال جانوروں کا بول و روث اس میں داخل نہ ہو گا کیونکہ رسولِ اکرمeکی تعلیمات کے مطابق وہ قذر اور اذی ہے ہی نہیں۔کئی بار بتایا جا چکا ہے کہ اصولی طور پر بھی ہر چیز پاک ہے جب تک اس کی نجاست پر صحیح و صریح دلائل سامنے نہ آ جائیں۔محض احتمالات سے کسی چیز کو ناپاک اور نجس قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے!
بعض لوگ ماکول اللحم جانوروں کے گوبر کی نجاست پر اس حدیث سے دلیل لیتے ہیں:
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ اٰتِیَہ، بِثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُّ حَجَرَیْنِ وَلَمْ أَجِدْ ثَالِثًا، فَأَتَیْتُہ، بِرَوْثَۃٍ، فَأَخَذَھُمَا وَأَلْقَی الرَّوْثَۃَ، وَقَالَ : ‘إِنَّہَا رِکْسٌ’
”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی eقضائے حاجت کے لئے نکلے اور مجھے حکم دیا کہ میں تین ڈھیلے لاؤں۔ مجھے دو ڈھیلے ملے ، تیسرا نہ مل سکا ۔میں تیسرے کی جگہ لید لے آیا۔ آپeنے دونوں ڈھیلے لے لئے لیکن لید کو پھینک دیا اور فرمایا : یہ نجس ہے۔” (صحیح بخاری : 156)
مسند احمد (55/1)میں یہ الفاظ بھی ہیں : اِئْتِنِي بِغَیْرِھَا . ”اس کی جگہ مجھے او ر ڈھیلا لا کر دو۔”
اس سے استدلال یوں کیا جاتا ہے کہ آپe نے گوبر یا لید کو پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ نجس ہے۔ یہاں بھی لید عام ہے ، کسی بھی جانور کے گوبر کو لید کہا جا سکتا ہے ، لہٰذا عموم میں حلال جانوروں کا گوبر بھی شامل ہوا اور وہ بھی نجس ہوا۔
تبصرہ :
1 اسی حدیث کو اگر حنفی بھائی صحیح ابن خزیمہ سے دیکھ لیتے یا ان کے علم میں وہ روایت بھی آ جاتی تو انہیں یہ دلیل پیش کرنے کی نوبت نہ آتی۔صحیح ابن خزیمہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں : عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَّتَبَرَّزَ، فَقَالَ : ‘ائْتِنِي بِثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ’، فَوَجَدْتُّ لَہ، حَجَرَیْنِ وَرَوْثَۃَ حِمَارٍ، فَأَمْسَکَ الْحَجَرَیْنِ وَطَرَحَ الرَّوْثَۃَ، وَقَالَ : ‘ہِيَ رِجْسٌ’
”سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمeنے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور فرمایا : مجھے تین ڈھیلے لا دو۔مجھے آپeکے لیے دو ڈھیلے اور ایک گدھے کی لید ملی۔آپeنے دونوں ڈھیلوں کو لے لیا جبکہ گدھے کی لید کو پھینک دیا اور فرمایا : یہ نجس ہے۔”(صحیح ابن خزیمۃ : 39/1، ح : 70)
حدیث سے ہی ثابت ہو گیا کہ یہ لید گدھے کی تھی، اور گدھے کی ہی لید کو آپe نے پلید اور نجس فرمایا۔اسے ہم اہل حدیث بھی نجس ہی کہتے ہیں۔بھلا اس سے حلال جانوروں کے پیشاب اور لید کو نجس کیسے کہا جا سکتا ہے جبکہ اس کے پاک ہونے پر احادیث ِ نبویہ میں واضح ذکر موجود ہے۔
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ گدھا چونکہ حرام ہے ، لہٰذا اس کا پیشاب اور اس کی لید ناپاک ہے۔ اسی طرح اہل حدیث اس کے دودھ کو بھی ناپاک ہی سمجھتے ہیںلیکن حنفی بھائی گدھی کے دودھ کو پاک سمجھتے ہیں۔(الجوہرۃ النیرۃ علی القدوري : 20/1، علم الفقہ از عبد الشکور لکھنوی حنفی دیوبندی، ص : 60)
ایک عام دلیل :
حافظ ابن حزم صحیح بخاری کی ایک روایت سے دلیل لیتے ہوئے لکھتے ہیں :
فَإِنْ وَجَدْنَا نَصًّا فِي تَحْرِیمِ کُلِّ ذٰلِکَ وَوُجُوبِ اجْتِنَابِہٖ، فَالْقَوْلُ بِذٰلِکَ وَاجِبٌ، فَنَظَرْنَا فِي ذٰلِکَ، فَوَجَدْنَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ إنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِہِمَا، فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ : ‘یُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِي کَبِیرٍ، وَإِنَّہ، لَکَبِیرٌ، کَانَ أَحَدُہُمَا لَا یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَکَانَ الْآخَرُ یَمْشِي بِالنَّمِیمَۃِ’، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ .
