510

سیاہ خضاب کی شرعی حیثیت، غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ


سیاہ خضاب کی شرعی حیثیت

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر یا ڈاڑھی کے سفید بالوں کو رنگ دینے کا حکم فرمایا ہے۔یہ حکم استحباب پر محمول ہے۔حدیث میں اس استحبابی عمل کو سیاہ خضاب سے سرانجام دینے کی ممانعت آئی ہے۔اس ممانعت کا کیا حکم ہے؟سیاہ خضاب حرام ہے یا خلاف ِاولیٰ؟ یہ مضمون اسی بارے میں مفصل تحقیق پر مبنی ہے۔قارئین کرام اس مضمون سے کما حقہٗ استفادہ کرنے کے لیے بطور تمہید تین باتیں یاد رکھیں۔
ایک یہ کہ قرآن و سنت کا وہی فہم معتبرہے جو سلف صالحین،یعنی صحابہ و تابعین اور ائمہ دین سے لیا جائے۔سلف صالحین ساری امت سے بڑھ کر قرآن وسنت کو سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے تھے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ قرآن وسنت کا کوئی حکم فرضیت کے لیے ہو اور سلف صالحین اسے مستحب سمجھتے رہے ہوں اور شریعت کی کوئی ممانعت حرمت کے لیے ہو اور سلف صالحین اسے خلاف ِاولیٰ ہی کا درجہ دیتے رہے ہوں۔اسی طرح اس کے برعکس معاملہ ہے۔اسی لیے بعد میں آنے والے لوگوں کا فہم دین اگر اسلاف ِامت کے خلاف ہو تو مردود ہو گا۔ زبانِ نبوی سے اسلافِ امت کو خیرالقرون کا جو لقب ملا ہے،اس کا یہی تقاضا ہے۔
دوسرے یہ کہ قرآن و سنت کا ہر حکم فرضیت کے لیے ہوتا ہے،الا یہ کہ کسی قرینے سے اس کااستحباب پر محمول ہوناثابت ہو جائے اور ہر ممانعت حرمت کے لیے ہوتی ہے،الا یہ کہ کسی قرینے سے اس کا محض کراہت پر محمول ہونا ثابت ہو جائے۔
تیسرے یہ کہ دلیل صرف کتاب و سنت ہے،البتہ کتاب و سنت کو سمجھنے کے لیے جس طرح لغت اور دیگر علوم و فنون کی ضرورت ہے،اس سے کہیں زیادہ صحابہ و تابعین کے فہم کو مدنظر رکھنا لازمی ہے۔کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ نصوصِ شرعیہ کو سمجھنے کے لیے اہل لغت کی بات تو مانتا رہے،لیکن اسلاف ِامت کے قول و فعل کو نظر انداز کرتا رہے۔بعض لوگ لغت اور اصولِ فقہ جیسے علوم سے کتاب و سنت کے اوامر و نواہی کا درجہ متعین کرنے کو عین شریعت سمجھتے ہیںلیکن صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کے فہم و عمل کے ذریعے ایسا کرنے کو ناجائز اور حرام سمجھتے ہیں۔یہ انصاف پر مبنی بات نہیں۔
اسی لیے اہل حدیث کا منہج یہ ہے کہ کتاب و سنت کے وہی معانی سمجھے جائیں جو اسلاف ِامت نے سمجھے ہیں۔جس حکم شرعی کو اسلاف فرض کا درجہ دیتے تھے ،اس کو اہل حدیث فرض کا درجہ دیتے ہیں اور جس کو اسلاف مستحب سمجھتے تھے، اس کو اہل حدیث مستحب ہی سمجھتے ہیں۔اسی طرح جس ممانعت کو اسلاف حرام کا سمجھتے تھے،اس کا اہل حدیث حرام ہی قرار دیتے ہیں اور جس کو اسلاف صرف خلاف ِاولیٰ سمجھتے تھے،اس پراہل حدیث بھی خلاف ِاولیٰ ہی کا حکم لگاتے ہیں۔اہل حق نہ تو سلف سے ایک قدم آگے بڑھتے ہیں،نہ ایک قدم پیچھے رہتے ہیں۔یہی مسلک اہل حدیث ہے۔
اس تمہید کے بعد ہمارے لیے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ شریعت ِاسلامیہ میں سیاہ خضاب لگانے کی گنجائش موجود ہے۔اس بارے میں ممانعت حرمت پر دلالت نہیں کرتی۔ اسلاف ِامت کا فہم و عمل یہی بتاتا ہے۔
اسلاف ِامت کا عمل پیش کرنے سے پہلے قارئین کرام وہ احادیث بھی ملاحظہ فرما لیں جن سے سیاہ خضاب کی ممانعت و حرمت ثابت کی جاتی ہے :
مرفوع احادیث اور ان کا صحیح معنیٰ و مفہوم