”اگر ہم ہر قسم کے پیشاب کی حرمت اور اس سے بچنے کے وجوب کی دلیل ہمیں مل جائے تو اسی سے مطابق عمل واجب ہو جائے گا ، لہٰذا ہم نے غور کیا تو یہ حدیث ملی : سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ eنے دو آدمیوں کی آواز سنی۔ ان کو عذاب قبر ہو رہا تھا۔ آپeنے فرمایا : ان دونوں کو ظاہری طور پر کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ، لیکن حقیقت میں وہ گناہ بڑا ہے۔ ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔” (المحلی لابن حزم : 177/1)
تبصرہ :
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے دلیل تو ایسے عموم کے لئے دی ہے جس میں حلال جانور بھی شامل ہو ں لیکن یہ حدیث تو خاص ہے انسانی بول کے لئے،کیونکہ صحیح بخاری ہی میں اس کی وضاحت مِنْ بَوْلِہٖ سے آ چکی ہے(صحیح البخاري : 216، 218، 1378، 6052)،یعنی وہ اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا ،لہٰذا اس سے حلال جانوروں کے پیشاب کے نجس ہونے کا استدلال بالکل باطل ہے ۔
امام بخاری اس حدیث پر یوں تبویب فرماتے ہیں :
مِنَ الْکَبَائِرِ أَنْ لَّا یَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِہٖ .
”آدمی کا اپنے پیشاب سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے ۔” (صحیح البخاري : 216)
اسلافِ امت اور حلال جانوروں کا پیشاب!
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَمِمَّنْ قَالَ بِھٰذَا جُمْلَۃٌ مِّنَ السَّلَفِ .
”بہت سے سلف کا یہی مذہب تھا ۔”(المحلّٰی بالآثار : 179/1)
پھر انہوں نے اس حوالے سے کچھ آثار ذکر کئے گئے ہیں ، ان کا تجزیہ حسب ذیل ہے :
امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول!
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر پیشاب کو دھویا جائے گا ۔ (المحلی : 179/1)
تبصرہ : حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کی ذکر کردہ سند میں یونس بن عبید راوی ”مدلس” ہے ، جبکہ مصنف ابن ابی شیبہ(212/1، ح : 1244) میں بھی یہ اثر موجود ہے ، لیکن اس کی سند میں ہشام بن حسان راوی کی ”تدلیس” موجود ہے ، لہٰذا امام حسن بصری رحمہ اللہ سے ہر پیشاب کو دھونے کا حکم دینا ثابت نہیں ہوا۔
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول!
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے:
اَلرَّشُّ بِالرَّشِّ، وَالصَّبُّ بِالصَّبِّ مِنَ الْـأَبْوَالِ کُلِّھَا .
”پیشاب کے چھینٹوں کے بدلے پانی کے چھینٹے اور بہاؤ کے بدلے پانی کا بہاؤ ہے، ہر پیشاب کی وجہ سے۔” (المحلّٰی : 179/1)
تبصرہ : 1 اس کی پوری سند درج نہیں۔
2 جو سند مذکور ہے، اس میں قتادہ راوی ”مدلس” ہیں ، لہٰذا یہ اثر بھی ”ضعیف”ہوا اور امام سعید بن مسیب سے بھی یہ موقف ثابت نہیں ہوا۔
دلیل نمبر %
ابو مجلز تابعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرw سے اپنی اونٹنی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : اِغْسِلْ مَا أَصَابَکَ مِنْہُ . ”جو پیشاب تمہیں لگے اسے دھو لو۔”(المحلّٰی : 179/1، ابن أبي شیبۃ : 212/1 ، ح : 1244، وسندہ، صحیحٌ)
تبصرہ : حلال جانوروں کے پیشاب کو اگر دھو لیا جائے تو بہت بہتر ہے ، جیسے کسی کپڑے پر تھوک یا ناک کا فضلہ وغیرہ لگا ہو تو اسے دھو لینا بہتر ہوتاہے۔ اسے دھونے کا حکم دینے سے اس کی نجاست ثابت نہیں ہوتی۔
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول!
ابو موسی اسرائیل کہتے ہیں کہ میں محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے ساتھ تھا۔ ان پر چمگادڑ کا پیشاب گر گیا،انہوں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے اور فرمایا:میں پہلے ان چھینٹوں کو ضروری نہیں سمجھتا تھا، حتی کہ مجھے سات صحابہ سے یہ بات پہنچی۔ (المحلی : 180-179/1)
تبصرہ 1 اس کی پوری سند درج نہیں
2 جو سند مذکور ہے ، اس میں سفیان بن عیینہ کی ”تدلیس” موجود ہے ، لہٰذا یہ روایت ”ضعیف” ہے۔
3 چمگادڑ بھلا حلال جانور ہے؟
حماد بن ابی سلیمان کا فتویٰ:
امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حماد بن ابی سلیمان سے بکری کے پیشاب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے دھو لو۔
(المحلّٰی : 180/1 ، ابن أبي شیبۃ : 1239)
تبصرہ : دھونے کے حکم سے نجاست ثابت نہیں ہوتی۔انسان کے ناک کا فضلہ بھی اگر کپڑوں پر لگا ہو تو ہر نفیس الطبع شخص اسے دھونے کا حکم دے گا۔ کیا اس حکم سے یہ ثابت ہو گا اس کے نزدیک ناک کا فضلہ نجس ہے؟
امام زہری رحمہ اللہ کا فتویٰ!
معمر کہتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ چرواہے کو اگر اونٹوں کا پیشاب لگ جائے تو؟ فرمایا : پانی کے چھینٹے مارے ۔
تبصرہ : اس کی پوری سند درکار ہے ، منقطع روایت سے دلیل نہیں لی جا سکتی ۔
نافع اور ابن قاسم کا قول!
یعلی بن حکیم کہتے ہیں کہ نافع اور عبدالرحمن بن قاسم دونوں نے فرمایا کہ جو چوپاؤں کا پیشاب لگے ،اسے دھوؤ۔ (ابن ابی شیبہ : 212/1، ح : 124)
تبصرہ : اس کی سند سعید بن ابی عروبہ کی تدلیس کی وجہ سے ”ضعیف” ہے ۔
میمون بن مہران کا قول!
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ انسان اور چوپائیوں کے پیشاب برابر ہیں۔
(ابن أبي شیبۃ : 212/1 ، ح : 1250)
تبصرہ : اس کی سند کے ایک راوی عیسیٰ بن کثیر کے حالات نہیں مل سکے۔ اس کی صحت کے مدعی پر اس راوی کی توثیق ثابت کرنا ضروری ہے۔
تبصرہ در تبصرہ
جناب انوار خورشید صاحب اپنے مزعومہ دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
”مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ پیشاب ناپاک ہے ، انسان کا پیشاب ہو یا حیوان کا ، حلال جانوروں کا ہو یا حرام کا ۔”(حدیث اور اہلحدیث، ص : 169)
تبصرہ : قارئین ! آپ انوار صاحب کی پیش کردہ احادیث اور ان کا تجزیہ پڑھ چکے ہیں۔ان کی پیش کردہ اکثر روایات ”ضعیف” یا بے سند و بے اصل ہیں۔ جو روایت صحیح ہے ، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حلال جانوروں کا پیشاب ناپاک ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہم نے صحیح و صریح مرفوع احادیث ، اقوال سلف اور فہم محدثین سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔اس کے برعکس حنفی بھائی کسی ایک صحابی، تابعی سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ اس نے کسی حدیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کی نجاست اخذ کی ہو ۔
انوار صاحب مزید لکھتے ہیں : ”حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشاب سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے اور نہ بچنے پر وعید ذکر کی ہے ، اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ پیشاب ناپاک ہے اس کے لگنے سے بدن ناپاک ہو گا اور جب بدن ناپاک ہو گا اور بے خیالی میں کوئی پیشاب لگے ہوئے نماز پڑھے گا تو اس کی نماز نہ ہو گی۔”(حدیث اور اہلحدیث، ص : 169)