حدیث نمبر 1 : سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ِگرامی سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے۔ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال بالکل سفید تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’غَیِّرُوا ھٰذَا بِشَيْئٍ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ‘ ’’اس سفیدی کو کوئی بھی رنگ دے دو،البتہ سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔‘‘(صحیح مسلم : 199/2، ح : 2102)
اس حدیث میں دو باتوں کا حکم موجود ہے،ایک بالوں کو رنگنے کا اور دوسرے سیاہ خضاب سے بچنے کا۔جس طرح بہت سے اسلاف بالوں کو نہیں رنگتے تھے اور ان کے فہم و عمل کی بنا پر بالوں کو رنگنا فرض نہیں،اسی طرح بہت سے اسلاف سیاہ خضاب لگاتے تھے اور اس کی اجازت بھی دیتے تھے،لہٰذا سلف کے فہم و عمل کی بنا پر سیاہ خضاب بھی حرام نہیں۔اس حدیث ِپاک میں موجود یہ دونوں حکم استحباب ہی پر محمول ہیں۔
حدیث نمبر 2 : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’یَکُونُ قَوْمٌ یَخْضِبُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ، کَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ، لَا یَرِیحُونَ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ‘ ۔
’’آخری زمانے میں ایک قوم ایسی ہو گی جو کبوتر کے پوٹے کی طرح سیاہ خضاب لگائے گی۔یہ لوگ جنت کی خوشبو نہیں پائیں گے۔‘‘(سنن أبي داوٗد : 4213، سنن النسائي : 138/8، ح : 5078، مسند الإمام أحمد : 273/1، المعجم الکبیر للطبراني : 413/12، التاریخ الکبیر لابن أبي خیثمۃ : 909، المختارۃ للضیاء المقدسي : 233/10، ح : 244، شرح السنۃ للبغوي : 3180، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ھٰذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ ۔ ’’یہ حدیث حسن غریب ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 339/4)
حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’جید‘‘کہا ہے۔(تخریج إحیاء علوم الدین : 143/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’قوی‘‘ قرار دیا ہے۔(فتح الباري : 499/6)
اس کے راوی عبد الکریم جزری کو حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے عبد الکریم بن ابو المخارق سمجھ کر اس پر جرح کی ہے۔(الموضوعات : 55/3)
حالانکہ اس حدیث کی بعض ’’صحیح‘‘ سندوں میں عبد الکریم کے جزری ہونے کی صراحت موجود ہے۔
فائدہ : مسند اسحاق بن راہویہ (کما في [النکت الظراف علی الأطراف لابن حجر : 424/4] ) میں یہ الفاظ ہیں : یَخْضِبُونَ لِحَاھُمْ بِالسَّوَادِ ۔
’’وہ اپنی ڈاڑھیوں کو سیاہ خضاب لگائیں گے۔‘‘
بعض لوگ اس حدیث ِپاک سے سیاہ خضاب کی ممانعت و حرمت پردلیل لیتے ہیں، لیکن ان کا یہ استدلال کمزور ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلاف ِامت اور محدثین کرام میں سے کوئی بھی سیاہ خضاب کی ممانعت و حرمت کا قائل نہیں۔دوسری یہ کہ اہل علم نے اس حدیث کا یہ معنیٰ و مفہوم بیان نہیں کیا،بلکہ بعض اہل علم نے اس سے سیاہ خضاب کی حرمت و کراہت کے استدلال کا ردّ کیا ہے۔اہل علم کی تصریحات ملاحظہ فرمائیں :
1 مشہور محدث،امام ابوبکر ابن ابو عاصم رحمہ اللہ (287-206ھ) فرماتے ہیں :
فَإِنَّہٗ لَا دَلَالَۃَ فِیہِ عَلٰی کَرَاھَۃِ الْخِضَابِ بِالسَّوَادِ، فِیہِ الْإِخْبَارُ عَنْ قَوْمٍ ھٰذَا صِفَتُھُمْ ۔ ’’اس حدیث میں سیاہ خضاب کی کراہت پر کوئی دلیل نہیں۔اس میں تو ایک قوم کے بارے میں خبر دی گئی ہے،جن کی نشانی یہ ہو گی۔‘‘