تبصرہ : ہم بیان کر چکے ہیں کہ آپeکی پیشاب سے بچنے والی وعید کس پیشاب کے بارے میں ہے۔ صحیح بخاری ہی میں عذاب قبر کے قصے سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ آپ کی عذاب قبر کی وعید انسانی پیشاب کے بارے ہے نہ کہ حلال جانوروں کے بارے میں۔
رہی یہ بات کہ پیشاب کے لگنے سے نماز نہیں ہوتی تو کسی دیوبندی و حنفی بھائی کو یہ کہنا کیسے زیب دے سکتا ہے۔معذرت کے ساتھ کہ ہمیں یہ مقولہ یاد آ گیا ہے:
چھاج تو بولے ، چھلنی بھی بولتی ہے ، جس میں خود سو سوراخ ہیں۔
خود ان حنفی بھائیوں کی ”مبارک” فقہ میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ ایک درہم کے برابر کوئی بھی نجاست ِ مغلظہ جیسے انسانی پاخانہ وغیرہ بھی کپڑے پر ہو تو نماز ہو جاتی ہے۔
(الہدایۃ للمرغیناني : 37/1، دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
نیز اسی ”ہدایہ شریف”میں لکھا ہے: ”اگر حلال جانوروں کا پیشاب کپڑے کو اتنا لگا ہو کہ چوتھے حصے کو نہ پہنچے تو اس کے ساتھ نماز ہو جاتی ہے۔”(أیضًا)
اسے کہتے ہیں : ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ، دکھانے کے اور!”
یہی وجہ ہے کہ حلال جانوروں کے پیشاب کی نجاست میں احناف کے ہم نوا ہونے کے باوجود اس بھدی تقسیم کا حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کو بھی گلہ ہے۔ وہ ان کی اس تضاد بیانی کا پوسٹ مارٹم یوں کرتے ہیں : ”امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ تمام پیشاب نجس ہیں،خواہ حلال جانوروں کے ہوں یا حرام کے۔ہاں کچھ غلاظت میں زیادہ ہیں اور کچھ کم۔ تمام حلال جانوروں ،مثلاً گھوڑا،بکری، اونٹ، گائے وغیرہ کا پیشاب کپڑے کو ناپاک نہیں کرتا،نہ اس کی وجہ سے نماز دہرائی جائے گی،الا یہ کہ بہت زیادہ لگ جائے تو پھر کپڑا نجس ہو گا اور نماز دہرائی جائے گی۔ مشہور بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ نے بہت زیادہ کی حد بیان نہیں کی۔ امام ابو یوسف نے اس کی تحدید کی ہے اور وہ یہ ہے کہ بالشت در بالشت۔امام صاحب کہتے ہیں کہ اگر بکری کنویں میں پیشاب کر دے تو پانی نجس ہو جائے گا اور سارا پانی نکالا جائے گا۔احناف کا کہنا ہے کہ انسان اورحرام جانوروں کے پیشاب سے بھی نماز دہرائی نہیں جائے گی اور کپڑا نجس نہیں ہو گا الا یہ کہ وہ ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہو۔ ایسی صورت میں کپڑا نجس ہو جائے گا اور نماز دہرائی جائے گی۔اگر درہم یا اس سے کم مقدار میں انسانی پیشاب اور حرام جانوروںکا پیشاب لگا ہو تونہ کپڑا نجس ہو گا ،نہ نماز دہرانے کی ضرورت ہے۔ یہ سب ضابطے ، مذکورہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی،جان بوجھ کر کرنے اور بھول کر کرنے،دونوں صورتوں میں برابر ہیں۔ گوبر حلال اور حرام جانوروں دونوں کا برابر ہے،خواہ گھوڑے کا ہو،گائے کا ہو یا گدھے وغیرہ کا۔اگر یہ گوبر کپڑے ، موزے ، جوتے یا جسم کو ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی،اس کو دوہراناضروری ہو گا ،لیکن اگر ایک درہم یا اس سے کم ہو توکچھ نقصان نہ دے گی۔اگر کنویں میں ایک دو مینگنیاں اونٹ یا بکریوں کی گر جائیں توکچھ مضائقہ نہیں۔