(فتح الباري في شرح صحیح البخاري لابن حجر : 354/10)
2 امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ (321-238ھ)لکھتے ہیں :
فَعَقَلْنَا بِذٰلِکَ أَنَّ الْکَرَاھَۃَ إِنَّمَا کَانَتْ لِذٰلِکَ، لِأَنَّہٗ أَفْعَالُ قَوْمٍ مَّذْمُومِینَ، لَا لِأَنَّہٗ فِي نَفْسِہٖ مَذْمُومٌ، وَقَدْ خَضَبَ نَاسٌ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالسَّوَادِ، مِنْھُمْ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ ۔
’’اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کراہت اس لیے ہے کہ حدیث میں سیاہ خضاب قابل مذمت لوگوں کا فعل ہے۔اس لیے نہیں کہ سیاہ خضاب لگانا فی نفسہٖ مذموم ہے۔‘‘
(شرح مشکل الآثار : 313/9، ح : 3699)
3 حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597-508ھ)فرماتے ہیں :
وَاعْلَمْ أَنَّہٗ قَدْ خَضَبَ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ بِالسَّوَادِ، مِنْہُمُ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَسَعْدُ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَخَلْقٌ کَثِیرٌ مِّنَ التَّابِعِینَ، وَإِنَّمَا کَرِہَہٗ قَوْمٌ لِّمَا فِیہِ مِنَ التَّدْلِیسِ، فَأَمَّا أَنْ یَّرْتَقِيَ إِلٰی دَرَجَۃِ التَّحْرِیمِ، إِذْ لَمْ یُدَلِّسْ، فَیَجِبَ فِیہِ ہٰذَا الْوَعِیدُ، فَلَمْ یَقُلْ بِذٰلِکَ أَحَدٌ، ثُمَّ نَقُولُ عَلٰی تَقْدِیرِ الصِّحَّۃِ : یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُونَ الْمَعْنٰی : لَا یَرِیحُونَ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، لِفِعْلٍ یَّصْدُرُ مِنْہُم، أَوِ اعْتِقَادٍ، لَا لِعِلَّۃِ الْخِضَابِ، وَیَکُونُ الْخِضَابُ سِیمَاہُمْ، فَعَرَّفَہُمْ بِالسِّیمَا، کَمَا قَالَ فِي الْخَوَارِجِ : سِیمَاہُمُ التَّحْلِیقُ، وَإِنْ کَانَ تَحْلِیقُ الشَّعْرِ لَیْسَ بِحَرَامٍ ۔
’’آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے سیاہ خضاب استعمال کیا ہے۔ان میں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما ، سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ بہت سے تابعین کرام بھی ایسا کرتے تھے۔بعض لوگوں نے اسے اس لیے مکروہ سمجھا ہے کہ اس میں ایک قسم کا دھوکا ہے۔رہی یہ بات کہ سیاہ خضاب کے ذریعے دھوکے کا ارادہ نہ بھی ہو تو اس کا استعمال حرمت کے درجے تک پہنچ جائے اور اس کے استعمال کنندہ پر جنت کی خوشبو سے بھی محرومی کی وعید صادق آ جائے،تو یہ بات آج تک کسی اہل علم نے نہیں کہی۔اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ وہ اپنے کسی غلط عقیدے یا عمل کی بنا پر جنت کی خوشبو سے محروم رہیں گے،سیاہ خضاب کی بنا پر نہیں۔ یہ خضاب تو ان کی ایک نشانی ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پہچان کے لیے بتلائی ہے، جس طرح خارجیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ ان کی نشانی سر کے بالوں کو منڈانا ہے۔اس کے باوجود سر کے بالوں کو منڈانا حرام نہیں۔‘‘(الموضوعات : 55/3)
ثابت ہوا کہ مذکورہ حدیث میں موجود وعید سیاہ خضاب کی وجہ سے نہیں،ورنہ ’’آخری زمانے‘‘کی قید کا کیا معنیٰ؟سیاہ خضاب کا استعمال کرنے والے تو صحابہ کرام سے لے کر ہر دور میں موجود رہے ہیں!!!
4 شارحِ ترمذی،علامہ محمدعبد الرحمن،مبارک پوری رحمہ اللہ (1353ھ)فرماتے ہیں :
فَالِاسْتِدْلَالُ بِہٰذَا الْحَدِیثِ عَلٰی کَرَاھَۃِ الْخَضْبِ بِالسَّوَادِ لَیْسَ بِصَحِیحٍ ۔
’’اس حدیث سے سیاہ خضاب کے مکروہ ہونے کی دلیل لینا صحیح نہیں۔‘‘
(تحفۃ الأحوذي : 55/3)
حدیث نمبر 3 : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُیِّرَ بِہٖ ھٰذَا الشَّیْبُ الْحِنَّائُ وَالْکَتَمُ‘ ۔
’’بڑھاپے کے سفید بالوں کو رنگنے کے لیے بہترین چیز مہندی اور کتم کا آمیزہ ہے۔‘‘
(سنن أبي داوٗد : 4205، مسند الإمام أحمد : 147/5، 150، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کے راوی سعید بن ایاس جُرَیری آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، البتہ معمر اور عبد الوارث نے ان سے اختلاط سے پہلے احادیث سنی ہیں،لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (1753)نے ’’حسن صحیح‘‘اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5474)نے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852-773ھ)’’کتم‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں :
وَالْکَتَمُ نَبَاتٌ بِالْیَمَنِ، یُخْرِجُ الصَِّبْغَ أَسْوَدَ، یَمِیلُ إِلَی الْحُمْرَۃِ، وَصَِبْغُ الْحِنَّائِ أَحْمَرُ، فَالصَِّبْغُ بِھِمَا معًا یَخْرُجُ بَیْنَ السَّوَادِ وَالْحُمْرَۃِ ۔
’’کتم یمن کے علاقے کی ایک بُوٹی ہے جو سرخی مائل سیاہ رنگ دیتی ہے۔ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔یوں کتم اور مہندی مل کر سیاہی اور سرخی کا درمیانی رنگ دیتے ہیں۔‘‘
(فتح الباري : 355/10)
اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ سیاہی اور سرخی کا درمیانی رنگ سفید بالوں کو دینے کے لیے بہتر اور احسن رنگ ہے۔اس سے کالے خضاب کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
ان صحیح احادیث اور ان کے بارے میں اہل علم کی رائے کے بعد سیاہ خضاب کے بارے میں سلف صالحین کا عمل اور فہم ملاحظہ فرمائیں۔
سیاہ خضاب اور سلف صالحین
صحابہ کرام اور سیاہ خضاب :
1 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : أُتِيَ عُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنُ زِیَادٍ بِرَأْسِ الحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ یَنْکُتُ، وَقَالَ فِي حُسْنِہٖ شَیْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ : کَانَ أَشْبَہَہُمْ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ مَخْضُوبًا بِالوَسْمَۃِ ۔ ’’عبیداللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین علیہ السلام کا سر مبارک لایا گیا۔اسے ایک پلیٹ میں رکھ دیا گیا۔عبیداللہ زمین کُریدنے لگا اور اس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف کی۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سب صحابہ کرام سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کے سر کو سیاہ خضاب لگا ہوا تھا۔‘‘(صحیح البخاري : 530/1، ح : 3748)
2 امام ابوجعفر باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ کَانَ یَخْضِبُ بِالسَّوَادِ ۔ ’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سیاہ خضاب سے اپنے بالوں کو رنگ دیتے تھے۔‘‘(المعجم الکبیر للطبراني : 22/3، ح : 2535، معرفۃ الصحابۃ لأبي نعیم الأصبھاني : 1750، وسندہٗ صحیحٌ)
3 حي بن یومن،ابوعشانہ معافری بیان کرتے ہیں :
رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُھَنِيَّ، یَصْبَغُ بِالسَّوَادِ ۔