اگر مذکورہ گوبر موزے یا جوتے میں ایک درہم سے زیادہ ہواور وہ خشک ہو تو اسے کھرچنا کافی ہے۔ اگر تر ہو تو دھونا ہی کفایت کرے گا۔اگر گوبر کی جگہ پیشاب ہو تو دھونا ضروری ہے ، خواہ تر ہو یا خشک۔ اگر اس حال میں نماز پڑھی کہ کپڑے پر حلال یا حرام پرندے کی بیٹ ایک درہم سے زیادہ لگی ہو تو کچھ نقصان نہیں، نہ نماز دہرانے کی ضرورت ہے۔ ہاں ، اگر بہت زیادہ یعنی چار بالشت ہو تو نماز دہرائی جائے گی، الا یہ کہ مرغی کی بیٹ ہو۔اگر اس حال میں نماز پڑھی کہ ایک درہم سے زیادہ مرغی کی بیٹ کپڑے پر لگی تھی تو نماز ضرور دہرائی جائے گی۔ اگر پانی میں کبوتر یا چڑیا کی بیٹ گر جائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ زفر کہتے ہیں کہ حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ رہا حرام جانوروں کا بول اور لید اورحلال جانوروں کی لیدتو یہ سب نا پاک ہیں۔”(المحلّٰی : 170,169/1)
نیز لکھتے ہیں : أَمَّا قَوْلُ أَبِي حَنِیفَۃَ فَفِي غَایَۃِ التَّخْلِیطِ وَالتَّنَاقُضِ وَالْفَسَادِ، لَا تَعَلُّقَ لَہ، بِسُنَّۃٍ، لَا صَحِیحَۃٍ وَلَا سَقِیمَۃٍ، وَلَا بِقُرْآنٍ وَلَا بِقِیَاسٍ وَلَا بِدَلِیلِ إجْمَاعٍ وَلَا بِقَوْلِ صَاحِبٍ وَلَا بِرَأْیٍ سَدِیدٍ، وَمَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَسَّمَ النَّجَاسَاتِ قَبْلَ أَبِي حَنِیفَۃَ ہٰذَا التَّقْسِیمَ، بَلْ نَقْطَعُ عَلٰی أَنَّہ، لَمْ یَقُلْ بِہٰذَا التَّرْتِیبِ فِیہَا أَحَدٌ قَبْلَہ،، فَوَجَبَ إطْرَاحُ ہٰذَا الْقَوْلِ بِیَقِینٍ.
”جو امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے ، وہ انتہا درجے کا فضول ، متناقض اور فاسد ہے۔اس کا حدیث سے کوئی تعلق نہیں ، نہ صحیح حدیث سے اور نہ ضعیف حدیث سے ، نہ قرآن سے تعلق ہے ، نہ قیاس سے ، نہ اجماعی دلیل سے ، نہ قول صحابی سے اور نہ درست رائے سے۔ ہم نہیں جانتے کہ امام ابو حنیفہ سے پہلے کسی نے نجاست کو اس طرح تقسیم کیا ہو ،بلکہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ نجاست کے بارے میں یہ ترتیب ان سے پہلے کسی نے نہیں لگائی۔ لہٰذا اس مذہب کو چھوڑنا یقینی طور پر ضروری ہے۔”(المحلی لابن حزم : 170/1)
اب انوار صاحب کی بات کریں نماز ہونے یا نہ ہونے کی۔بکریوں،اونٹوںاور دوسرے حلال جانوروں کا پیشاب و لید تو دور کی بات فقہ حنفی میں تو انسانی پیشاب و پاخانہ بھی ایک درہم کے مقدارلگا ہو تو جانتے بوجھتے انسان نماز ادا کر سکتا ہے اور دہرانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔حلال جانوروں کا پیشاب جس کی نجاست پر اتنا زور لگاتے ہیں اور عذاب قبر تک کی وعید اس پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اس میں تو اور بھی رخصت ہے کہ چار بالشت تک لگا ہو تو کوئی بات نہیں ، نماز بھی ادا ہو جائے گی۔
قارئین کرام ہی بتائیں کہ کیا انصاف اسی کا نام ہے؟
ہم جو حلال جانوروں کے پیشاب کو پاک کہتے ہیں، کبھی بالشت پیشاب کے ساتھ بھی نماز نہیں پڑھتے ، لیکن یہ نجس کہنے کے باوجود اپنے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ چار بالشت تک خیر ہے۔یہ ہے تقلید کا سب سے بڑا نقصان کہ بات بات پر تناقض آتا ہے۔
آئندہ شمارے میں ”فقہ حنفی اور نجاسات” کے عنوان سے اختتامی قسط لکھی جائے گی۔
إن شاء اللّٰہ!
nnnnnnn

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.