’’میں نے سیدنا عقبہ بن عامرجہنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے۔آپ سیاہ خضاب استعمال کرتے تھے۔‘‘(مصنف ابن أبي شیبۃ : 437/8، التاریخ الکبیر لابن أبي خیثمۃ : 1391، الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 345/7، الثقات لابن حبّان : 280/3، المعجم الکبیر للطبراني : 268/17، وسندہٗ صحیحٌ متّصلٌ)
ایک روایت میں ہے : إِنَّہٗ کَانَ یَصْبَغُ شَعْرَ رَأْسِہٖ بِشَجَرَۃٍ، یُقَالُ لَھَا : ، کَأَشَدِّ السَّوَادِ ۔ ’’آپ اپنے سرکے بالوں کو ایک ۔۔۔ نامی درخت سے رنگ دیتے تھے۔یہ سخت سیاہ رنگ ہوتا تھا۔‘‘
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 437/8، وسندہٗ صحیحٌ)
تابعین عظام اور سیاہ خضاب :
درج ذیل تابعین کرام بھی سیاہ خضاب لگاتے تھے :
4 ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف،قرشی (م : 94/104ھ)
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد : 119/5، وسندہٗ صحیحٌ)
5 محمد بن اسحاق بن یسار،مدنی (م : 150ھ)
(المعرفۃ والتاریخ لیعقوب بن سفیان الفسوي : 137/1، وسندہٗ صحیحٌ)
6 علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب،قرشی،ہاشمی(118ھ)
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 240/5، وسندہٗ صحیحٌ)
7 ابوقلابہ،عبد اللہ بن زید بن عمرو،جرمی،بصری (م : 104ھ)
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 138/7، وسندہٗ صحیحٌ)
8 ابو عبد اللہ،بکر بن عبداللہ،مزنی،بصری(م : 106ھ)
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 158/7، وسندہٗ صحیحٌ)
9 قاضی ،محارب بن دثار ،سدوسی،کوفی(م : 116ھ)
(مسند علي بن الجعد : 725، وسندہٗ حسنٌ)
0 ابوبکر،محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبد اللہ بن شہاب،زہری،مدنی(م : 125ھ)
(جامع معمر بن راشد : 155/11، وسندہٗ صحیحٌ)
! موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ،قرشی(م : 103ھ)
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 436/8، الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 124/5، وسندہٗ حسنٌ)
@ نافع بن جبیر بن مطعم بن عدی،قرشی،نوفلی(م : 99ھ)
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 430/8، الطبقات الکبرٰی لابن سعد : 158/5، وسندہٗ حسنٌ)
# امام شعبہ بن حجاج کے استاذ عمر بن ابوسلمہ(؟)
(تہذیب الآثار للطبري : 895، وسندہٗ صحیحٌ، الجزء المفقود)
$ ابوخطاب،امام قتادہ بن دعامہ بن قتادہ،سدوسی،بصری(م : بعد 110ھ) نے فرمایا: رَخَّصَ فِي صِبَاغِ الشَّعْرِ بِالسَّوَادِ لِلنِّسَائِ ۔
’’ عورتوں کے لیے بالوں کو سیاہ خضاب دینے میں رخصت ہے۔‘‘
(جامع معمر بن راشد : 20182، وسندہٗ صحیحٌ)
% عبداللہ بن عون بیان کرتے ہیں : کَانُوا یَسْأَلُونَ مُحَمَّدًا عَنِ الْخِضَابِ بِالسَّوَادِ، فَیَقُولُ : لَا أَعْلَمُ بِہٖ بَأْسًا ۔
’’لوگ محمدبن سیرین تابعی رحمہ اللہ (م : 110ھ)سے سیاہ خضاب کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں جانتا۔‘‘
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 436/8، وسندہٗ صحیحٌ)
تابعین کے کچھ متعارض اقوال :
سابقہ تصریحات قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں،اس کے برعکس :
n امام عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ (115-27ھ)سے سیاہ خضاب استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
ھُوَ مِمَّا أَحْدَثَ النَّاسُ، قَدْ رَأَیْتُ نَفَرًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا مِّنْھُمْ یَخْتَضِبُ بِالْوَسْمَۃِ، مَا کَانُوا یَخْضِبُونَ إِلَّا بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ وَھٰذِہِ الصُّفْرَۃِ ۔
’’یہ تو لوگوں نے نیا طریقہ بنایا ہے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو دیکھا ہے۔ان میں سے کوئی بھی سیاہ خضاب نہیں لگاتا تھا۔صحابہ کرام مہندی اور کتم (سیاہ رنگ دینے والا درخت)ملا کر اور اس زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگ دیتے تھے۔‘‘
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 438/8، وسندہٗ صحیحٌ)
امام عطائ رحمہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق یہ بیان دیا ہے۔ہم صحابہ کرام کی ایک جماعت سے سیاہ خضاب کا استعمال ثابت کر چکے ہیں۔امام عطائ رحمہ اللہ نے ان صحابہ کرام کو نہیں دیکھا ہو گا جو سیاہ خضاب استعمال کرتے تھے۔
n امام سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ (م : 95ھ) سے سیاہ خضاب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : یَکْسُو اللّٰہُ الْعَبْدَ فِي وَجْہِہِ النُّورَ، ثُمَّ یُطْفِئُہٗ بِالسَّوَادِ ۔ ’’اللہ تعالیٰ بندے کے چہرے کو منور کرتا ہے،پھر بندہ سیاہ خضاب کے ساتھ اس نور کو بجھا دیتا ہے۔‘‘(مصنف ابن أبي شیبۃ : 439/8، وسندہٗ صحیحٌ)
خضاب بالوں کو لگایا جاتا ہے،چہرے کو نہیں۔مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا جائے تو زرد سا رنگ نکلتا ہے اور یہ سنت سے بھی ثابت ہے۔کیا کہا جا سکتا ہے کہ بندے نے نورانی چہرے کو زرد کر لیا؟جو صحابہ کرام سیاہ خضاب استعمال کرتے تھے،ان کے چہروں سے نور ختم نہیں ہوا تھا۔لہٰذا یہ قول ناقابل التفات ہے۔
n امام مکحول تابعی رحمہ اللہ (م : بعد110ھ)نے سیاہ خضاب کو مکروہ قرار دیا۔
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 438/8، وسندہٗ صحیحٌ)
اس سے کراہت تنزیہی،یعنی خلاف ِاولیٰ ہونا مراد ہے۔حدیث ِرسول میں موجود ممانعت سے یہی مراد ہے۔اسلاف ِ امت میں سے کسی نے سیاہ خضاب کو ناجائز،ممنوع اور حرام قرار نہیں دیا۔
ائمہ دین اور سیاہ خضاب :
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (م : 294ھ)سے پوچھا گیا کہ عورت سیاہ خضاب استعمال کر سکتی ہے،توانہوں نے فرمایا : لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ لِلزَّوْجِ أَنْ تَتَزَیَّنَ لَہٗ ۔
’’عورت اپنے خاوند کے لیے مزین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
(الوقوف والترجّل من الجامع لمسائل الإمام أحمد لأبي بکر الخلّال : 142، وسندہٗ صحیحٌ)
امام مالک رحمہ اللہ (179-93ھ)سیاہ خضاب کے بارے میں فرماتے ہیں :
لَمْ أَسْمَعْ فِي ذٰلِکَ شَیْئًا مَّعْلُومًا، وَغَیْرُ ذٰلِکَ مِنَ الصَّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَتَرْکُ الصَّبْغِ کُلِّہٖ وَاسِعٌ، إِنْ شَائَ اللّٰہُ، لَیْسَ عَلَی النَّاسِ فِیہِ ضَیْقٌ ۔
’’میں نے اس بارے میں کوئی متعین بات نہیں سنی۔سیاہ کے مقابلے میں دوسرے رنگ مجھے زیادہ پسند ہیں۔بالوں کو بالکل نہ رنگنے کی بھی گنجائش ہے۔ان شاء اللہ! بالوں کو خضاب لگانے کے بارے میں لوگوں پر کوئی تنگی نہیں رکھی گئی۔‘‘
(المؤطّأ للإمام مالک بروایۃ یحیٰی : 3497)
سیاہ خضاب کے بارے میں ’’ضعیف‘‘روایات
اب بطور فائدہ اس بارے میں ’’ضعیف‘‘ روایات ملاحظہ فرمائیں:
روایت نمبر 1 : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’یَکُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ، یُسَوِّدُونَ أَشْعَارَھُمْ، لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ۔
’’آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے بالوں کو سیاہ کیا کریں گے۔روزِ قیامت اللہ تعالیٰ ان کی طرف(نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔‘‘(المعجم الأوسط للطبراني : 136/4، ح : 3803، الوقوف والترجّل من الجامع لمسائل الإمام أحمد لأبي بکر الخلّال : 160)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.